مسئلہ ختم نبوت: حالیہ قانونی بحران اور مکمل انصاف کا مطالبہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ نومبر ۲۰۱۷ء

اسلام آباد میں تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کا دھرنا گزشتہ دو ہفتوں سے مسلسل جاری ہے اور حکومت دھرنے والوں کے مطالبات کو منظور کیے بغیر دھرنا ختم کرانے کے تمام حربوں میں ابھی تک ناکام ہے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو دھرنا ہر حالت میں ختم کرانے کے لیے جمعرات تک کی مہلت دی ہے۔

دھرنے کے مختلف مراحل کے مشاہدہ بلکہ ایک لحاظ سے ذاتی شرکت کے حوالہ سے کچھ گزارشات گزشتہ ایک کالم میں کر چکا ہوں، خیال تھا کہ حکومت اور تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے قائدین کے درمیان مذاکرات میں دونوں کے لیے قابل قبول کوئی باوقار راستہ نکل آئے گا مگر اس کے امکانات دن بدن معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ دھرنے سے عوام کو درپیش مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جہاں تک پارلیمنٹ میں انتخابی ترامیم کے ایکٹ کی منظوری کے دوران تحفظ ختم نبوت سے متعلقہ متعدد قانونی دفعات کے متاثر ہونے کا تعلق ہے وہ پارلیمنٹ کے حالیہ فیصلہ کی رو سے دوبارہ اپنی سابقہ اور اصل پوزیشن پر بحال ہو چکی ہیں جس پر دینی حلقوں میں اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لیکن اس ردوبدل کے ذمہ دار حضرات کو سامنے لانے اور انہیں ان کے مناصب سے الگ کرنے کا مطالبہ ابھی جاری ہے اور دھرنے کے قائدین اس کے بغیر دھرنا ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

پارلیمنٹ میں تحفظ ختم نبوت سے متعلقہ قانونی دفعات کے ساتھ جو واردات ہوئی تھی اس کے بارے میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ یہ غیر ارادی نہیں بلکہ طے شدہ منصوبہ کا حصہ تھی۔ اس سازش کو بے نقاب کرنے میں شیخ رشید احمد اور کیپٹن (ر) صفدر نے اہم کردار ادا کیا جبکہ اس کے سدباب، تلافی اور صورتحال کو سابقہ پوزیشن پر واپس لے جانے میں مولانا فضل الرحمان اور راجہ محمد ظفر الحق کی مسلسل کاوشیں اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کا عوامی دباؤ لائق تبریک ہیں۔ متنازعہ ترمیمی ایکٹ کی منظوری سے قبل ایوان کو اس خدشہ سے جمعیۃ علماء اسلام کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے ابتدءًا آگاہ کیا تھا مگر ان کی بات پر توجہ نہیں دی گئی تھی جبکہ ہماری معلومات کے مطابق جس حالیہ ترمیم کے ذریعے اس کا سدباب کیا گیا ہے اور سابقہ پوزیشن بحال ہوئی ہے اس کا مسودہ جمعیۃ علماء اسلام کے پارلیمانی گروپ کی طرف سے پیش کیا گیا ہے اور اسے پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر منظور کرانے میں راجہ محمد ظفر الحق اور مولانا فضل الرحمان نے کلیدی کردار ادا کیا ہے جس پر مذکورہ راہنماؤں سمیت پارلیمنٹ کے تمام ارکان پوری قوم کے شکریہ کے مستحق ہیں۔

دھرنے کے مطالبات کی اصولی حمایت مختلف دینی حلقوں کی طرف سے کی گئی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا کا بیان اخبارات میں آچکا ہے کہ وہ تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں، اسی طرح پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمان درخواستی ایک اخباری بیان میں کہہ چکے ہیں کہ وہ دھرنے کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں اور حکومت کے لیے ان کا مشورہ یہ ہے کہ مسئلہ کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور تشدد سے بہرصورت گریز کیا جائے۔ بہت سے دیگر دینی راہنماؤں نے بھی اسی قسم کے جذبات کا اظہار کیا ہے جس سے اس سلسلہ میں قومی جذبات و احساس کی ترجمانی ہوتی ہے۔

دوسری طرف حکومتی حلقوں کی طرف سے وزیرقانون زاہد حامد کو ان کے منصب سے الگ کرنے کے مطالبہ پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹھوس ثبوت کے بغیر ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے خیال میں یہ حکومت موقف موجودہ پوزیشن میں تسلی بخش نہیں ہے اس لیے کہ راجہ محمد ظفر الحق کی سربراہی میں اس معاملہ کی انکوائری کرنے والی کمیٹی کی رپورٹ کو مسلسل صیغۂ راز میں رکھا جا رہا ہے اور اسے منظرِ عام پر لانے سے گریز کیا جا رہا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے جسے گول مول رکھنے میں عافیت سمجھی جا رہی ہے۔ لیکن اب اس معاملہ کو بہرحال واضح ہونا چاہیے اور حکومت کو دوٹوک فیصلہ کرنا چاہیے، اگر ڈان لیکس کے معاملہ میں پرویز رشید سے استعفیٰ طلب کیا جا سکتا ہے تو عقیدۂ ختم نبوت کے تقدس و حرمت کے سوال پر زاہد حامد کی وزارت کو ہر صورت بچانے کی بات سمجھ میں نہیں آرہی۔

تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے قائدین سے بھی اس موقع پر یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کے مطالبات اور استقامت پر ملک بھر میں عمومی طور پر دینی کارکنوں کے جذبات ان کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں لیکن مشترکہ دینی مطالبات پر اس نوعیت کے انتہائی اقدامات تمام مکاتبِ فکر کو اعتماد میں لیے بغیر کر گزرنا بہرحال حکمت و دانش سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جبکہ حالیہ دھرنے کے بارے میں گزشتہ کالم میں عرض کر چکا ہوں کہ تحریک لبیک یا رسول اللہؐ کے دونوں دھڑوں کے راہنما مولانا محمد اشرف آصف جلالی اور مولانا خادم حسین رضوی ہی کم از کم مل کر یہ کام کر لیتے تو زیادہ مؤثر ہوتا۔ بریلوی مکتب فکر کے قائدین مولانا عبد الحامد بدایونیؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ اور مولانا عبد الستار خان نیازیؒ بہت قدآور شخصیات تھیں جن کا قومی سیاست اور دینی و ملی تحریکات میں نمایاں کردار رہا ہے اور ان کا احترام و اعتراف بھی دینی و قومی حلقوں میں پایا جاتا ہے۔ میں مولانا خادم حسین رضوی اور مولانا محمد اشرف آصف جلالی دونوں کے دردِ دل اور صلاحیتوں کا معترف ہوں اس لیے یہ گزارش کر رہا ہوں کہ ازراہِ کرم مولانا عبد الحامد بدایونیؒ، مولانا شاہ احمد نورانیؒ اور مولانا عبد الستار خان نیازیؒ کا طرزِ عمل اختیار کیجئے جو صرف بریلوی مکتب فکر کے مسلمہ قائد نہیں تھے بلکہ قومی راہنماؤں میں بھی انہیں نمایاں مقام حاصل تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں اور ان کے تمام خوشہ چینوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔