۱۲ جون ۲۰۲۰ء

انسان کے ذمہ صرف یہ نہیں ہے کہ وہ دنیا کی چند روزہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے آسائش تلاش کرے، اسباب فراہم کرے، اور ان کے بہتر سے بہتر استعمال کے طریقے دریافت کرتا رہے۔ بلکہ یہ بھی اس کی نوعی ذمہ داری میں شامل ہے کہ وہ کائنات کو وجود میں لانے والے خالق و مالک کی مرضی معلوم کرے اور اس کی مرضی و منشا کی تکمیل کے لیے متحرک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت کی زندگی کے لیے، جو اصلی اور دائمی حیات ہے، فکرمند ہو اور اسے بہتر بنانے کو زندگی کا مقصد قرار دے۔ انسان کا المیہ یہ ہے کہ اس نے اسی دنیا کی زندگی کو اپنا واحد مقصد بنا لیا ہے اور اس کی تمام تر تگ و دو اسی کے گرد گھومنے لگی ہے۔ اسی طرح اس کی فکرمندی ’’دنیا میں آگیا ہوں تو کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہے‘‘ کے دائرے میں محصور ہے۔ جبکہ ’’کیوں آیا ہوں؟ کس نے بھیجا ہے؟ آگے کہاں جانا ہے؟‘‘ کے بنیادی سوالات اس کی نظروں سے اوجھل ہو کر رہ گئے ہیں جسے قرآن کریم نے ’’یعلمون ظاہرًا من الحیاۃ الدنیا‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔

2016ء سے
Flag Counter