بین الاقوامی تعلقات اور اسوۂ ابراہیمیؑ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک بار پھر یہ تقاضہ سامنے آیا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک ’’ابراہیمی اکارڈ‘‘ پر دستخط کر کے اس معاہدہ میں شریک ہو جائیں جو صدر ٹرمپ نے اپنے گزشتہ دورِ صدارت میں کرایا تھا اور جس کا مقصد اس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا کہ مسلم ممالک بالخصوص عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیں تاکہ وہ اپنے ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے ایجنڈے کو نعوذ باللہ تکمیل تک پہنچا سکے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۲۰۲۶ء

قوم کی حالت پر توجہ نہیں دی جا رہی!

میں اس احتجاجی مظاہرہ کے اہتمام پر جمعیۃ علماء اسلام گوجرانوالہ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ قوم کے دکھ درد میں شریک ہونا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ اور الحمد للہ ہر موقع پر، کسی بھی حوالے سے قوم پر کوئی مشکل آئی ہے، مصیبت آئی ہے، علماء نے ہمیشہ قوم کا ساتھ دیا ہے۔ اور آج بھی یہ ملک میں جو مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان ہے ہم اس پر احتجاج کر رہے ہیں کہ حکومت کو جو ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۲۶ء

’’تذکرۃ الابرار‘‘

والد گرامی امام اہل سنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز کا ذوق و معمول تھا کہ اپنے مضامین و تصانیف میں کسی بھی حوالہ سے اکابر اہلِ علم اور بزرگانِ دین میں سے کسی شخصیت کا ذکر کرتے تو ان کے سنِ وفات کا اہتمام کے ساتھ تذکرہ کرتے جس سے اس شخصیت کے دور اور اس ماحول میں ان کی خدمات کا صحیح پس منظر میں اندازہ کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مئی ۲۰۲۶ء

دعا کی برکتیں اور علم کے تقاضے

جامعہ بیت النور میں وقتاً فوقتاً حاضری کا موقع ملتا ہے۔ مولانا عثمان آفاق، مولانا محمد اویس اور ان کے دوستوں کی محنت دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور دل سے بے ساختہ دعائیں نکلتی ہیں، اللہ پاک قبول فرمائیں اور برکات و ترقیات سے بہرہ مند فرمائیں۔ مولانا عثمان صاحب کا تقاضہ ہے کہ میں کبھی کبھی آیا کروں اور علماء اور اساتذہ و طلبہ سے کچھ گفتگو ہو جایا کرے۔ میں بھی تعلیمی لائن کا آدمی ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جون ۲۰۲۲ء

امت کے لیے رسولِ رحمتؐ کی دردمندی

طبرانی کی روایت ہے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اللہ رب العزت سے چار باتوں کی گزارش کی، اللہ پاک نے تین قبول فرما لیں، ایک کے بارے میں فرمایا کہ نہیں۔ میں نے گزارش کی کہ یا اللہ میری امت ساری کی ساری اکٹھی کہیں تباہ نہ ہو جائے۔ فرمایا، نہیں ہو گی۔ عذاب آتے رہیں گے، کبھی ادھر کبھی ادھر، لیکن امت باقی رہے گی، امت بحیثیت امت تباہ نہیں ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۲۰۲۳ء

پاکستان کی اصل منزل!

آج چودہ اگست ہے، پاکستانی قوم پاکستان میں، اور دنیا میں جہاں کہیں بھی پاکستانی شہری بستے ہیں، اپنا آزادی کا اور قیامِ پاکستان کا دن منا رہے ہیں۔ اس دن پاکستان قائم ہوا تھا، اس دن ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی۔ اور ایک آزاد خودمختار قوم کی حیثیت سے، ملک کی حیثیت سے، ریاست کی حیثیت سے، ہم نے نئی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ یہ دن ہر سال ہم مناتے ہیں اور یہ قوموں کے دن ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۲۰ء

مہمان کا احترام اور دینی و ملی حمیت

کلنٹن صاحب پاکستان میں پتہ نہیں کن مقاصد کے لیے آرہے ہیں، ان کے اپنے مفادات ہیں، لیکن ہمیں یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ تم کوئی بات نہ کہنا، وہ ہمارے مہمان ہیں۔ بھئی ہم کب انکار کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مہمان نہیں ہیں، لیکن میں ایک اسلامی روایت کا حوالہ ضرور دینا چاہوں گا کہ مہمان کی مہمان نوازی اپنی جگہ لیکن اسلام کی غیرت اپنی جگہ۔ ضرور مہمان نوازی کرو، احترام کرو اور پروٹوکول دو، ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۰ء

بامقصد زندگی عقیدے کے بغیر ممکن نہیں ہے

انسان دنیا کی جاندار چیزوں میں سب سے زیادہ عقل مند، ہوش مند، باصلاحیت اور سب سے زیادہ متحرک مخلوق ہے۔ اور اس کے اِن سارے اوصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو اپنا تعارف حاصل ہو کہ میں کون ہوں؟ مجھے کس لیے بنایا گیا ہے؟ بنانے والا کون ہے؟ میرا ایجنڈا کیا ہے؟ میرے اندر یہ ساری باتیں کیوں فِٹ کی گئی ہیں؟ اتنا وسیع نیٹ ورک مجھے کیوں دیا گیا ہے؟ اس تعارف کے بغیر انسان اس کائنات میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اگست ۲۰۱۴ء

قرآن کریم کی تفسیر ’’الفلاح‘‘ اور نصابِ تعلیم ’’صراطِ مستقیم‘‘

الشمس ٹرسٹ گلیانہ ضلع گجرات کی طرف سے تعلیمی مقاصد کے لیے مرتب کردہ قرآن کریم کی تفسیر ’’الفلاح‘‘ نظر سے گزری اور اس کے ساتھ مختلف مراحل کے لیے ’’صراطِ مستقیم‘‘ کے عنوان سے مرتبہ نصابِ تعلیم کے کچھ حصے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ نظر کی مسلسل کمزوری کے باعث مطالعہ تو نہیں کر سکا مگر بعض مقامات سرسری دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ اچھے ذوق اور اسلوب کے ساتھ نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۲۶ء

ملکی دستور، عسکری قوت اور تہذیبی تحفظ کے حوالے سے مکاتب فکر کے مطالبات

شہر کی دینی جماعتوں نے مشترکہ طور پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ (۱) دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کا اعلان کیا جائے (۲) سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہ کیے جائیں (۳) بسنت کی سرپرستی نہ کی جائے (۴) اور تفریحی میلے کے نام پر یہ جوے کا کاروبار بند کیا جائے۔ ان میں سے ایک مسئلہ پر تو وضاحت آگئی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے جو دستور معطل کیا ہے، اس میں اسلامی دفعات، ختمِ نبوت کے حوالے سے دفعات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۰۰ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter