محمد ظہیر میر ایڈووکیٹ مرحوم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲ مارچ ۲۰۱۲ء

محمد ظہیر میر ایڈووکیٹ گزشتہ روز اچانک انتقال کر گئے اور انہیں چمن شاہ قبرستان گوجرانوالہ میں نماز جنازہ کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ طلبہ کی تنظیم جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل رہے ہیں، ہفت روزہ خدام الدین لاہور کی مجلس ادارت کے رکن اور مرکز شیرانوالہ لاہور کے وفادار ساتھیوں میں سے تھے، اور ان کا تعلق گوجرانوالہ سے اور ہماری مرکزی جامع مسجد کے حلقے سے تھا۔ وہ خاندانی طور پر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کے عقیدت مندوں میں شمار ہوتے تھے۔ مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ کے عقب میں تھانے والا بازار کی ایک گلی جو کہ ٹھٹھیاراں والی گلی کہلاتی ہے اور اب ہوزری بازار میں تبدیل ہو چکی ہے، وہاں زیادہ تر کشمیری خاندان آباد تھے اور کم و بیش سبھی خاندان امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے عقیدت مند اور مجلس احرار کے کارکن تھے۔ گوجرانوالہ کا تھانے والا بازار احرار کی ۱۹۳۱ء کی ’’تحریک کشمیر‘‘ کے مراکز میں سے تھا اور یہیں سے کارکن اپنے کپڑوں کو سرخ رنگ دے کر تحریک میں گرفتاری دینے کے لیے کشمیر جایا کرتے تھے۔ ان خاندانوں کی نئی نسل کے بہت سے نوجوانوں پر آج بھی علمائے کرام سے عقیدت اور مسلکی و دینی تحریکات میں حصہ لینے کا رنگ غالب ہے۔

محمد ظہیر میر کے بڑے بھائی میر محمد طیب مرحوم بھی ہمارے قریبی ساتھیوں میں سے تھے جو کچھ عرصہ قبل اسی طرح اچانک وفات پا گئے۔ وہ سیاسی طور پر پکے مسلم لیگی اور مسلکی طور پر جذباتی دیوبندیوں میں سے تھے۔ عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی قدس اللہ سرہ العزیز اور مسلم لیگی راہنما خان غلام دستگیر خان کے یکساں درجے میں جانثار تھے اور ہمارے لیے بسا اوقات یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا تھا کہ میر محمد طیب مرحوم کا جذبہ جانثاری حضرت صوفی صاحبؒ کے لیے زیادہ ہے یا خان غلام دستگیر خان صاحب کے لیے۔ وہ خان صاحب کے ڈنڈا بردار رضاکاروں کے سرخیل تھے۔ اس کے ساتھ ہی وہ حضرت صوفی صاحبؒ کی نماز جمعہ کے بعد کی ہفتہ وار مجلس کے حاضر باش شرکاء میں سے تھے اور مسلکی حوالے سے حضرت صوفی صاحبؒ کے کسی بھی حکم پر جان نثار کر دینے کے لیے ہروقت تیار رہتے تھے۔ ایک دور میں گوجرانوالہ میں مساجد پر مخالفانہ مسلکی قبضوں کی مہم زوروں پر تھی اور مسلکی فرقہ واریت کا دور دورہ تھا، اس زمانے میں راقم الحروف کی تحریک پر دیوبندی مساجد کے تحفظ کے لیے نوجوانوں کی ایک تنظیم ’’گوجرانوالہ سنی گارڈز‘‘ بنائی گئی، اس کے سالار اعلیٰ میر محمد طیب مرحوم تھے۔ جب بھی کسی جگہ مساجد کے تحفظ کے لیے نوجوانوں کی ضرورت پڑتی، میر محمد طیب اپنے ڈنڈا بردار رضاکاروں کے ہمراہ وہاں موجود ہوتے بلکہ سب سے آگے ہوتے اور ان کا جوش و خروش دیدنی ہوتا تھا۔ لیکن ایک دن اچانک بھرا میلہ چھوڑ کر وہ ہم سے جدا ہوگئے اور اس کے بعد جب بھی کوئی مسلکی معاملہ پیش آتا ہے ان کی یاد ستانے لگتی ہے۔

محمد ظہیر میر ان کے چھوٹے بھائی تھے۔ کالج کی زندگی میں قدم رکھا تو اردگرد مختلف طلبہ تنظیموں کی سرگرمیوں کا ماحول دیکھ کر ان کا دل مچلنے لگتا کہ ہماری بھی کوئی تنظیم طلبہ میں ہونی چاہیے اور ہمیں بھی اس قسم کی سرگرمیوں میں حصہ لینا چاہیے۔ اسی جذبہ کو لے کر وہ حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی خدمت میں آئے اور کہا کہ حضرت ہم دیوبندیوں کی بھی کوئی طالب علم تنظیم ہونی چاہیے۔ میں ان دنوں مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں حضرت مفتی صاحب کے نائب کی حیثیت سے خدمات سر انجام دے رہا تھا، انہوں نے مجھے بلا کر اس نوجوان سے تعارف کرایا اور تقریباً ڈانٹنے کے انداز میں فرمایا کہ تم لوگ کیا کر رہے ہو، لڑکے تمہارے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں اور تم سے سنبھالے بھی نہیں جاتے؟ ان دنوں جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے نام سے ہماری طلبہ تنظیم وجود میں آچکی تھی اور گوجرانوالہ میں استاذ محترم مولانا عزیز الرحمان مرحوم، میاں محمد عارف صاحب اور راقم الحروف اس کے لیے متحرک تھے۔ میں نے ظہیر میر کو جے ٹی آئی کے ساتھ جوڑ دیا اور پھر وہ اس حلقہ فکر کے ساتھ ایسے جڑے کہ موت ہی انہیں ہم سے جدا کر سکی۔

محمد ظہیر میر جمعیۃ طلباء اسلام میں درجہ بدرجہ ترقی کرتے ہوئے مرکزی سیکرٹری جنرل کے منصب تک جا پہنچے۔ یہ وہ دور تھا جب جے ٹی آئی پورے ملک میں متحرک تھی اور دینی مدارس کے ساتھ ساتھ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی اس کے سینکڑوں یونٹ قائم تھے جو فعال بھی تھے اور ملک بھر میں اس کا نیٹ ورک ہر سطح پر کام کر رہا تھا۔ میں خود جے ٹی آئی کے ابتدائی ارکان میں سے ہوں اور ایک عرصہ تک اس کا متحرک رکن رہا ہوں مگر اب یہ نام زبان پر آتے ہی حسرت کی کیفیت دل و دماغ پر طاری ہو جاتی ہے اور مسلمانوں کے عمومی مزاج کے مطابق ماضی کو یاد کر کے دل کو خوش کرنے کی کوشش میں مصروف رہتا ہوں۔

محمد ظہیر میر میرے پیر بھائی بھی تھے کہ ہم دونوں کا بیعت کا تعلق حضرت الشیخ مولانا عبید اللہ انورؒ کے ساتھ تھا اور ہم دونوں حضرت شیخ کی روحانی مجالس کے حاضر باش ارکان میں سے تھے۔ میرا یہ معاملہ بھی عجیب سا ہے کہ طالب علمی کے دور میں حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ سے بیعت کی تو انہوں نے یہ فرما کر روحانی اسباق کا کہنے سے گریز کیا کہ ابھی آپ پڑھ رہے ہیں۔ بعد میں حاضری اور ملاقاتوں کا تو اس قدر تسلسل رہا کہ میں شیرانوالہ ہی کا ایک فرد سمجھا جاتا تھا مگر روحانی اسباق کی طرف توجہ نہ ہوئی۔ ایک دن میں نے سرسری انداز میں ذکر کیا تو اسی طرح سرسری انداز میں انہوں نے فرمایا کہ آپ جو کچھ کر رہے ہیں وہی آپ کا سبق ہے۔ اس کے بعد میں نے بھی تذکرہ نہیں کیا۔ حضرت شیخؒ کی وفات کے بعد میں نے حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے خلیفہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ سے بیعت کی تحریری درخواست کی تو انہوں نے بیعت میں شامل فرما لیا اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی اسناد کے ساتھ روایت کی اجازت بھی دے دی۔ اس دوران والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے، جو سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ سعیدیہ میں امام الموحدین حضرت مولانا حسین علی قدس سرہ العزیز سے بیعت اور ان کے خلیفہ مجاز تھے، اپنے خلفاء کی فہرست میں میرا نام بھی شامل کر دیا۔ میں نے ایک دن ڈرتے ڈرتے عرض کیا کہ میں تو اس میدان کا آدمی نہیں ہوں، اس کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا مگر یہ فرمایا کہ تصوف کے بارے میں مجھے لکھنے کا موقع نہیں ملا، یہ اب تم نے لکھنا ہے اور لکھنے سے پہلے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اور حضرت مولانا منظورؒ نعمانی کی کتابوں کا مطالعہ ضرور کر لینا۔ میں نے ان سے وعدہ تو کر لیا مگر ابھی تک تحیر کے عالم میں ہوں اور ’’ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں‘‘ کی کیفیت اس حوالہ سے مجھ پر سوار رہتی ہے۔ دوسری طرف میرے قابل قدر بھائیوں اور حضرت والد محترم کے عقیدت مندوں نے مجھے ان کا جانشین ہونے کا لقب دے رکھا ہے اور میرے لیے یہ الگ مسئلہ بنا ہوا ہے کہ حضرت والد محترمؒ کے مریدین تجدید بیعت کے لیے رجوع بلکہ اصرار کرتے ہیں تو ان کا سامنا کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اکثر کو ٹال دیتا ہوں لیکن کچھ نہیں ٹلتے تو ان کے سامنے ’’سرنڈر‘‘ ہونا پڑتا ہے۔

خیر یہ تذکرہ تو حضرت الشیخ مولانا عبید اللہ انورؒ کے ذکر کی وجہ سے درمیان میں آگیا۔ میں محمد ظہیر میر صاحب مرحوم اور جمعیۃ طلباء اسلام پاکستان کے حوالے سے بات کر رہا تھا کہ ظہیر میر صاحب ایسے ’’فنا فی الشیخ‘‘ ہوئے کہ شیرانوالہ کو ہی اپنا وطن بلکہ گھر بنا لیا اور آخر وقت تک اسی وضعداری پر قائم رہے۔ وہ بہت اچھے مقرر تھے، اچھا لکھ لیتے تھے، ہفت روزہ خدام الدین لاہور کی مجلس ادارت کے ساتھ آخر وقت تک ان کا تعلق رہا، ورکر آدمی تھے، لاہور ہائی کورٹ میں وکالت کرتے تھے، اور جماعتی دوستوں کے مقدمات میں حتی الوسع خدمت کرتے تھے۔ ظہیر میر مرحوم کا سبھی بزرگوں کے ساتھ قلبی تعلق اور گہری عقیدت تھی مگر حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ، اور والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے ساتھ ان کی والہانہ عقیدت قابل رشک تھی۔ میرے ساتھ بھی اسی نسبت سے محبت و تعلق رکھتے تھے، مزاج میں خوش عقیدتی کا ذوق غالب تھا اس لیے جب کسی مجلس میں تذکرہ کرتے تو مبالغہ کی اس انتہا تک چلے جاتے کہ خود مجھے شرم آنے لگتی۔ ایک دن میں نے کہا کہ میر صاحب اس قدر مبالغہ نہ کیا کریں تو بڑی سادگی سے کہنے لگے کہ آپ کو یہی کہنا چاہیے۔ ظہیر میر مرحوم نے اپنے مرحوم بھائی میر محمد طیب کی روایت قائم رکھی۔ لاہور سے گوجرانوالہ گھر والوں سے ملنے کے لیے آئے، شام کو دل کا دورہ پڑا اور ہسپتال تک پہنچتے اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

میں منگل کی صبح نیند سے بیدار ہوا تو موبائل فون پر ان کی وفات کی خبر میسج کی صورت میں موجود تھی لیکن یقین نہ آیا۔ نماز کے بعد ان کے خاندان کے ایک دوست سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ ان کا انتقال ہو چکا ہے اور ۱۱ بجے چمن شاہ قبرستان میں نماز جنازہ ہوگی۔ نماز جنازہ میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی، ان کے بچوں سے تعزیت کی، حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری نے نماز جنازہ پڑھائی اور اس موقع پر محمد ظہیر میر مرحوم کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ راقم الحروف اور مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے بھی نماز جنازہ کے اجتماع میں ظہیر میر مرحوم کی دینی و ملی خدمات کا تذکرہ کیا اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ نماز جنازہ کے بعد حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے معانقہ کرتے ہوئے عرض کیا کہ اصل تعزیت کے مستحق آپ ہیں کہ ظہیر میر مرحوم شیرانوالہ لاہور کا وفادار ساتھی تھا اور شیرانوالہ کی برادری کا حصہ تھا۔

میری اپنی کیفیت یہ ہے کہ غم کے ساتھ ساتھ تنہائی بھی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے کہ ہمارے ذوق و مزاج اور فکر کے لوگ رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔ نئی نسل ہمارے لیے اجنبی ہے اور ہم اس کے لیے اجنبی ہیں اور اجنبیت کے یہ گھمبیر سائے اور زیادہ گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ چاروں طرف جاننے پہچاننے والوں بلکہ محبت و عقیدت رکھنے والوں کا ہجوم بڑھتا جا رہا ہے مگر کوئی ’’جان پہچان والا‘‘ نہیں ملتا۔ کوئی اچانک مل جائے تو اس کے گلے لگ کر دھاڑیں مار کر رونے کو جی چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ظہیر میر مرحوم کی مغفرت فرمائیں اور اسے وہاں بھی اپنے محبوب مشائخ کے قدموں میں جگہ دیں، آمین یا رب العالمین۔