حضرت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد کے دروسِ قرآن کریم
حضرت مولانا حافظ گلزار احمد آزاد ہمارے شہر کے بزرگ علماء کرام میں سے ہیں جو کم و بیش نصف صدی سے تعلیم و تدریس اور مواعظ و دروس کے ذریعہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے فروغ میں مصروف ہیں اور نہ صرف شہر کے مختلف حصوں میں بلکہ اندرون ملک اور بیرون ممالک میں بھی ان کی تعلیمی اور درسی مصروفیات کا دائرہ وسیع ہے جس سے ہزاروں لوگوں نے استفادہ کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
زبان و بیان کے آداب و معیار اور تعلیماتِ نبویؐ
بیان اور گفتگو انسان کے ان امتیازات میں سے ہیں جن کا اللہ پاک نے قرآن کریم میں بطور خاص ذکر فرمایا ہے اور ’’خلق الانسان‘‘ کے ساتھ ہی ’’علمہ البیان‘‘ فرما کر اس کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ انسانی معاشرت میں گفتگو، مکالمہ اور بیان کی مختلف صورتیں ہر دور میں رائج رہی ہیں اور ان کے تنوع کے ساتھ ساتھ ان کی اہمیت بھی وسعت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ بیان کا بہتر معیار اور اس کے فنی اور اخلاقی تقاضوں کی طرف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیکولرازم کو لادینیت نہ ماننے کی روش
آج کل اخبارات میں ایک بحث چل رہی ہے، ہمارے صدرِ مملکت نے ایک بات فرمائی تھی کہ ہم پاکستان کو سیکولر مسلم ریاست بنا رہے ہیں، بعد میں انہوں نے تردید بھی کر دی کہ سیکولر کا لفظ نہیں بولا تھا کوئی اور لفظ بولا تھا۔ لیکن اس پر بحث چل پڑی کہ اسلامی سیکولرازم — جس طرح کسی زمانے میں اسلامی سوشلزم ہوتا تھا — یہ مختلف نظاموں کو اسلام کے ساتھ ملا کر تجربات کرتے رہتے ہیں کہ مسلمان شاید کسی طرح دھوکہ کھا جائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے ساتھ محبت و عقیدت
آج کی یہ نشست ایک ایسی عظیم شخصیت کے حوالے سے ہے جن کا نام ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں۔ ان کی زیارت تو نہیں ہوئی لیکن ان سے استفادہ کرتے آ رہے ہیں۔ اور اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہیں ہوگا کہ ان چند بزرگوں میں سے ہے جن کا نام لے کر ہم جیتے ہیں، جن کا نام لے کر ہم اپنا تعارف کرواتے ہیں، جن کا نام لے کر ہمیں اطمینان ہوتا ہے کہ ہم صحیح راستے پر ہیں اور ان شاء اللہ قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالیٰ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بارہ ربیع الاول کی دو تقریبات میں شرکت
بارہ ربیع الاول / ۲۶ اگست کو جامعہ محمدی شریف چنیوٹ کے نئے لائبریری ہال میں پاکستان شریعت کونسل چنیوٹ کے زیر اہتمام ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت مولانا صاحبزادہ قمر الحق سیالوی نے کی اور اس میں راقم الحروف نے کچھ گزارشات پیش کیں جن کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔ جامعہ محمدی شریف کے بانی حضرت مولانا محمد ذاکرؒ اور حضرت مولانا محمد نافعؒ ہمارے بزرگوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نعمتوں کا احساس اور ان کا درست استعمال
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الادب المفرد‘‘ میں ایک واقعہ نقل کیا ہے۔ ایک تابعی بزرگ تھے جن کا نام انہوں نے جویبر بیان کیا ہے، وہ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا زمانہ تھا، میں مدینہ منورہ امیر المومنین کی مجلس میں حاضر ہوا، میری کچھ ضروریات اور تقاضے تھے جو میں عرض کرنا چاہتا تھا کہ دور کے علاقے سے آیا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس اور جہادی تنظیمیں: دو گزارشات
صدرِ مملکت کا خطاب آپ نے بھی سنا اور پڑھا، میں نے بھی۔ لمبی گفتگو کا موقع نہیں ہے، میں صرف دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں: ایک تو مدارس کے حوالے سے انہوں نے یہ بات بہت اچھی کہی ہے جو کہ باعثِ خوشی ہے کہ ’’ہم مدارس کو سرکاری تحویل میں لے کر خراب نہیں کرنا چاہتے‘‘۔ یعنی آپ کی تحویل میں جو چیزیں جاتی ہیں وہ خراب ہی ہوتی ہیں۔ اس اعتراف پر میں صدر صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بیرونی مطالبات کا سلسلہ اور ہماری قومی حالت
حالات آپ کے سامنے ہیں، جس رُخ پر ہم جا رہے ہیں، اس کے سوا کوئی اور بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر روئیں اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے گریہ کریں کہ یا اللہ! تو ہی روک سکتا ہے تو روک دے، ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ ہم سرنڈر ہونا شروع ہوئے اور ہوتے چلے گئے، جس طرح پہاڑ سے آدمی لڑھکتا ہے تو لڑھکتے ہی چلے جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد ادریس کی شہادت
پچھلے دنوں ہمارے ملک کے ایک بہت بڑے بزرگ، بہت بڑے عالمِ دین، محدث، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ دہشت گردی کا نشانہ ہوئے ہیں، شہید ہوئے ہیں، اللہ پاک ہمارے حال پہ رحم فرمائے۔ اسی ادارے سے حضرت مولانا سمیع الحق شہید ہوئے تھے، پھر مولانا حامد الحق شہید ہوئے، اب شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحب شہید ہوئے، دارالعلوم حقانیہ کے، ہمارے بزرگوں میں سے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’کاروانِ علماءِ لدھیانہ‘‘
برصغیر پاکستان و ہندوستان اور بنگلہ دیش کی دینی و قومی تحریکات میں علماء لدھیانہ کا کردار ہمیشہ ہراول دستے کا رہا ہے اور انہوں نے ہر دور میں قوم و ملت کی نہ صرف صحیح سمت راہ نمائی کی ہے بلکہ خود بھی جدوجہد اور محنت کے میدان میں سرفہرست رہے ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف جہادِ آزادی کا معرکہ ہو، مرزا غلام احمد قادیانی اور دیگر مدعیانِ نبوت کی خلافِ اسلام سرگرمیوں کا محاسبہ و تعاقب ہو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- 1
- 2
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »