نظامِ حج میں اسلام کی اصلاحات اور حج کا سب سے بڑا سبق

   
تاریخ بیان: 
۱۱ اکتوبر ۲۰۱۰ء

(بعد نماز عصر لنڈا بازار لاہور کی جامع مسجد کوثر میں عازمینِ حج سے خطاب)

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جو حضرات حج بیت اللہ کے لیے جا رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے اسے مبارک کریں اور سب مسلمانوں کو اپنے گھر کی حاضری نصیب فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ حج اسلام کے بنیادی فرائض اور ارکان میں سے ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: (۱) کلمہ شہادت کا اقرار (۲) نماز (۳) زکوٰۃ (۴) روزہ (۵) اور حج۔ جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ ’’وللّٰہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا‘‘ (سورہ آل عمران ۹۷) اللہ تعالیٰ کے لیے ان لوگوں پر حج فرض ہے جو بیت اللہ شریف تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔ استطاعت کی حد فقہاء کرام نے یہ بیان کی ہے کہ حرم پاک تک پہنچنے اور واپسی کا کرایہ، جتنے دن وہاں رہنا ہے ان کا خرچہ، اور اس دوران گھر کے معمول کے اخراجات کا خرچہ جس مسلمان کے پاس ہو اس پر حج فرض ہے۔ اس کے ساتھ آمد و رفت کی سہولت اور راستے کا پر اَمن ہونا بھی اس میں شامل ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری ہے اور جناب نبی اکرمؐ کے روضۂ اطہر کی حاضری ہے جو بہت بڑی سعادت اور برکت کی بات ہے اور جنہیں نصیب ہو جائے وہ بہت خوش نصیب ہیں۔

حج ایک ایسی عبادت ہے جس میں مال بھی لگتا ہے، وقت بھی لگتا ہے، اور مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے۔ یہ بہت مشقت کا عمل ہے اس لیے کہا جاتا ہے کہ اگر میسر آجائے تو جوانی میں ہی کر لینا چاہیے، بڑھاپے میں اتنی مشقت اٹھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ۱۹۸۵ء میں حج کے موقع پر جب ہم منٰی سے سامان اٹھا کر واپسی کی تیاری کر رہے تھے تو ہمارے ساتھ والے خیمے میں ایک ضعیف بڑھیا سامان کی گٹھڑی باندھے اپنے کسی ساتھی کا انتظار کر رہی تھی۔ کافی دیر انتظار کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ بیٹا یہ گٹھڑی میرے سر پر رکھ دو، میں نے جب وہ گٹھڑی بڑھیا کے سر پر رکھی تو اس نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا کہ ’’پتر! رب گناہ تے معاف کر دا ای پر منجھ کڈھ کے کردا ای‘‘۔ مجھے اب تک بڑھیا کے یہ الفاظ اور اس کا لہجہ یاد ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہ تو معاف کرتا ہے مگر کچومر نکال کر کرتا ہے۔ بڑھاپے میں ایسی ہی حالت ہو جاتی ہے اس لیے کوشش یہ کرنی چاہیے کہ حج جوانی میں ہو جائے تاکہ اطمینان کے ساتھ سارے مناسک ادا کیے جا سکیں۔

اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حج کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے حج کا طریقہ اور اس کے مسائل سیکھ لیے جائیں اور اس کا نقشہ اچھی طرح ذہن نشین کر لیا جائے۔ کیونکہ وہاں ہجوم ہوتا ہے، رش ہوتا ہے اور بسا اوقات نفسانفسی کا عالم ہو جاتا ہے، اگر پہلے سے معلوم نہ ہو اور وہاں ہر جگہ آدمی یہ پوچھتا پھرے کہ اب کیا کرنا ہے اور اب کدھر جانا ہے، تو بہت سے ضروری کام رہ جاتے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ حج کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے اس کا طریقہ، مسائل، آداب اور احکام اچھی طرح معلوم کر لیے جائیں اور کسی معتمد عالم دین سے جس نے حج کر رکھا ہو اس کی تربیت حاصل کر لی جائے۔

اتنی محنت کا عمل جب کوئی شخص کرتا ہے تو اس کی فطری طور پر یہ خواہش ہوتی ہے کہ یہ عمل قبول بھی ہو، اور ہر شخص کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ اس کی یہ محنت اور عمل قبولیت کے قابل ہو جائے۔ کیونکہ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس کو ’’حج مقبول‘‘ نصیب ہو جائے وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جاتا ہے جیسے پیدا ہوتے وقت پاک تھا۔ حجِ مقبول کی علامت کیا ہے جس سے پتہ چل جائے کہ حج قبول ہو گیا ہے؟ اصل علم تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور وہی جانتا ہے کہ کس کس کا حج قبول ہوا ہے، مگر بعض بزرگوں نے اس کی علامت یہ بیان کی ہے اگر حج کے بعد کی زندگی اس سے پہلے کی زندگی سے مختلف ہے اور حج نے اس کے اعمال اور اخلاق و عادات میں بہتر تبدیلی پیدا کی ہے تو یہ خوشی کی بات ہے اور اس بات کی علامت ہے کہ حج قبول ہو گیا ہے۔ لیکن اگر حج کے بعد خدانخواستہ پہلے جیسے اچھے اعمال بھی نہیں رہے اور حاجی صاحب کی ’’چھری‘‘ پہلے سے زیادہ تیز ہو گئی ہے تو فکر کرنے کی بات ہے کیونکہ یہ اشارہ ہے کہ حاجی صاحب نے حج کا کچھ اثر بھی قبول نہیں کیا۔

بیت اللہ کا یہ حج جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی ہوتا تھا اور جاہلیت کے زمانے میں لوگ اللہ تعالیٰ کے گھر کے طواف کے لیے آتے تھے لیکن اس میں بہت سی رسوم اور خرافات شامل ہو گئی تھیں جن کی وجہ سے حج کا اصل مقصد ہی فوت ہو کر رہ گیا تھا۔ اس لیے اسلام نے اس میں بہت سی اصلاحات کی ہیں، قرآن کریم نے اس کی بہت سی جاہلی رسوم کو ختم کیا ہے، اور جناب نبی اکرمؐ نے بعض سابقہ روایات کو تبدیل کیا ہے۔ ان میں سے چند اصلاحات کا میں آج کی مجلس میں آپ حضرات کی معلومات کے لیے تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔

بت پرستی کا خاتمہ

جاہلیت کے دور میں بیت اللہ اور اس کے اردگرد سینکڑوں بت لوگوں نے کھڑے کر رکھے تھے جن کی پوجا ہوتی تھی، اور بیت اللہ کے طواف کے لیے آنے والے لوگ ان بتوں کی بھی عبادت کرتے تھے۔ جناب نبی اکرمؐ نے بیت اللہ کو اور اس کے پورے ماحول کو بتوں سے پاک کیا اور سب بتوں کو توڑ کر یہ تعلیم دی کہ ساری دنیا میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے مگر بیت اللہ اور حرم پاک کے ماحول کو بالخصوص شرک اور بت پرستی سے مکمل طور پر پاک رکھا جائے اور ہر قسم کی عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے مخصوص کی جائے۔

غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع

جناب نبی اکرمؐ کے حج کے لیے تشریف لے جانے سے قبل ہر قسم کے لوگ بیت اللہ کے طواف عمرہ اور حج کے لیے آتے تھے اور مسلم کافر کی کوئی تمیز نہیں تھی، مگر قرآن کریم نے حرم مکہ میں یہ کہہ کر مشرکین کے داخلہ کی مخالفت کر دی کہ ’’فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھذا‘‘ (سورہ التوبہ ۲۸) اس سال کے بعد مشرک اور کافر مسجد حرام کے قریب نہیں آسکیں گے۔ اور فتح مکہ کے بعد ۹ھ والے حج کے موقع پر جناب نبی اکرمؐ نے باقاعدہ اعلان کرایا کہ اگلے سال کوئی مشرک و کافر حج کے لیے نہیں آئے گا۔ اس طرح حج، عمرہ اور طواف کی عبادت کو صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص کر دیا گیا اور اس میں کسی کافر کی شرکت ممنوع قرار دے دی گئی، چنانچہ اس کے بعد سے حرم پاک اور حج صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص چلا آرہا ہے اور کسی غیر مسلم کو وہاں جانے کی اجازت نہیں ہے، چوری چھپے بھیس بدل کر اور مسلمانوں کا روپ اختیار کر کے بہت سے لوگ وہاں چلے جاتے ہیں لیکن باقاعدہ شرعاً اور قانوناً کسی کو اس کی اجازت نہیں دی جاتی۔

ننگے طواف کی ممانعت

جاہلیت کے دور میں حج کے لیے آنے والے بہت سے قبائل کے لوگ بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے تھے اور ان کی دلیل یہ ہوتی تھی کہ یہ ہماری نیچرل حالت ہے کہ ہم دنیا میں ننگے آئے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ کے گھر میں ننگے حاضری دیتے ہیں۔ مرد بھی ننگے ہوتے تھے اور عورتیں بھی پہلوانوں جیسی ایک لنگوٹی کے سوا کوئی لباس نہیں پہنتی تھیں، بلکہ عورتیں طواف کرتے ہوئے تلبیہ کے ساتھ ساتھ یہ شعر بھی پڑھا کرتی تھیں کہ ’’الیوم یبدو کلہ او بعضہ، فالذی یبدو فلا احلہ‘‘ آج کے دن میرا بدن سارا ننگا ہو یا اس کا کچھ حصہ ننگا ہو مگر جنتا جسم ننگا ہے میں اس کو کسی کے لیے حلال نہیں کرتی، یعنی کسی کو اسے دیکھنے کی اجازت نہیں دیتی۔ گویا اس دور میں اتنی حیا بہرحال باقی تھی کہ عورتیں اپنی عریانی کی طرف لوگوں کو دعوت نظارہ نہیں دیتی تھیں۔ آج کی عورت ننگی بھی ہوتی ہے اور سب لوگوں کو کھلم کھلا دعوتِ نظارہ بھی دے رہی ہوتی ہے۔ جناب نبی اکرمؐ نے اس بے حیائی کی بھی ممانعت فرما دی اور اپنے حج پر تشریف لے جانے سے ایک سال قبل باقاعدہ اعلان کرا دیا کہ اگلے سال سے کوئی مرد یا عورت ننگی حالت میں بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکیں گی، مرد کے لیے دو چادریں ضروری ہوں گی اور عورت مکمل لباس میں ہو گی۔ اس طرح حج بیت اللہ کو جاہلیت کی اس بے حیائی سے بھی پاک کر دیا گیا۔

وی آئی پی سسٹم ختم

عرفات کی حاضری اور ۹ ذی الحجہ کا دن وہاں گزارنا حج کا بنیادی رکن ہے، مگر قریش وہاں نہیں جایا کرتے تھے اور حرم کی حدود میں ہی رہتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ ’’نحن حمس‘‘ اس کا ترجمہ میں یہ کیا کرتا ہوں کہ ’’ہم وی آئی پی ہیں‘‘ عرفات کی حاضری باقی لوگوں کے لیے ہے ہمارے لیے نہیں ہے۔ بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق حضرت جبیر بن مطعمؓ فرماتے ہیں کہ میں ۹ ذی الحجہ کو اپنے اونٹوں کی تلاش میں عرفات تک گیا تو وہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ بھی دیکھا جس پر مجھے تعجب ہوا اور میں نے لوگوں سے پوچھا کہ ان کا یہاں کیا کام، یہ تو قریشی ہیں۔ اسلام نے یہ وی آئی پی سسٹم بھی ختم کر دیا اور قریش کو حکم دیا کہ ’’ثم افیضوا من حیث افاض الناس واستغفروا اللّٰہ‘‘ (سورہ البقرہ ۹۹) تم بھی وہیں (عرفات میں ) وقوف کرو جہاں باقی لوگ کرتے ہیں اور اپنے گناہوں پر استغفار کرو۔ اس طرح یہ وی آئی پی سسٹم ختم کر دیا گیا۔ ویسے بھی حج اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری کا نام ہے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں سب برابر ہیں نہ کوئی وی آئی پی ہے اور نہ ہی کسی کا پروٹوکول اور پرسٹیج ہے۔ انسانوں میں مساوات کا حقیقی منظر اللہ تعالیٰ کے گھر میں ہی نظر آتا ہے کہ کوئی بادشاہ ہے یا رعیت، امیر ہے یا غریب، مالک ہے یا مزدور، پیر ہے یا مرید، بڑا ہے یا چھوٹا سب کے سب ایک ہی رنگ کی دو سفید چادروں میں اپنے رب کے حضور عاجزی اور زاری کر رہے ہیں اور کوئی تفریق یا امتیاز باقی نہیں رہ گیا۔

صفا اور مروہ کی سعی

جاہلیت کے زمانے میں حج اور عمرہ کے لیے بیت اللہ کا طواف تو سب لوگ کرتے تھے مگر صفا اور مروہ کی سعی سب نہیں کرتے تھے، صرف قریش اور ان کے حلیف قبائل صفا مروہ کی سعی کرتے تھے، باقی قبائل نے اس کی جگہ اپنے اپنے الگ بت خانے بنا رکھے تھے جہاں وہ طواف بیت اللہ کے بعد چلے جاتے تھے اور ان بت خانوں کی حاضری کو صفا مروہ کی سعی کا متبادل قرار دیتے تھے۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ یہ سعی چونکہ حضرت ھاجرہؓ کی یاد میں ہے جو قریش کی ماں تھی اس لیے یہ سعی انہی کے لیے ہے دوسروں کے لیے نہیں ہے۔ صفا مروہ کی سعی نہ کرنے والوں میں انصار مدینہ کے دونوں قبائل اوس اور خزرج بھی شامل تھے، حضرت انس بن مالکؓ جو انصار میں سے تھے فرماتے ہیں کہ ہم اسے جاہلیت کی بات سمجھتے تھے کہ ماں نے ایک دفعہ دوڑ لگائی ہے تو قیامت تک اس کے بیٹے بھی دوڑتے رہیں۔ انصار مدینہ کے دونوں قبائل جاہلیت کے زمانے میں بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد قدید کے مقام پر اپنے بت خانے ’’مناۃ‘‘ میں چلے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہماری سعی یہاں کی حاضری ہے۔

فتح مکہ کے بعد جب نبی اکرمؐ نے دوسرے بت خانوں کی طرح مناۃ کا بھی صفایا کر دیا تو انصار مدینہ کے لیے مسئلہ بن گیا کہ ہمارے مہاجر بھائی تو طواف کے بعد صفا مروہ کی سعی کر لیں گے مگر ہم کہاں جائیں گے؟ ہمارا مناۃ تو ختم کر دیا گیا ہے اور صفا مروہ کی سعی کو ہم جاہلیت کی روایت سمجھا کرتے تھے۔ چنانچہ انصار مدینہ کی طرف سے اس بارے میں سوال کے بعد یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ ’’ان الصفا و المروۃ من شعائر اللّٰہ فمن حج البیت او اعتمر فلا جناح علیہ ان یطوف بھما‘‘ (سورہ البقرہ ۱۵۸) بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہیں، پس جو شخص حج یا عمرہ کرے تو کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ ان کی سعی بھی کر لے۔ پہلے ذہن صاف کیا کہ صفا مروہ کی سعی صرف قریش کی ماں کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ دو پہاڑیاں خود شعائر اللہ میں سے ہیں، پھر فرمایا کہ صفا مروہ کی سعی کو جاہلیت سمجھنے والوں کی سوچ درست نہیں ہے بلکہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس طرح صفا مروہ کی سعی جو اس سے پہلے صرف قریش اور ان کے دوست قبائل کیا کرتے تھے اسے باقاعدہ حج اور عمرے کا حصہ بنا کر سب لوگوں کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔

گھروں میں دروازے سے داخل ہو

جاہلیت کے زمانے میں ایک رواج یہ بھی تھا کہ مکہ مکرمہ کے لوگ جب احرام باندھ کر حج کے لیے گھر سے روانہ ہو جاتے تھے، اس کے بعد حج مکمل ہونے سے پہلے اگر کسی کام سے گھر آنا پڑتا تو گھر میں دروازے سے داخل نہیں ہوتے تھے بلکہ عقب سے چھت پھلانگ کر یا نقب لگا کر گھر میں داخل ہوتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ حج مکمل ہوئے بغیر احرام کی حالت میں دروازے سے گھر میں آنا اچھا شگون نہیں ہے۔ قرآن کریم نے یہ رسم بھی ختم کر دی اور فرمایا کہ ’’وأتو البیوت من ابوابھا‘‘ (سورہ البقرہ ۱۸۹) احرام کے دوران گھر میں کسی ضرورت سے آنا پڑے تو گھر کے دروازے سے ہی گھر میں داخل ہو۔

مزدلفہ اور منیٰ کی روانگی

جاہلیت کے زمانے کی ایک روایت یہ بھی تھی کہ ۹ ذی الحجہ کو عرفات میں دن گزار کر شام کو مزدلفہ جانے کے لیے غروب آفتاب سے پہلے ہی لوگ روانہ ہو جاتے تھے، جبکہ اگلے روز مزدلفہ سے منٰی جانے کے لیے سورج طلوع ہو جانے کے کافی دیر بعد روانگی کرتے تھے۔ جناب نبی اکرمؐ نے اس کی ممانعت فرما دی اور فرمایا کہ ہم عرفات سے مزدلفہ کی طرف غروب آفتاب کے بعد روانہ ہوں گے اور مزدلفہ سے منٰی کی طرف ۱۰ ذی الحجہ کو سورج طلوع سے قبل روانگی کریں گے۔ یہ وہ چند تبدیلیاں اور اصلاحات ہیں جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ کے جاہلیت کے دور سے چلے آنے والے نظام میں کیں اور جاہلی رسوم و خرافات کا خاتمہ کر کے اسے ایک صحیح عبادت کی شکل دی۔

مگر اس کے ساتھ حج کے حوالہ سے میں ایک اور بات کا تذکرہ بھی کرنا چاہوں گا کہ جناب نبی اکرمؐ نے حجۃ الوداع کے تاریخی خطبہ میں ایک جملہ ارشاد فرمایا تھا کہ ’’کل أمر الجاہلیۃ موضوع تحت قدمی‘‘ جاہلیت کی ساری روایات اور رسوم آج میرے قدموں کے نیچے ہیں۔ گویا آپؐ نے اعلان فرمایا کہ میں دور جاہلیت کا خاتمہ کر کے اسلام اور روشنی کی طرف اپنی امت کو لے کر جا رہا ہوں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ حضورؐ نے آخری حج کے موقع پر جاہلیت کی جن رسموں کو قدموں کے نیچے روندنے کا اعلان کیا تھا، کیا وہ ہماری سوسائٹی میں دوبارہ تو واپس نہیں آگئیں؟ شرک، بت پرستی، باہمی قتل و قتال، شراب، جوا، سود، عریانی، ناچ گانا، زنا، نسلی تفاخر، اور قبائلی عصبیت جیسی جاہلی رسوم و عادات جنہیں نبی کریمؐ نے سوسائٹی سے ختم کر کے مسلم معاشرے کو ان سے پاک کر دیا تھا اور حجۃ الوداع کے خطبہ میں تلقین فرمائی تھی کہ ’’لا ترجعوا بعدی ضلالا‘‘ میرے بعد پھر گمراہی کے دور میں واپس نہ چلے جانا، وہ ساری کی ساری جاہلی رسوم و خرافات آج پھر سوسائٹی میں واپس آگئی ہیں اور ہم عملاً جاہلیت اور گمراہی کے دور کی طرف واپس چلے گئے ہیں۔

اس لیے آج ہمارے لیے حج کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جاہلیت کے دور سے نکلنے کی کوشش کریں اور اسلام کی روشن تعلیمات کو سوسائٹی میں عملی طور پر واپس لانے کی جدوجہد کریں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔