اقتدار کی کرسی اور اللہ کا قانون

ان پچاس سالوں میں بحیثیت قوم ہم نے کرسی کی جنگ اور پیسے کی لوٹ مار کے سوا کوئی اور کام بھی کیا ہے؟ طریقۂ واردات ہر شخص کا اور ہر گروہ کا مختلف ہے، ورنہ پچاس سال میں ہمارے ہاں خود ہمارے ہی ووٹوں اور نعروں سے، ہماری حمایت سے بننے والی حکومتوں نے، اقتدار میں آنے والے لوگوں نے، پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ہمارے نمائندگان نے لوٹ کھسوٹ اور اقتدار و کرسی کی خاطر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۱۹۹۹ء

فرقہ وارانہ فساد اور انتظامیہ کی نااہلی

ملک بھر میں فرقہ وارانہ دہشت گردی جو ہو رہی ہے اس پر ملک کا ہر شہری پریشان ہے۔ ابھی کل ہمارے ہاں ایک شیعہ راہنما قتل ہوگئے ہیں، ضلعی امن کمیٹی کے ممبر تھے، معروف وکیل اعجاز حسین رسول نگری۔ اس سے پہلے کئی سنی راہنما قتل ہوئے۔ یہ شیعہ سنی حوالے سے جو فرقہ وارانہ طرفین کا قتل ہے، میں اس سے پہلے بھی اس کے متعلق کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ اس میں فریقین بھی ملوث ہوں گے لیکن ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اکتوبر ۱۹۹۹ء

انکارِ حدیث کا فتنہ اور جدید دانش کا فکری تضاد

گزشتہ دنوں کویت میں، جو ہمارا مسلمان بھائی ملک ہے، وہاں انکارِ حدیث کے حلقے اس بنیاد پر سامنے آئے ہیں کہ صرف قرآن کریم ہی کافی ہے، حدیث و سنت کی ضرورت نہیں ہے، حدیث اختلاف اور جھگڑے پیدا کرتی ہے اس لیے اسے چھوڑ کر صرف قرآن کریم پر ایمان لائیں۔ قرآن اور عقل، بس یہی دو باتیں ہماری ضرورت ہیں۔ یعنی قرآن کریم کا جو معنی ٰ ہماری سمجھ میں آجائے ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۱۹۹۹ء

دینی مدارس کے اساتذہ کرام سے چند باتیں

میرے لیے یہ سعادت کی بات ہے، جامعہ بیت النور میں حاضری ہوتی رہتی ہے اور استفادہ بھی کرتا ہوں، کچھ کاموں میں شریک بھی ہوتا ہوں۔ آج تعلیمی سال کا آغاز ہے جو اپنی برادری اساتذہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ استاذ ایک برادری ہے۔ آپ اساتذہ کرام ہیں ما شاء اللہ اور میری بہنیں اور بیٹیاں فاضلات اور معلمات ہیں۔ تدریسی ماحول کی ایک مجلس سے ہم تعلیمی سال کا آغاز کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۲۱ء

سید سلمان گیلانیؒ کی یاد میں تعزیتی سیمینار

گزشتہ روز ایوانِ اقبالؒ لاہور میں شاعرِ اسلام الحاج سید سلمان گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد میں منعقد ہونے والے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل ہوئی جس کا اہتمام جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے کیا تھا اور جمعیۃ کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن، مولانا خواجہ خلیل احمد، مولانا عبد الغفور حیدری، مولانا سعید یوسف خان، مولانا سید کفیل بخاری اور دیگر زعماء کے علاوہ علماء کرام، دینی کارکنوں اور دیگر طبقات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اپریل ۲۰۲۶ء

جہادِ فلسطین کا حالیہ دَور اور اہلِ پاکستان کی ذمہ داری

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اس وقت عالمِ اسلام کے بہت سے مسائل میں سب سے فرنٹ پر فلسطین کا مسئلہ، بیت المقدس کا مسئلہ، فلسطینیوں کا مسئلہ، اس وقت پوری دنیا میں زیربحث بھی ہے اور تمام لوگ اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ فکرمند بھی ہیں اپنے اپنے دائرے میں۔ فلسطین کی یہ موجودہ لڑائی جو ہے، یہ تو تقریباً‌ سو سال پہلے شروع ہوئی تھی، جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے فلسطین کو اپنی تحویل میں لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جون ۲۰۲۴ء

برطانوی استعمار اور برصغیر کا دینی تعلیمی نظام

مولانا عبد الرؤف فاروقی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ جب سے یہ کام کر رہے ہیں مجھے بھی انہوں نے ساتھ رکھا ہوا ہے اور میں حاضر ہوتا رہتا ہوں کہ شرکت ہو جاتی ہے اور حصہ پڑ جاتا ہے۔ اللہ پاک ان کی مساعی کو قبولیت و برکات سے بہرہ ور فرمائیں اور ہماری شرکت و حاضری کے تسلسل کو قائم رکھیں۔ آج ایک خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ بزرگوں سے سنا کرتے ہیں کہ خیر اور نیکی کا کوئی کام اگر اگلی نسل سنبھال لے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اپریل ۲۰۲۶ء

پاکستان فلسطین فورم کا عوامی قافلہ اور ہماری ذمہ داری

سنیٹر (ر) محترم جناب مشتاق احمد خان کے قائم کردہ ’’پاکستان فلسطین فورم‘‘ کا ایک وفد گزشتہ دنوں گوجرانوالہ آیا تو وفد نے الشریعہ اکادمی میں مجھ سے بھی ملاقات کی اور اپنے پروگرام سے آگاہ کرتے ہوئے اس میں تعاون کے لیے کہا۔ مسجد اقصیٰ اور فلسطین کے مسئلہ پر بحمد اللہ تعالیٰ ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دور سے ہی کچھ نہ کچھ کہتے اور کرتے رہنے کی سعادت حاصل ہوتی چلی آ رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۲۶ء

ابلاغ کے ذرائع، دعوت کا اُسلوب اوراسلامی نظام کی بنیادیں

جامعۃ الرشیدیۃ، چوک فاروق اعظم، لودھراں میں ۲۶ مارچ (۲۰۲۶ء) سے خطابت کورس طلبہ اور علماء کے لیے شروع ہے جو ۳ اپریل تک جاری رہے گا۔ میں اس کورس کے اہتمام پر مولانا سعید احمد شاہ کاظمی کو مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ اچھی کاوش ہے، اس قسم کے کورس وقتاً‌ فوقتاً‌ ہوتے رہنے چاہئیں جو ہمارے نوجوان علماء اور فضلاء کو آج کے تقاضوں، اسلوب اور طریقِ دعوت و تبلیغ سے آگاہ کرتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۲۶ء

امریکہ، روس اور چین میں سے پاکستان کا سچا دوست کون سا ہے؟

جہاں تک سچی دوستی کا تعلق ہے، کوئی کافر کسی مسلمان کا سچا دوست نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اسلام کا مقصد دنیا میں کفر و ظلم کا خاتمہ اور عدل و انصاف کے خدائی نظام کا قیام ہے، اور کفر دنیا میں کسی نوعیت کا بھی ہو، اسلام اس کا حریف ہے۔ اس لیے اگر واقعی پاکستان کے قیام کا مقصد اسلام کے عدل و انصاف کا نفاذ و اجرا ہے تو وہ کفر انتہائی احمق ہو گا جو پاکستان سے سچی دوستی کی حامی بھرے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۱۹۷۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter