وطنِ عزیز کے کلیدی مناصب اور مذہبی طبقات کے خدشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
نامعلوم

جنرل قمر جاوید باجوہ کی آرمی چیف کے طور پر تقرری کے اعلان کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں سے فون آنا شروع ہوگئے جو ان کا گکھڑ کے ساتھ تعلق ہونے کی وجہ سے تھے۔ چونکہ میرا آبائی قصبہ بھی گکھڑ ہے اس لیے بعض دوستوں نے مبارکباد دی جبکہ بعض حضرات نے اس شبہ اور تشویش کا اظہار کیا کہ کہیں وہ قادیانی تو نہیں ہیں؟ مجھے یہ بات پہلی بار اسی موقع پر معلوم ہوئی کہ جنرل موصوف کا تعلق میرے آبائی شہر سے ہے، ان سے تو ذاتی تعارف نہیں ہے لیکن گکھڑ کی باجوہ فیملی کو جانتا ہوں جس کے بعض حضرات ہمارے ساتھی اور دوست بھی ہیں۔ میں نے ایک دو کالموں میں اپنے شہید دوست صفدر باجوہ کا ذکر کیا تھا جو 1965ء کی جنگ کے پہلے مرحلہ میں ہی گکھڑ ریلوے اسٹیشن پر بھارتی فضائیہ کی بمباری میں شہید ہوگئے تھے، وہ اسی باجوہ فیملی سے تعلق رکھتے تھے اور میرے ذاتی دوستوں میں سے تھے۔ اس فیملی کے ایک سینئر بزرگ میجر غلام حسین مرحوم کے ساتھ بھی میرا تعلق اور نیاز مندی رہی ہے جن کا مکان جی ٹی روڈ پر تھا اور وہ حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے متعلقین میں سے تھے۔ اس لیے میں نے استفسار کرنے والے حضرات سے کہا کہ اگر تو جنرل موصوف کا تعلق گکھڑ کی اسی باجوہ فیملی سے ہے تو تشویش کی کوئی بات نہیں ہے، یہ سب صحیح العقیدہ مسلمان ہیں۔

اسی دوران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ راہنما مولانا اللہ وسایا کا فون آیا اور انہوں نے بھی یہی دریافت کیا، میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے ذاتی طور پر تو تشویش کی کوئی بات دکھائی نہیں دیتی لیکن آپ ہمارے چھوٹے بھائی مولانا قاری حماد الزھراوی سے رابطہ قائم کریں جو گکھڑ میں حضرت والد محترمؒ کی مسجد میں ان کی حیات سے ہی ان کی جگہ خطابت اور تعلیمی و مسلکی معاملات کی مسؤلیت کے فرائض سرانجام دیتے آ رہے ہیں۔ قاری حماد الزھراوی سے میری اس سے قبل بات ہو چکی تھی اور وہ بھی میری طرح مطمئن تھے۔ مولانا اللہ وسایا نے نہ صرف ان سے فون پر بات کی بلکہ اگلے روز مولانا قاری محمد یوسف عثمانی کے ہمراہ خود گکھڑ تشریف لا کر قاری حماد صاحب اور دیگر ذمہ دار حضرات سے ملاقاتیں کیں اور انہیں سب کی طرف سے وہی جواب ملا جس کا میں تذکرہ کر چکا ہوں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ننھیال، دودھیال دونوں کی طرف سے اطمینان حاصل کرنے کے بعد اب مولانا اللہ وسایا ان کے سسرال کا رخ کیے ہوئے ہیں اور وہاں سے بھی کم و بیش اسی طرح کی رپورٹیں مل رہی ہیں، البتہ اس کے بارے میں حتمی بات مولانا اللہ وسایا ہی کریں گے۔

مگر میں اس حوالہ سے اس پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آخر ہمارے دینی حلقے اس قدر الرجک اور حساس کیوں ہیں کہ کسی بھی کلیدی اسامی پر کسی نئی شخصیت کی آمد کے ساتھ ہی اس کے بارے میں اس قسم کے شکوک و شبہات پھیلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ سابق صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم نے ایک نشری تقریر میں ختم نبوت کے حوالہ سے اپنے عقیدہ کی وضاحت کی تھی ، جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم پر کھلے جلسوں میں قادیانی ہونے کا الزام لگا تھا جس پر انہیں صرف زبانی نہیں بلکہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کی صورت میں اپنے عقیدہ کی عملی وضاحت بھی کرنا پڑی تھی، اور جب جنرل پرویز مشرف کو بھی اس الزام کا سامنا کرنا پڑا تھا تو اس دور میں کچھ دوستوں کے پوچھنے پر میں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف قادیانی تو نہیں ہیں البتہ میرے خیال میں ان پر یہ الزام لگانے والے حضرات شاید ان کا گریڈ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس سوال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں اس کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ ہمارے دینی حلقوں میں یہ حساسیت بسا اوقات جذباتیت اور سطحیت کی اس حد کو چھونے لگتی ہے کہ وضاحت اور صفائی کی کوئی بات سننا بھی گوارا نہیں کی جاتی۔ اس کی تازہ مثال ہمارے ایک محترم دوست ڈاکٹر عبد الماجد حمید المشرقی ہیں جو گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں، راسخ العقیدہ مسلمان ہیں، تعلیمی اور دینی سرگرمیوں میں شب و روز مشغول رہتے ہیں اور والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے متعلقین میں سے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں لاہور کی کسی محفل میں قادیانیوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کے بارے میں ایک غلط سی بات کہہ دی جس کی وہیں اسٹیج پر بعض دوستوں نے تردید کر دی اور خود انہوں نے بھی اخبار میں باقاعدہ اشتہار دے کر وضاحت کی کہ ان سے یہ بات بے خبری اور غلط فہمی کی وجہ سے ہوگئی ہے وہ اس سے رجوع کرتے ہیں اور معافی مانگتے ہیں۔ اس کے باوجود بعض حضرات کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا اور وہ ان کے خلاف منافرت کی مہم کو جاری رکھنے میں ہی تسکین محسوس کر رہے ہیں۔ اس قسم کی اور مثالیں بھی موجود ہیں، ظاہر بات ہے کہ یہ کوئی پسندیدہ رجحان نہیں ہے۔

مگر اس کا ایک پہلو اور بھی ہے جو زیادہ سنجیدگی کے ساتھ توجہ کا مستحق ہے۔ وہ یہ کہ جو حضرات قادیانیوں اور ان کے طریق واردات سے آگاہ نہیں ہیں یا جنہیں کبھی قادیانیوں سے براہ راست واسطہ نہیں پڑا، ان کے لیے اس حساسیت کو سمجھنا فی الواقع بہت مشکل بات ہے اور وہ اس رویے کو جذباتیت پر ہی محمول کریں گے۔ لیکن جن لوگوں کا قادیانیوں سے واسطہ ہے او وہ ان کے طریق کار اور نفسیات سے واقف ہیں وہ اس حساسیت کی وجہ کو سمجھتے ہیں۔

علامہ محمد اقبالؒ نے قادیانیوں کے بارے میں کہا تھا کہ وہ مسلم معاشرہ میں یہودیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ جبکہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے بھی یہ کہہ کر اس کی تائید کی تھی کہ قادیانی گروہ پاکستان میں وہ مقام حاصل کرنا چاہتا ہے جو یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے کہ ملک کی تمام پالیسیوں پر ان کا کنٹرول ہو۔ اس حوالہ سے قادیانیوں کا طریق کار اس قدر پیچیدہ اور دجل آمیز ہوتا ہے کہ اسے بروقت سمجھنا اور اس جال سے نکلنا بسا اوقات بہت مشکل ہو جاتا ہے اور وہ اہم کلیدی اسامیوں تک رسائی حاصل کر کے ان کے ذریعہ اپنا کام صفائی کے ساتھ کر جاتے ہیں۔ یہی یہودیوں کا طریق واردات ہے کہ اعلیٰ ترین مناصب تک پوری قابلیت، صلاحیت اور مہارت کے ساتھ رسائی حاصل کرتے ہیں اور اپنے منصبی فرائض کو بہترین طور پر سر انجام دیتے ہیں لیکن اس کی آڑ میں اپنا کام کر جاتے ہیں۔ قادیانیوں کے بارے میں علامہ محمد اقبالؒ اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کا مذکورہ بالا تبصرہ بلاوجہ نہیں ہے اس لیے بعض اہم قادیانی شخصیات کے حوالہ سے اس کا تھوڑا سا واقعاتی پس منظر سامنے لانا ضروری سمجھتا ہوں۔

چودھری ظفر اللہ خان معروف قادیانی تھے اور اس درجہ کے قادیانی تھے کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی کابینہ کا اہم رکن ہونے کے باوجود انہوں نے قائد اعظمؒ کا جنازہ نہیں پڑھا۔ اور غیر حاضر رہنے کا تکلف بھی گوارا نہیں کیا بلکہ وہاں موجود رہ کر جنازے سے الگ غیر مسلموں کی صف میں کھڑے رہے۔ وہ ایک لائق اور قابل شخص تھے، انہوں نے مسلم لیگ میں محنت کر کے قائداعظمؒ کا قرب حاصل کیا اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ بنے۔ بلکہ قیام پاکستان سے قبل پنجاب کی سرحدی تقسیم کے موقع پر ریڈکلف کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کا کیس بھی انہوں نے پیش کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کمال ہوشیاری کے ساتھ ضلع گورداسپور میں مسلم اور غیر مسلم آبادی کے تناسب کے بارے میں قادیانیوں کا کیس مسلمانوں سے الگ کر کے پیش کیا جس سے قادیانیوں کی آبادی مسلمانوں سے الگ شمار ہوئی اور گرداسپور غیر مسلم اکثریت کا ضلع قرار پا کر پاکستان کی بجائے بھارت میں چلا گیا۔ اسی سے بھارت کو کشمیر کا راستہ ملا اور وہ مسلح یلغار کر کے کشمیر پر قابض ہوگیا۔ اگر بھارت کو کشمیر کے لیے اس وقت یہ راستہ نہ ملتا تو شاید کشمیر کا مسئلہ ہی پیدا نہ ہوتا۔ پاکستان بننے کے بعد وزیرخارجہ کے طور پر انہوں نے مختلف ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں کو قادیانیت کی تبلیغ کے لیے استعمال کیا، فارن سروس میں قادیانیوں کی مسلسل بھرتی کی، امریکہ و روس کی کشکش اور سرد جنگ میں پاکستان کو امریکی کیمپ میں شامل کرانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ جبکہ ان کی قابلیت و مہارت کا ایک کامیاب تکنیکی استعمال یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ایک موقع پر سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف پر انہوں نے طویل تقریر کی جسے ان کی زندگی کی طویل ترین تقریر کے طور پر ان کا کریڈٹ شمار کیا جاتا ہے، لیکن اس کا یہ نتیجہ نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے کہ اس تقریر کی طوالت کے دوران سلامتی کونسل میں اس مسئلہ پر رائے شماری کا وقت ختم ہوگیا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس وقت اگر لمبی تقریر کی بجائے رائے شماری ہو جاتی تو وہ پاکستان کے حق میں جاتی۔

اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے ایم ایم احمد تھے جو صدر یحییٰ خان کے دور میں ملک کے پلاننگ کمیشن کے چیئرمین کے منصب تک پہنچے۔ ان کی قابلیت و مہارت میں کوئی شک نہیں مگر اس کا استعمال کس طرح ہوا اس کا اندازہ مشرقی پاکستان کے محب وطن سیاسی راہنماؤں بالخصوص رکن قومی اسمبلی مولوی فرید احمد مرحوم کے ان بیانات سے کیا جا سکتا ہے جن میں انہوں نے پاکستان کی تقسیم کی سازش اور مشرقی پاکستان کو ملک سے الگ کرنے کے منصوبے میں ایم ایم احمد کے کردار کا ذکر کیا تھاا ور وہ اس وقت کے قومی پریس کے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

ڈاکٹر عبد السلام کا تذکرہ ایک ماہر ایٹمی سائنسدان کے طور پر کیا جاتا ہے، ایٹمی سائنس میں ان کی مہارت میں کوئی شک نہیں کہ اس پر انہیں نوبل انعام بھی ملا مگر سوال یہ ہے کہ ان کی یہ مہارت پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں کیوں صرف نہ ہوئی بلکہ مبینہ طور پر وہ پاکستان کو اس سے روکنے کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ اگر ڈاکٹر عبد السلام کی قابلیت و مہارت کے بارے میں کوئی تحقیقی کام ہو تو حرج کی بات نہیں ہے لیکن اس میں یہ سوال بھی شامل ہونا چاہیے کہ ان کی مہارت، صلاحیت اور فنی کمال آخر پاکستان کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کے لیے ہی کیوں استعمال ہوتا رہا ہے؟

ایک اور قادیانی شخصیت کے ’’کمال فن‘‘ کا تذکرہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے۔ 1984ء میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی طرف سے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے نفاذ کے بعد قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن کا رخ کیا اور درخواست دائر کی کہ پاکستان میں ان کے شہری اور مذہبی حقوق چھین لیے گئے ہیں۔ یہ درخواست حکومت پاکستان کے خلاف تھی جس کا جواب جنیوا میں پاکستانی سفیر نے دینا تھا جو اس وقت مسٹر منصور احمد تھے جو ملک کے معروف ڈپلومیٹ تھے اور قادیانی تھے۔ اس ملی بھگت سے بین الاقوامی ہیومن رائٹس کمیشن سے وہ رپورٹ حاصل کی گئی جس میں قادیانیوں کو مظلوم اور حکومت پاکستان کو ان کے شہری اور مذہبی حقوق کی پامالی کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ اور اس وقت سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف لابنگ، پروپیگنڈہ اور دباؤ کے سلسلہ میں یہی رپورٹ بنیاد بنی ہوئی ہے۔

اس پس منظر میں جن حضرات کی قادیانیوں کے اس طریق کار اور مسلسل کردار پر نظر ہے وہ ملک کے کسی بھی اہم اور کلیدی منصب پر فائز ہونے والی شخصیت کے بارے میں یہ اطمینان حاصل کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ کہیں وہ چودھری ظفر اللہ خان، ایم ایم احمد، ڈاکٹر عبد السلام، اور منصور احمد کا تسلسل تو نہیں ہے؟ سیدھی سی بات ہے کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے، اس لیے محترم جنرل قمر جاوید باجوہ کو ان کی ذمہ داریوں پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان سے یہ عرض کر رہا ہوں کہ وہ ان تبصروں کو محسوس نہ کریں بلکہ وہ اسے اپنے خیر خواہوں کی طرف سے اس توقع اور امید کی علامت سمجھیں کہ اسلام، قوم اور ملک کے حوالہ سے ان کی قوم ان سے کیا توقعات رکھتی ہے۔ دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت جنرل قمر جاوید باجوہ کو اسلام، ملک اور قوم کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کی توفیق دیں اور ان کی قیادت میں پاک فوج کو ملک کی وحدت وسا لمیت اور نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مثالی کردار ادا کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔