ختم نبوت کانفرنس چناب نگر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ اکتوبر ۲۰۱۶ء

چناب نگر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ کانفرنس ۲۷و ۲۸ اکتوبر کو منعقد ہو رہی ہے اور ملک کے مختلف حصوں سے دینی جماعتوں اور مکاتب فکر کے سرکردہ راہنما اس سے خطاب کر رہے ہیں۔ راقم الحروف کو ایک عرصہ تک اس کانفرنس میں شرکت کی سعادت حاصل ہوتی رہی ہے بلکہ یہ سعادت اس دور میں بھی حاصل رہی ہے جب یہ کانفرنس چنیوٹ کے میونسپل ہال میں منعقد ہوا کرتی تھی۔ مگر اب چند سالوں سے اس سے محروم ہوں جس کی وجہ چنیوٹ کی ضلعی انتظامیہ کا وہ حکم نامہ ہے جو چند دیگر علماء کرام سمیت مجھ پر ہر ایسے اجتماع سے قبل لاگو ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ بعض مواقع پر وہاں پہنچ کر بھی جلسہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور واپس آنا پڑا۔ گزشتہ ماہ چناب نگر میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر بھی ضلعی انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

اس سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سالانہ کانفرنس سے ایک روز قبل چنیوٹ میں جامعہ انوار القرآن کے مہتمم مولانا قاری عبد الحمید حامد نے اپنے فرزند کا حفظ قران کریم مکمل ہونے پر ۲۶ اکتوبر کو ایک تقریب کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب نے شریک ہونا تھا اور مجھے بھی اس میں شرکت کے لیے کہا گیا تھا۔ مولانا قاری عبد الحمید حامد جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے پرانے فضلاء میں سے ہیں، ان کے ارشاد پر میں نے حاضری کا وعدہ کر لیا، خیال تھا کہ اگر خاموشی کے ساتھ موقع مل گیا تو ختم نبوت کانفرنس میں حاضری کی کوئی صورت بھی شاید نکل آئے گی۔ مگر مولانا حافظ محمد عمیر چنیوٹی نے فون پر اطلاع دی کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نے جامعہ انوار القرآن چنیوٹ کی تقریب میں شرکت کی اجازت دینے سے بھی معذرت کر دی ہے۔

مجھ پر اس وقت پوری دنیا میں صرف دو مقامات پر جانے کے دروازے قانوناً بند ہیں۔ ایک جگہ ضلع چنیوٹ اور خاص طور پر چناب نگر ہے جبکہ دوسرا مقام برطانیہ ہے جہاں میں مسلسل پچیس برس تک جاتا رہا ہوں مگر گزشتہ پانچ سال سے مجھے ویزا دینے سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے۔ ان دونوں علاقوں میں میری گفتگو عام طور پر قادیانیت کے حوالہ سے ہوتی ہے اس لیے پابندی کی وجہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ حالانکہ میری گفتگو کے اسلوب اور مواد سے سب حضرات واقف ہیں کہ بحمد اللہ تعالیٰ اس میں اشتعال اور تشدد کی بجائے دلیل اور افہام و تفہیم کا ذوق غالب ہوتا ہے اس لیے ان پابندیوں کی وجہ سے دوستوں کے ساتھ ملاقاتوں سے محرومی کے باوجود مجھے اس پر پریشانی کی بجائے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ یہ قدغنیں اس بات کی شہادت کا درجہ رکھتی ہیں کہ اس محاذ پر بحمد اللہ تعالیٰ میری جدوجہد صحیح سمت پر جا رہی ہے اور کوئی نشانہ خطا نہیں جا رہا۔

اس مجوزہ سفر میں میرا ارادہ جامعہ محمدی شریف جانے کا بھی تھا تاکہ استاذ محترم حضرت مولانا محمد نافع قدس اللہ سرہ العزیز کے فرزند مولانا مختار عمر کی وفات پر ان کے خاندان سے تعزیت کرسکوں جن کا اس سال حج کے موقع پر حجاز مقدس میں انتقال ہوگیا ہے، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ برآ ہونے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

چناب نگر اور چنیوٹ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ، مجلس احرار اسلام پاکستان، اور ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد کے زیر اہتمام وقتاً فوقتاً اس سلسلہ میں منعقد ہونے والی کانفرنسیں جہاں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے حوالہ سے ملت اسلامیہ کی بیداری کی علامت ہیں وہاں خطرات کی بروقت نشاندہی کا بھی مؤثر ذریعہ ہیں۔ خاص طور پر ان حالات میں کہ پاکستان میں سیاسی بحران بڑھتا جا رہا ہے، بھارت کی سرحد پر کشیدگی آخری حدوں کو چھوتی نظر آرہی ہے اور پاکستان کے اسلامی تشخص کے ساتھ ساتھ ملکی سا لمیت و وحدت کے بارے میں بھی خدانخواستہ شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات ہی قادیانی گروہ اور اس کے عالمی سرپرستوں کی سرگرمیوں کے لیے زیادہ سازگار ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس قسم کے حالات ایسی سرگرمیوں کے لیے ہی پیدا کیے جاتے ہیں۔ اس لیے پورے حوصلہ و اعتماد اور تدبر و حکمت کے ساتھ تحریک ختم نبوت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، خدا کرے کہ چناب نگر کی ختم نبوت کانفرنس بھرپور کامیابی سے ہمکنار ہو کر اس سلسلہ میں مؤثر کردار کا پیش خیمہ ثابت ہو، آمین یا رب العالمین۔