تحریکِ آزادئ ہند کا نامور سپوت ٹیپو سلطان شہید

اخباری اطلاعات کے مطابق بھارتی شہر میسور میں سلطان ٹیپو شہید کی دو سو سالہ تقریبات منائی گئیں اور مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں اس سلسلہ میں سرگرمِ عمل رہی ہیں، جبکہ انتہاپسند اور جنونی ہندو تنظیمیں ان تقریبات میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش میں سرگرداں رہیں۔ سلطان فتح علی ٹیپو شہید برصغیر کی اسلامی تاریخ کا ایک روشن اور غیور کردار ہے جس نے آج سے دو سو برس قبل اس خطہ میں برطانوی استعمار کے بڑھتے ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۱۹۹۹ء

شاہ ولی اللہؒ اور علمِ حدیث

محدثین کرامؒ حدیث میں تین باتیں شامل کرتے ہیں، پوری تعریف یہی ہے، ’’قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او فعلہ او تقریرہ‘‘۔ لیکن ایک بات اور بھی محدثین نے شامل کی ہے جو عام طور پر ہم ذکر نہیں کرتے۔ کسی صحابی کا قول حضورؐ کی وفات کے بعد جو غیر قیاسی ہو، وہ مرفوع حدیث پر محمول ہوتا ہے۔ صحابی نے بات کی ہے، حضورؐ کے بعد کی ہے، قیاسی نہیں ہے، یعنی اس کا تعلق وحی سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲۰۲۶ء

دینی جماعتوں کو وزیر داخلہ کا چیلنج

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۸ ستمبر ۲۰۰۱ء کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی جماعتوں کے پاس اگر اسلامی نظام کا کوئی خاکہ ہے تو پیش کریں۔ ان کے اس ارشاد سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دینی جماعتوں کے پاس اسلامی نظام کا کوئی خاکہ موجود نہیں ہے اور وہ اسلام کے نفاذ کا جو مطالبہ کر رہی ہیں وہ محض ایک نعرہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ ستمبر ۲۰۰۱ء

لاہور کے چند روزے اور سید سلمان گیلانیؒ

اِن دنوں چار پانچ روز کے لیے جوہر ٹاؤن لاہور میں عزیزم ڈاکٹر عمار خان ناصر سلّمہ کے گھر میں ہوں۔ میرے بڑے پوتے حافظ طلال خان ناصر کا معمول ہے کہ وہ رمضان المبارک میں اپنے گھر میں تراویح میں قرآن کریم سناتا ہے اور اس کا تقاضہ ہوتا ہے کہ میں بھی چند روز ان کے ساتھ تراویح میں شریک ہو کر چار پانچ پارے سنوں۔ چنانچہ دو تین سال سے معمول بن گیا ہے کہ رمضان المبارک کے پہلے عشرہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ فروری ۲۰۲۶ء

آہ! الحاج سید سلمان گیلانیؒ

شاعرِ اسلام الحاج سید سلمان گیلانی بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ اپنے والد محترم شاعرِ حریت و ختم نبوت الحاج سید امین گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ذوق و فن، مشن اور روایات کے امین تھے اور پوری عمر انہوں نے اسی ماحول میں بسر کی۔ وہ شعر و شاعری اور حق کے پرچار و خدمت کے ساتھ ساتھ مجلس آرائی کے ذوق و اسلوب سے بھی مالامال تھے اور بذلہ سنجی میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ فروری ۲۰۲۶ء

سورج اور چاند کی گردش کا اسلامی اعتبار

سال تین قسم کے ہیں۔ ایک شمسی اعتبار سے: جنوری، فروری، مارچ، سورج کی گردش کے حساب سے یہ سال۔ ایک قمری اعتبار سے: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، یہ چاند کی گردش کے اعتبار سے۔ ایک دیسی مہینوں کا: پوہ، ماگھ، بیساکھ، یہ ہمارے دیسی، موسموں کے اعتبار سے۔ ہمارے ہاں تینوں مروج ہیں۔ زمینداروں میں عام طور پہ یہ موسمی سال جو ہوتا ہے، یہ پوہ مہینہ ہے، یہ ماگھ کا ہے، یہ ہاڑ کا ہے، یہ جیٹھ کا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۲۲ء

غلبۂ اسلام کی جدوجہد اور اسوۂ ابراہیمیؑ

سیدنا ابراہیمؑ کی یاد کا مہینہ شروع ہو گیا ہے، دنیا بھر میں کروڑوں مسلمان اپنی اپنی جگہ ابراہیم علیہ السلام کی سنت قربانی کو تازہ کرنے کے علاوہ عرفات کے میدان میں حج کے روز لاکھوں کی تعداد میں مسلمان جمع ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر کے حضرت ابراہیمؑ کی اہلیہ محترمہ حضرت ہاجرہؓ کی سنت کو زندہ کریں گے۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۱۹۹۹ء

مغربی فکر و فلسفہ کی ترویج اور نتائج قرآن و حدیث کی روشنی میں

شیخ الہندؒ اکادمی واہ کینٹ میں وقتاً‌ فوقتاً‌ حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے اور میں شکرگزار ہوں اکادمی کے منتظمین کا کہ ایک بار پھر موقع ملا اور ہم آپس میں کچھ دینی، علمی، فکری مسائل پر گفتگو کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائیں، اور جو بات بھی علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ پاک عمل کی توفیق سے نوازیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جنوری ۲۰۲۴ء

سیاست میں علماء کرام کا کردار

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ علماء کرام کا سیاست سے کیا تعلق ہے اور سیاست میں علماء کرام کا کیا کردار ہے؟ اس حوالے سے مختصراً‌ دو تین پہلوؤں سے بات کرنا چاہوں گا۔ ایک تو اس لیے کہ علماء نمائندگی کرتے ہیں حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی۔ اور حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی تعلیمات اور پروگرام بنیادی طور پر زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے تھا اور اس میں سیاست بھی ایک اہم رول تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۲۴ء

فضلائے مدارسِ دینیہ سے وابستہ توقعات اور ان کی سماجی حیثیت

دینی مدارس اور ان کے فضلاء کے حوالے سے گفتگو اور مکالمہ کا یہ پروگرام ’’ادارۃ العلم والتحقیق، کراچی‘‘ کے زیر اہتمام ترتیب دیا گیا ہے، جو اعلیٰ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن صاحب کی نگرانی میں یہ ایک شعبے میں مفید اور مسلسل کام ہو رہا ہے، جن کے پیچھے حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب نقشبندیؒ کی نسبت اور ان کا روحانی فیض، اور ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا فکر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جون ۲۰۲۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter