نبی اکرمؐ کا معاشرتی رویہ اور روزمرہ معمولات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ فروری ۲۰۱۲ء

امام ترمذیؒ نے ’’شمائل ترمذی‘‘ میں سیدنا حضرت امام حسینؓ سے روایت نقل کی ہے۔ انہوں نے سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روز مرہ کے معمولات اور شب و روز کی مصروفیات کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے اپنے سوال کو تین حصوں میں تقسیم کیا:

  1. گھر کے اندر جناب رسول اللہؐ جو وقت گزارتے تھے اس کی ترتیب کیا تھی؟
  2. گھر سے باہر کے معمولات اور انداز کیا تھا؟
  3. مجلسی زندگی کے آداب اور انداز کیا تھا؟

حضرت علیؓ نے بتایا کہ آنحضرتؐ نے اپنے گھر کے اوقات اور معمولات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ وقت کا ایک حصہ اپنے ذاتی کاموں پر صرف کرتے تھے، دوسرا حصہ گھر والوں کے لیے مخصوص ہوتا تھا، اور تیسرا حصہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے ہوتا تھا۔ حضورؐ اپنے ذاتی کاموں کے لیے مخصوص وقت میں ان خواص کے ساتھ ملاقات بھی کرتے تھے جو آپؐ کی خدمت میں گھر میں حاضر ہوتے تھے اور آپؐ کی مخصوص مجلس میں شریک ہوتے تھے۔ یہ مجلس روزانہ ہوتی تھی، کوئی ضرورت مند ہوتا تو وہ اپنا سوال لے کر آتا اور حضورؐ حسب موقع اس کی ضرورت پوری فرما دیتے تھے۔ آپؐ اس مجلس کے شرکاء کے ساتھ امت کے اجتماعی مسائل پر گفتگو فرماتے اور عام لوگوں کے معاملات میں ہدایات دیتے تھے۔ آپؐ نے مجلس میں خاص طور پر دو باتوں کی تلقین فرما رکھی تھی کہ مسلمانوں کے عمومی مفاد اور مصلحت کی کوئی بات ہو تو اسے دیگر لوگوں تک پہنچاؤ، اور یہ کہ کوئی شخص اپنی ضرورت اور حاجت کو حضورؐ تک براہ راست پہنچانے میں کوئی دقت یا حجاب محسوس کرتا ہو تو اس کا مسئلہ آپؐ تک پہنچایا جائے۔ اس سلسلہ میں نبی اکرمؐ یہ بھی ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص اپنی ضرورت اور مسئلہ متعلقہ حکام تک پہنچانے کا موقع نہیں پاتا، اس کا مسئلہ متعلقہ حکام تک پہنچانے والے مسلمان کو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز ثابت قدمی عطا فرمائیں گے۔ مجلس میں آنے والے جو لوگ سوالی ہو کر آتے تھے حضورؐ کے گھر سے کوئی چیز چکھے بغیر واپس نہیں جاتے تھے۔ اس مجلس میں جناب نبی اکرمؐ کے ساتھ شریک ہونے والے بہترین افراد ہوتے تھے جو مجلس سے باہر کے لوگوں کے لیے رہنما کا درجہ رکھتے تھے۔ یہ مجلس اسی قسم کی باتوں پر مشتمل ہوتی تھی اور ان سے ہٹ کر کوئی بات کہنے کا موقع نہیں ملتا تھا۔

گھر سے باہر کی عمومی مجالس کی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ جناب نبی اکرمؐ مجلس کا آغاز بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ کرتے تھے اور مجلس کا اختتام بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر پر ہوتا تھا۔ حضورؐ جب کسی مجلس میں تشریف لے جاتے تو جہاں تک مجلس پہنچ چکی ہوتی وہیں بیٹھ جاتے اور اس بات کی تلقین بھی فرماتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ حضورؐ جس جگہ بیٹھ جاتے وہی جگہ مجلس کا صدر مقام بن جاتی تھی۔ ہر صاحب مجلس کو حضورؐ اس کا حصہ دیتے تھے اور کسی کو یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ اسے دوسرے اصحاب مجلس سے کم توجہ مل رہی ہے۔ حضورؐ کے سامنے کوئی شخص اپنا مسئلہ پیش کرتا یا کسی مسئلے پر بات کرتا تو آپؐ اس کی پوری بات سنتے تھے اور جب تک وہ اپنی بات مکمل نہ کر لیتا اس سے رخ نہیں پھیرتے تھے۔ کوئی شخص حضورؐ کے سامنے اپنی ضرورت کا اظہار کرتا تو آپ اس کی ضرورت پوری کرتے یا نرمی کے ساتھ تسلی کی کوئی بات فرما دیتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس علم کی مجلس ہوتی تھی، حیا کی مجلس ہوتی تھی، کسی پر الزام تراشی نہیں ہوتی تھی، کسی پر تہمت نہیں لگائی جاتی تھی، کسی کی غلطی کو اچھالا نہیں جاتا تھا، اور آپؐ اپنے ساتھیوں کے لیے باپ جیسے شفیق ہوتے تھے۔

مجلس سے ہٹ کر جناب نبی اکرمؐ کا عمومی انداز اور طرز عمل یہ ہوتا تھا کہ بے مقصد باتوں سے اپنی زبان کو بچاتے تھے اور وہی بات فرماتے تھے جس کی ضرورت ہوتی تھی۔ لوگوں کو قریب کرنے کی بات کرتے تھے، دور کرنے والی باتوں سے گریز کرتے تھے۔ کسی قوم کا بڑا آپ کے پاس آتا تو اس کا اکرام کرتے تھے اور اس کے ساتھ اسی سطح کا معاملہ فرماتے تھے۔ لوگوں کو اللہ کا خوف دلاتے رہتے تھے۔ لوگوں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بے تکلف نہیں ہوتے تھے مگر کسی کو بے رخی کا احساس بھی نہیں ہونے دیتے تھے۔ اپنے ساتھیوں کے حالات معلوم کرتے تھے اور اگر کوئی غیر حاضر ہوتا تو اس کی تحسین فرماتے اور اسے تقویت دیتے۔ آپؐ اگر کوئی قبیح معاملہ دیکھتے تو اس کی قباحت کا ذکر کرتے اور حوصلہ شکنی کرتے تھے۔

حضورؐ اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ لوگ خیر کے معاملات سے غافل نہ ہو جائیں اور اس بات کا بھی اہتمام کرتے تھے کہ وہ اکتا نہ جائیں۔ ہر قسم کے معاملے کا آپ کے پاس حل تیار ہوتا تھا اور ہر صورتحال کے لیے مستعد ہوتے تھے۔ آپؐ حق بات کہنے سے نہیں کتراتے تھے اور ضرورت سے زیادہ بات نہیں کرتے تھے۔ لوگوں میں سے آپؐ سے زیادہ قریب وہی حضرات ہوتے تھے جو اچھے لوگ ہوتے تھے۔ جناب نبی اکرمؐ کے ہاں سب سے زیادہ قابل احترام وہی شخص ہوتا تھا جو لوگوں کے ساتھ نصیحت او رخیر خواہی کا جذبہ رکھتا ہو اور آپؐ کے ہاں اس شخص کو زیادہ قدر حاصل ہوتی تھی جو عام لوگوں کے ساتھ غم خواری اور مدد میں پیش پیش ہوتا تھا۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روز مرہ معمولات اور طرز عمل کے بارے میں یہ ارشادات حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہیں۔ جبکہ بخاری شریف کی ایک راویت کے مطابق ایک بار چند نوجوان صحابہ کرامؓ نے باہمی مشورہ کر کے حضورؐ کے گھر کے اندر کے معمولات معلوم کرنا چاہے تاکہ وہ بھی ان معمولات کی پیروی کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے امہات المومنینؓ کی خدمت میں باری باری حاضری دی اور دریافت کیا کہ آنحضرتؐ جب گھر کے اندر تشریف لاتے ہیں تو آپؐ کے معمولات کیا ہوتے ہیں؟ ازواج مطہراتؓ میں سے ہر ایک کا جواب یہ تھا کہ گھر کے اندر آپؐ کے معمولات کم و بیش وہی ہوتے ہیں جو ہر گھر کے سربراہ کے ہوتے ہیں۔ آپؐ آرام فرماتے ہیں، بیوی بچوں کو وقت دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں، آنے جانے والوں کے حالات دریافت کرتے ہیں، گھر کا کوئی کام کاج ہو تو اس میں ازواج مطہراتؓ کا ہاتھ بٹاتے ہیں، حتیٰ کہ جوتا گانٹھ لیتے ہیں، چارپائی کی مرمت کر لیتے ہیں اور اس طرح کے ضرورت کے کام آپؐ خود کر لیا کرتے ہیں۔

درجہ بندی: