مہمان کا احترام اور دینی و ملی حمیت

کلنٹن صاحب پاکستان میں پتہ نہیں کن مقاصد کے لیے آرہے ہیں، ان کے اپنے مفادات ہیں، لیکن ہمیں یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ تم کوئی بات نہ کہنا، وہ ہمارے مہمان ہیں۔ بھئی ہم کب انکار کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مہمان نہیں ہیں، لیکن میں ایک اسلامی روایت کا حوالہ ضرور دینا چاہوں گا کہ مہمان کی مہمان نوازی اپنی جگہ لیکن اسلام کی غیرت اپنی جگہ۔ ضرور مہمان نوازی کرو، احترام کرو اور پروٹوکول دو، ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۰ء

بامقصد زندگی عقیدے کے بغیر ممکن نہیں ہے

انسان دنیا کی جاندار چیزوں میں سب سے زیادہ عقل مند، ہوش مند، باصلاحیت اور سب سے زیادہ متحرک مخلوق ہے۔ اور اس کے اِن سارے اوصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو اپنا تعارف حاصل ہو کہ میں کون ہوں؟ مجھے کس لیے بنایا گیا ہے؟ بنانے والا کون ہے؟ میرا ایجنڈا کیا ہے؟ میرے اندر یہ ساری باتیں کیوں فِٹ کی گئی ہیں؟ اتنا وسیع نیٹ ورک مجھے کیوں دیا گیا ہے؟ اس تعارف کے بغیر انسان اس کائنات میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اگست ۲۰۱۴ء

قرآن کریم کی تفسیر ’’الفلاح‘‘ اور نصابِ تعلیم ’’صراطِ مستقیم‘‘

الشمس ٹرسٹ گلیانہ ضلع گجرات کی طرف سے تعلیمی مقاصد کے لیے مرتب کردہ قرآن کریم کی تفسیر ’’الفلاح‘‘ نظر سے گزری اور اس کے ساتھ مختلف مراحل کے لیے ’’صراطِ مستقیم‘‘ کے عنوان سے مرتبہ نصابِ تعلیم کے کچھ حصے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ نظر کی مسلسل کمزوری کے باعث مطالعہ تو نہیں کر سکا مگر بعض مقامات سرسری دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ اچھے ذوق اور اسلوب کے ساتھ نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۲۶ء

ملکی دستور، عسکری قوت اور تہذیبی تحفظ کے حوالے سے مکاتب فکر کے مطالبات

شہر کی دینی جماعتوں نے مشترکہ طور پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ (۱) دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کا اعلان کیا جائے (۲) سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہ کیے جائیں (۳) بسنت کی سرپرستی نہ کی جائے (۴) اور تفریحی میلے کے نام پر یہ جوے کا کاروبار بند کیا جائے۔ ان میں سے ایک مسئلہ پر تو وضاحت آگئی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے جو دستور معطل کیا ہے، اس میں اسلامی دفعات، ختمِ نبوت کے حوالے سے دفعات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۰۰ء

چیچنیا کے مسلمانوں کی جدوجہد اور ہمارے حکمران

آپ حضرات خدا کے گھر میں بیٹھے ہیں، جمعۃ المبارک کا دن ہے، یہ بتائیں کہ چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں اور مجاہدوں کی حمایت انصاف کی بات ہے یا ظلم کی؟ آخر ان کا قصور کیا ہے اور روس کس جرم میں چیچنیا کے مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہا ہے، اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں؟ اللہ تعالیٰ چیچنیا کے مسلمانوں کو استقامت عطا فرمائے، انہیں سلامت رکھے، اور اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی نصیب فرمائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ فروری ۲۰۰۰ء

میٹرک کے نصاب سے سورہ توبہ کا ترجمہ نکالنے کی مہم

چند دن ہوئے مجھے ایک دوست نے اسلام آباد سے فون کیا اور پوچھا کہ مولانا کیا آپ کے علم میں ہے کہ ہماری وزارتِ تعلیم میں ایک مسئلے پر غور ہو رہا ہے کہ سرکاری سکول کے نصاب میں سے سورہ توبہ کو نکال دیا جائے۔ سورہ توبہ وہ سورت ہے جو ساری کی ساری جہاد کے احکامات پر، جہاد کی تحریض پر، مسلمانوں کو جہاد کے لیے ابھارنے پر اور منافقین کی منافقت کے بیان پر ہے۔ میں نے پوچھا کیوں؟ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲٠٠٠ء

خفیہ نکاح کے جواز کا عدالتی فیصلہ

آپ حضرات نے یہ خبر پڑھی ہو گی کہ ہماری وفاقی شرعی عدالت نے باقاعدہ فیصلہ دیا ہے کہ ایک مرد و عورت بند کمرے میں آپس میں خفیہ طور پر نکاح کا معاہدہ کرتے ہیں اور گواہ بھی نہیں رکھتے، تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے، نکاح ہوگیا ہے، گواہوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہم اب یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ خفیہ نکاح جائز ہوگیا ہے اور نکاح کے لیے جو کم از کم دو گواہوں کی شرط تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جنوری ۲۰۰۰ء

ہماری ہدایات کا سرچشمہ کون ہے؟

آج کل ہم نے ایک مسئلہ بنا لیا ہے کہ ہم پر جو مغرب کی طرف سے اعتراض ہوتا ہے ہم اس کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اجتہاد کے نام سے۔ مغرب والے اعتراض کرتے ہیں کہ وراثت میں بیٹے اور بیٹی کا حق برابر ہونا چاہیے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! آپ اجتہاد کیوں نہیں کرتے، اجتہاد کر کے آپ یہ حق برابر کیوں نہیں کرتے؟ مغرب کا تقاضا ہے کہ بیوی کو نصف جائیداد ملنی چاہیے، اس پر کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۲۰۰۰ء

سودی نظام کے خاتمے کے لیے عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ

آج سپریم کورٹ آف پاکستان نے جو فیصلہ کیا ہے، پاکستان کا کوئی مسلمان ایسا نہ ہوگا جو اس پر خوش نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ان ججوں کو جزائے خیر دے۔ وفاقی شرعی عدالت کو، سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینک کو، جنہوں نے یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے اور ایک امید کی راہ دکھائی ہے۔ ابھی رکاوٹیں تو باقی ہیں اور نظر ثانی کی اپیل ہوگی، لیکن اصولی فیصلہ تو بہرحال آگیا ہے، الحمد للہ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۱۹۹۹ء

جہادِ افغانستان کے علمبرداروں سے مغربی دنیا کی نا انصافی

آج دیکھیے کہ افغانستان کے ہمارے مجاہد بھائی گھیرے میں ہیں۔ ان کے خلاف بھی الزام یہ ہے کہ ورلڈ کلچر کو قبول نہیں کر رہے، اقوامِ متحدہ کے منشور پر دستخط نہیں کر رہے، آج کے جو عالمی تقاضے ہیں انہیں قبول نہیں کر رہے۔ یہ عورت کے پردے کی بات کیوں کرتے ہیں؟ یورپ کی جو تمام بے حیائی اور فحاشی ہے، یہ یہاں پر اسے قبول کیوں نہیں کر رہے؟ دنیا میں ایک خطہ ایسا کیوں ہے جو انسانی خواہشات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ دسمبر ۱۹۹۹ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter