ٹویٹس

۳۰ جون ۲۰۲۱ء

آج کے ہتھیار علم، دلیل اور عوامی آگاہی ہیں، دینی رہنماؤں کو ان میں مہارت حاصل کرنے کے لیے مطالعہ و تحقیق کا ذوق بڑھانا ہو گا اور رائے عامہ کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے روایتی ڈگر سے ہٹ کر وسیع تر عوامی تعلقات کا ماحول قائم کرنا ہو گا۔

۲۹ جون ۲۰۲۱ء

ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی شاگرد اورعلمی جانشین عمرہ بنت عبد الرحمانؓ اپنے وقت کی بڑی محدثہ اورفقیہہ تھیں، ان کے بھتیجے ابوبکر بن قاسمؒ مدینہ منورہ کے قاضی تھے۔ امام مالکؒ نے مؤطا میں ذکر کیا ہے کہ حضرت عمرہؓ اپنے بھتیجے کے فتوؤں اور اجتہادات میں غلطیوں کی نشاندہی کیا کرتی تھیں۔

۲۸ جون ۲۰۲۱ء

اگر سعودی عرب کے ملکی نظم و نسق میں عوام کو شریک کرنے اور عوامی نمائندوں کے چناؤ کا کوئی نظام بنایا جاتا ہے تو یہ اسلامی اصولوں سے انحراف نہیں ہو گا بلکہ ان اعلیٰ اصولوں اور اقدار کی طرف واپسی کا عمل ہو گا جس کی وضاحت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری خطبہ جمعہ میں فرمائی تھی۔

۲۷ جون ۲۰۲۱ء

برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے تجارت ومحصولات کے نظام میں شرکت کے ذریعے، اورفلسطین میں یہودیوں نے زمینوں کی وسیع پیمانے پر خریداری کے ذریعے سے قبضہ کی راہ ہموار کی تھی۔ اس حوالہ سے پاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرگرمیوں اوراثرورسوخ کے بارے میں ایک عوامی آگاہی مہم کی ضرورت ہے۔

۲۶ جون ۲۰۲۱ء

اسلامی بینکاری کی مروجہ صورت کو سودی نظامِ معیشت کی دلدل سے نکلنے کا ایک راستہ اور اصلاحِ احوال کی بتدریج محنت کا ایک ضروری مرحلہ تصور کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ دلدل سے نکلنے کے لیے بہرحال اسی میں سے گزرنا ہوتا ہے، چنانچہ اسے مثالی صورت اور آخری منزل سمجھنا درست نہ ہو گا۔

۲۵ جون ۲۰۲۱ء

ایک طرف نام نہاد روشن خیالی کا سامنا ہے جس کا مقصد مسلمانوں میں مغربی معاشرت و ثقافت کا ماحول پیدا کرنا ہے، اور دوسری طرف اس تنگ نظری کے کانٹوں نے بھی ملتِ اسلامیہ کے دامن کو الجھا رکھا ہے جس کا نتیجہ بات بات پر تکفیر و تفسیق کے فتووں کے سبب باہمی فساد کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

۲۴ جون ۲۰۲۱ء

نبی کریم ﷺ نے اجتماعی کفالت کا ایسا نظام متعارف کرایا کہ کسی مستحق کی ضرورت رکتی نہیں تھی، اور یہ بعد میں بیت المال کے عنوان سے سرکاری محکمہ کی صورت اختیار کر گیا تھا۔ آج بھی یہ نظم اپنی اصل روح کے ساتھ واپس آ جائے تو انشورنس کے کسی سسٹم کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔

۲۳ جون ۲۰۲۱ء

اہل سنت، اہل تشیع، معتزلہ، جبریہ، قدریہ، مرجئہ اور خوارج وغیرہ میں سے اہل سنت اور اہل تشیع اب تک اپنے پورے تعارف کے ساتھ موجود چلے آ رہے ہیں۔ اہل السنۃ والجماعۃ کی بنیاد دو اصولوں پر ہے (۱) رسول اللہ ﷺ نے دینیات کی کیا تعلیم دی؟ (۲) صحابہ کرامؓ نے اجتماعی طور پر اسے کیسے سمجھا؟

۲۲ جون ۲۰۲۱ء

یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ دینی مدارس دین کے علاوہ اور شعبوں کی تعلیم نہیں دیتے اس لیے وہ ’’قومی دھارے‘‘ سے الگ ہیں۔ اس منطق کے مطابق تو میڈیکل، انجینئرنگ اور لاء وغیرہ کی تعلیم دینے والے ادارے بھی قومی دھارے سے خارج قرار پائیں گے کہ وہ دیگر قومی شعبوں کی تعلیم اپنے ذمے نہیں لیتے۔

۲۱ جون ۲۰۲۱ء

انسانی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ سرے سے خدا اور مذہب کا قائل ہی نہیں ہے، ان لوگوں کا خیال ہے کہ یہ دنیا ہی سب کچھ ہے، اس سے پہلے اور بعد میں اور کوئی جہان نہیں ہے، موت جاندار کو معدوم کر دیتی ہے جس کے بعد نہ کوئی زندگی ہے اور نہ کوئی سزا و جزا کا نظام موجود ہے۔

۲۰ جون ۲۰۲۱ء

انبیاء کرام علیہم السلام انسانی معاشرہ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے تحت زندگی بسر کرنے کی دعوت دینے آتے رہے اور قرآن کریم کے ارشادات کے مطابق انہوں نے صرف عقیدہ اور عبادت کی بات نہیں کی بلکہ اس کے ساتھ انسانی سماج کے مسائل کا حل پیش کیا اور اجتماعی خرابیوں کی اصلاح بھی کی۔

۱۹ جون ۲۰۲۱ء

لاہور میں ایک بچے کے ساتھ استاذ کی زیادتی اور قلعہ دیدار سنگھ میں ایک استاذ کی بھتیجی کے ساتھ ہونے والی درندگی، دونوں انسانیت کی تذلیل اور انسانی کردار کی ناکامی کے واقعات ہیں جن پر ہمیں قومی سطح پر شرمندہ ہونے اور اپنے تربیتی نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

۱۸ جون ۲۰۲۱ء

نبی ﷺ نے توحید کی دعوت دی تو پہلا ردعمل تحقیرواستہزاء اورطعن واعتراض کا تھا، اس سے دعوت دین کا راستہ نہ رکا تو حضورؐ اور اصحابؓ کوایک عشرہ کرب واذیت کا سامنا کرنا پڑا، اس میں بھی ناکامی ہوئی تو سودے بازی کا حربہ سامنے آیا جسے قرآن کریم نے ’’ودوا لو تدھن فیدھنون‘‘ سے تعبیرکیا ہے۔

۱۷ جون ۲۰۲۱ء

وفاق المدارس العربیہ کا بھرپور انتخابی اجلاس اور قیادت کا تسلسل دینی حلقوں کے اعتماد کا اظہار ہے۔ اللہ رب العزت وفاق کو اپنے مقاصد اور پروگرام میں مسلسل پیش رفت اور کامیابیوں سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

۱۶ جون ۲۰۲۱ء

اسلام نے مرد اورعورت کے میل جول کے ضابطے متعین کیے ہیں جنہیں ملحوظ رکھتے ہوئے مرد کی طرح عورت بھی ملازمت، کاروبار اور کمائی کے دیگرجائزذرائع اختیار کرسکتی ہے۔ البتہ فطرتِ سلیمہ نے جو امتیازات مرد اورعورت کے درمیان رکھے ہیں، مساوات کے نام پر ان کی نفی کرنا دانشمندی کی بات نہیں ہے۔

۱۵ جون ۲۰۲۱ء

ایک شخص سرے سے کماتا ہی نہیں، دوسرا مشقت کر کے کمائی کرتا ہے لیکن اس کی حفاظت نہیں کر پاتا، ظاہر بات ہے کہ دوسرا شخص پہلے سے زیادہ گھاٹے میں ہے۔ یہ بات قرآن کریم نے نیکیوں کے بارے میں فرمائی ہے کہ نیکی وہ کام کی ہے جو آخرت کے حساب تک انسان کے ساتھ جائے۔

۱۴ جون ۲۰۲۱ء

دنیا بھر میں امریکہ کی سرگرمیاں اب زیادہ مخفی نہیں رہیں اور اس پر اسے جس طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بھی کوئی پوشیدہ بات نہیں ہے۔ اس کے باوجود امریکی قیادت کا کہنا ہے کہ کسی مخالفت اور طعنہ زنی کی پروا کیے بغیر امریکہ اور امریکی قوم کی خاطر وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

۱۲ جون ۲۰۲۱ء

جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وحیٔ الٰہی کی پیروی کو علم و نور اور اس کے مقابلے میں انسانی خواہشات کی پیروی کو جاہلیت قرار دیا ہے، مگر آج کی دنیا کا معاملہ اس سے بالکل الٹ ہے کہ آسمانی تعلیمات سے انحراف اور انسانی خواہشات کی پیروی کو روشن خیالی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

۱۱ جون ۲۰۲۱ء

کچھ عرصہ سے آنکھوں میں تکلیف اور نظر کی کمزوری کے باعث لکھنے پڑھنے میں دشواری کا سامنا ہے۔ راولپنڈی کے معروف آئی اسپیشلسٹ میجر جنرل (ر) ڈاکٹر مظہر اسحاق نے گزشتہ روز معائنہ کے بعد مسلسل تین ماہ تک علاج اور اس کے بعد آپریشن کا امکان ظاہر کیا ہے۔ احباب سے دعاؤں کی درخواست ہے۔

۱۱ جون ۲۰۲۱ء

مسابقت و معاصرت یعنی ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جذبہ فطری ہے اور اسلام نے اس کا مثبت رخ متعین کیا ہے کہ صحابہ کرامؓ میں مسابقت کا میدان نیکیوں کا تھا۔ آج ہمارے ہاں بھی یہ جذبہ کارفرما ہے لیکن اس کا اظہار دولت و اختیار، کاروبار و مکان، اور نسل و برادری کے تفاخر کی صورت میں ہوتا ہے۔

۹ جون ۲۰۲۱ء

نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر مختلف اقوام و اوطان اور رنگ و نسل کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد پر مشتمل بین الاقوامی اجتماع میں کالے و گورے اور عربی و عجمی کے امتیازات ختم کرنے کا اعلان کر کے نسلِ انسانی کو عالمگیریت (Globalization) کے فطری اور دائمی اصولوں سے متعارف کرایا۔

۸ جون ۲۰۲۱ء

اقوام متحدہ میں اصل اتھارٹی سلامتی کونسل ہے کہ وہ قوموں، ملکوں اور افراد کا کون سا حق تسلیم کرے اور کس حق پر خط تنسیخ کھینچ دے۔ اس کے پانچ مستقل ارکان امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور فرانس میں سے کوئی ایک بھی کسی قرارداد یا فیصلے کو ویٹو کر دے تو اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہ جاتی۔

۷ جون ۲۰۲۱ء

تاتاریوں کے حملوں سے مسلم حکومتیں کمزورہوئیں تو شام کے حکمران الملک الاشرف نے شیخ الاسلام عزالدین سے رجوع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اہلکاران حکومت رنگ رلیوں میں مگن ہیں، ٹیکس بڑھتے جا رہے ہیں، شراب نوشی اوردیگر گناہ عام ہو رہے ہیں، اس وقت آپ کا سب سے افضل عمل ان گندگیوں کو دورکرنا ہے۔

۶ جون ۲۰۲۱ء

جب قومی درد رکھنے والے سیاسی کارکنوں کی صلاحیتیں ملک و قوم کے مفاد میں صرف ہونے کی بجائے سیاسی گروہوں میں بٹ کر باہمی مسابقت پر برباد ہونے لگتی ہیں تو رائے عامہ منظم ہونے کی بجائے سیاسی جماعتوں کی گروہی انا کے باعث منتشر ہوتی چلی جاتی ہے۔

۵ جون ۲۰۲۱ء

علم انسان کا وہ امتیاز ہے جس نے انہیں فرشتوں پر فضیلت عطا کی اور استاذ وہ منصب ہے جسے حضرت محمد ﷺ نے یہ فرما کر اپنے تعارف کے طور پر پیش کیا کہ ’’انما بعثت معلما‘‘ میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں جبکہ رسول اکرمؐ پر نازل ہونے والی پہلی وحی قراءت، قلم اور تعلیم کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔

۵ جون ۲۰۲۱ء

ندوۃ العلماء لکھنؤ کے فاضل ڈاکٹر محمد اکرم ندوی نے 43 جلدوں پر مشتمل تصنیف ’’الوفاء باسماء النساء‘‘ میں مسلم تاریخ کی دس ہزار خواتین کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے حدیث نبویؐ کے سلسلہ میں خدمت انجام دی ہے۔ اس سے مسلم تاریخ میں تعلیم و تعلم کے حوالے سے خواتین کے کردار کا اندازہ ہوتا ہے۔

۴ جون ۲۰۲۱ء

پاکستان اور تاجکستان نے مشترکہ موقف اختیار کیا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلاء سے قبل سیاسی سمجھوتا ضروری ہے۔ ہمیں اس سے انکار نہیں ہے لیکن یہ سمجھوتا افغانستان کی وحدت، قومی خودمختاری اور اسلامی شناخت کی قیمت پر قابل قبول نہیں ہو گا۔

۲ جون ۲۰۲۱ء

پاکستان میں اسلامی قوانین کو مغربی فلسفہ و مزاج کے مطابق ڈھالنے کا کام تب سے جاری ہے جب سابق صدر ایوب خان مرحوم نے عائلی قوانین نافذ کیے تھے۔ البتہ حیلہ، دباؤ یا سازش کے ذریعے کوئی قانون منظور کروا لینا اور بات ہے، اور عام مسلمانوں کو اس قانون پر آمادہ کرنا اس سے بہت مختلف امرہے۔

یکم جون ۲۰۲۱ء

قائد اعظم کا ارشاد ہے کہ ’’میں زمینداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ایک ایسے فتنہ انگیز ابلیسی نظام کی رو سے، جو انسان کو بدمست کردیتا ہے کہ وہ کسی معقول بات کوسننے پرآمادہ نہیں ہوتا، عوام کے گاڑھے پسینے کی کمائی پررنگ رلیاں مناتے ہیں‘‘ (سالانہ اجلاس مسلم لیگ ۱۹۴۳ء)

۳۰ مئی ۲۰۲۱ء

پاسپورٹ میں مذہب کے خانے کا اضافہ چار عشرے قبل قادیانی پس منظر میں کیا گیا تھا جب منتخب پارلیمنٹ نے بحث و تمحیص اور قادیانی راہنماؤں کو صفائی کا موقع دینے کے بعد مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی اس تجویز کو دستوری حیثیت دی تھی کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ امت شمار کیا جائے۔

۲۹ مئی ۲۰۲۱ء

یہ امر واقعہ ہے کہ جس عقلِ عام (کامن سینس) کو عالمی معیار قرار دے کر دنیا سے منوانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ صرف مغرب کی معلومات و مشاہدات اور اس کے مدرکات و محسوسات کی نمائندگی کرتی ہے، اس کے تاریخی پس منظر اور تجربات کا ماحول باقی دنیا سے مطابقت نہیں رکھتا۔

۲۸ مئی ۲۰۲۱ء

دنیا بھر کے انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے اور قبول اسلام کی دعوت دینے کیلئے جو کچھ ہمیں کرنا چاہیے، یا معروضی حالات میں جو کچھ ہو سکتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہم مسلمانوں سے اس کا عشرعشیر بھی نہیں ہو پا رہا، اور جہاں کام ہو رہا ہے وہاں دعوتی تقاضوں سے زیادہ داخلی ترجیحات غالب ہیں۔

۲۷ مئی ۲۰۲۱ء

سابق امریکی صدرجمی کارٹر اپنی کتاب ’’امریکہ کا اخلاقی بحران‘‘ میں لکھتے ہیں کہ جب امریکیوں سے پوچھا جائے کہ کیا ان کے نزدیک ہم جنس پرست مردوں اورعورتوں کا اپنی ہی صنف کے افراد کے ساتھ جنسی عمل کرنا قابل قبول ہے، تو اکثریت اثبات میں جواب دیتی ہے، اب سے دوعشرے قبل تک ایسا نہیں تھا۔

۲۶ مئی ۲۰۲۱ء

نظریاتی ریاستوں میں حکومتی پالیسیوں کی بنیاد نظریہ اور دستور پر ہی رہتی ہے، جبکہ جمہوری ملکوں میں سرکاری پالیسیاں رائے عامہ یعنی عوام کے اکثریتی رجحان پر تشکیل پاتی ہیں۔ ہمیں اپنی موجودہ حکومتی پالیسیوں کی اساس چیک کرنا ہو گی کہ ان کی تشکیل اور نفاذ ان میں سے کس اصول پر ہورہا ہے۔

۲۵ مئی ۲۰۲۱ء

قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے مطابق اسرائیل ایک ناجائز ریاست اور مسلمانوں کے دل میں خنجر کی طرح ہے۔ یہی ملت اسلامیہ کی رائے عامہ کا اجتماعی موقف چلا آرہا ہے، لیکن اقوام متحدہ نے آدھے فلسطین کو بطور اسرائیل ریاست کے تسلیم کر رکھا ہے جس میں بیت المقدس کا علاقہ شامل نہیں ہے۔

۲۵ مئی ۲۰۲۱ء

فلسطین ایک سو سال قبل خلافت عثمانیہ کا ایک صوبہ تھا، جنگ عظیم اول میں جرمنی کے ساتھ خلافت عثمانیہ بھی شکست سے دوچار ہوئی تو اتحادی ممالک کے درمیان مفتوحہ علاقوں کی بندربانٹ کے نتیجے میں فلسطین برطانیہ کے حصے میں آیا جس نے یہودیوں کے ساتھ اسرائیل کے قیام کا اپنا وعدہ پورا کیا۔

۲۴ مئی ۲۰۲۱ء

بعض حوالوں سے دینی مدارس کے نئے وفاقوں کی ضرورت و اہمیت کا ہمیں پوری طرح ادراک و احساس ہے مگر مسلّمہ وفاقوں کو غیر مؤثر کرنے کی قیمت پر نہیں۔ اور اس سلسلہ میں متحرک ’’دوستوں‘‘ سے عرض ہے کہ اپنے گھر کو آگ لگا کر دوسروں کو تماشہ دکھانا حکمت و دانش کی بات نہیں ہوتی۔

۲۳ مئی ۲۰۲۱ء

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مظلوم کا ساتھ دینے اور ظالم کا ہاتھ پکڑ لینے کی تلقین فرمائی ہے مگر بعض دانشوروں کے خیال میں ظالم کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش ’’حکمت‘‘ کے خلاف ہے، فیا للعجب؟

۲۲ مئی ۲۰۲۱ء

اسرائیل کے قیام سے پہلے مفتی اعظم فلسطین الحاج امین الحسینی ؒ نے فتویٰ دیا تھا کہ یہودیوں کو زمین فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے کیونکہ وہ اس بہانے اپنی آبادی بتدریج بڑھا کر اس حد تک لانا چاہتے تھے کہ بیت المقدس پر قبضہ کر سکیں، برصغیر کے اکابر علماء نے اس فتوٰی کی حمایت کی تھی۔

۲۰ مئی ۲۰۲۱ء

یہ اسرائیل کی دوستی اور امریکہ کی یہودی لابی کے اثرورسوخ کا نتیجہ ہے کہ خود امریکہ نے بھی عالمی سطح پر یہ موقف اپنا رکھا ہے کہ اسے اپنی حفاظت کی خاطر دنیا کے کسی بھی حصے میں نہ صرف مداخلت کا حق حاصل ہے بلکہ جہاں امریکی مفادات کو خطرہ محسوس ہو وہ پیشگی فوج کشی کا حق بھی رکھتا ہے۔

۱۸ مئی ۲۰۲۱ء

مسلم دنیا میں جنم لینے والی ’’انتہا پسندی‘‘ کے اسباب میں جہاں مغرب کی سیاسی قیادت اورنام نہاد سیکولردانش کا جانبدارانہ ومعاندانہ رویہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے، وہاں مسلم ممالک کے حکمران طبقات کا غیرسنجیدہ طرزعمل، مجرمانہ تغافل، اورمغرب کے سامنے فدویانہ رویہ بھی اس کا ایک بڑا سبب ہے۔

۱۷ مئی ۲۰۲۱ء

فلسطین میں یہودی آبادکاری کو روکنے کیلئے سلطان عبد الحمید عثمانی کا بے لچک رویہ عالمی سازشوں کا باعث بنا اور یہودیوں نے حکمت عملی تبدیل کرکے یورپی ممالک سے سازباز کی جس کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے کیے گئے اور اس بندر بانٹ میں فلسطین کے ایک حصے پر اسرائیل قائم کیا گیا۔

۱۶ مئی ۲۰۲۱ء

اقوام متحدہ کی طرف سے اسرائیل کی طے کردہ سرحدات اور ہیں، اس کے زیر قبضہ علاقے کی حدود کچھ اور دکھائی دیتی ہیں، کسی ضابطے کی پروا کیے بغیر پورے فلسطین میں دندناتے پھرنے سے اس کی سرحدوں کا نقشہ بالکل اور نظر آتا ہے، جبکہ ریکارڈ پر موجود ’’عظیم تراسرائیل‘‘ کا نقشہ ان سب سے مختلف ہے۔

۱۴ مئی ۲۰۲۱ء

گلوبلائزیشن، انٹرنیٹ اورسوشل میڈیا کے اس دور میں دنیا بھر کی ثقافتیں آپس میں مدغم اورعقائد ونظریات گڈمڈ ہو رہے ہیں، اس کے پیش نظر اگر فسق وبدعت اور شرک وکفر کے فیصلے روایتی فرقہ بندی کے دائروں کی بجائے مسلّمہ عقائد ونظریات کی بنیاد پرہوں تو اس سے وحدتِ امت کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

۱۳ مئی ۲۰۲۱ء

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے ’’کل یوم لا یعصی اللہ فیہ عز و جل فھو لنا عید‘‘ جو دن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے بغیر گزر جائے وہ ہمارے لیے عید کا دن ہے۔ علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ کا کہنا ہے ’’عیدِ آزاداں شکوہِ ملک و دیں‘‘ آزاد لوگوں کی عید ملک اور دین کے وقار و رعب میں ہے۔

۱۲ مئی ۲۰۲۱ء

توبہ کی قبولیت کی ایک علامت بعض بزرگوں نے یہ بتائی ہے کہ اگر توبہ سے زندگی میں عملی تبدیلی آئی ہے تو یہ قبولیت کی نشانی ہے۔ اللہ کرے کہ یہ رمضان المبارک ہمارے لیے حقیقی رحمتوں اور برکتوں کا باعث ہو، توبہ و استغفار کا ذریعہ بنے، اور ہماری زندگیوں میں خوشگوار تبدیلی کا سبب بن جائے۔

۱۱ مئی ۲۰۲۱ء

صحابہ کرامؓ کے حسن ذوق کی انتہا یہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی اجتماعی و معاشرتی زندگی کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ نجی و ذاتی زندگی کی جزئیات بھی روایت کی ہیں جنہیں محدثین کرامؒ نے حدیث کے مستقل ابواب کی صورت میں جمع کر کے قیامت تک کیلئے امت مسلمہ کی رہنمائی کا اہتمام کر دیا ہے۔

۱۰ مئی ۲۰۲۱ء

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، جو نہ خود اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ کسی دوسرے کے ظلم کیلئے تنہا چھوڑتا ہے (بخاری) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم نیکی کا حکم ضرور دیتے رہنا، برائی سے ضرور منع کرتے رہنا، اور ظلم کرنے والے کو ظلم سے ضرور روکنا (ترمذی)

۹ مئی ۲۰۲۱ء

اسلام نے کمائی کے ذرائع بھی محدود کیے ہیں کہ فلاں ذریعۂ آمدن جائز اور فلاں ناجائز ہے، اور خرچ کے مقامات بھی واضح کیے ہیں کہ فلاں جگہ خرچ کرنا جائز اور فلاں جگہ ناجائز ہے، اور یہی اسلامی معیشت و تجارت کا بنیادی دائرہ ہے۔

۸ مئی ۲۰۲۱ء

آج ہمارے پاس افرادی قوت موجود ہے، وسائل میسر ہیں، اور ارباب فہم و دانش کی بھی کمی نہیں، پھر ہم کیوں سرگرداں ہیں اور ہمیں اپنا راستہ اور منزل کیوں دکھائی نہیں دیتے؟ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے رب ذوالجلال کے در پر سر جھکانے اور دین و ملت کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے کی ادا بھلا دی ہے۔

Pages