دستورِ پاکستان سے قادیانی گروہ کا انحراف
میں ایک تاریخی حقیقت کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ تحریکِ ختمِ نبوت میں — جب سے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا، اس کی زندگی سے ہی — امت نے اجتماعی طور پر قادیانیت کے کفر کے خلاف مورچہ سنبھال لیا تھا، البتہ دھارے کچھ مختلف رہے: ایک دھارہ حضرت علامہ انور شاہ کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ اور امیرِ شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی جدوجہد کا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مدنیؒ کی زندگی کے نمایاں پہلو
بزمِ شیخ الہندؒ گوجرانوالہ اور اپنے عزیز بھائی اور ساتھی حافظ خرم شہزاد صاحب کا شکرگزار ہوں کہ وقتاً فوقتاً اپنے اکابر میں سے کسی نہ کسی بزرگ کے عنوان سے ہمیں اکٹھا کرتے ہیں، مختلف اصحابِ دانش سے، ہمیں ان کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں اور ہمارے ایمان اور عزم میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ بزمِ شیخ الہندؒ کی اس محنت کو قبولیت و برکات سے نوازے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اسلامی عقائد اور عالمی قوتیں
یہ جو عقیدہ ہے، یہ مسلمان کی سب سے بڑی متاع ہے۔ آج دشمن کو مسلمان کی یہی بات سب سے زیادہ چبھ رہی ہے۔ ابھی چند ہفتے قبل امریکہ کے سابق صدر کلنٹن صاحب سعودی عرب کے دورے پر تشریف لے گئے اور وہاں وہ امامِ کعبہ سے بھی ملے، مصر گئے تو وہاں شیخ الازہر سے بھی ملے۔ یہ ہماری بڑی شخصیات ہیں، علمی لوگ ہیں، امام کعبہ و حرمین اور جامعہ ازہر مصر کے شیخ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور نیکی و بدی کا انسانی اختیار
دوست آتے ہیں اور اس بارے میں پوچھتے ہیں اس لیے میں اس پر کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مساجد اور مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے کوئی قانون اور آرڈیننس ابھی تک طے نہیں ہو سکا۔ یہ جو حکومت کی طرف سے سروے فارم تقسیم ہو رہے ہیں، یہ صرف اپنا ریکارڈ مکمل کرنے کے لیے ہیں، اور یہ پولیس کے ذریعے رعب ڈال کر مکمل کروائے جا رہے ہیں۔ جہاں تک مساجد اور مدارس کی آزادی کا تعلق ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کے دروسِ قرآن کریم
حضرت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد ہمارے شہر کے بزرگ علماء کرام میں سے ہیں جو کم و بیش نصف صدی سے تعلیم و تدریس اور مواعظ و دروس کے ذریعہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے فروغ میں مصروف ہیں اور نہ صرف شہر کے مختلف حصوں میں بلکہ اندرون ملک اور بیرون ممالک میں بھی ان کی تعلیمی اور درسی مصروفیات کا دائرہ وسیع ہے جس سے ہزاروں لوگوں نے استفادہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
زبان و بیان کے آداب و معیار اور تعلیماتِ نبویؐ
بیان اور گفتگو انسان کے ان امتیازات میں سے ہیں جن کا اللہ پاک نے قرآن کریم میں بطور خاص ذکر فرمایا ہے اور ’’خلق الانسان‘‘ کے ساتھ ہی ’’علمہ البیان‘‘ فرما کر اس کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ انسانی معاشرت میں گفتگو، مکالمہ اور بیان کی مختلف صورتیں ہر دور میں رائج رہی ہیں اور ان کے تنوع کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت بھی وسعت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بیان کا بہتر معیار اور اس کے فنی اور اخلاقی تقاضوں کی طرف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیکولرازم کو لادینیت نہ ماننے کی روش
آج کل اخبارات میں ایک بحث چل رہی ہے، ہمارے صدرِ مملکت نے ایک بات فرمائی تھی کہ ہم پاکستان کو سیکولر مسلم ریاست بنا رہے ہیں، بعد میں انہوں نے تردید بھی کر دی کہ سیکولر کا لفظ نہیں بولا تھا کوئی اور لفظ بولا تھا۔ لیکن اس پر بحث چل پڑی کہ اسلامی سیکولرازم — جس طرح کسی زمانے میں اسلامی سوشلزم ہوتا تھا — یہ مختلف نظاموں کو اسلام کے ساتھ ملا کر تجربات کرتے رہتے ہیں کہ مسلمان شاید کسی طرح دھوکہ کھا جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے ساتھ محبت و عقیدت
آج کی یہ نشست ایک ایسی عظیم شخصیت کے حوالے سے ہے جن کا نام ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں۔ ان کی زیارت تو نہیں ہوئی لیکن ان سے استفادہ کرتے آ رہے ہیں۔ اور اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ ان چند بزرگوں میں سے ہے جن کا نام لے کر ہم جیتے ہیں، جن کا نام لے کر ہم اپنا تعارف کرواتے ہیں، جن کا نام لے کر ہمیں اطمینان ہوتا ہے کہ ہم صحیح راستے پر ہیں اور ان شاء اللہ قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بارہ ربیع الاول کی دو تقریبات میں شرکت
بارہ ربیع الاول / ۲۶ اگست کو جامعہ محمدی شریف چنیوٹ کے نئے لائبریری ہال میں پاکستان شریعت کونسل چنیوٹ کے زیر اہتمام ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا صاحبزادہ قمر الحق سیالوی نے کی اور اس میں راقم الحروف نے کچھ گزارشات پیش کیں جن کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔ جامعہ محمدی شریف کے بانی حضرت مولانا محمد ذاکرؒ اور حضرت مولانا محمد نافعؒ ہمارے بزرگوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نعمتوں کا احساس اور ان کا درست استعمال
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الادب المفرد‘‘ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ ایک تابعی بزرگ تھے جن کا نام انہوں نے جویبر بیان کیا ہے، وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ تھا، میں مدینہ منورہ امیر المومنین کی مجلس میں حاضر ہوا، میری کچھ ضروریات اور تقاضے تھے جو میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ دور کے علاقے سے آیا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- 1
- 2
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »