مولانا طارق جمیل کا مدرسہ الحسنینؓ

مولانا طارق جمیل کو گزشتہ روز ایک نئے روپ میں دیکھا تو ان کے لیے دل سے دعا نکلی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس مشن اور پروگرام میں کامیابی اور ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ مولانا موصوف کا تعلق تلمبہ خانیوال کے ایک کھاتے پیتے زمیندار گھرانے سے ہے۔ تبلیغی جماعت سے تعلق قائم ہوا تو اس میں اس رفتار سے آگے بڑھے کہ اسی کے ہو کر رہ گئے۔ مولانا دعوت و تبلیغ کے عمل سے وابستہ ہوئے تو تنہا تھے کہ خاندان میں کوئی اس کار خیر پر شاباش دینے والا نہیں تھا لیکن یہ ان کی استقامت اور جہد مسلسل کا ثمر ہے کہ اب پورا خاندان بلکہ پورا علاقہ اس نیک عمل میں ان کا دست و بازو ہے۔ انہوں نے دعوت و تبلیغ کے روایتی کام پر قناعت نہیں کی بلکہ تعلیم و تدریس سے بھی وابستگی اختیار کی۔ دنیاوی تعلیم تو تھی ہی، دینی مدارس میں باقاعدہ رہ کر درس نظامی کی تعلیم بھی حاصل کی اور اس میں ذوق و شوق کی اس انتہا کو پہنچے کہ اب دینی تعلیم کے حوالہ سے ایک نئے تجربے کو روبہ عمل لانے کے لیے بارش کے پہلے قطرے کے طور پر میدان میں کود پڑے ہیں۔

مولانا طارق جمیل کا عمومی تعارف ایک مبلغ اور داعی کی حیثیت سے ہے اور یہ تعارف ملکی نہیں بلکہ عالمگیر سطح پر ہے۔ تبلیغی جماعت کے بڑے بڑے اجتماعات میں ان کا خطاب انتہائی شوق اور توجہ کے ساتھ سنا جاتا ہے۔ اگرچہ تبلیغی جماعت کے نظم کے مطابق کسی اجتماع میں کسی خاص مقرر یا خطیب کو موقع دینے کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا بلکہ اسے نظم کے تقاضوں کے منافی سمجھا جاتا ہے لیکن سامعین کی بے پناہ خواہش کا بعض اوقات تبلیغی اکابر کو بھی لحاظ رکھنا پڑ جاتا ہے اور اس کا مظاہرہ عام طور پر مولانا طارق جمیل کے حوالہ سے سامنے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں گفتگو کے فن سے نوازا ہے، رلانے اور ہنسانے کی خوب صلاحیت رکھتے ہیں، مطالعہ کا دائرہ خاصا وسیع ہے، خاص طور پر علماء کے کسی اجتماع میں خصوصی خطاب کے دوران واقعات، روایات، اور اشعار کا تسلسل قائم کرتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ان کی زندگی درس و تدریس میں ہی گزری ہے۔ دعوت و تبلیغ کی محنت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اور علماء و عوام کو اس کے لیے تیار کرنے کے لیے جب وہ جوش خطابت کی اس انتہاء کو چھوتے ہیں کہ دینی محنت کے دیگر شعبوں کی اہمیت و ضرورت سامعین کے ذہنوں میں دھندلانے لگ جاتی ہے تو ان کی بعض باتوں سے میرے جیسے خاموش سامعین کو بھی الجھن ہونے لگتی ہے۔ لیکن اپنے مشن اور ہدف کے ساتھ ان کا خلوص اور اس کے ساتھ ان کا زور بیان ایسی الجھنوں کو دبانے میں اکثر کامیاب ہو جایا کرتا ہے۔

لیکن میں اس تحریر میں ان کا ذکر ایک مختلف حوالے سے کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے فیصل آباد میں ملت روڈ پر مدرسۃ الحسنینؓ کے نام سے ایک دینی درسگاہ قائم کر رکھی ہے جس کے بارے میں سالہا سال سے سننے میں آرہا ہے کہ انہوں نے درس نظامی کے مروجہ نصاب و نظام سے ہٹ کر دینی علوم کی تعلیم کے لیے ایک نیا اسلوب اختیار کیا ہے جس میں عصر حاضر کے بعض ضروری تقاضوں کو سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔ درس نظامی کے نصاب و نظام میں عصر نو کی ضروریات کے حوالہ سے بعض تبدیلیوں کا میں بھی خواہش مند ہوں اور ایک عرصہ سے اس کا تحریر و تقریر کے ذریعہ مسلسل اظہار کر رہا ہوں۔ میری یہ کوشش چلی آرہی ہے کہ درس نظامی کے مروجہ اور روایتی نظام و نصاب کے بنیادی ڈھانچے کو ڈسٹرب کیے بغیر اس سے ہٹ کر نئے تقاضوں کے لیے الگ تجربات کیے جائیں۔ ان مختلف تجربات میں سے جو تجربہ کامیاب ہو جائے گا وہ بتدریج خودبخود روایتی نظام کی جگہ لے لے گا۔ ہم خود بھی الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے نام سے ایک چھوٹے سے تجربے سے گزر رہے ہیں اور اسی مناسبت سے مولانا طارق جمیل کے مدرسہ کو دیکھنے کی خواہش تھی۔

مدرسۃ الحسنین کو دیکھنے کا موقع اس طرح ملا کہ خود مولانا طارق جمیل کی طرف سے اس مدرسہ کے سالانہ امتحان کے موقع پر حاضری کی دعوت موصول ہوئی۔ ہمارے دینی مدارس میں عام طور پر سالانہ امتحانات رجب اور شعبان کے دوران ہوتے ہیں اور موسم گرما میں سالانہ تعطیلات کا ہمارے ہاں رواج نہیں ہے۔ مگر مدرسۃ الحسنین فیصل آباد نے اس نئے تجربے کا آغاز کیا ہے کہ سالانہ تعطیلات شعبان اور رمضان کی بجائے موسم گرما میں وسط جون سے آخر اگست تک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور ان تعطیلات سے قبل سالانہ امتحان سے فارغ ہو کر اگست کے آخر میں نیا تعلیمی سال شروع کرنے کا پروگرام بنایا ہے جس کے مطابق اب شعبان اور رمضان میں باقاعدہ تعلیم ہوا کرے گی اور سالانہ امتحان اور تعطیلات موسم گرما میں ہوں گے۔

حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ نے ایک موقع پر دینی مدارس کے نصاب پر تبصرہ کرتے ہوئے دیگر باتوں کے علاوہ ایک بات یہ بھی فرمائی تھی کہ ہمارے ہاں کتاب پڑھائی جاتی ہے اور کتاب کے مندرجات کے حوالہ سے ہی استاذ طلبہ سے ساری گفتگو کرتا ہے، اس سے طالب علم اپنی بساط کے مطابق کتاب تو سمجھ لیتا ہے مگر فن کے ساتھ اس کی واقفیت ادھوری رہ جاتی ہے اور وہ فن سے کماحقہ وابستگی سے محروم رہتا ہے۔ جبکہ مولانا آزادؒ کے نزدیک اصل ضرورت فن کے ساتھ مناسبت قائم کرنے کی ہے جس میں کتاب کو ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ معلوم نہیں کہ مولانا طارق جمیل نے مولانا ابوالکلام آزادؒ کا یہ خطبہ پڑھا ہے یا نہیں لیکن انہوں نے اپنے مذکورہ مدرسہ کے لیے نصاب تعلیم کو جس انداز سے مرتب کیا ہے اس کے پیچھے یہی فکر کار فرما دکھائی دیتی ہے کہ طالب علم کو کتاب کی بجائے فن سے واقف کرایا جائے اور کتاب کو بطور ذریعہ کام میں لاتے ہوئے طالب علم کو فنی مہارت سے بہرہ ور کرنے کی کوشش کی جائے۔

اس کے ساتھ مولانا کی دوسری کوشش یہ دکھائی دیتی ہے کہ عربی زبان کے ساتھ طالب علم کی مناسبت کو بڑھانے کے لیے اس قدر محنت کی جائے کہ وہ تحریر و تقریر میں عربی کو بے تکلفی کے ساتھ اظہار خیال کا ذریعہ بنا سکے۔ چنانچہ ان کا نصاب اس طرح سے ہے کہ

  1. پہلے سال طالب علم کو عربی زبان کے لیے ایک کتاب پڑھا کر لکھنے اور بولنے کی مشق کرائی جاتی ہے،
  2. دوسرے سال علم صرف پڑھایا جاتا ہے، اس طور پر کہ استاذ صرف کی مختلف کتابوں کو سامنے رکھ کر ان سب کا خلاصہ اور نچوڑ اپنے انداز سے طلبہ کو ذہن نشین کراتا ہے اور اس کی تمرین اور مشق پر خاص توجہ دی جاتی ہے،
  3. تیسرے سال اسی ترتیب سے علم نحو پڑھایا جاتا ہے،
  4. چوتھے سال اصول فقہ کی تعلیم ہوتی ہے،
  5. اور پانچویں سال کے لیے فقہ کا انتخاب کیا گیا ہے۔

اس کے بعد حدیث نبویؐ کی باری آئے گی۔ چونکہ مدرسہ میں ابھی پانچویں سال تک ہی کلاسیں پہنچی ہیں اس لیے اس سے آگے کے مراحل پوری طرح واضح نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کی دینی، اخلاقی، اور فکری تربیت کا خاص اہتمام ہوتا ہے جس میں تبلیغی جماعت کا ذوق اور اسلوب نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت مختلف کلاسوں میں طلبہ کی مجموعی تعداد سوا دوسو ہے جو سب مدرسہ کے ہاسٹل میں قیام پذیر ہیں۔

18 جون کو مولانا محمد نواز بلوچ مہتمم ریحان المدارس گوجرانوالہ، مولانا محمد یوسف ناظم الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ، اور مولانا محمد یوسف میواتی مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن میترانوالی ضلع سیالکوٹ کے ہمراہ مدرسۃ الحسنین میں حاضر ہوا۔ اول الذکر دونوں دوست صرف و نحو اور عربی گرامر کے اچھے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔ مدرسۃ الحسنین کے سالانہ امتحانات میں ہر کلاس کے لیے تحریری اور تقریری دونوں امتحانوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تحریری امتحان ہمارے جانے سے قبل ہو چکا تھا جبکہ ہمارے ذمہ یہ تھا کہ بعض کلاسوں کا تقریری امتحان لیں۔ چنانچہ ہم تینوں نے ایک ایک کلاس کا امتحان لیا۔ اور تحریری امتحانات کی بعض کلاسوں کے حل شدہ پرچوں پر نظر ڈالی تو ہم فی الواقع بہت متاثر ہوئے کہ ایک نیا تجربہ ہونے کے باوجود استعداد کے لحاظ سے طلبہ کی اکثریت امتیازی حیثیت کی حامل تھی جس سے مولانا طارق جمیل کے ذوق و اسلوب، ان کے رفقاء کی ٹیم کی محنت، اور خاص طو رپر دو عرب اساتذہ کی لگن کا اندازہ ہوتا ہے جنہوں نے مولانا موصوف کے سوچے ہوئے اس خاکے میں اپنی محنت اور جہد مسلسل سے رنگ بھر دیا ہے۔

مولانا طارق جمیل سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی اس لیے کہ وہ اپنڈکس کے آپریشن کی وجہ سے صاحب فراش تھے۔ عیادت کے علاوہ ان سے ان کے تعلیمی پروگرام پر گفتگو ہوئی۔ ان کے عزائم و اہداف معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ دینی تعلیم کے نصاب و نظام کے حوالہ سے نئی جہتوں اور ضروریات کے جو خواب ہم مدت سے دیکھا کرتے تھے ان کی تعبیر آہستہ آہستہ سامنے آنے لگی ہے۔ اس میدان میں ملک کے مختلف حصوں میں جو مختلف النوع تجربات ہو رہے ہیں ان میں سے اکثر میری نظر میں ہیں، خود ہم بھی اسی تجربہ سے گزر رہے ہیں، مجھے یہ کہنے میں کوئی حجاب نہیں ہے کہ ان میں سے مدرسۃ الحسنین کا تجربہ مجھے زیادہ تیزی کے ساتھ اپنے اہداف کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ سنجیدگی کے لحاظ سے، وسائل و اسباب کے دوسروں کے بہ نسبت زیادہ امکانات کے حوالہ سے، اور مولانا موصوف کے رفقاء کے ٹیم ورک اور ذوق و محنت کی وجہ سے بھی مجھے اس میں پیش رفت کے مواقع زیادہ نظر آرہے ہیں، خدا کرے کہ ایسا ہی ہو، آمین ثم آمین۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۲۳ جون ۲۰۰۳ء