برمی مسلمانوں کی حالت زار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ اپریل ۱۹۷۸ء

بعض اخباری اطلاعات کے مطابق برما میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات ایک بار پھر تنگ کر دیا گیا ہے اور انہیں وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ رابطہ عالم اسلامی کے تین کونسلروں نے برمی حکومت کے نام ایک عرضداشت میں مطالبہ کیا ہے کہ برمی مسلمانوں کا قتل عام فورًا بند کیا جائے۔ ان کونسلروں کا کہنا ہے کہ برما کے صوبہ اراکان میں گزشتہ تیس برس سے مسلمانوں پر مسلسل مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور انہیں حج بیت اللہ کے لیے مکہ مکرمہ کا سفر کرنے حتیٰ کہ خود برما میں بھی آزادی کے ساتھ چلنے پھرنے کی اجازت نہیں ہے اور برمی مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد عملاً نظر بند ہو کر رہ گئی ہے۔

ان اطلاعات سے برما کے مظلوم مسلمانوں کی حالت زار کی جو عکاسی ہوتی ہے اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ برما میں مسلمان قوم کے وجود اور تشخص کو ختم کرنے کی ایک منظم کوشش کی جا رہی ہے اور یہ بات پورے عالم اسلام بالخصوص رابطہ عالمِ اسلامی، مؤتمر عالم اسلامی اور دیگر مسلم عالمی اداروں کی فوری اور مؤثر توجہ کی مستحق ہے۔

رابطہ عالم اسلامی کی طرف سے صرف تین کونسلروں کا برمی حکومت کو عرضداشت بھجوانا ایک مستحسن کارروائی ہونے کے باوجود ناکافی اقدام ہے اور ہم رابطہ عالم اسلامی کے راہنماؤں سے گزارش کریں گے کہ وہ اس سلسلہ میں مؤثر اور ٹھوس قدم اٹھائیں تاکہ برما کے مظلوم مسلمانوں کو وحشیانہ مظالم سے نجات دلائی جا سکے۔

درجہ بندی: