مولانا محمد عمر لدھیانویؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ء

گزشتہ دنوں علماء لدھیانہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ عالم دین مولانا محمد عمر لدھیانوی کا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انتقال ہوگیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ میں ۱۰ دسمبر جمعرات کو اتفاقاً فیصل آباد میں تھا، وہیں خبر ملی تو جنازے کے موقع پر حاضری اور مولانا مرحوم کے آخری دیدار کا شرف حاصل ہوگیا۔ مجھے اس روز چنیوٹ میں اپنے ایک عزیز شاگرد حافظ محمد عمیر کے ختم قرآن کریم کے پروگرام میں حاضر ہونا تھا جو بعد نماز عشاء تھا۔ حافظ محمد عمیر نے مسجد بلال میں جہری نمازوں میں مسلسل قرآن کریم پڑھنے کا معمول رکھا ہوا ہے اور اس روز ان کا دوسرا ختم تھا۔ یہ ذوق کہ قرآن کریم رمضان المبارک میں تراویح اور نوافل کے علاوہ سارا سال جہری نمازوں میں ترتیب سے پڑھا جائے، میں نے سب سے پہلے برادرم مولانا محمد سعید الرحمان علویؒ کا دیکھا جو ہفت روزہ خدام الدین لاہور کے مدیر تھے اور شاہ جمال کی مسجد الشفاء میں امام و خطیب تھے۔ انہوں نے نماز فجر میں ترتیب کے ساتھ کئی مرتبہ قرآن کریم مکمل کیا۔ اس کے بعد ہمارے گوجرانوالہ کے ایک دوست پروفیسر حافظ محمد شریف میرے علم میں آئے جنہوں نے گکھڑ میں استاذ محترم قاری محمد انور صاحب مدظلہ سے قرآن کریم حفظ کیا۔ وہ میرے حفظ کے دور کے ساتھی ہیں، مدرسہ نصرۃ العلوم کے فضلاء میں سے ہیں، اور اس وقت گورنمنٹ ڈگری کالج میں پروفیسر ہیں۔ انہوں نے مسجد حذیفہ پاپولر نرسری گوجرانوالہ میں جہری نمازوں میں متعدد بار قرآن کریم مکمل کیا۔ تیسرے ساتھی حافظ محمد عمیر ہیں جنہیں یہ ذوق و سعادت حاصل ہوئی ہے۔ ملک میں اور بھی بہت سے دوست اس ذوق کے ہوں گے مگر ہمارے علم میں یہ تین دوست ہیں اور بحمد اللہ تعالیٰ تینوں حضرات یعنی مولانا محمد سعید الرحمان علوی، پروفیسر حافظ محمد شریف، اور حافظ محمد عمیر جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فضلاء میں سے ہیں۔

میں نے اس روز چنیوٹ جانا تھا مگر راستہ فیصل آباد کا اختیار کیا کہ وہاں ہمارے دوستوں نے النور ٹرسٹ کے عنوان سے ’’اذان ٹی وی‘‘ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور مختلف دعوتی و تعلیمی پروگرام اس کے ذریعہ روزانہ لوگوں کو پیش کیے جاتے ہیں۔ اس پروگرام اور اس کو چلانے والے گروپ کے سربراہ حافظ ریاض احمد چشتی صاحب ہیں جو ایک فیکٹری کے مالک ہیں اور حضرت مولانا ظفر احمد قادریؒ آف واھگہ لاہور کے خلیفۂ مجاز ہیں۔ انہوں نے مجھے اذان ٹی وی میں درس قرآن کریم ہفتہ وار پروگرام لیے پابند کر رکھا ہے اور میں وقتاً فوقتاً اس کے لیے پروگرام ریکارڈ کرا دیتا ہوں۔ اس روز میں نے فیصل آباد کا راستہ اسی مقصد کے لیے اختیار کیا تھا کہ ایک پروگرام ریکارڈ کرادوں لیکن جب فیصل آباد حافظ ریاض احمد چشتی صاحب کے ہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ حضرت مولانا محمد عمر لدھیانویؒ کا ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انتقال ہوگیا ہے اور عصر کے بعد جنازہ ہے۔ مولانا عبد الرشید انصاری نے بھی جانا تھا اس لیے طے ہوا کہ ہم اکٹھے وہاں چلے جاتے ہیں اور فیصل آباد والا پروگرام پھر کسی دن ہو جائے گا۔ چنانچہ میں وہاں سے مولانا عبد الرشید انصاری، مولانا محمد خان، اور حافظ ریاض احمد چشتی کے ہمراہ روانہ ہوا۔ ہم بمشکل جنازے تک پہنچ سکے اور مولانا محمد عمر لدھیانویؒ کی آخری زیارت کی۔ اس موقع پر محترم جناب حمزہ صاحب سے بھی طویل عرصہ کے بعد ملاقات ہوگئی۔ حمزہ صاحب بھی علمائے لدھیانہ کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، کئی بار قومی اسمبلی کے رکن رہے ہیں، ملکی سیاست میں ایک نظریاتی اور با اصول راہنما کے طور پر ان کا نمایاں نام ہے، وہ ایک دور میں پاکستان قومی اتحاد صوبہ پنجاب کے صدر تھے جبکہ میں صوبائی سیکرٹری جنرل تھا۔ ہمارے ساتھ اقبال احمد خان مرحوم، مولانا فتح محمؒد، ملک اکبر خان ساقی، علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدؒ، رانا نذر الرحمان مرحوم، اور جناب سعید الدین مرحوم پر مشتمل ٹیم تھی جو تحریک نظام مصطفیٰ اور پاکستان قومی اتحاد کے صوبائی معاملات کی ذمہ دار تھی۔

مولانا محمد عمر لدھیانویؒ رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کے بھتیجے اور حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانویؒ کے فرزند تھے۔ پاکستان بننے کے بعد حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانویؒ پاکستان تشریف لائے اور فیصل آباد میں آباد ہوگئے۔ گورونانک پورہ فیصل آباد میں مدرسہ اشرف المدارس جو ایک دور میں ملک کے بڑے مدارس میں شمار ہوتا تھا، حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانویؒ کا قائم کردہ ہے۔ مولانا محمد عمر لدھیانویؒ جمعیۃ علمائے اسلام کے سرگرم راہ نماؤں میں سے تھے اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے معتمد رفقاء میں سے تھے۔ اس دور میں فیصل آباد ڈویژن میں جمعیۃ علمائے اسلام کو منظم کرنے میں ان کا اہم اور متحرک کردار رہا ہے اور وہ کچھ عرصہ جمعیۃ علمائے اسلام کے ڈویژنل امیر بھی رہے۔ ان کے ساتھ اس زمانے میں مولانا عزیز الرحمان انوری، مولانا عبد العلیم جالندھری، مولانا محمد اختر صدیقی، احمد یعقوب چودھری، مولانا عبد الرشید انصاری، ملک محمد صدیق، عبد المجید انور، مولانا عابد نعیم، اور دیگر سرگرم حضرات جمعیۃ علمائے اسلام کی تنظیمی و تحریکی خدمات میں پیش پیش تھے۔ جبکہ میرے جماعتی دوروں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مولانا محمد عمر لدھیانویؒ کی شخصیت اور احمد یعقوب چودھری کا گھر ایک اہم جنکشن کی حیثیت رکھتا تھا۔

مولانا محمد عمر لدھیانویؒ کے حوالہ سے ایک یادگار واقعہ بھی میری یادداشت کا اہم حصہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے موقع پر میں جب دیوبند گیا تو قافلہ کے ساتھ واپسی نہیں کی بلکہ گھومنے پھرنے کے شوق میں چند روز مزید وہاں رہا۔ اس دوران دہلی، سہارنپور، مظفر نگر، لدھیانہ، امرتسر، اور انبالہ وغیرہ دیکھا۔ اس زمانے میں اتنی سختی نہیں تھی اور باوجودیکہ میرے پاس ان شہروں کا ویزا نہیں تھا مجھے گھومنے پھرنے میں کچھ زیادہ دقت پیش نہیں آئی۔ میں دہلی سے سیدھا لدھیانہ پہنچا، میرے پاس کسی کا ایڈریس نہیں تھا اور نہ ہی کسی سے رابطہ تھا۔ بس اللہ توکل دہلی سے نکل پڑا اور راستہ میں پانی پت سے گزرتے ہوئے دور سے حضرت بوعلی شاہ قلندرؒ کے مزار کی زیارت کر کے رات عشاء کے کچھ دیر بعد لدھیانہ پہنچ گیا۔ مجھے اندازہ تھا کہ حضرت مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ وہاں کی معروف شخصیت رہے ہیں، کسی نہ کسی سے ان کے گھر کا پتا مل ہی جائے گا اور وہاں پہنچ کر کسی نہ کسی طرح اپنا تعارف کرالوں گا۔ چنانچہ لدھیانہ کے جنرل بس اسٹینڈ سے ایک بوڑھے سکھ رکشہ ڈرائیور سے پتا مل گیا اور اس کے کہنے پر ایک اور رکشہ ڈرائیور نے مجھے مولانا حبیب الرحمان لدھیانویؒ کے گھر پہنچا دیا۔ دروازے پر کھڑے مجھے ایک لمحہ کے لیے خیال آیا کہ تعارف تو ہے نہیں، اگر انہوں نے پہچاننے یا بطور مہمان قبول کرنے سے انکار کر دیا تو پھر کیا کروں گا؟ یہ سوچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دروازے پر بیل دی اور تیزی سے دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد دروازہ کھلا تو دیکھا کہ دروازہ کھولنے والے بزرگ مولانا محمد عمر لدھیانویؒ تھے۔ میری جان میں جان آئی، ہم دونوں نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا اور پھر گلے لگ گئے۔ وہ اپنے والد محترم حضرت مولانا محمد یحییٰ لدھیانوی کے ہمراہ چچا کے گھر میں تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں میرے لیے رحمت کا فرشتہ بنا دیا تھا۔ بہرحال مولانا نے دو تین روز تک خوب مہمان نوازی کی اور پھر میں امرتسر کے راستے پاکستان واپس آگیا۔

مولانا محمد عمر لدھیانویؒ سادہ منش بزرگ، انتھک کارکن، اور حمیت و غیرت سے بہرہ ور عالم دین تھے۔ ان کا جوش و جذبہ اور جہد و حرکت تحریکات کے دوران دیکھنے والی ہوتی تھی۔ وہ حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ کے صرف عقیدت مند نہیں تھے بلکہ ان کے مزاج اور ذوق کا بھی وافر حصہ رکھتے تھے او رانہیں دیکھ کر ان دو بزرگوں کی یاد تازہ ہو جایا کرتی تھی۔ ایثار و قناعت، سادگی، دینی حمیت، جرأت و حوصلہ کی صفات سے موصوف تحریکی کارکنوں کی یہ جنس اب نایاب ہوتی جا رہی ہے اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے یہ شعر بے ساختہ نوک قلم پر آرہا ہے کہ

آئے عشاق، گئے وعدۂ فردا لے کر
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر