حضرت مولانا محمد انظر شاہ کشمیریؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۸ مئی ۲۰۰۸ء

۲۷ اپریل کو ہم مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی یاد میں تعزیتی جلسہ کی تیاریوں میں تھے کہ مجلس احرار اسلام پاکستان کے نومنتخب سیکرٹری جنرل عبد اللطیف خالد چیمہ نے فون پر اطلاع دی کہ خاتم المحدثین حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے فرزند اور دارالعلوم (وقف) دیوبند کے شیخ الحدیث حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحبؒ کا دہلی میں انتقال ہوگیا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ کر ان سے تفصیلات معلوم کرنا چاہیں تو انہوں نے بتایا کہ سردست یہی خبر آئی ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ رحلت فرما گئے ہیں۔ رات کو حضرت صوفی صاحبؒ کے تعزیتی جلسہ کے اسٹیج پر بیٹھا تھا کہ حضرت انظر شاہ صاحبؒ کے خادم خاص جناب انس صاحب کا فون آیا اور پوچھا کیا آپ کو خبر مل گئی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ خبر تو مل گئی ہے مگر جنازے کا پتہ نہیں چل سکا کہ کس وقت ہے؟ معلوم ہوتا بھی تو حاضری نہیں ہو سکتی تھی مگر دل کی تسلی کے لیے دریافت کر لیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بھی پاکستان میں ہیں اور جنازے میں شرکت سے محروم رہ گئے ہیں جبکہ نماز جنازہ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ابھی چند منٹ کے بعد ادا ہونے والی ہے۔

دوسرے روز حضرت شاہ صاحبؒ کے فرزند جناب سید احمد خضر صاحب کا فون آیا، میرے پاس نمبر نہیں تھا کہ حضرت شاہ صاحبؒ کے اہل خاندان سے تعزیت کر سکوں، ان کا فون آنے پر تعزیت کی اور بتایا کہ صبح نصرۃ العلوم کے طلبہ کے سامنے اس سانحے کا ذکر کر چکا ہوں اور حضرت شاہ صاحبؒ کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے سب نے دعا کی ہے۔ سید احمد خضر صاحب نے بتایا کہ انہوں نے فون اس لیے کیا ہے کہ حضرت شاہ صاحبؒ اپنی وفات سے دو روز قبل فون پر آپ (راقم الحروف) سے رابطہ کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر بات نہ ہو سکی تو انہوں نے احمد خضر صاحب کو تاکید کی وہ فون پر رابطہ کر کے ان کی طرف سے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کی خدمت میں سلام مسنون اور دعا کے لیے بطور خاص عرض کریں۔

مولانا سید محمد انظر شاہ صاحبؒ کے ساتھ ملاقاتوں اور نیاز مندی کا سلسلہ پرانا تھا اور مختلف مجالس اور پروگراموں میں ان کے ساتھ رفاقت کاشرف حاصل کر چکا تھا۔ گوجرانوالہ میں مدرسہ نصرۃ العلوم اور جامعہ قاسمیہ میں متعدد بار تشریف لائے، جامعہ خیر المدارس ملتان اور کراچی کے بعض اجتماعات میں بھی ان سے ملاقات ہوئی۔ اور چند سال قبل ڈھاکہ بنگلہ دیش کے نواحی علاقہ مادھوپور میں مولانا عبد الحمید صاحب کے دینی مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں بھی ان کے ساتھ رفاقت رہی، اس جلسہ میں والد محترم کے ساتھ مجھے بھی حاضری کا شرف حاصل ہوا اور پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے بہت سے سرکردہ علمائے کرام اس میں شریک تھے۔ مولانا عبد الحمید کے فرزند مولانا محمد عبد اللہ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فضلاء میں سے ہیں اور انہی کے اصرار پر مدرسہ نصرۃ العلوم سے شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ہمراہ مولانا قاری محمد عبد اللہ، مولانا قاری عبید اللہ عامر، اور راقم الحروف نے ڈھاکہ کا سفر کیا۔

اس سفر میں حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحب کے ساتھ بھی رفاقت رہی اور سفر کی جو خاص بات اس وقت تک ذہن میں محفوظ ہے وہ یہ کہ مادھوپور جانے کے لیے کشتی کے ذریعے ایک ندی عبور کرنا تھی، کشتی کو جلسہ کے منتظمین نے گدے وغیرہ بچھا کر خوب آرام دہ بنا رکھا تھا۔ رات کا وقت تھا، ایک کشتی پر حضرت والد صاحب کے ساتھ ہم لوگ سوار تھے، یہ چند منٹ کا سفر تھا جو ہم نے آرام سے طے کر لیا۔ مگر دوسری کشتی جس میں حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحبؒ سوار تھے، نصف راستے میں کسی وجہ سے الٹ گئی اور انہیں خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جلسہ کی دوسری خاص بات یہ تھی کہ میں نے بنگلہ دیش کے دینی مدارس کے جلسوں کا یہ انداز پہلی بار دیکھا کہ جمعہ کے روز گیارہ بجے کے لگ بھگ جلسہ شروع ہوا اور صرف نمازوں کے وقفہ کے ساتھ ہفتہ کے روز صبح نماز فجر کے بعد تک مسلسل جاری رہا۔ میں نے عشاء کی نماز کے بعد عرض کیا کہ بڑے بڑے بزرگ تشریف لائے ہوئے ہیں اس لیے مجھے ابتداء میں تھوڑا سا وقت دے دیں تاکہ میں حاضری لگوا کر آرام سے سو جاؤں، مجھ سے کہا گیا کہ آپ آرام سے سو جائیں آپ کی باری آنے پر کچھ دیر پہلے آپ کو جگا لیا جائے گا۔ چنانچہ رات اڑھائی بجے کے لگ بھگ مجھے بیدار کیا گیا اور میں نے وضو وغیرہ کر کے جلسہ میں کچھ معروضات پیش کیں۔

دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے موقع پر والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کے ہمراہ میں بھی دیوبند گیا تھا۔ اجلاس سے فارغ ہونے کے بعد ایک روز دونوں بزرگوں نے مجھے دیوبند کے مختلف حصوں کی سیر کرائی، مسجد چھتہ میں گئے اور اس میں انار کا وہ درخت بھی دیکھا جس کے نیچے ملا محمودؒ نے مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کو سبق پڑھا کر اس عظیم درسگاہ کا آغاز کیا تھا۔ دیگر بہت سے مقامات کے علاوہ دونوں بزرگ مجھے حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے گھر میں بھی لے گئے اور حضرت شاہ صاحبؒ کے فرزند حضرت مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصر اور داماد مولانا سید احمد رضا بجنوری سے ملاقات کرائی۔ دارالعلوم دیوبند کے ترجمان ماہنامہ دارالعلوم کے قاری کی حیثیت سے مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصر سے غائبانہ تعارف پہلے سے تھا کہ وہ اس جریدہ کے عرصہ تک مدیر رہے ہیں لیکن بالمشافہ ملاقات پہلی بار ہوئی۔ مولانا سید احمد رضا بجنوری اس سے قبل ایک بار ہمارے ہاں گکھڑ اور گوجرانوالہ تشریف لا چکے تھے۔ تب وہ حضرت سید محمد انور شاہ صاحبؒ کے افادات پر مشتمل بخاری شریف کی اردو شرح ’’انوار الباری‘‘ کی ترتیب و تدوین میں مصروف تھے اور اسی سلسلہ میں گوجرانوالہ آئے تھے، وہ ایک دو روز ہمارے گھر میں رہے اور ان کی مہمان داری اور خدمت کا شرف مجھے حاصل ہوا۔ جبکہ ان کے ساتھ دوسری ملاقات دیوبند کے اس سفر کے موقع پر ہوئی۔

حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ اور ان کے خاندان کے ساتھ عقیدت و محبت کا تعلق ایک تو اس حوالہ سے ہے کہ میں بحمد اللہ تعالیٰ ایک شعوری دیوبندی ہوں اور دیوبند کے جن چند اکابر کے ساتھ نسبت و عقیدت سے ’’دیوبندیت‘‘ تشکیل پاتی ہے ان میں ایک بڑا نام علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری قدس اللہ سرہ العزیز کا بھی ہے۔ اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے مخدوم حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحبؒ جو والد محترم کے اساتذہ میں سے تھے اور ۱۹۷۰ء سے ۱۹۸۲ء تک مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں مجھے ان کی نیابت کا اعزاز حاصل رہا ہے، وہ حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ کے تلامذہ میں سے تھے۔ مفتی صاحبؒ نے ڈابھیل میں حضرت شاہ صاحبؒ سے تلمذ کا شرف حاصل کیا تھا اور ان کی زبان سے ہم حضرت شاہ صاحبؒ کا تذکرہ اکثر سنتے رہتے تھے جس سے ہماری عقیدت و محبت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا تھا۔ مولانا مفتی عبد الواحدؒ کے چچا اور مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں قائم مدرسہ انوار العلوم کے بانی حضرت مولانا عبد العزیز صاحبؒ حضرت شیخ الہندؒ کے شاگرد تھے اور حضرت مولانا سید محمد انور شاہ صاحبؒ کے رفقاء میں سے تھے۔ حضرت مولانا عبد العزیزؒ نے جب ۱۹۲۶ء میں مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں مدرسہ انوارالعلوم کا آغاز کیا تو اس موقع پر حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ بھی گوجرانوالہ تشریف لائے تھے جس کا ذکر حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ اور اس دور کے پرانے حضرات بڑے اہتمام اور فخر کے ساتھ کیا کرتے تھے۔

اس پس منظر میں حضرت شاہ صاحبؒ کے ساتھ عقیدت و محبت کا تعلق شروع سے ہی تھا، اس لیے مولانا سید محمد انظر شاہ کشمیریؒ سے جب ملاقات ہوتی تو یہ سارا تناظر ذہن میں ہوتا اور میں اس سے حظ اٹھانے کی ہر ممکن کوشش کرتا۔ گزشتہ چند ماہ سے حضرت شاہ صاحبؒ کے ساتھ فون پر مسلسل رابطہ رہا، افسوس کہ وعدہ کے باوجود میں خود ایک بار بھی انہیں فون نہ کر سکا مگر انہوں نے کئی بار فون کیا۔ ایک بار فون پر دریافت کیا کہ دیوبند میں منعقد ہونے والے ایک مجوزہ سیمینار میں میری حاضری ہو سکے گی؟ میں نے عرض کیا کہ اگر ویزا آسانی سے لگ جائے تو خود میرا بھی دیوبند اور لکھنؤ میں حاضری کو جی چاہتا ہے، اس پر خوش ہوئے اور ویزے کے لیے پیش رفت کا وعدہ کیا۔ ایک بار دریافت کیا کہ میں روحانی سلسلہ میں کس سے مجاز ہوں؟ میں نے عرض کیا کہ اگرچہ اپنے ذوق کے حوالہ سے اس میدان کا راہی نہیں ہوں مگر میرا بیعت کا تعلق سلسلہ قادریہ میں حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اور ان کے بعد حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ سے رہا ہے جبکہ والد محترم حضرت مولانا سرفراز خان صفدر مدظلہ نے سلسلہ نقشبندیہ میں اپنے خلفاء مجازین میں میرا نام لکھ رکھا ہے۔ حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحبؒ نے فرمایا کہ میں بھی آپ کو اپنے مجازین میں شامل کرتا ہوں اور اپنی اسناد کے ساتھ روایت حدیث کی اجازت بھی دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ حضرت شاہ صاحبؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین درجات عطا فرمائے، آمین۔