انگریز نے ہمیں ’’تہذیب‘‘ کیسے سکھائی؟

انگریز جب ہمارے ہاں آئے تو ان کا دعویٰ تھا کہ ہم مشرقی اقوام کو تہذیب سکھانے آئے ہیں، زندگی کا سلیقہ بتانے آئے ہیں اور متمدن معاشرہ کے آداب سے بہرہ ور کرنے کے لیے آئے ہیں۔ انگریزوں کا خیر مقدم کرنے والے اور ان کی راہ میں آنکھیں بچھانے والے ہمارے دوستوں نے بھی ہمیں یہی بتایا کہ ہماری تہذیب پرانی ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ جنوری ۲۰۰۳ء

تبلیغی جماعت کا عالمی اجتماع اور دعوتِ اسلام کے تقاضے

اسلام یہودیت اور ہندومت کی طرح نسلی دین نہیں ہے بلکہ پوری انسانیت کا دین ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور اعلانِ نبوت کے بعد سے قیامت تک کا ہر انسان اسلام کی دعوت اور پیغام کا مخاطب ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے امتیازات اور خصوصیات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۰۳ء

اجتہاد کا شرعی تصور اور چند مغالطے

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اجتہاد لفظاً کوشش کرنے کا نام ہے۔ شرعاً جو اجتہاد ہے اس کی تعریف اور شرائط اصولِ فقہ کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔ لیکن میں اس دائرے سے ہٹ کر آج کے عمومی تناظر اور فہم کے دائرے میں اجتہاد کی بات کرنا چاہوں گا۔ شرعاً اجتہاد کی ضرورت یہ ہے کہ جب تک وحی جاری تھی، زمانے کے حالات بدلتے تھے اور نئی ضروریات پیش آتی تھیں، تو وحی کے ذریعے ہدایت و رہنمائی ہو جاتی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۵ء

ترقی یافتہ دور میں بھی انسانی دماغ حرفِ آخر نہیں

ہم نے گزشتہ شب دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک امریکا کے دارالحکومت کے ایک علاقہ میں موم بتیوں کی روشنی میں نماز تراویح کا آغاز کیا۔ سپرنگ فیلڈ کے علاقہ میں مغرب سے تھوڑی دیر بعد بجلی منقطع ہوئی اور تراویح اور اس کے بعد بیان وغیرہ سے فارغ ہوئے تو اس کے بعد بجلی کا سلسلہ بحال ہو گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اکتوبر ۲۰۰۳ء

واشنگٹن کے ایئر پورٹ پر ون مین پی ٹی شو

۲۴ مئی کو واشنگٹن سے واپسی کا پروگرام تھا۔ ڈیلس ایئر پورٹ سے لندن ہیتھرو کے لیے یونائیٹڈ ایئر لائن کی پرواز تھی۔ سفر میں میرا ذاتی سامان دو تین جوڑے کپڑے، کچھ کاغذات اور رسائل ہوتا ہے۔ مگر عزیزوں اور دوستوں کے تحائف اور مختلف حضرات تک پہنچانے کے لیے امانتیں اچھا خاصا مسئلہ پیدا کر دیتی ہیں، جس کا اس سفر میں بھی سامنا کرنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مئی ۲۰۰۳ء

مکہ مکرمہ کے اخبار ’’العالم الاسلامی‘‘ پر ایک نظر

’’رابطہ عالم اسلامی‘‘ کے زیر اہتمام مکہ مکرمہ سے ’’العالم الاسلامی‘‘ ہفت روزہ اخبار عربی میں شائع ہوتا ہے جو اخباری سائز کے سولہ صفحات پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں دو صفحات انگلش کے بھی ہوتے ہیں۔ اس میں عالم اسلام کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے خبروں اور تبصروں کے علاوہ رابطہ عالم اسلامی کی سرگرمیوں کی رپورٹیں شائع ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

فروری ۲۰۰۳ء

عراق پر حملہ: عظیم تر اسرائیل کی جانب پیش قدمی

امریکہ نے بالآخر عراق پر حملہ کر دیا اور امریکی افواج نے عراق کے مختلف مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ دنیا کے اکثر ممالک نے امریکہ کے اس اقدام کی مخالفت کی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اکثریت کی حمایت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے امریکی گروپ کو اپنی قرارداد واپس لینا پڑی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۳ء

اسلامی تحریکات اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن

’’آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق روس کے صدر جناب ولادی میر پیوٹن نے ایک ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے اسلامی تحریکات پر دہشت گردی کا الزام دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم ممالک کی اسلامی تحریکات دنیا میں خلافت کے نظام کو دوبارہ بحال کرنا چاہتی ہیں۔ روس کا بادشاہت کے دور میں ”خلافت عثمانیہ“ کے ساتھ صدیوں سابقہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

دسمبر ۲۰۰۲ء

قربانی — شبہات کا ازالہ

ذی الحجہ ہجری سن کا آخری مہینہ ہے جو اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن فریضۂ حج اور اسلامی شریعت کے احکام میں سے ایک حکم قربانی کی ادائیگی کا ہے۔ حج فرض ہے اور قربانی احناف کے نزدیک واجب، جبکہ دیگر فقہاء امت کے ہاں سنت مؤکدہ کا درجہ رکھتی ہے۔ یہ واجب اور سنت مؤکدہ کا فرق بھی محض اصطلاحی اور فنی سا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ فروری ۲۰۰۳ء

ذہنی خلفشار اور قومی سطح پر پایا جانے والا تضاد

صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ تین مسائل کی وجہ سے ہمارے ذہنوں میں خلفشار ہے۔ سب سے پہلے کشمیر کاز، دوسرے بیرونی سطح پر ایسے تنازعات اور تصادم جن میں مسلمان ملوث ہیں، اندرونی طور پر فرقوں اور مسلکوں کے اختلافات۔ خدا جانے ’’ذہنی خلفشار‘‘ سے صدر محترم کی مراد کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جنوری ۲۰۰۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter