اللہ تعالیٰ اپنے دین کی اشاعت کے اسباب خود پیدا کرتا ہے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۷ مارچ ۲۰۰۲ء

گزشتہ سال مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی تعمیر نو اور توسیع کے منصوبہ کا آغاز ہوا تو خیال ہوا کہ مسجد اور اس سے متعلقہ تاریخی شخصیات کا مختصر تعارف بھی لوگوں کے سامنے لایا جائے۔ اس دوران جو معلومات حاصل ہوئیں ان کے مطابق یہ مسجد ۱۳۰۱ھ میں یعنی اب سے کوئی سوا سو برس قبل تعمیر ہوئی، اسے تعمیر کرنے والے بزرگ شیخ صاحب دین اور شیخ نبی بخش مرحوم دو بھائی تھے جنہوں نے راولپنڈی کی مرکزی جامع مسجد بھی تعمیر کی۔ چنانچہ گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد اور راولپنڈی کی مرکزی جامع مسجد کا نقشہ کم و بیش ایک جیسا ہے اور بنانے والے بزرگ بھی ایک ہیں۔ اس زمانے میں گوجرانوالہ میں ایک بہت بڑے عالم مولانا سراج الدین احمدؒ شہر کے خطیب ہوتے تھے جنہیں فقیہ پنجاب کہا جاتا تھا اور انہوں نے فقہ حنفی کی معروف کتاب ’’ہدایہ‘‘ کی شرح ’’سراج الہدایہ‘‘ کے نام سے لکھی، وہ اس مسجد کے بانی و خطیب تھے۔

مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ قابل ذکر باب یہ ہے کہ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے والد محترم شیخ حبیب اللہ مرحوم نے، جو گکھڑ کے قریب بستی جلال کے رہنے والے تھے، اسی مسجد میں مولانا سراج الدین احمدؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ اسی زمانہ میں گکھڑ کے قریب دو بستیوں ترگڑی اور تلونڈی کھجور والی کے دو اور غیر مسلم بھی مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ایک کا نام شیخ عبد الرحیمؒ ہے جو ضلع گوجرانوالہ کے معروف صنعتکار الحاج سیٹھی محمد یوسف مرحوم (راہوالی گتہ مل والے) کے والد محترم تھے، وہ ترگڑی کے رہنے والے تھے اور ہندو تھے۔ جبکہ دوسرے باواجی شیخ عبد الحق تھے جو ہندو پنڈت تھے اور تلونڈی کھجور والی میں ایک دھرم شالہ چلاتے تھے۔ یہ گرو اور چیلہ دونوں اکٹھے مسلمان ہوئے اور ان دونوں نے بھی گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد میں مولانا سراج احمدؒ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔

باواجی عبد الحقؒ تو مسجد ہی کے لیے وقف ہوگئے، قرآن کریم پڑھا، دینی تعلیم حاصل کی اور پھر مرکزی جامع مسجد کے امام مقرر ہوگئے جہاں وہ تقریباً نصف صدی تک نماز پڑھاتے رہے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے قرآن کریم کی ابتدائی تعلیم اسی جامع مسجد میں باواجی عبد الحقؒ سے حاصل کی۔ باواجی مرحوم مستجاب الدعوات بزرگ تھے اور لوگ دور دور سے ان کے پاس دعا کرانے کے لیے آیا کرتے تھے۔ باواجی عبد الحقؒ خود تو جامع مسجد میں قرآن کریم کی تعلیم دیتے تھے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے لیکن اپنے دو شاگردوں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور شیخ عبد الرحیم مرحوم کو انہوں نے قرآن کریم اس انداز سے پڑھایا اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ ان کا ایسا رشتہ جوڑا کہ دونوں بزرگ اس خطہ میں بلکہ بہت وسیع دائرہ میں قرآن کریم کی تعلیم و اشاعت کی عظیم جدوجہد کی علامت بن گئے۔

اس زمانے میں پنجاب میں عمومی سطح پر قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر عام لوگوں کو سنانے اور پڑھانے کا رواج نہیں تھا۔ اس کام کا آغاز حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے اس دور میں کیا جب انہیں آزادیٔ ہند کے لیے شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے ساتھ کام کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور لاہو رمیں لا کر اس شرط کا پابند کیا گیا کہ وہ لاہور کی حدود سے باہر نہیں نکلیں گے اور اپنی نقل و حرکت سے حکومت کو باخبر رکھیں گے۔ انہوں نے اپنے عظیم استاد حضرت شیخ الہندؒ اور حضرت باواجی عبد الحقؒ کے حکم کی تعمیل میں قرآن کریم کے عمومی درس اور ترجمہ و تفسیر کا آغاز کیا۔ آج پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان، ایران، وسطی ایشیا اور بہت سے ممالک میں ان کے ہزاروں شاگرد اور شاگردوں کے شاگرد قرآن کریم کی تعلیم و تدریس میں مصروف ہیں۔

جبکہ شیخ عبد الرحیمؒ نے ایک نئی مہم کا آغاز کیا، انہیں قدرت کی طرف سے یہ ذوق ودیعت عطا ہوا تھا کہ عام مسلمانوں کو صحیح تلفظ کے ساتھ قرآن کریم پڑھنے کی ترغیب دی جائے اور اس کے لیے انہیں تیار کیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے قرآن کریم کی تلاوت، قراءت اور حفظ کی حوصلہ افزائی شروع کی اور اپنے محدود وسائل کے ساتھ وہ قرآن کریم پڑھنے والوں کو وظیفہ اور انعامات دیتے رہے۔ اس مشن کو ان کے بیٹے سیٹھی محمد یوسف مرحوم نے آگے بڑھایا، وہ کاروباری لحاظ سے بھی بہت آگے نکل چکے تھے اور راہوالی گتہ فیکٹری کے مالک تھے جو ایک زمانہ میں ضلع گوجرانوالہ کی بہت بڑی ملوں میں شمار ہوتی تھی۔

سیٹھی محمد یوسف مرحوم نے اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ اس مہم پر صرف کرنا شروع کیا کہ مسجدوں میں قرآن کریم پڑھانے کے لیے مستند قاری رکھے جائیں اور صحیح تلفظ و تجوید کے ساتھ بچوں کو قرآن کریم پڑھایا جائے۔ اس کے لیے وہ قاری صاحب کی تنخواہ کا نصف، تہائی یا چوتھائی حصہ، جو بھی مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ طے پا جاتا، اپنی طرف سے ادا کرتے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے باقاعدہ ’’تعلیم القرآن ٹرسٹ‘‘ قائم کیا جس کے تحت ۱۹۷۰ء تک پاکستان کے مختلف شہروں میں چار سو سے زائد مدارس ایسے تھے جن میں قرآن کریم کی تعلیم دینے والے قراء اور حفاظ کی تنخواہوں کا کم و بیش ایک تہائی حصہ اس ٹرسٹ کی طرف سے دیا جاتا تھا۔ ۱۹۷۰ء کے ریکارڈ کے مطابق تعلیم القرآن ٹرسٹ کے تعاون سے چلنے والے تعلیم القرآن کے چار سو سے زائد مدارس میں اس وقت ساڑھے سات سو سے زیادہ قاری بطور استاذ کام کر رہے تھے اور تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد ۷۱ ہزار سے زائد تھی۔ جبکہ حفظ قرآن کریم کے بعد تجوید و قراءت اور قراء کی تیاری کے لیے تعلیم القرآن ٹرسٹ کے تحت ’’معہد القرآن الکریم‘‘ کے نام سے مستقل ادارہ قائم کیا گیا جو ۱۹۶۲ء سے مسلسل کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم القرآن ٹرسٹ نے سکولوں میں قرآن کریم کی تعلیم کے لیے قاری مہیا کرنے کی اسکیم شروع کی جس کے تحت جو اسکول اس تعاون کو قبول کرتے انہیں ٹرسٹ کی طرف سے قاری مہیا کر دیا جاتا۔ اس پروگرام میں ۱۹۷۰ء تک ایک سو سے زائد اسکولوں میں ایک سو بائیس قاری مہیا کیے جا چکے تھے۔

اس سے کہیں زیادہ تعجب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ سعودی عرب بلکہ حرمین شریفین میں بھی حفظ قرآن کریم کے مکاتب کا آغاز سیٹھی محمد یوسف صاحب مرحوم کی تحریک سے ہوا۔ ورنہ اب سے چالیس برس قبل تک سعودی عرب میں قرآن کریم حفظ کرنے کے لیے باقاعدہ مدارس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ سیٹھی صاحب مرحوم نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ۱۹۶۳ء میں انہوں نے کراچی کے ایک دینی مدرسہ میں مکہ مکرمہ کے دو طلبہ کو قرآن کریم حفظ کرتے دیکھا تو بے حد تعجب ہوا۔ معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ سرزمین حجاز میں قرآن کریم حفظ کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر کوئی نظام نہیں ہے۔ سیٹھی صاحب عمرہ کے ارادہ سے سعودیہ چلے گئے اور دہران میں ان بچوں کے والدین سے مل کر صورتحال معلوم کی اور پھر حرمین شریفین میں تعلیم القرآن کے مکاتب قائم کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ ابتداء میں بہت دشواری پیش آئی اور سعودی حکام کو اعتماد میں لینے کے لیے صبر آزما مراحل سے گزرنا پڑا لیکن آہستہ آہستہ برف پگھلنے لگی اور انہیں سعودی حکومت کا اس حد تک اعتماد میسر آگیا کہ مکہ مکرمہ اور دیگر شہروں میں ’’تحفیظ القرآن الکریم‘‘ کے نام سے مکاتب قائم کرنے کی اجازت مل گئی۔ سیٹھی محمد یوسف مرحوم اپنی وفات (۱۹۷۷ء) تک سعودی عرب کے مختلف شہروں میں ایک سو سولہ مدارس قائم کر چکے تھے جن میں ڈیڑھ سو اساتذہ پانچ ہزار سے زائد طلبہ کو قرآن کریم کی تعلیم دے رہے تھے۔

اس کار خیر میں سعودی حکومت اور وہاں کے شیوخ نے بھی سیٹھی صاحب سے تعاون کیا جن میں سے عرب مجاہد اسامہ بن لادن کے والد محترم محمد بن لادن کا بطور خاص سیٹھی صاحب نے تذکرہ کیا ہے۔ وہ اپنے انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ

’’تعمیر حرمین کے ٹھیکیدار محمد بن لادن مکہ مکرمہ کے بہت متمول اور معروف ترین لوگوں میں شمار ہوتے تھے، میں نے پانچ منٹ مانگے ، آپ حیران ہوں گے کہ انہوں نے میری مختصر باتیں خاموشی سے سنیں، بات ختم ہوئی تو ریسور اٹھایا اور اپنے منیجر کو فون پر کہا کہ شیخ محمد یوسف سیٹھی جو کہتے ہیں سنو اور جو مانگتے ہیں دے دو۔ میں نے تین ہزار ریال ماہانہ کا مطالبہ کیا جو منظور ہوگیا اور یہ رقم انہوں نے تاحیات دینے کا فیصلہ کیا۔ بعد میں یہ رقم پانچ ہزار ماہانہ ریال ہوگئی اور ان کی وفات کے بعد ان کے سعادت مند بیٹے نے یہ سلسلہ اسی طرح جاری رکھا ہے۔‘‘

۱۹۷۷ء میں سیٹھی محمد یوسف مرحوم کی وفات کے بعد تحفیظ القرآن الکریم کے ان مدارس کا نظام سعودی حکومت نے سنبھال لیا اور اب یہ مدارس سعودی حکومت کے نظام کے تحت چل رہے ہیں۔

قارئین کی خدمت میں یہ داستان پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی اشاعت و تعلیم کے لیے خود اسباب پیدا کرتا ہے اور اگر مسلمانوں میں ذوق نہ رہے تو کافر گھرانوں سے افراد چن کر انہیں اس کام پر لگا دیا کرتا ہے۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے بارے میں سنا ہے کہ لاہور میں تقریر کرتے ہوئے کبھی موج میں آتے تو حضرت لاہوریؒ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے تھے کہ

’’لاہوریو! دیکھ لو اگر تم قرآن سے منہ پھیر لو گے تو اللہ تعالیٰ کو تمہاری کوئی پرواہ نہیں ہوگی۔ وہ ایک سکھ کے پوتے کو لاہور میں بٹھا کر اس سے قرآن کریم کی خدمت لینے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔‘‘

درجہ بندی: