’’کاروانِ علماءِ لدھیانہ‘‘

برصغیر پاکستان و ہندوستان اور بنگلہ دیش کی دینی و قومی تحریکات میں علماء لدھیانہ کا کردار ہمیشہ ہراول دستے کا رہا ہے اور انہوں نے ہر دور میں قوم و ملت کی نہ صرف صحیح سمت راہ نمائی کی ہے بلکہ خود بھی جدوجہد اور محنت کے میدان میں سرفہرست رہے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جہادِ آزادی کا معرکہ ہو، مرزا غلام احمد قادیانی اور دیگر مدعیانِ نبوت کی خلافِ اسلام سرگرمیوں کا محاسبہ و تعاقب ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اگست ۲۰۲۶ء

’’علم کے تقاضے اور علماء کی ذمہ داریاں‘‘

علماء کرام کو حضراتِ انبیاء کرام علیہم السلام کا وارث بتایا گیا ہے اور وہ اس حوالہ سے ان تمام ذمہ داریوں میں اللہ تعالیٰ کے مقدس رسولوں کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنے اپنے دور میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام سرانجام دیتے رہے ہیں اور خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و کردار میں وہ سب کمال جامعیت کے ساتھ پائے جاتے ہیں جو تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ بھی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اگست ۲۰۲۶ء

حضرت مفتی عبد الواحدؒ کی وفات اور مرکزی جامع مسجد کا نظم

حضرت مولانا مفتی عبد الواحد رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات گوجرانوالہ کے عوام اور جماعتی و مسلکی احباب کے لیے بے حد صدمہ اور رنج و الم کا باعث ہوئی ہے۔ مفتی صاحب مرحوم نے کم و بیش نصف صدی تک مرکزی جامع مسجد کے خطیب اور مدرسہ انوار العلوم کے مہتمم کی حیثیت سے جو دینی خدمات سرانجام دی ہیں اور علماء دیوبند کی مسلکی و سیاسی قیادت کی ہے اس کا تقاضہ ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۱۹۸۲ء

وفاقی شرعی عدالت کا سودی نظام ختم کرنے کا فیصلہ: علماء کرام سے گزارش

باسمہ تعالیٰ۔ محترمی حضرات علماء کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ متحدہ علماء کونسل پاکستان کے ہنگامی مشاورتی اجلاس منعقدہ ۲۵ جون بمقام جامعہ اہلِ حدیث چوک دالگراں لاہور، اور گوجرانوالہ کے مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام کے مشترکہ اجلاس منعقدہ ۲۸ جون بمقام مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ کے فیصلوں کے مطابق، ملک بھر کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام سے گزارش ہے کہ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جون ۲۰۲۲ء

مساجد کے خطباء، ائمہ اور منتظمین سے ایک اہم درخواست

بارشوں اور سیلاب سے متاثرین کی صورت حال انتہائی پریشان کن اور اضطراب انگیز ہے۔ یہ وقت بحث و مباحثہ کا نہیں، متاثرین کی مدد اور بحالی کے لیے جو کچھ بس میں ہو، کر گزرنے کا ہے۔ عربی ادب کی ایک کہاوت ہے کہ ایک شخص نہر میں ڈوب رہا تھا اور ایک شخص اس کو کنارے پر کھڑا ہو کر احتیاط نہ کرنے پر ملامت کر رہا تھا۔ ڈوبنے والے نے آواز دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ اگست ۲۰۲۲ء

مکتوب بنام مفتی منیب الرحمٰن: نصاب کمیٹی سے متعلقہ امور کے بارے میں رائے

باسمہ تعالیٰ۔ محترمی حضرت مولانا مفتی منیب الرحمٰن صاحب زیدت مکارمکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ ۲۵ اپریل کے اجلاس کا دعوت نامہ مل گیا ہے، ان شاء اللہ حاضری ہو گی۔ قرطاسِ عمل میں نصاب کمیٹی سے متعلقہ امور کے بارے میں اپنی رائے تحریر کر رہا ہوں، کوئی بات قابلِ توجہ ہو تو اپنی گفتگو میں شامل فرما لیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۲۰۱۷ء

حضرت سرفراز خان صفدرؒ اور مولانا قاضی فضل اللہ کے تفسیری افادات

قرآن کریم کے علوم و معارف ہر دور میں اہلِ علم کی توجہات اور استفادہ کا محور رہے ہیں اور قیامت تک رہیں گے اور نسلِ انسانی بالخصوص امتِ مسلمہ اور اس کے علماء کرام اس بحرِ ناپیدا کنار میں غوطہ زن ہو کر راہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ چونکہ اس کا دور قیامت تک ہے اس لیے اس وقت تک کے ہر دور کی ہدایت کے تقاضے اور علمی و فکری ضروریات اس کے دامن میں موجود ہیں جو وقتاً‌ فوقتاً‌ ظاہر ہوتے رہیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۲۶ء

دینی مدارس کا آزادانہ کردار اور بیرونی ایجنڈا

آج آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا، ہمارے صدرِ مملکت جناب پرویز مشرف نے فرمایا ہے کہ ہمارا دینی مدرسوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، یہ غلط فہمی ہے، ہم مدرسوں کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتے، مدرسوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، البتہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ مدرسے اجتماعی دھارے میں شامل ہوں اور مدرسوں میں جہاں قرآن کریم پڑھایا جاتا ہے وہاں سائنس بھی پڑھائی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۰۱ء

حق و باطل کے معرکوں میں شکست اور فتح

مدینہ منورہ سے شام کی طرف تین ہزار کا لشکر نکلا حضرت زید بن حارثہؓ کی قیادت میں۔ مولانا شبلی نعمانیؒ اپنی تصنیف ’’سیرت النبیؐ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ شرحبیل بن عمرو ایک لاکھ کا لشکر لے کر موطا کے مقام پر انتظار میں کھڑا تھا۔ ایک لاکھ وہ تھے اور قیصرِ روم خود بھی اسی علاقے میں کچھ فاصلے پر ایک لاکھ کے لشکر کے ساتھ موجود تھا کہ ضرورت پڑی تو میں بھی میدان میں آجاؤں گا۔ زید بن حارثہؓ نے جب یہ منظر دیکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۲۰۰۱ء

جیسا دودھ ویسا مکھن!

آج ہم دنیا بھر کے مسلمان کس چیز کے ضرورتمند ہیں؟ آج ہمارے مانگنے کی چیز یہ ہے کہ یا اللہ! ہمیں تھوڑی سی غیرت دے دے۔ حمیت اور غیرت نام کی کوئی چیز ہم مسلمانوں میں نہیں رہی۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی کے حوالے سے عرض کروں گا۔ مسلم شریف کی روایت ہے ’’المسلم اخو المسلم لا یظلمہ ولا یسلمہ‘‘ کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ دسمبر ۲۰۰۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter