ڈیرہ اسماعیل خان میں دو روز

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۶ اپریل ۲۰۲۱ء

تین اپریل کو دو روز کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا۔ اہل حدیث دوستوں نے مسجد قاضیاں ڈیرہ شہر میں عصر کے بعد مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے سرکردہ حضرات کے اجتماع کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں ممتاز اہل حدیث راہنما مولانا محمد یوسف طیبی اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔ اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا اہم نکتہ یہ تھا کہ ہماری نئی نسل کا میٹرک سے پہلے کا دائرہ دینی تعلیمات سے بے خبری کا شکار ہے جبکہ کالج اور یونیورسٹی کا دائرہ شکوک و شبہات اور تذبذب کے حصار میں دکھائی دیتا ہے، جس کی بڑی وجہ مذکورہ بے علمی اور بے خبری کے ساتھ ساتھ میڈیا، لابنگ، این جی اوز اور مغربی لٹریچر کی یکطرفہ یلغار ہے۔ ہمیں اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا ہو گا اور اپنی نئی نسل کو جو ہمارے مستقبل کی قیادت ہے اس دلدل سے نکالنے کی محنت کرنا ہو گی۔ مغرب کے بعد جامعہ مدینۃ العلوم والفیوض ملانہ کا سالانہ جلسہ دستاربندی تھا جس میں قرآن کریم کی برکات و فیوض سے بہرہ ور ہونے کے علاوہ اس کے فہم و ادراک پر خصوصی توجہ کی اہمیت کا ذکر کیا۔

اگلے روز صبح جامعہ آفاق العلوم قریشی موڑ میں سرکردہ علماء کرام اور دینی راہنماؤں کے ساتھ ناشتے پر اجتماعی ملاقات کا نظم تھا جس میں ان کے ساتھ مختلف دینی امور بالخصوص نئے اوقاف قوانین کے بارے میں تبادلۂ خیالات اور مشاورت کا موقع ملا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے امیر مولانا ہدایت اللہ جالندھری، مولانا پیر سمیع الحق اور مولانا احمد نواز اس سفر میں ساتھ تھے۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل خیبر پختون خواہ کے صوبائی امیر مولانا عبد الحفیظ محمدی نے پریس نمائندگان کے ساتھ خصوصی ملاقات و نشست کا اہتمام بھی کیا اور ان کے سامنے درج ذیل معروضات پیش کیں۔

’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ نئے اوقاف قوانین نے ملک بھر کے دینی حلقوں میں اس حوالہ سے بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا کر دی ہے کہ ان میں وقف کے شرعی احکام اور مسلّمہ بین الاقوامی انسانی و شہری حقوق کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے اور مساجد و مدارس کے علاوہ عمومی اوقاف کو بھی مکمل طور پر سول افسران کے کنٹرول اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے جو قومی خودمختاری اور مذہبی آزادیٔ رائے کے بھی منافی ہے۔ حتٰی کہ برطانوی استعماری نظام نے ۱۸۵۷ء کے قبضے کے بعد عبادت، عبادت گاہ اور اوقاف کو شرعی احکام کے مطابق منظم کرنے کا جو حق دیا تھا وہ بھی واپس لے لیا گیا ہے اس لیے ان قوانین کو موجودہ صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اور ہم اس سلسلہ میں تمام مکاتب فکر کے دینی مدارس کے وفاقوں کے مشترکہ فورم ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان‘‘ کے موقف اور اسلام آباد و راولپنڈی کے تمام مکاتب فکر کے علماء کی مشترکہ جدوجہد کو مذہبی آزادی اور قومی خودمختاری کے لیے ناگزیر سمجھتے ہوئے اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

اس حوالہ سے ملی مجلس شرعی پاکستان کے تحت دس اپریل کو منصورہ لاہور میں منعقد ہونے والی تحفظ مساجد و مدارس کانفرنس کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور تمام حلقوں سے اس کی کامیابی کے لیے تعاون کی اپیل کرتے ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے قائدین کے ساتھ ذمہ دار حکومتی عہدہ داران کے مذاکرات میں یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ علماء کرام کو اعتماد میں لے کر ان قوانین کو نئے سرے سے طے کیا جائے گا جس کے لیے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے ترامیم کا مسودہ باضابطہ طور پر حکومت کے ذمہ دار حضرات کے حوالے کر دیا ہے مگر اس کو منظور کرنے کی بجائے مساجد و مدارس کو نوٹس دیے جا رہے ہیں جو اصول و ضابطہ کے خلاف ہے کیونکہ جب باہمی مذاکرات کے ذریعے قوانین میں ترامیم کی بات ہو چکی ہے تو اس پر عملدرآمد کیے بغیر قوانین کے نفاذ کی کارروائیاں یکطرفہ اور نا انصافی پر مبنی ہیں جن کو فوری طور پر روکنا ضروری ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی اس قسم کی شرائط کو تسلیم کرتے چلے جانا ملکی آزادی اور قومی خودمختاری کے یکسر منافی اور دستور پاکستان سے انحراف ہے جس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔

اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خودمختاری دینے کے عنوان سے آئی ایم ایف کے کنٹرول میں دینے کی کارروائی بھی ایک قومی ادارے کی خودمختاری نہیں بلکہ ملکی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کو قبول کرنے اور اپنی قومی معاشی پالیسیوں کو عالمی استعماری شکنجے میں دینے کے مترادف ہے جس کے خلاف ملک کے تمام دینی و سیاسی حلقوں کو مؤثر آواز اٹھانی چاہیے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے قومی معیشت کو اسلامی اصولوں کے مطابق منظم کرنے اور مغرب کے معاشی نظام سے گریز کی جو واضح ہدایت دی تھی اسے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے اور دستور میں سودی نظام کے جلدازجلد مکمل خاتمہ کی ہدایت سے انحراف کر کے سودی قوانین کو مسلسل تحفظ دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ہم بیرونی معاشی پالیسیوں کے جال میں پھنستے جا رہے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے دوٹوک فیصلے کے مطابق سودی نظام کے مکمل خاتمہ کے لیے انتظامات کیے جائیں کیونکہ اس کے بغیر ملکی معیشت کی اصلاح اور غیر ملکی مداخلت کی روک تھام کی اور کوئی صورت ممکن نہیں ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ہمارے سب مسائل و مشکلات کی اصل جڑ دستور پاکستان کے مطابق نفاذ شریعت کے لیے ضروری عملی اقدامات نہ کرنا اور ریاستی اداروں کا دستور کے دائروں سے بے نیاز ہو جانا ہے۔ اس طرزعمل پر سب کو نظرثانی کرنی چاہیے اور ملک و قوم کو دستور پاکستان کے مطابق چلانے کے عزم کا اعادہ کرنا چاہیے۔‘‘