تخصصات کے کورسز اور جدید مسائل

جامعۃ التخصص فی العلوم الاسلامیہ ملتان کی افتتاحی تقریب کے موقع پر جامعہ کے سربراہ حضرت مولانا امداد اللہ انور صاحب اور ان کے رفقاء کو مبارکباد دیتا ہوں اور تمام شرکاء کی خدمت میں مبارکباد عرض کرتے ہوئے یہ کہنا چاہوں گا کہ بہت ضروری اور مبارک عمل ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ اور فضلاء کو ضروری مضامین میں تخصصات کرائے جائیں۔ یہ ہماری پرانی روایت میں ’’تکمیل‘‘ کہلاتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ اپریل ۲۰۲۴ء

گوجرانوالہ میں ’’بین المسالک ہم آہنگی کھیل میلہ‘‘ کا اہتمام

۲۳ مئی کو نیشنل اسٹیڈیم گوجرانوالہ میں دینی مدارس کے طلبہ کے درمیان ’’بین المسالک ہم آہنگی کھیل میلہ‘‘ کی افتتاحی تقریب میں شرکت میرے لیے بے حد خوشی کا باعث ہوئی۔ اس دو روزہ پروگرام کا اہتمام ضلعی انتظامیہ نے کیا ہے اور کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن، آر پی او، ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ، اور سی پی او سمیت ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام افتتاحی تقریب میں موجود تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مئی ۲۰۲۴ء

حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کی حسین یادیں

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی قدس اللہ سرہ العزیز ان بزرگوں میں سے ہیں جن کے ساتھ میری زندگی بھر تحریکی، مسلکی اور دینی رفاقت رہی۔ جن چند بزرگوں کے ساتھ میری رفاقت مسلسل رہی اور ایک دوسرے پر اعتماد بھی الحمد للہ ہمیشہ رہا، ان میں ایک مولانا چنیوٹیؒ ہیں۔ آپؒ چنیوٹ کے رہنے والے تھے، ان کے والد محترم سے میری ملاقاتیں ہوئی ہیں، ان کی زیارت بھی کی ہے، ان کے گھر کئی دفعہ گیا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۶ء / ۲۰۱۷ء

عامر چیمہ کی شہادت

عامر چیمہ کی شہادت نے وہ زخم ایک بار پھر تازہ کر دیے ہیں جو یورپ کے بعض اخبارات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلمانانِ عالم کے دلوں پر لگ گئے تھے اور مسلمانوں نے احتجاج اور جذبات کے پرجوش اظہار کے ساتھ ان زخموں پر کسی حد تک مرہم رکھ لی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مئی ۲۰۰۶ء

منافق کون ہیں؟

صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ جو لوگ ”تحفظ حقوقِ نسواں بل“ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ منافق ہیں، حالانکہ اس بل کی، جو اب ایکٹ بن چکا ہے، مخالفت کرنے والے صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اس میں عورتوں کے ان حقوق کے حوالے سے کوئی بات شامل نہیں جو پاکستانی معاشرے میں عورت کو درپیش ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ دسمبر ۲۰۰۶ء

انسانی معاشرہ اور مسلم سوسائٹی پر ”مولوی“ کے احسانات

میں ان دنوں چند روز کے لیے دوبئی آیا ہوا ہوں اور گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک پرانے دوست اور ساتھی محمد فاروق شیخ صاحب کے ہاں شارجہ میں قیام پذیر ہوں۔ خیال ہے کہ ۱۳ نومبر کو رات گوجرانوالہ واپس پہنچ جاؤں گا اور ۱۴ نومبر منگل کو الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں ”دینی مدارس کے اساتذہ کے لیے تربیتی نظام کی ضرورت اور تقاضے“ کے عنوان پر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۲۰۰۶ء

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کی سالانہ رپورٹ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ۱۹۸۹ء سے اسلام کی دعوت و تبلیغ، اسلام مخالفت لابیوں کی نشان دہی اور ان کی سرگرمیوں کے تعاقب، اسلامی احکام و قوانین پر کیے جانے والے اعتراضات و شبہات کے ازالہ، دینی حلقوں میں باہمی رابطہ و مشاورت کے فروغ اور نوجوان نسل کی فکری و علمی تربیت و راہ نمائی کے لیے مصروف کار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اکتوبر ۲۰۰۶ء

تحریک ختم نبوت کی چند یادیں

میری یادداشتوں کے حوالے سے ایک شعبہ تحریک ختم نبوت کا بھی ہے۔ ختم نبوت کی تحریک میں کچھ نہ کچھ حصہ لیتا رہا ہوں۔ تحریک ختم نبوت کے ساتھ میرا تعلق کب ہوا، کن کن مراحل سے گزرا اس کا کچھ خلاصہ عرض کرنا چاہوں گا۔ قادیانیوں کو پاکستان بننے کے بعد غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے ایک تحریک ۱۹۵۳ء میں چلی تھی۔ اس وقت میری عمر پانچ سال تھی، مگر اس دور کی چند جھلکیاں ابھی تک ذہن کی اسکرین پر جھلملا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۶ء، ۲۰۱۷ء

دینی مدارس کے تعلیمی نصاب و نظام کا اصل ہدف

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ماہِ رواں کے دوران پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں دینی مدارس کے تعلیمی سال کا آغاز ہو رہا ہے جن کی تعداد مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زیادہ بیان کی جاتی ہے جبکہ ان میں پڑھنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ ان مدارس کا ایک بڑا امتیاز یہ ہے کہ یہ دین کی تعلیم اصل مآخذ اور اوریجنل سورسز سے دیتے ہیں جو دنیا کا مسلّمہ تعلیمی اصول ہے کہ کسی بھی علم یا فن کی تعلیم اصل ماخذ سے دی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ مئی ۲۰۲۴ء

جناب بش! ایک نظر ادھر بھی

ریاست ہائے متحدہ امریکا کے صدر جارج بش تین مارچ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دورہ پر آ رہے ہیں اور پاکستانی قوم ملک گیر ہڑتال کے ساتھ ان کا خیر مقدم کر رہی ہے۔ تین مارچ کی یہ ہڑتال اگرچہ ڈنمارک اور دوسرے مغربی ملکوں سے بعض اخبارات میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت اور ان کے حوالے سے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم مارچ ۲۰۰۶ء غالباً

Pages


2016ء سے
Flag Counter