توہین رسالت کا قانون: فرحت اللہ بابر کے جواب میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲ اگست ۲۰۰۲ء
اصل عنوان: 
فرحت اللہ بابر کے جواب میں

چک جھمرہ اور جڑانوالہ میں توہین رسالتؐ کے مبینہ ملزموں کے خلاف امام مسجد اور علاقہ کے عوام کی از خود کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے معروف سیاستدان اور دانشور جناب فرحت اللہ بابر نے ایک مضمون میں مذہبی جماعتوں کے دوستوں سے چند سوالات کیے ہیں جن کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

جہاں تک چک جھمرہ اور جڑانوالہ کے واقعات کا تعلق ہے کسی مذہبی جماعت کا کوئی باشعور کارکن اور کوئی محب وطن شہری اس بات کی تائید نہیں کرتا کہ کسی بھی نازک اور حساس مسئلہ میں لوگ قانون کو ہاتھ میں لیں اور عدالتی نظام سے رجوع کیے بغیر از خود کوئی کارروائی کر گزریں۔ یہ انارکی اور لاقانونیت ہے جسے کوئی ہوش مند شخص جائز نہیں قرار دے سکتا اور نہ ہی اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔ فرحت اللہ بابر صاحب نے اس سلسلہ میں گوجرانوالہ کے ایک واقعہ کا حوالہ بھی دیا ہے جس میں حافظ فاروق کو گستاخ رسولؐ قرار دے کر عوامی غیض و غضب کا نشانہ بنوایا گیا تھا اور سڑک پر گھسیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ لیکن بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ حافظ فاروق توہینِ قرآن کے کسی واقعہ کا مرتکب نہیں ہوا تھا بلکہ اسے بعض مولوی صاحبان کی ناراضگی کا شکار ہونا پڑا تھا اور سادہ عوام مولوی صاحبان کے بھڑکانے میں آگئے تھے۔

چک جھمرہ اور جڑانوالہ کے واقعات قارئین کے سامنے آ چکے ہیں اس لیے انہیں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان غیر ذمہ دار حرکات نے توہین رسالتؐ کی سزا کے سلسلہ میں دینی حلقوں کے موقف کو نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ عوام کا اس حد تک مشتعل ہونا اور ازخود کارروائی کر گزرنا توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کے بارے میں بین الاقوامی اداروں کی مخالفانہ مہم کا ردعمل بھی ہو سکتا ہے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی پر موت کی سزا کے قانون کو انسانی حقوق کے منافی قرار دے کر نہ صرف عام مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے رہتے ہیں بلکہ بہت سے گستاخانِ رسولؐ کو مغربی ممالک نے سیاسی پناہ دے کر اور خصوصی مراعات و تحفظات سے نواز کر یہ تاثر قائم کر رکھا ہے کہ مغربی ممالک گستاخانِ رسولؐ کے پشت پناہ ہیں اور انہیں سزا سے بچانے کے لیے ہر قسم کی کارروائی کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اس پس منظر میں اگر کسی جگہ توہین رسالتؐ کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے تو عوام کے غیض و غضب میں اشتعال اس لیے بھی دوچند ہو جاتا ہے کہ اگر گستاخِ رسولؐ کو سزا نہ دی گئی تو کوئی نہ کوئی مغربی ملک اسے سیاسی پناہ کے نام پر اچک کر لے جائے گا اور بین الاقوامی ادارے اسے انسانی حقوق کے نام پر ہیرو بنا کر عالمی پروپیگنڈے کا ایک نیا عنوان بنا لیں گے۔

اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی عوامی اشتعال میں اضافہ کی وجہ بن جاتی ہے کہ ملک کے عدالتی نظام پر عام آدمی کا اعتبار قائم نہیں رہا۔ عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سے مقدمات میں اصل مجرم سزا سے بچ جاتا ہے اور بے گناہ پھانسی کے تختے پر جھول جاتا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ عام آدمی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور کسی مولوی صاحب کا لوگوں کو اشتعال دلا کر کسی کے قتل پر آمادہ کرنا اس سے بھی زیادہ سنگین جرم ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر اس کے ساتھ عام مسلمانوں کے جذبات کے خلاف بین الاقوامی اداروں کی مہم، مغربی ممالک کی طرف سے گستاخان رسولؐ کی پشت پناہی، اور ملک کے عدالتی نظام پر بے اعتمادی کے عوامل کو بھی پیش نظر رکھا جائے تو صرف قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کو تنہا مجرم قرار دینا کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہوگا۔

اس وضاحت کے ساتھ ہم محترم جناب فرحت اللہ بابر کے سوالات کی طرف آتے ہیں۔ انہوں نے پہلا سوال یہ کیا ہے کہ

’’کیا رسول اللہؐ کے نزدیک یہ بات پسندیدہ ہوگی کہ ان کے ناموس کے حوالہ سے کسی بے گناہ شخص کو سنگسار کر دیا جائے؟ اگر اس کا جواب نہیں ہے تو کیا اس بات کی ضرورت نہیں کہ جھوٹے مقدمات کا تدارک کیا جائے؟‘‘

جہاں تک کسی بے گناہ کو سزا دینے کی بات ہے تو جناب نبی اکرمؐ کی ذات گرامی تو بہت بلند و بالا ہے، کوئی عام شریف آدمی بھی یہ بات پسند نہیں کرے گا کہ اس حوالہ سے کسی بے گناہ کو سزا دی جائے۔ لیکن اگر گستاخیٔ رسول کا فی الواقع ارتکاب ہوا ہے تو اس کے بارے میں جناب رسول اللہؐ کا اسوۂ حسنہ یہ ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر آپؐ نے سب لوگوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا لیکن دو تین گستاخانِ رسولؐ کو مستثنیٰ قرار دے کر ان کے بارے میں حکم دیا تھا کہ وہ جہاں ملیں انہیں قتل کر دیا جائے۔ ان میں سے ایک ابن خطل بھی تھا جسے بخاری شریف کی روایت کے مطابق خانہ کعبہ کے غلاف کے پیچھے چھپے ہوئے بھی حضورؐ کے حکم پر قتل کر دیا گیا تھا۔

باقی رہی بات جھوٹے مقدمات اور قانون کے غلط استعمال کی تو محترم فرحت اللہ بابر صاحب سے ہمارا سوال ہے کہ کیا پاکستان میں صرف توہین رسالتؐ کی سزا کا قانون ہی ان کے بقول غلط استعمال ہوتا ہے یا دیگر مروجہ قوانین بھی اسی طرح غلط استعمال ہوتے ہیں اور ان کے حوالہ سے اکثر و بیشتر جھوٹے مقدمات قائم ہوتے ہیں؟ اگر جھوٹے مقدمات اور غلط استعمال کے بارے میں ہر قانون کا یہی حال ہے تو ان میں سے تبدیلی اور ترمیم کے لیے صرف توہین رسالتؐ کے قانون کو منتخب کرنے کی بطور خاص وجہ آخر کیا ہے؟

جناب فرحت اللہ بابر کا دوسرا سوال یہ ہے کہ

’’کیا یہ زیادہ قرین انصاف نہیں کہ اگر الزام جھوٹا ثابت ہو جائے تو جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی مستوجب سزا ٹھہرایا جائے؟ کیا قرآن میں زنا کا جھوٹا الزام لگانے والے کے لیے سزا تجویز نہیں کی گئی؟‘‘

اس سلسلہ میں بھی ہمارا جواب یہی ہے کہ ملک میں رائج دوسرے قوانین کی صورتحال کیا ہے؟ مثلاً قتل کے جرم میں موت کی سزا نافذ ہے لیکن اگر کوئی مدعی ایف آئی آر میں کسی شخص کو قتل کا ملزم نامزد کرتا ہے اور عدالت اسے بری کر دیتی ہے تو کیا اس مدعی کو جھوٹے الزام کی سزا دینے کا قانون موجود ہے؟ اور اگر نہیں موجود تو کیا فرحت اللہ بابر صاحب اس کی سفارش کریں گے؟یہ معاملہ صرف توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کے بارے میں کیوں مخصوص کیا جا رہا ہے اور دوسرے مروجہ قوانین کے بارے میں فرحت اللہ بابر صاحب کو اس اصول کے لاگو کرنے میں کیا اشکال ہے؟ یہ درست ہے کہ قرآن کریم نے کسی پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کی جھوٹی تہمت لگانے کی سزا مقرر کی ہے لیکن قرآن کریم نے صرف اس ایک مسئلہ میں اس اصول کو اپنایا ہے جبکہ باقی قوانین و مقدمات میں اس اصول اور طریق کار کو لازم نہیں کیا اور دیگر مروجہ قوانین میں بھی یہ اصول تسلیم نہیں کیا جاتا۔

فرحت اللہ بابر صاحب کا تیسرا سوال یہ ہے کہ

’’کیا یہ بات زیادہ قرین انصاف نہیں ہے کہ اگر غیر مسلموں کو توہین رسالتؐ کے تحت سزا دی جا سکتی ہے تو پھر دوسرے مذاہب کے نبیوںؑ کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہنے والوں کو بھی قانون کے تحت سزا مقرر ہونی چاہیے؟‘‘

ہم اس بات کے حق میں ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک اللہ تعالیٰ کے کسی بھی سچے رسول اور نبی کی شان اقدس میں گستاخی کو بھی توہین رسالتؐ کی سزا کے اس قانون میں شامل کرنا چاہیے۔ اور تمام انبیاء کرامؐ خود ہمارے پیغمبر ہیں جن پر ایمان لانا اسی طرح ضروری ہے جس طرح حضرت محمدؐ پر ایمان لانا لازمی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ہر سچے پیغمبر کی توہین اور گستاخی ہمارے نزدیک اسی طرح جرم ہے جس طرح جناب نبی اکرمؐ کی شان اقدس میں گستاخی جرم ہے۔ اس لیے اگر مذکورہ قانون میں اس نوعیت کا اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں اس سے خوشی ہوگی اور ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔