صوفیائے کرام اور مجاہدین

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۶ مئی ۲۰۰۰ء

راجہ انور صاحب نے اپنے تفصیلی مضمون میں بعض امور کی وضاحت کے لیے فرمایا ہے لیکن ساتھ ہی یہ شرط لگا دی ہے کہ علم الکلام کی موشگافیوں میں نہ پڑوں۔ مگر میرے لیے اس شرط کو پورا کرنا مشکل ہے اس لیے کہ اگر بات علم الکلام سے متعلق ہوگی تو اس کی وضاحت کے لیے علم الکلام کے اصولوں کی طرف رجوع کرنا ضروری ہوگا، ورنہ اگر انجینئرنگ کے کسی مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے میڈیکل سائنس کے اصولوں کو تذکرہ کرنے بیٹھ جاؤں گا تو خود راجہ صاحب موصوف کو شکایت ہوگی۔ مثلاً انہوں نے عقائد و نظریات کا ذکر کرتے ہوئے ان دونوں کو غیر جامد اور متحرک قرار دیا ہے جس سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔ اس امر کی وضاحت میں سابقہ مضمون میں کر چکا ہوں کہ عقائد اور چیز ہیں اور نظریات ان سے مختلف امور کا نام ہے۔ اب ان میں سے عقائد کا تعلق علم الکلام سے ہے اس لیے اس حوالہ سے جو بات بھی ہو گی علم الکلام کے اصولوں کی روشنی میں ہوگی اور اس اصول سے صرف نظر کرنے کا مطلب گفتگو اور مباحثہ کے مسلمات اور طے شدہ قواعد و اصول سے انحراف ہوگا جو کم از کم میرے لیے تو ممکن نہیں ہے۔

عقائد و نظریات کے بارے میں چند ضروری امور کی وضاحت گزشتہ مضمون میں کر چکا ہوں البتہ اس میں ایک پہلو قدرے تشنہ رہ گیا تھا جس کی تکمیل کے لیے تھوڑا سا تکرار ضروری ہوگیا ہے، امید ہے کہ قارئین اس تکرار کو محسوس نہیں کریں گے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ عقائد کی بنیاد وحی الٰہی، آسمانی تعلیمات، حقائق ثابتہ اور نصوص صریحہ پر ہوتی ہے اس لیے ان میں نہ کبھی تغیر ہوا ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ یہ قطعی طور پر جامد اور غیر متحرک ہیں اور انسان کی عقل، شعور اور مشاہدہ جتنا بھی ترقی کر جائے بنیادی عقائد میں کسی طرح کا کوئی فرق رونما نہیں ہوگا۔ مثلاً خدا تعالیٰ کا وجود قائم رہے گا، اس کی توحید موجود رہے گی، اور اس کی صفات و اختیارات میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا۔ البتہ عقائد کی تعبیر و تشریح اصحاب علم کے پاس موجود و میسر معلومات اور ان کی قوت ادراک پر موقوف ہے اس لیے اس بارے میں ارباب علم و دانش کی آراء مختلف ہو سکتی ہیں۔ جبکہ افکار و نظریات کا انحصار انسانی فکر و شعور پر ہے اور افکار و نظریات کے باب میں انسانوں کا آپس میں مکمل طور پر متفق ہونا کہیں بھی ضروری نہیں ہے۔

اس اصول کی وضاحت کے بعد میں نے عرض کیا تھا کہ معاملہ وہاں گڑبڑ ہوتا ہے جہاں ان تینوں کو ایک ہی زمرہ میں شمار کر لیا جاتا ہے۔ لیکن اس فرق کی وضاحت تشنہ رہ گئی تھی کہ جس طرح کچھ مذہبی حلقے عقائد کی طرح ان کی تعبیر و تشریح اور افکار و نظریات کو بھی جامد اور غیر متغیر قرار دے کر ان پر عقائد کی طرح ڈٹ جاتے ہیں جس سے تنازعات جنم لیتے ہیں اور فرقہ بندی کا ماحول پیدا ہوتا ہے، اسی طرح دوسری طرف جب ہمارے بعض دانشور تعبیر و تشریح اور افکار و نظریات کی طرح عقائد کو بھی متحرک اور غیر جامد قرار دے کر ان میں تغیر و تبدل کا تقاضا کرنے لگتے ہیں تو دین کا پورا ڈھانچہ ہی سبوتاژ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور قدیم و جدید کے درمیان فکری کشمکش کا موجودہ تناظر انہی دو انتہاؤں کے ٹکراؤ اور تصادم کے نتیجے میں نظر آرہا ہے۔ ورنہ اگر تینوں امور کو اپنے اپنے دائرہ میں رکھا جائے تو ہر تنازعہ کا حل نکل آتا ہے۔

مذہبی اختلافات کا ذکر کرتے ہوئے راجہ انور صاحب نے سوال اٹھایا ہے کہ سعودی عرب، مراکش، ایران، پاکستان، افغانستان اور دیگر ممالک میں فقہی مذاہب مختلف ہیں اور کسی ملک میں وہاں کی فقہ سے وابستگی نہ رکھنے والے کسی مسلمان کا اقتدار میں آنا مشکل ہے۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ یہ کوئی پریشانی اور الجھن کی بات نہیں ہے اس لیے کہ یہ بات مسلمہ طور پر طے ہو چکی ہے کہ جس ملک کے باشندوں کی اکثریت جس فقہ سے تعلق رکھتی ہے وہاں اسی اکثریت کا فقہی مذہب نافذ العمل ہوگا اور اس پر کسی دوسرے کو اعتراض نہیں ہوگا۔ مثلاً سعودی عرب میں حنبلی فقہ نافذ ہے جو دیگر تمام فقہی مذاہب کے پیروکاروں کے لیے ملکی قانون کے طور پر قابل قبول ہے۔ جبکہ افغانستان میں فقہ حنفی کو ملکی قانون کا درجہ دیا گیا ہے اور دنیا کے کسی خطہ کے غیر حنفی حضرات کو اس پر کوئی اشکال نہیں ہے۔ اس لیے جب ان فقہی مذاہب کے علمبردار ایک دوسرے کے اس اصول اور فطری حق کو تسلیم کر رہے ہیں اور اس کا احترام کر رہے ہیں تو میرے خیال میں محترم راجہ انور صاحب کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

راجہ صاحب محترم نے صوفیاء کرام اور مجاہدین کے الگ الگ راستوں کی نشاندہی کی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ مجاہدین کی طرح تلوار لہرا کر اسلام کا نعرہ لگانے کی بجائے صوفیاء کرام کی طرح خاموشی، محبت اور رواداری کے ساتھ اسلام کی دعوت دینا زیادہ مؤثر ہے۔ لیکن راجہ صاحب یہ تاریخی حقیقت نظر انداز کر گئے ہیں کہ صوفیاء کرام اور مجاہدین کا راستہ کبھی ایک دوسرے سے متضاد اور مختلف نہیں رہا، دونوں ایک دوسرے کے کام میں ہمیشہ معاون و مددگار رہے ہیں۔ میں اپنے اس دعویٰ کے ثبوت میں ہندوستان پر ہونے والے تین بڑے عسکری حملوں کا حوالہ دینا چاہوں گا۔

سلطان محمود غزنویؒ ہمارے مجاہدین اور فاتحین میں بلند مقام رکھتے ہیں اور ہند کو مسلمانوں کے حق میں مسخر کرنے میں ان کے حملوں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہندوستان پر ان کی فوج کشی کے دوران اس وقت کے چشتیہ سلسلہ کے سب سے بڑے بزرگ خواجہ ابو محمد چشتیؒ بذات خود اپنے سینکڑوں مریدوں کے ہمراہ جہاد میں شریک ہوئے اور لڑائی میں عملاً حصہ لیا۔

سلطان شہاب الدین محمد غوریؒ کا ذکر خود راجہ انور صاحب نے بھی کیا ہے لیکن انہیں شاید یہ بات یاد نہیں رہی کہ سلطان شہاب الدین محمد غوریؒ کو ہندوستان پر لشکرکشی کی دعوت ہی سلطان الاولیاء حضرت خواجہ معین الدین اجمیری چشتیؒ نے دی تھی۔ اور نہ صرف ان کے مریدوں نے بلکہ بعض مصدقہ تاریخی روایات کے مطابق خود خواجہ اجمیریؒ نے بھی سلطان غوریؒ کے پرچم تلے جہاد میں عملاً حصہ لیا تھا اور اسی کے نتیجے میں اس خطہ میں پہلی مسلم ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔

مغلوں کے انحطاط و زوال کے دور میں جب جنوبی ہند کے مرہٹے انتہاپسندانہ اور جنونی ہندوازم کا پرچم اٹھائے شمالی ہند کے مسلمانوں کو ملیامیٹ کرنے کے لیے طوفانی یلغار کی صورت میں آگے بڑھ رہے تھے تو ان کے مقابلہ میں دہلی کی مسلم قوت کو کمزور دیکھتے ہوئے اس وقت کے سب سے بڑے صوفی اور فلسفی عالم حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے قندھار کے والی احمد شاہ ابدالیؒ کو ہندوستان پر لشکرکشی کی دعوت دی تھی اور اسی دعوت پر احمد شاہ ابدالیؒ نے پانی پت کے تاریخی میدان میں مرہٹوں کو شکست فاش دے کر شمالی ہند (موجودہ پاکستان) کے مسلمانوں کو جنونی مرہٹوں کی یلغار سے ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا تھا۔

یہ تاریخی حقائق ہیں جو اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ صوفیاء کرام اور مجاہدین کے راستے کبھی ایک دوسرے سے مختلف نہیں رہے اور طریق کار الگ الگ ہونے کے باوجود دونوں کے درمیان نہ صرف تعلقات کار موجود رہے ہیں بلکہ انہوں نے ہر دور میں ایک دوسرے سے تعاون بھی کیا ہے۔