بخاری شریف بطور نظام حیات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۵ اگست ۲۰۱۵ء

۲۲ اگست کو جامعہ نعمانیہ قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ میں د ورۂ حدیث شریف کے آغاز کی تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد مہمان خصوصی تھے۔ جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے شیخ الحدیث مولانا مفتی محمد طیب نے بخاری شریف کی پہلی روایت پڑھا کر دورۂ حدیث کا افتتاح کیا۔ جبکہ مولانا مفتی محمد حسن، لاہور اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔ اس موقع پر جو گزارشات طلبہ کے سامنے پیش کیں، ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ابھی مولانا مفتی محمد طیب صاحب نے آپ حضرات کو بخاری شریف کا پہلا سبق پڑھایا ہے اور امام بخاریؒ کے امتیازات اور بخاری شریف کی خصوصیات پر بہت عمدہ اور مفید گفتگو فرمائی ہے، میں بھی اسی حوالہ سے دو چار گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔

آپ سارا سال بخاری شریف پڑھیں گے اور آپ کے اساتذہ حدیث اور علم حدیث کے فیوض و افادات سے آپ کو آگاہ کریں گے۔ میری گزارش یہ ہے کہ اس بات کو ذہن میں رکھ لیں کہ آپ نے بخاری شریف کو کس طرح پڑھنا ہے اور کیا سمجھ کر پڑھنا ہے۔ بخاری شریف بنیادی طور پر احادیث نبویہؐ کا مستند ترین ذخیرہ ہے، اسے حدیث کی کتاب سمجھ کر پڑھا جاتا ہے، اور یہ بات بالکل درست ہے۔ مگر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے بخاری شریف کے تراجم ابواب پر اپنے رسالہ کے آغاز میں یہ فرمایا ہے کہ حضرت امام بخاریؒ نے ’’الجامع الصحیح‘‘ میں چار بڑے علوم کو سمو دیا ہے اور یہ بہت سے علوم کی جامع کتاب ہے۔ اس کتاب کا پورا نام اس طرح ہے ’’الجامع الصحیح المسند المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و سننہ و ایامہ‘‘۔ اس کا پہلا لفظ الجامع ہے اور اسی کے حوالہ سے میں نے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشاد کا ذکر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بخاری شریف میں قرآن کریم کی تفسیر کے بارے میں ہزاروں روایات ذکر کی گئی ہیں اور ان کی تشریح حدیث نبویؐ کی روشنی میں کی گئی ہے۔ بخاری شریف کا آغاز قرآن کریم کی ایک آیت سے ہوا ہے اور اختتام بھی قرآن کریم کی آیت پر ہی ہوگا۔ جبکہ درمیان میں شاید ہی آپ کو کوئی صفحہ قرآن کریم کی آیت یا کسی جملہ سے خالی ملے، اس لیے یہ تفسیر قرآن کریم کی کتاب ہے۔

امام بخاریؒ نے صرف احادیث بیان نہیں کیں بلکہ قرآن کریم کی آیات اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے ہزاروں احکام و مسائل مستنبط کیے ہیں۔ وہ پہلے مسئلہ بیان کرتے ہیں، پھر اس کے مطابق قرآن کریم کی آیت، حدیث نبویؐ، اور آثار صحابہؓ و تابعینؒ لاتے ہیں، جس سے اہل سنت کے منہج استدلال کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے کہ ہمارے دین کی کسی بھی بات کی بنیاد قرآن کریم کے بعد احادیث اور آثار صحابہؓ پر ہے۔ اور یہی اہل سنت کی اعتقادی و فقہی اساس ہے۔ قرآن و سنت سے احکام مستنبط کرنے کو فقہ کہتے ہیں۔ فقہ و شریعت قرآن و حدیث سے الگ کوئی علم نہیں ہے، بلکہ قرآن و حدیث سے مستنبط ہونے والے احکام و مسائل ہی فقہ کہلاتے ہیں۔

فقہ کا قرآن و حدیث کے ساتھ وہی تعلق ہے جو مکھن، پنیر، ملائی، کریم اور دہی کا دودھ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جبکہ امام بخاریؒ نے جو مسائل مستنبط کیے ہیں ان کی تعداد بخاری شریف میں ساڑھے چھ ہزار کے لگ بھگ ہے، اور تکرار کے بغیر روایات کی تعداد ساڑھے چار ہزار کے آگے پیچھے بیان کی جاتی ہے۔ گویا مسائل زیادہ بیان ہوئے ہیں اور احادیث و روایات ان سے کم ہیں۔ اس لیے بخاری شریف فقہ کی کتاب بھی ہے۔

حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے ’’سیر و مغازی‘‘ یعنی تاریخ کو بھی اس میں کمال درجہ میں شامل کیا ہے۔ امام بخاریؒ صف اول کے مؤرخ ہیں، انہوں نے تاریخی روایات کو جس ذوق و اہتمام کے ساتھ بیان کیا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ اسی طرح امام بخاریؒ نے ’’زھد و رقائق‘‘ سے متعلقہ روایات کو بھی جمع کیا ہے جسے سلوک و احسان کہا جاتا ہے، اور اسے تصوف سے بھی تعبیر کر لیا جاتا ہے۔

اس طرح بخاری شریف اصلاً تو حدیث کی کتاب ہے، مگر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے نزدیک یہ (۱) تفسیر (۲) فقہ (۳) تاریخ اور (۴) سلوک و احسان کی کتاب بھی ہے۔ چنانچہ پڑھنے پڑھانے والوں کو بخاری شریف کی اس جامعیت کو سامنے رکھ کر اس سے استفادہ کرنا چاہیے۔ بخاری شریف کی اس ’’جامعیت‘‘ کا ایک اور حوالہ دینا چاہوں گا جس کا ذکر مولانا مفتی محمد طیب نے بھی کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں انسانی زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ انسانی سوسائٹی میں زندگی کے چار بڑے دائرے ہیں۔ (۱) فرد کی زندگی (۲) خاندانی زندگی (۳) سوسائٹی اور قوم کی زندگی اور (۴) عالمی و بین الاقوامی زندگی۔ اسلامی تعلیمات انسانی زندگی کے ان چاروں دائروں کے حوالہ سے واضح طور پر موجود ہیں۔ امام بخاریؒ نے اپنے دور کے حوالہ سے زندگی کے ان سب شعبوں کے بارے میں قرآن و سنت اور آثار صحابہ و تابعین کے ذریعہ امت مسلمہ اور نسل انسانی کی راہ نمائی کی ہے۔ میں اسے یوں تعبیر کرتا ہوں کہ بخاری شریف کو اسلام کے مکمل نظام حیات کے طور پر بھی پڑھا جائے، اس میں صرف اعتقادات، عبادات، معاملات، آداب اور اخلاقیات ہی نہیں بلکہ زندگی کے اجتماعی شعبوں کے احکام و قوانین بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اگر آپ اس ذوق کے ساتھ بخاری شریف پڑھیں اور پڑھائیں گے تو آپ کو اس میں سیاسی نظام بھی ملے گا، معاشی نظام بھی ملے گا، خارجہ پالیسی بھی ملے گی، جنگ اور صلح کے احکام بھی ملیں گے، قومی زندگی کی ضروریات بھی اس میں موجود ہیں، بین الاقوامیت کے تقاضے بھی اس میں بیان کیے گئے ہیں، اور خاندانی نظام کے بارے میں تو اس سے زیادہ جامع اور فطری احکام کا کسی دوسری جگہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

میں نے ایک سیمینار میں ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خارجہ پالیسی‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے قرآن کریم کی چند آیات اور بخاری شریف کی ایک تفصیلی روایت کا حوالہ دیا تو ایک انتہائی مقتدر شخصیت نے جو سیمینار کی صدارت فرما رہے تھے، بعد میں حیرانی کے ساتھ مجھ سے پوچھا کہ کیا قرآن و حدیث میں ’’خارجہ پالیسی‘‘ کا ذکر بھی موجود ہے؟ میں نے عرض کیا کہ بڑی تفصیل کے ساتھ ہے مگر اسے سمجھنے اور بیان کرنے کے لیے توجہ اور ذوق کی ضرورت ہے۔ اس لیے میں دورۂ حدیث کے طلبہ سے گزارش کروں گا کہ بخاری شریف کو ایک نظام حیات کے طور پر بھی پڑھیں، اس لیے کہ آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے۔

درجہ بندی: