مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۰ مئی ۲۰۰۹ء

والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کی وفات پر جس طرح عالمی سطح پر رنج و غم کا اظہار ہوا ہے اس کی مثال مشکل سے ملے گی۔ ان کی وفات سے اب تک چار روز گزر گئے ہیں اور ہم بھائیوں کے موبائل فونوں کی گھنٹیاں مسلسل بج رہی ہیں اور تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے جس کی صرف چند جھلکیاں قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔

حرمین شریفین سے سب سے پہلے مولانا سعید احمد عنایت اللہ کا فون آیا اور پھر حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی، حضرت مولانا محمد مکی حجازی، قاری ابوبکر یحییٰ، جبکہ جدہ سے قاری محمد اسلم شہزاد، قاری محمد رفیق اور دیگر حضرات نے فون کے ذریعہ اپنے جذبات غم کا اظہار کیا اور بتایا کہ حرم مکہ میں حضرت رحمہ اللہ کی طرف سے مختلف دوستوں نے عمرہ ادا کیا ہے اور بعض دوست ان کی طرف سے طواف کر رہے ہیں۔ اور مدینہ منورہ میں روضۂ اطہر علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام پر ان کی طرف سے ہدیہ صلوٰۃ وسلام پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ حرم مکہ میں مولانا محمد مکی حجازی نے مغرب کے بعد اپنے درس میں حضرت شیخ کا ذکر کیا اور ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرائی۔

بھارت سے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا سہارنپوریؒ کے فرزند مولانا محمد طلحہ اور لکھنؤ سے مولانا سید سلمان ندوی اور مولانا یحییٰ نعمانی مدیر الفرقان کی طرف سے پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ جبکہ برطانیہ سے مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا محمد یعقوب القاسمی، مولانا اکرام الحق خیری، مولانا محمد قاسم، شیخ عبد الواحد، مولانا محمد اشرف قریشی، حافظ ضیاء المحسن طیب اور دیگر علماء نے فون پر تعزیت کی اور بتایا کہ مختلف شہروں میں مساجد و مدارس میں حضرت شیخ کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور دعائے مغفرت کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکہ سے دارالعلوم نیویارک کے مہتمم بھائی برکت اللہ نے جن کا تعلق ڈھاکہ سے ہے اور مولانا حافظ اعجاز احمد نے فون پر بتایا کہ دارالعلوم کے اساتذہ اور طلبہ نے قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر الٰہی کاا ہتمام کر کے ایصال ثواب کیا ہے۔ آسٹریلیا سے مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی اور ہانگ کانگ سے مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا مفتی محمد ارشد نے بتایا کہ وہاں کی مساجد میں بھی ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور ذکر و اذکار کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دبئی سے حافظ بشیر احمد چیمہ، شارجہ سے محمد فاروق شیخ، کویت سے حافظ عبید الرحمان ضیاء، اور بحرین سے ہمارے استاذ محترم مولانا قاری عبد الحلیم سواتی نے فون کے ذریعہ جذبات غم کا اظہار کیا اور بتایا کہ دوست مسلسل حضرت شیخ کے لیے قرآن خوانی اور ایصال ثواب کا اہتمام کر رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے مدارس میں بھی تعزیتی مجالس اور مختلف علمائے کرام کی طرف سے خراج عقیدت پیش کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور دنیا کے بہت سے دیگر ممالک میں بھی دعاؤں او رایصال ثواب کا سلسلہ جاری ہے۔

جنازہ کے روز دوپہر کے وقت کراچی سے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے فون پر فرمایا کہ وہ جنازے کے لیے آنا چاہ رہے ہیں مگر تین بجے سے پہلے کسی فلائٹ پر سیٹ نہیں مل رہی۔ میں نے گزارش کی کہ اس فلائٹ کے ذریعے آپ وقت پر نہیں پہنچ پائیں گے اس لیے زحمت نہ فرمائیں۔ بہت سے دیگر علمائے کرام نے بھی یہی بتایا کہ تین بجے کی فلائٹ پر سیٹ مل سکتی ہے لیکن عملی طور پر کوئی فائدہ نہ تھا اس لیے وہ سفر نہ کر سکے۔ بلکہ ایک بجے کی فلائٹ پر سفر کرنے والے بعض علمائے کرام بھی جنازے تک نہ پہنچ سکے۔ البتہ مولانا سعید احمد جلال پوری، مفتی محمد جمیل خان شہید کے فرزند مفتی محمد، اور مفتی خالد محمود اپنے رفقاء کے ہمراہ پہنچ گئے اور جنازے میں شریک ہوئے۔ صدر وفاق المدارس حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے اپنے دونوں فرزندوں ڈاکٹر محمد عادل خان اور مولانا عبید اللہ خالد کو تعزیت کے لیے بھیجا اور فرمایا کہ وہ علالت کی وجہ سے خود تشریف لانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ جامعہ اسلامیہ کلفٹن سے مولانا مفتی ابوہریرہ اور مولانا مفتی ابوذر تعزیت کے لیے تشریف لائے اور جذبات غم کا اظہار کیا۔

جمعیۃ اشاعۃ التوحید والسنۃ کے بزرگ راہنما حضرت مولانا قاضی عصمت اللہ بڑھاپے اور ضعف کے باوجود جنازے میں شرکت کے لیے پہنچے جبکہ اشاعت التوحید کے دیگر راہنما مولانا محمد طیب طاہری، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا قاضی عبد الرحمان، مولانا قاضی عطاء الحسن، مولانا قاضی عطاء اللہ، مولانا نصر اللہ خان راشد اور دیگر راہنما تعزیت کے لیے تشریف لائے اور حضرت شیخ کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا۔ مرکزی جمعیۃ اہل حدیث کے وفد میں مولانا مشتاق احمد چیمہ، مولانا محمد صادق عتیق، مولانا محمد رفیق سلفی، جبکہ جامعہ محمدیہ اہل حدیث گوجرانوالہ کے وفد میں مولانا عبد الحمید ہزاروی، مولانا محمد اعظم، مولانا حافظ محمد عمران شریف اور مولانا ظہیر ابرار نمایاں تھے جنہوں نے حضرت شیخ کی وفات کو تمام دینی و علمی حلقوں کے لیے باعث صدمہ قرار دیا۔ نیز مولانا اسعد محمود سلفی اور دیگر متعدد اہل حدیث علمائے کرام جنازے میں شریک ہوئے۔ بریلوی مکتب فکر کے نمایاں حضرات میں سے مولانا خالد حسن مجددی، مولانا صاحبزادہ رفیق احمد مجددی، مولانا قاری محمد اعظم چشتی، مولانا قاری محمد سلیم زاہد، اور جناب محمد اکرم چوہان ایڈووکیٹ تعزیت کے لیے تشریف لائے اور کہا کہ حضرت مرحوم ہم سب کی مشترکہ متاع تھے۔ محترم جناب جاوید احمد غامدی اپنی ٹیم کے ہمراہ تعزیت کے لیے تشریف لائے اور حضرت مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اہل علم کے ایک پورے دور کی آخری نشانی تھے اور ان کی جدائی سب اہل علم کے لیے باعث صدمہ ہے۔ شیعہ راہنما جناب میر علی احمد بھی تعزیت کے لیے تشریف لائے اور کہا کہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان ہم سب کے بزرگ تھے اور پورے علاقے کے لیے باعث برکت تھے۔

جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کے امیر حضرت مولانا فضل الرحمان نے مکہ مکرمہ سے راقم الحروف کو فون کیا اور کہا کہ وہ بہت صدمہ میں ہیں اور حرم پاک میں حضرت مرحوم کے لیے دعائیں کر رہے ہیں جبکہ ان کے بھائی وفاقی وزیر مولانا عطاء الرحمان اور جمعیۃ کے مرکزی راہ نما حافظ حسین احمد جنازے میں شریک ہوئے اور جنازے کے اجتماع سے خطاب بھی کیا۔ جمعیۃ علمائے اسلام (س) کے قائد حضرت مولانا سمیع الحق اپنے بھائی مولانا انوار الحق حقانی اور فرزند مولانا حامد الحق کے ہمراہ جنازے میں شریک ہوئے اور اجتماع سے خطاب فرمایا۔ ان کی جماعت کے دیگر اہم راہنما مولانا بشیر احمدشاد، مولانا عبد الرؤف فاروقی اور مولانا قاری عبد الخالق بھی ہمراہ تھے۔ جمعیۃ علمائے اسلام (سینئر) کے امیر صاحبزادہ پیر عبد الرحیم نقشبندی بھی اپنے رفقاء کے ہمراہ جنازہ میں شریک ہوئے اور اجتماع سے خطاب کیا۔ دارالعلوم حقانیہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ اور عالمی انجمن خدام الدین کے امیر حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری بھی جنازہ میں شرکت کے لیے تشریف لائے۔ جسٹس ڈاکٹر علامہ خالد محمود نے جنازہ کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ’’مولانا محمد سرفراز دنیا سے سرفراز گئے ہیں‘‘۔ علامہ صاحب نہ صرف جنازے میں شریک ہوئے بلکہ دو بار فون کے ذریعے اپنے جذبات غم کا اظہار کیا۔ ورلڈ اسلامک فورم کے راہنما مولانا رمضان علوی، مشرق سائنس اسکول کے پروفیسر عبد الماجد، اور جمعیۃ طلباء اسلام کے محمد ظہیر میر ایڈووکیٹ بھی جنازے میں شریک ہوئے اور حضرت شیخ کو خراج عقیدت پیش کیا۔

روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر جناب مجیب الرحمان شامی جنازے میں شریک ہوئے اور فون پر تعزیت کرتے ہوئے حضرت کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور ان کے معاون خصوصی مولانا قاضی عبد الرشید نے نماز جنازہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حضرت کی خدمات کو سراہا۔ حضرت کے ہم سبق حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف خان آف پلندری آزاد کشمیر کے فرزند مولانا سعید یوسف خان نے نماز جنازہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حضرت کی دینی و علمی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا۔

حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری کے فرزند و جانشین صاحبزادہ سید امین الحسنات شاہ صاحب نے ٹیلی فون پر راقم الحروف سے تعزیت کی اور کہا کہ حضرت مرحوم نے جس طرح کی بھرپور علمی و دینی زندگی گزاری ہے وہ سب کے لیے قابل رشک ہے۔ کالعدم سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی اپنے رفقاء کے بھرپور وفد کے ہمراہ جنازے میں شریک ہوئے، انہوں نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب خود کو یتیم محسوس کر رہے ہیں۔ آزادکشمیر کی مجلس افتاء کے سربراہ مولانا قاضی محمد رویس خان ایوبی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت کا مشن جاری رہے گا۔

سلسلۂ تعزیت کی فہرست بہت لمبی ہے ایک یا دو کالموں میں احاطہ ممکن نہیں ہے، نمونہ کے طور پر چند کا تذکرہ کر دیا ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کے جذبات کو قبول فرمائیں اور حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو جوار رحمت میں جگہ دیں اور ہمیں ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔