سوویت یونین، افغانستان اور امریکی اتحاد

یہ اس دور کی بات ہے جب افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کی واپسی کے بعد امریکہ ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنی جنگ کے اگلے راؤنڈ کی نشاندہی کر دی تھی اور جنوبی ایشیا کے حوالہ سے نئے علاقائی ایجنڈے مختلف عالمی حلقوں میں تشکیل پا رہے تھے۔ اسلام آباد میں لیفٹ کے کچھ دانشوروں کے ساتھ ایک نشست میں یہ بات زیربحث آگئی کہ افغانستان میں جو جنگ لڑی گئی ہے وہ امریکہ کی جنگ تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جولائی ۲۰۲۱ء

متنازعہ اوقاف قوانین اور گھریلو تشدد کی روک تھام کا بل

متنازعہ اوقاف قوانین کا مسئلہ ابھی چل رہا ہے کہ گھریلو تشدد کی روک تھام کے نئے بل نے ملک بھر کے دینی اور تہذیبی حلقوں کو ایک نئی پریشانی سے دوچار کر دیا ہے اور ان دونوں حوالوں سے بحث و مباحثہ کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دنوں دو اہم محافل میں شرکت کا موقع ملا جن کی روشنی میں اس بارے میں تازہ ترین صورتحال قارئین کے علم میں لانا چاہتا ہوں۔ ۱۸ جولائی کو اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام سیمینار تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۲۱ء

حدیث و سنت کی قانونی حیثیت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ آج کل سوشل میڈیا پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلیمان کا ایک انٹرویو گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید اور سنت و حدیث کی قانونی حیثیت پر گفتگو کی ہے۔ طویل انٹرویو ہے، انہوں نے کیا کہا ہے اور کیا کہنا چاہتے ہیں وہ ایک طرف، مگر اس سے جو کچھ سمجھا گیا ہے اور جو سمجھا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں قانون کی بنیاد قرآن کریم ہے، حدیث و سنت کی کچھ چیزیں ہیں، لیکن عموماً حدیث و سنت قانون کی بنیاد نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ جون ۲۰۲۱ء

موجودہ حالات میں ملی مجلس شرعی کا موقف

پاکستان کے اسلامی تشخص، تہذیب و تمدن اور دستور و قانون کے اسلامی پہلوؤں کے حوالہ سے بین الاقوامی سیکولر حلقوں کا دباؤ اور ملک کے اندر سیکولر لابیوں کی سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ اہل دین کے ارباب شعور و دانش میں اس کا احساس و ادراک پوری طرح دکھائی نہیں دے رہا اور ملی و دینی معاملات میں جدوجہد کا ماحول کمزور پڑتا جا رہا ہے ۔ اس سلسلہ میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ کے جملہ ارباب ان دنوں تشویش اور سوچ بچار میں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ جون ۲۰۲۱ء

مسلم حکمرانوں کی ایک اہم ذمہ داری

قرآن کریم کو زیر زبر پیش اور دیگر علامات کے بغیر عرب لوگ تو صحیح پڑھ لیتے ہیں مگر غیر عربوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے، جبکہ تلفظ اور اعراب کی غلطی کی وجہ سے بسا اوقات قرآن کریم کے الفاظ کا معنی الٹ ہو جاتا ہے اور ایسا پڑھنے والے کی بے خبری میں ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کیلئے عوامی بیداری کی ضرورت

۳ جون کو لاہور میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ اور ۵ جون کو ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت‘‘ کے اجلاسوں میں شرکت ہوئی اور مختلف دینی راہنماؤں اور احباب کے ساتھ پیش آمدہ امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا۔ اہم عنوانات کم و بیش ملک بھر کے دینی حلقوں میں مشترکہ طور پر درپیش ہیں اور آراء و خیالات میں بھی ہم آہنگی پائی جاتی ہے، البتہ اجتماعی جدوجہد کے لیے علماء کرام اور دینی کارکن ہر جگہ کسی متحرک قیادت کے سامنے آنے کے منتظر ہیں بلکہ بعض حلقوں میں اس سلسلہ میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۲۱ء

اسلامی نظریاتی کونسل اور جمعہ کے خطبات

مسجد و مدرسہ کو ہر حال میں کنٹرول کرنے کے عالمی استعماری ایجنڈے کے سائے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی بھی ادارہ کسی بھی حوالہ سے کوئی قدم اٹھاتا ہے تو اسے اسی نظر سے دیکھا جاتا ہے جیسے شکار اپنے شکاری کو دیکھتا ہے اور یہ کوئی غیر فطری بات نہیں، اس لیے کہ اس بے اعتمادی بلکہ بد اعتمادی کی یہ فضا خود ریاستی اداروں کے مسلسل اقدامات کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے جو اس قدر شدید اور گہری ہے کہ اسے اعتماد کے ماحول میں واپس لانے کیلئے خاصا وقت اور محنت درکار ہو گی۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کے چند ضروری دائرے

بعد الحمد والصلوٰة ۔ مجھے یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی ہے کہ سرگودھا کے مختلف حلقوں کے دوست اور علماء کرام آج ایک جگہ جمع ہیں، یہ بڑی اچھی بات ہے، علماء کرام اور ہم خیال دوستوں کو وقتاً فوقتاً کسی نہ کسی عنوان پر اور کسی نہ کسی بہانے اکٹھے بیٹھتے رہنا چاہئے، اس سے ایک تو لوگوں کو سہارا ہوتا ہے کہ علماء میں وحدت ہے، جبکہ آپس میں تبادلۂ خیالات، ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ بھی ہو جاتا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کا یہ اجتماع قبول فرمائیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۲۱ء

سر سید احمد خان، قائد اعظم اور مسلم اوقاف

متنازعہ اوقاف قوانین کا نفاذ وفاق اور صوبوں میں بتدریج شروع ہوا اور انتہائی خاموشی کے ساتھ ان قوانین نے پورے ملک کا احاطہ کر لیا، حتٰی کہ نئے اوقاف قوانین کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں مساجد و مدارس کی نئی رجسٹریشن کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا، مگر جوں جوں عوامی اور دینی حلقوں میں ان قوانین کی نوعیت اور ان کے اثرات سے آگاہی بڑھتی گئی اضطراب اور بے چینی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا اور حکومت کو شدید عوامی احتجاج پر یہ عملدرآمد روکنا پڑا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مئی ۲۰۲۱ء

دینی جدوجہد کی موجودہ صورتحال اور چند ضروری تقاضے

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ مولانا قاری امتیاز احمد کا شکرگزار ہوں کہ عید کے موقع پر علاقہ کے علماء کرام اور اپنے جامعہ کے فضلاء کا اجتماع کرتے ہیں اور مجھے بھی یاد کر لیتے ہیں، دوستوں سے ملاقات ہو جاتی ہے، جامعہ کی تعلیمی پیشرفت سے آگاہی اور علاقہ کے حالات معلوم ہو جاتے ہیں۔ میرے نزدیک اس قسم کے اجتماعات کی بہت ضرورت و افادیت ہے اور میں ہر علاقہ کے دوستوں سے عرض کرتا رہتا ہوں کہ علاقہ کے علماء کرام کے درمیان اس درجہ کا میل جول ضرور ہونا چاہیے کہ سال میں دو تین دفعہ وہ مل بیٹھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مئی ۲۰۲۱ء

Pages