مسیحی جوڑے کا نکاح اور لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۰۳ء

ماہنامہ نصرت العلوم کے ستمبر کے شمارے میں ہم نے لاہور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کا ذکر کیا تھا جس میں ایک مسیحی جوڑے کے نکاح کے حوالہ سے کہا گیا تھا کہ چونکہ اقوام متحدہ کے منشور میں بالغ لڑکے اور لڑکی کو باہمی رضا مندی سے شادی کرنے کا حق دیا گیا ہے، اس لیے اگر وہ خود کو کورٹ میں میاں بیوی کے طور پر رجسٹرڈ کرا لیں تو ان کے لیے نکاح کے حوالہ سے مذہبی قوانین اور اور طریق کار کی پابندی ضروری نہیں رہتی۔

اب لاہور ہائیکورٹ کا ہی ایک اور فیصلہ سامنے آیا ہے اور روزنامہ جنگ ۳ اکتوبر ۰۰۳ء کی خبر کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قرار دیا ہے کہ لڑکا اور لڑکی قاضی کے سامنے خود کو میاں بیوی مان لیں تو گواہوں کی ضرورت باقی نہیں رہتی، انہوں نے یہ فیصلہ گھر سے بھاگ اپنی مرضی سے شادی کرنے والی ایک لڑکی کے کیس کے ضمن میں دیا ہے جس نے دعویٰ کیا کہ اس نے باقاعدہ شادی کی ہے لیکن جب اس کی شادی کو چیلنج کیا گیا تو وہ عدالت میں اس کا ثبوت فراہم نہ کر سکی۔

ہمیں اس کیس کے قانونی اور فنی پہلوؤں سے بحث نہیں مگر ہم موجودہ عالمی حالات اور مسلمانوں کے خاندانی نظام کے خلاف مغرب کی منظم مہم کے تناظر میں مذکورہ بالا دونوں فیصلوں پر تحفظات رکھتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک ان فیصلوں سے مسلمانوں کے خاندانی نظام اور اس کے بارے میں ضوابط و احکام کی بجائے خاندانی نظام اور نکاح و طلاق کے بارے میں مغربی فلسفہ کی پیروی جھلکتی نظر آتی ہے۔ اور چونکہ اصولی طور پر ہائی کورٹس کے فیصلے ملکی قانون کی باضابطہ تشریح قرار پا کر قانون کا حصہ بن جاتے ہیں اس لیے محسوس ہو رہا ہے کہ نکاح و طلاقوں اور خاندانی زندگی کے دیگر شعبوں سے متعلق قوانین و احکام کا بنیادی ڈھانچہ ہائی کورٹس کے اس قسم کے فیصلوں کے ذریعے بتدریج مغربی تہذیب میں تحلیل ہوتا چلا جا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں دار العلوم کراچی کے مہتمم حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی زید مجدہم امریکہ تشریف لائے تو ان سے ملاقات کے دوران راقم الحروف نے ان کی توجہ مذکورہ فیصلوں کے حوالہ سے اس صورتحال کی طرف مبذول کرائی اور گزارش کی کہ مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع قدس سرہ العزیز کی روایات کو باقی رکھتے ہوئے دار العلوم کراچی اور کراچی کے دیگر علمی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں اور جس طرح حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ اور حضرت مولانا مفتی رشید احمد لدھیانویؒ اس قسم کے معاملات میں امت کی اجتماعی علمی راہنمائی کا اہتمام فرمایا کرتے تھے، اب بھی اس تسلسل کو باقی رکھا جائے۔ مفتی صاحب محترم نے میری گزارش سے اتفاق کرتے ہوئے اس سلسلہ میں عملی پیشرفت کا وعدہ فرمایا ہے، امید ہے کہ جلد ہی اس کی کوئی عملی صورت سامنے آجائے گی ان شاء اللہ تعالیٰ۔