مولانا صوفی محمد کی رہائی اور نفاذِ شریعت کی جدوجہد

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ اپریل ۲۰۰۸ء

تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدیؐ کے سربراہ مولانا صوفی محمد کو صوبہ سرحد کی نئی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کے بعد نہ صرف رہا کر دیا گیا ہے بلکہ نفاذِ شریعت کی جدوجہد کے لیے صوبے میں پر امن تحریک کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔ وہ تقریباً ساڑھے چھ سال جیل میں رہے ہیں، انہیں گرفتار کرنے کے بعد ان کی تحریک کو بھی خلافِ قانون قرار دے دیا گیا تھا۔ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہونے کے بعد ملک بھر کے عام لوگوں اور دینی کارکنوں کو توقع تھی کہ چونکہ متحدہ مجلس عمل کی طرح مولانا صوفی محمد بھی نفاذ شریعت کے علمبردار ہیں اس لیے ان کی رہائی اور سرگرمیوں کی بحالی کی کوئی صورت نکل آئے گی لیکن فریقین کے درمیان متعدد بار مذاکرات کے باوجود ایسا نہ ہو سکا اور یہ اعزاز جمعیۃ علماء اسلام کے وزیراعلیٰ محمد اکرم درانی کی بجائے عوامی نیشنل پارٹی کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر ہوتی کے حصے میں آیا کہ ان کے ساتھ مولانا صوفی محمد کے مذاکرات کامیاب رہے اور پھر وہ رہا بھی ہوگئے۔

اس مثبت پیش رفت پر مولانا صوفی محمد اور ان کے رفقاء کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی اور ان کی ٹیم بھی مبارکباد کی مستحق ہے کہ صوبہ سرحد کے ایک بڑے حصے میں نفاذِ شریعت کے عنوان سے مسلح عوام اور حکومتی فورسز کے درمیان تصادم کا جو ماحول پیدا ہوگیا تھا اس کے ختم ہونے کے آثار نظر آنے لگے ہیں، اور خود مولانا صوفی محمد کا تبصرہ بھی اس پر یہی ہے کہ اس سے امنِ عامہ کے قیام میں مدد ملے گی۔ ظاہر ہے کہ اب مولانا صوفی محمد اپنی جدوجہد کا ازسرنو آغاز کریں گے اور نفاذِ شریعتِ محمدیؐ کی جدوجہد کے لیے نئی صف بندی کا اہتمام کریں گے اس لیے اس موقع پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے نفاذِ شریعت کی جدوجہد کے چند ناگزیر تقاضوں کی طرف انہیں توجہ دلاناہم ضروری سمجھتے ہیں:

  1. نفاذِ شریعت صرف مالاکنڈ ڈویژن کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے۔ اس لیے کہ پاکستان کے قیام کا بنیادی سبب یہ بیان کیا گیا تھا کہ اس ملک میں مسلمان قرآن و سنت کے احکام کے مطابق زندگی بسر کر سکیں گے۔ اور اسی وجہ سے دستورِ پاکستان میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ ملک کی منتخب پارلیمنٹ قرآن و سنت کے منافی قانون سازی نہیں کر سکے گی بلکہ قرآن و سنت کے احکام کو ملک میں نافذ کرنے کی پابند ہوگی۔ البتہ مالاکنڈ ڈویژن اور اس کے ساتھ بہاولپور، خیرپور اور قلات کی ریاستوں کا یہ امتیاز ضرور رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ الحاق سے پہلے ان ریاستوں میں فرنگی استعمار کے دور میں بھی عدالتوں میں شرعی قوانین نافذ تھے۔ اور ان ریاستوں کو پاکستان کے ساتھ الحاق کا صلہ نفاذِ شریعت کی صورت میں نہیں بلکہ پہلے سے نافذ شدہ چند شرعی قوانین سے بھی محرومی کی صورت میں ملا تھا، اس لیے ریاست سوات وغیرہ میں اس مقصد کے لیے لوگوں کے احساس میں طبعی طور پر زیادہ شدت پائی جاتی ہے۔ لیکن جہاں تک نفاذِ شریعت کے مطالبہ کا تعلق ہے وہ پورے ملک کا مشترکہ مسئلہ ہے اور مولانا صوفی محمد اور ان کے رفقاء کو اپنی جدوجہد کے میدان کا یہ وسیع تناظر ضرور سامنے رکھنا چاہیے۔
  2. نفاذِ شریعت کی بات جب بھی ہوتی ہے تو اس کی عملی صورت کے بارے میں لازماً سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ سیاسی نظام بھی زیربحث آتا ہے، عدالتی طریق کار پر بھی گفتگو ہوتی ہے اور رجالِ کار کی اہلیت و صلاحیت کا معیار بھی بحث و مباحثے کا حصہ بنتا ہے۔ نفاذِ شریعت کے لیے جدوجہد کرنے والے اکثر دوست ان سوالات کو نظر انداز کر کے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فرنگی استعمار کے دور میں ان ریاستوں میں جو عدالتی نظام اور طریق کار رائج تھا اسی کو کسی ردوبدل کے بغیر جوں کا توں اختیار کر لیا جائے۔ یہ بات نہ تو قابلِ عمل ہے اور نہ ہی شرعاً ضروری ہے۔ ان مسائل کے حوالے سے پاکستان کے اکابر علماء کرام نے اس قدر وقیع علمی و فقہی کام کیا ہے جو دنیا کے دوسرے مسلم ممالک کے لیے بھی رہنمائی کا سرچشمہ بن سکتا ہے۔ لیکن خود پاکستان میں نفاذِ شریعت کے لیے کام کرنے والے بہت سے حلقے اسے کلیتاً نظر انداز کر دیتے ہیں جس سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً ایک اسلامی ریاست کے دستوری ڈھانچے کی تشکیل کے لیے تمام مکاتب فکر کے ۳۱ اکابر علماء کرام کے مرتب کردہ ۲۲ متفقہ دستوری نکات، قرارداد مقاصد، دستور پاکستان کی اسلامی دفعات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات و مسودات جید علماء کرام اور فقہاء کی کاوشوں کا ہی ثمرہ ہیں اور پاکستان میں جب بھی نفاذِ شریعت کی بات ہوگی اس کی بنیاد انہی علمی کاوشوں پر ہوگی۔ بلکہ راقم الحروف نے تو طالبان کی حکومت کے دوران قندھار حاضری کے موقع پر وہاں کے علماء کرام سے بھی گزارش کی تھی کہ وہ پرانے شاہی دور کے عدالتی طریق کار اور سیاسی ڈھانچے کو اسلام کے نام پر واپس لانے کی بجائے امارت اسلامی افغانستان کے دستوری اور عدالتی ڈھانچے کے لیے پاکستان کی قرارداد مقاصد، علماء کے ۲۲ دستوری نکات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات سے استفادہ کریں۔ اس لیے کہ آج کے دور میں کسی بھی ملک میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے لیے فطری اور قابلِ عمل صورتیں یہی ہو سکتی ہیں۔ یہی گزارش ہماری مولانا صوفی محمد اور ان تمام دوستوں سے ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں نفاذِ شریعت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کہ وہ برطانوی دور کے ریاستی عدالتی ڈھانچوں اور سیاسی کلچرکو آئیڈیل قرار دینے پر اصرار نہ کریں بلکہ سیاسی ڈھانچے، عدالتی نظام اور معاشرتی ارتقاء کے بارے میں اکابر علماء کرام کے اجتہادی اور علمی کام سے استفادہ کریں اور اس کی روشنی میں نفاذِ شریعت کی عملی صورتوں کا تعین کریں۔

    اسلام آباد میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد سے نفاذِ شریعت کی جو تحریک شروع کی گئی تھی اور جس میں غازی عبد الرشید شہید اور ان کی والدہ محترمہ سمیت مبینہ طور پر ہزاروں مخلصین نے اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ پیش کیا ہے اس میں بھی کنفیوژن کی یہی بات تھی کہ نفاذِ شریعت کی عملی صورت کیا ہوگی؟ کیونکہ واضح طور پر نظر آرہا تھا کہ پاکستان کی دینی سیاسی جماعتوں اور اکابر علماء کرام نے گزشتہ نصف صدی کے دوران اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جو دستوری اور قانونی پیش رفت کی ہے، نئی تحریک کے قائدین کے سامنے وہ نہیں ہے اور وہ اس سارے عمل کو نظرانداز کر کے زیروپوائنٹ سے دوبارہ کام شروع کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ہم مولانا صوفی محمد اور ان کے رفقاء سے گزارش کریں گے کہ اب جبکہ وہ تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ کے مقدس کام کے لیے نئی صف بندی اور ترجیحات کے تعین کے مرحلے میں ہیں، وہ اس پہلو پر ضرور غور کر لیں اور قرارداد مقاصد، علماء کے ۲۲ دستوری نکات، دستور کی اسلامی دفعات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات و مسودات کی بنیاد پر اپنی جدوجہد کے نئے دور کا آغاز کریں۔

  3. مالاکنڈ ڈویژن کی تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدیؐ کے پہلے دور کے حوالے سے ہم اس سے قبل یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ اس دور میں تحریک صرف علماء کرام کے عنوان سے منظم کی گئی تھی اور دوسرے تمام طبقات کو تحریک کی قیادت اور مشاورت میں نظرانداز کر دیا گیا تھا۔ یہ بات ہمارے خیال میں درست نہیں ہے۔ دوسرے طبقات مثلاً وکلاء، صحافی برادری، پروفیسر حضرات، سرکاری افسران اور سیاسی رہنماؤں کی ایک اچھی خاصی تعداد ایسے لوگوں کی موجود رہی ہے اور اب بھی ہے جو پورے خلوص اور شعور کے ساتھ ملک میں نفاذ شریعت کے خواہشمند ہیں اور اس کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہیں صرف اس لیے نظرانداز کر دینا کہ وہ علماء کے طبقے سے تعلق نہیں رکھتے، نہ انصاف و دیانت کا تقاضا ہے اور نہ ہی جدوجہد کی ضروریات کے حوالے سے حکمت عملی سے مطابقت رکھتی ہے۔ نفاذِ شریعت صرف علماء کا مسئلہ نہیں، ان طبقات کا بھی مسئلہ ہے، بلکہ قرآن و سنت پر ایمان رکھنے والے ہر مسلمان کا مسئلہ ہے۔ اس لیے انہیں نظرانداز کر دینے کی بجائے اعتماد میں لینے، مشاورت کے نظام میں شریک کرنے، اور جن شعبوں میں وہ کام کر سکتے ہیں ان میں ان سے کام لینے کی ضرورت ہے، قومی تحریک صرف اسی صورت میں بنے گی۔ اور ملک کی عمومی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ہماری گزارش ہے کہ جب تک نفاذ شریعت کی جدوجہد کو قومی تحریک کا رنگ نہیں دیا جائے گا مطلوبہ مقاصد تک رسائی اسی طرح مشکلات اور رکاوٹوں سے دوچار رہے گی۔
  4. تحریک کے طریق کار کے بارے میں ہم اپنے تحفظات کا اظہار ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے دستوری اور سیاسی جدوجہد کو ملک کی اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ نظر انداز کیا ہے بلکہ عوام کی اکثریتی رائے اور منتخب نمائندوں کے بہت سے جمہوری فیصلوں کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہے۔ اس لیے نفاذ شریعت کی جدوجہد میں تشدد کا عنصر بیوروکریسی کے اسی ناروا رویہ کا فطری ردعمل ہے کہ بہت سے لوگ ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ کے مصداق ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوئے ہیں اور ظاہری منظر کے حوالے سے بات خوفناک قسم کے خودکش حملوں تک جا پہنچی ہے۔ لیکن کیا تحریک کے لیے تشدد اور ہتھیار بندی کا راستہ اختیار کرنا شرعاً اور اصولاً بھی درست ہے؟ اور کیا تشدد کا یہ راستہ منزل کو قریب لا رہا ہے یا جدوجہد کو مزید مشکلات اور کنفیوژن سے دوچار کر رہا ہے؟ یہ بات بہرحال محلِ نظر اور لمحۂ فکریہ ہے۔

    اس سلسلہ میں ہماری جچی تلی اور سوچی سمجھی رائے ہے کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے سیاسی عمل اور پرامن عوامی تحریک کا راستہ ہی صحیح اور قابل عمل راستہ ہے۔ اور اس میں ہتھیار اٹھانے اور ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ پیدا کرنے کی پالیسی شرعاً درست نہ ہونے کے ساتھ ساتھ خود تحریک کے لیے بھی تباہ کن حد تک نقصان دہ ہے۔ ہمارے خیال میں صوبہ سرحد کی حکومت کے ساتھ معاہدے میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے پر امن ہونے کی شرط کو قبول کر کے مولانا صوفی محمد نے اسی معروضی حقیقت کو تسلیم کیا ہے جس پر وہ تحسین کے مستحق ہیں۔ اس لیے ہم ان کی جدوجہد کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں اور جہاں مناسب موقع ہوا مشاورت و معاونت کے لیے بھی حاضر ہیں۔

ان گزارشات کے ساتھ ہم مولانا صوفی محمد اور وزیراعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کو بھی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور ان سے ایک گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ یہی معاہدہ جو مالاکنڈ ڈویژن کی تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ کے ساتھ ہوا ہے، اسلام آباد کی لال مسجد اور جامعہ حفصہ والوں کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ معاملات تقریباً ملتے جلتے ہیں اور اسفند یار ولی مرکز میں حکمران اتحاد کی قیادت کا حصہ ہیں۔ اگر وہ اس سلسلہ میں کوئی کردار ادا کر سکیں تو ملک کے بے شمار مظلوم خاندانوں کی دعائیں تو ان کو ملیں گی ہی، ہمارے خیال میں خان عبد الغفار خان مرحوم اور خان عبد الولی خان مرحوم کی روحیں بھی ان سے یقیناً خوش ہوں گی۔