ٹویٹس

۲۰ مارچ ۲۰۲۱ء

مروجہ طریقِ انتخاب میں کسی حلقہ میں زیادہ امیدواروں کی صورت میں اکثریت کے ووٹ ہارنے والوں میں بٹ جاتے ہیں اور جیتنے والا عملاً اپنے حلقہ کی اقلیت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ مثلاً ۱۹۷۰ء کی حکمران پارٹی کو ۳۷ فیصد ووٹ ملے تھے، ۶۳ فیصد ووٹ حاصل کرنے والی جماعتیں چند نشستیں ہی جیت سکی تھیں۔

۱۹ مارچ ۲۰۲۱ء

اسلام نے مذہبی تعلیمات اور زندگی کے عملی تقاضوں کے درمیان ایسا حسین امتزاج قائم کر دیا ہے کہ کوئی معاملہ بھی عبادت کے دائرہ سے باہر نہیں ہے، حتیٰ کہ حلال ذرائع سے کمانا، شادی کرنا، اور اہل وعیال پر خرچ کرنا بھی اسلام کے نزدیک عبادت اور اجر و ثواب کا باعث ہے۔

۱۸ مارچ ۲۰۲۱ء

مغرب کا المیہ یہ ہے کہ اسکے پاس آسمانی تعلیمات محفوظ ومستند حالت میں موجود نہیں ہیں۔ جو کسی حد تک موجود ہیں ان کی تعبیر وتشریح کی بنیاد دلیل واستدلال پر نہیں بلکہ پاپائی صوابدید (کیتھولک) یا پھر سوسائٹی کی اجتماعی خواہش (پروٹسٹنٹ) پر ہے، یعنی یا تو جمود ہے یا پھر بے لگام خواہشات۔

۱۷ مارچ ۲۰۲۱ء

دستورکو چیلنج، ملکی وقار اورقومی ہیروز کا تمسخر، عدالت کی توہین اور قومی پرچم کی بے حرمتی کی کہیں بھی اجازت نہیں دی جاتی، ایک عام شہری کو بھی ہتک عزت کی تلافی کیلئے عدالت جانے کا حق ہوتا ہے، افسوس کہ انبیاءؑ جیسی مقدس شخصیات کیلئے ایسا کوئی قانون بین الاقوامی سطح پرموجود نہیں ہے۔

۱۶ مارچ ۲۰۲۱ء

ایک دور تھا جب اردو زبان میں عربی اور فارسی الفاظ کی بہتات تھی کہ عربی ہماری دینی و تعلیمی اور فارسی دفتری و عدالتی زبان تھی۔ یہ صورت اب انگریزی زبان نے اختیار کر رکھی ہے اور وجہ وہی ہے کہ انگریزی تعلیمی، دفتری اور عدالتی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی رابطہ کی زبان بھی ہے۔

۱۵ مارچ ۲۰۲۱ء

کسی عقیدہ کے بارے میں صحابہ کرامؓ کو اس سے زیادہ کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کہ قرآن کریم نے یا نبی اکرم ﷺ نے وہ بات فرما دی ہے، اور نہ ہی اس بات سے غرض ہوتی تھی کہ وہ بات ہماری عقل و فہم کے دائرے میں آتی ہے یا نہیں یا ہمارے محسوسات و مشاہدات اس کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

۱۴ مارچ ۲۰۲۱ء

ہماری وابستگی اسلام کے ساتھ شعوری و فکری سے کہیں زیادہ عقیدت و جذبات کی ہے۔ دینی کارکنوں سے میری گزارش ہوتی ہے کہ دنیا کے حالات کا مطالعہ کریں اور عالم اسلام کے خلاف سازشوں کا ادراک حاصل کریں، اور اپنا طرزعمل دنیوی نفع ونقصان کے ساتھ ساتھ اخروی کامیابی کے حوالے سے طے کریں۔

۱۳ مارچ ۲۰۲۱ء

اللہ تعالٰی کا تکوینی نظام ہے کہ وہ کسی ایک طاقت کو ہمیشہ اقتدار پر نہیں رہنے دیتا جسے قرآن کریم نے ’’ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ ہمارے ہاں دو سو سال تک برطانیہ نے حکومت کی، پھر امریکہ بہادر سامنے آیا اور اب قوت وطاقت کا پلڑا مشرق کی طرف جھکتا نظر آ رہا ہے۔

۱۲ مارچ ۲۰۲۱ء

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور کے اسلوبِ خطابت اور شعروشاعری کو دین کے دفاع و دعوت کا ذریعہ بنایا تھا۔ آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ آپؐ کی اس سنت مبارکہ کی پیروی کرتے ہوئے دین کے دفاع واشاعت کیلئے گفتگو، محاورہ، مکالمہ اور ابلاغ کے دورِحاضر کے اسلوب کو اختیار کیا جائے۔

۱۱ مارچ ۲۰۲۱ء

معیشت بھی دین کا ایک اہم شعبہ ہے، اسے دنیا داری قرار دے کر دین سے الگ تصور کرنا درست نہیں ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و تعلیمات کا انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہونا ہی دین کی جامعیت کا صحیح مفہوم ہے اور علماء کرام کو اس پر خاص توجہ دینی چاہیے۔

۱۰ مارچ ۲۰۲۱ء

حضرت ابوذر غفاریؓ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا، میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا بھی ہو تو تین دینار سے زیادہ ذخیرہ نہیں رکھوں گا سب اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کردوں گا (بخاری) حضرت عائشہؓ کہتی ہیں کہ آپؐ اگلے روز کیلئے کوئی چیز ذخیرہ نہیں رکھتے تھے سب اسی روز خرچ کردیتے تھے (ترمذی)

۹ مارچ ۲۰۲۱ء

نئی صدی کا مجموعی منظر یہ ہے کہ مسلمانوں کی عام صفوں میں دینی بیداری اور اپنے عقیدہ و تہذیب کے ساتھ وابستگی میں اضافہ ہو رہا ہے مگر مسلمان حکومتیں اپنی فدویانہ پالیسیوں کی وجہ سے ابھی تک نوآبادیاتی ماحول سے باہر نہیں نکل سکیں اور مرعوب و غلامانہ ذہنیت سے نجات نہیں پا سکیں۔

۸ مارچ ۲۰۲۱ء

دنیا کے وہ تمام انصاف پسند حلقے جو عوام کی نمائندگی، منتخب حکومت، پارلیمنٹ کی خود مختاری اور رائے عامہ کے احترام کی بات کرتے ہیں، وہ اپنے ضمیر کو ٹٹولیں اور بین الاقوامی معاہدات کے نام پر اور جمہوریت کی آڑ میں قوموں کی خود مختاری کو پامال کرنے والوں کے خلاف کلمۂ حق بلند کریں۔

۷ مارچ ۲۰۲۱ء

مغربی اور اسلامی انقلاب میں فرق یہ ہے کہ جاہلیت کے دور میں عورت پر ہونے والے مظالم کا سدباب کر کے اسلام نے اسے انصاف اور حقوق سے بہرہ ور کیا، لیکن خاندانی نظام کے ناگزیر تقاضوں کو روندنے کی بجائے مرد اور عورت دونوں کو فطری دائرے میں رکھتے ہوئے خاندانی نظام کا تحفظ بھی کیا۔

۶ مارچ ۲۰۲۱ء

اپنے بزرگوں کو یاد رکھنا اور ان کی خدمات و قربانیوں سے آنے والی نسلوں کو باخبر کرتے رہنا زندہ قوموں کا شعار ہے جو ان کے مستقبل کی بہتر صورت گری کی بنیاد بنتا ہے اور اس سے قوموں کے امتیازات کا تسلسل بھی قائم رہتا ہے۔

۵ مارچ ۲۰۲۱ء

قرآن کریم کوئی قصہ گوئی کی کتاب نہیں ہے کہ اس کا اتنا بڑا حصہ ماضی کے واقعات اور قصوں کو اپنے دامن میں سموئے ہوئے ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے سبق کیلئے ہے کہ اپنے حال کی اصلاح اور مستقبل کی منصوبہ بندی کیلئے اس میں جو فکری بنیادیں فراہم کی گئی ہیں ان سے فائدہ اٹھائیں۔

۴ مارچ ۲۰۲۱ء

اجتہاد اور تعبیرشریعت کا اختیار ایک ایسے ادارے کیلئے طلب کرنے کا کیا مقصد ہے جسکی رکنیت کیلئے علمی وتجرباتی اہلیت تو کجا قرآن کریم ناظرہ پڑھ سکنا بھی شرط نہیں ہے؟ اس کیلئے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کی رکنیت کیلئے اتنی علمی اہلیت واستعداد کو شرط قرار دیا جائے جو اس مقصد کیلئے ناگزیر ہے۔

۳ مارچ ۲۰۲۱ء

قیام پاکستان کا بنیادی مقصد اسلامی تہذیب وثقافت کا تحفظ تھا مگر اس مملکتِ خداداد کو مسلسل مغربی اور ہندووانہ تہذیبوں کی یلغار کا سامنا ہے، جبکہ انٹرنیٹ کے ماحول میں قائم ہونے والے گلوبل ویلج میں متنوع قسم کے نظریات وافکار علماء و اہلِ دانش سے نئی فکری صف بندی کا تقاضا کر رہے ہیں۔

۲ مارچ ۲۰۲۱ء

نسل، زبان، علاقہ اور قومیت کا تفاخر دورِجاہلیت کا امتیاز تھا اور اس بنیاد پر نہ صرف برتری جتائی جاتی تھی بلکہ غلبہ و تسلط قائم کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں جاہلی عصبیت کی علامات قرار دے کر ختم کیا اور اعلان فرمایا کہ شرافت اور برتری صرف تقوٰی کی بنیاد پر ہو گی۔

یکم مارچ ۲۰۲۱ء

حضرت ابو امامہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ خوش مزاج اور سب سے زیادہ مسکرانے والے تھے (طبرانی) حضرت ابوالدرداءؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی گفتگو فرماتے مسکراہٹ آپ کے چہرے پر نظر آتی تھی (مسند احمد)

۲۸ فروری ۲۰۲۱ء

جس نوجوان کو اپنی میز پر بیٹھے ہرزمانے ہرعلاقے اور ہرنوع کی معلومات حاصل کرنے کی سہولت میسرہے اسے یہ ’’فتوٰی‘‘ اپیل نہیں کرے گا کہ وہ انٹرنیٹ، ٹی وی اور اخبارات وجرائد سے دور رہے۔ اس کیلئے علماء کو خود محنت کرکے ان وسیع تر معلومات کے تناظر میں دینی راہنمائی کا اہتمام کرنا ہوگا۔

۲۷ فروری ۲۰۲۱ء

کسی بھی معاملہ میں رائے اس وقت تک کی میسر معلومات اور معروضی حالات کے دائرے میں قائم کی جاتی ہے جن کے بدل جانے سے رائے میں تبدیلی ناگزیر ہوتی ہے، اس لیے کوئی رائے حتمی فیصلے کے طور پر پیش کرنے سے گریز ہی کرنا چاہیے۔

۲۶ فروری ۲۰۲۱ء

متحدہ ہندوستان میں برطانوی راج سے قبل ہزاروں دینی مدارس قائم تھے جو محض اوقاف کے قوانین میں تبدیلی کی وجہ سے کسی مداخلت اور قبضہ کے بغیر بند ہو گئے تھے۔ اوقاف کے قوانین میں نئی تبدیلیوں کا اس حوالہ سے جائزہ لینا بھی ضروری ہے جو ارباب فکر و دانش کی اہم ذمہ داری ہے۔

۲۵ فروری ۲۰۲۱ء

غلامی کی تمام صورتیں ناجائز قرار دے کر قیدی غلاموں کی جو صورت بامر مجبوری باقی رکھی گئی اس کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کیا ہے، انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو، وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو، کوئی کام ان کے بس میں نہ ہو تو مدد کرو۔

۲۴ فروری ۲۰۲۱ء

عربی زبان قرآن و حدیث کی زبان ہے اور ایک مسلمان کیلئے اس کی تعلیم اساسی حیثیت رکھتی ہے مگر ہمارے ہاں قیام پاکستان کے بعد سے ہی اسے وہ درجہ نہیں دیا جا رہا ہے جو اس کا حق ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرے کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔

۲۳ فروری ۲۰۲۱ء

ہماری عدالتوں کی صورتحال ’’کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک‘‘ جیسی ہے کہ جرم اگر پکڑا بھی جائے تو فیصلہ ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں اور اس دوران دو چار ’’نرم‘‘ مرحلے بھی آتے ہیں۔ یہ جرم کے حوصلے کو بے لگام کرنے میں معاون اور جرائم کی شرح میں مسلسل اضافے کا ایک بڑا سبب ہے۔

۲۲ فروری ۲۰۲۱ء

بخاری شریف کے ابواب کی فہرست ایک نظر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے بارے میں امام بخاریؒ نے عنوان قائم نہیں کیا اور پھر اس کیلئے آیات قرآنی اور ارشادات نبویؐ پیش نہیں کیے۔ اس جامعیت کی وجہ سے بھی بخاری شریف کو ’’الجامع الصحیح‘‘ کہا جاتا ہے۔

۲۱ فروری ۲۰۲۱ء

پاکستان میں وسائل کی کمی نہیں، مسئلہ ان وسائل کی صحیح تقسیم اور درست استعمال کا ہے جسے ہم آج تک صحیح ٹریک پر نہیں لا سکے اور عالمی مالیاتی اداروں کے حصار میں چیخ و پکار کرتے رہنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ ہمارے گروہی، طبقاتی اور ذاتی مفادات کے حصول کا نہ رکنے والا سلسلہ ہے۔

۲۰ فروری ۲۰۲۱ء

دینی مدارس مفت تعلیم دینے کے ساتھ معاشرہ کے نادار طبقات کے افراد کو رہائش، خوراک، لباس اور علاج کی سہولتیں بھی بلامعاوضہ فراہم کرتے ہیں جس کا اعتراف حکمران طبقہ کے سرکردہ حضرات کی طرف سے بارہا ہو چکا ہے مگر مدارس پر محکموں اور اداروں کے دباؤ سلسلہ کسی نہ کسی بہانے جاری رہتا ہے۔

۱۹ فروری ۲۰۲۱ء

حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سے بیعت لیتے اور کسی کام کے کرنے کا عہد لیتے تو اس عہد میں یہ گنجائش رکھنے کی تلقین فرماتے کہ ’’فیما استطعت‘‘ کہ جہاں تک میرے بس میں ہوگا اطاعت کروں گا (مسند احمد)

۱۸ فروری ۲۰۲۱ء

سادگی، قناعت اور جفاکشی، یہ صرف ہمارے تصوف کے موضوعات نہیں بلکہ سیاست کے بنیادی ستون بھی ہیں۔ یہ شاہانہ ایوانوں میں خطیر رقوم کے خرچ سے اجتماعات کر کے ان عنوانات پر دلکش تقریریں کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ ہماری قومی ضرورت ان اصولوں کو ذاتی و اجتماعی زندگی میں عملاً نافذ کرنے کی ہے۔

۱۷ فروری ۲۰۲۱ء

سورۃ العنکبوت آیت ۴۸ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے نزول سے قبل نبی ﷺ پڑھ لکھ نہیں سکتے تھے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک پیدا کر سکتے تھے۔ یعنی مخالفین یہ کہہ سکتے تھے کہ کہیں سے حکمت و دانش کا ذخیرہ مل گیا ہے جسے قرآن کریم کی شکل میں پیش کر رہے ہیں۔

۱۶ فروری ۲۰۲۱ء

عالمِ اسلام کے دینی حلقے اس بات کیلئے تیار نہیں ہیں کہ اسلام کی جن باتوں پر مغرب والوں کو اعتراض ہے ان کی کوئی نئی تعبیر و تشریح کر کے انہیں مطمئن کیا جائے۔ بلکہ وہ اسلامی احکام و قوانین اور روایات و تعلیمات پر قائم ہیں جن پر امت چودہ سو سال سے اجتماعی طور پر کاربند چلی آرہی ہے۔

۱۵ فروری ۲۰۲۱ء

محدثین فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جو صدقہ و خیرات کے معاملے میں رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے اس کی دو وجوہات ہیں (۱) صدقہ اور صلہ رحمی کی دو نیکیاں اکٹھی ہو جاتی ہیں (۲) رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حالات کے متعلق زیادہ خبر ہوتی ہے کہ کون امداد کا مستحق ہے۔

۱۴ فروری ۲۰۲۱ء

امریکی خلائی تحقیقاتی مرکز ناسا کی سیر کے دوران ایک ساتھی نے بتایا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک یہودی پروفیسر نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ فقہاء اسلام نے معذور کی نماز کا جو طریقہ لکھا ہے وہی ان مسلم خلابازوں کیلئے بھی ہونا چاہیے کہ اپنے حالات وظروف کے مطابق جس طرح ہو سکے پڑھ لیں۔

۱۳ فروری ۲۰۲۱ء

لاہور سے مطبوعہ اردو بائیبل کے عہد نامہ قدیم کی کتاب استثناء میں عقیدہ توحید یوں مذکور ہے: ’’میرے آگے تو اور معبودوں کو نہ ماننا، تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت نہ بنانا، نہ کسی چیز کی صورت بنانا ۔۔۔ تو ان کے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ ان کی عبادت کرنا‘‘

۱۲ فروری ۲۰۲۱ء

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو انسانی خصال میں سب سے زیادہ نفرت جھوٹ سے تھی (بیہقی)۔ اور اپنے خاندان کے کسی شخص کے بارے میں جھوٹ کی کسی بات پر مطلع ہوتے تو اس سے اس وقت تک اعراض فرماتے تھے جب تک اس کی توبہ مشاہدے میں نہ آجاتی (مسند احمد)۔

۱۱ فروری ۲۰۲۱ء

فرانس اس مغربی تہذیب و فلسفہ کا بانی ملک ہے جسے انسانی حقوق، مرد و عورت کی مساوات، اور شہری آزادیوں کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر عورت کی ’’آزادی‘‘ کا سب سے پہلا نعرہ لگانے والے فرانس میں آج عورت کے اس حق کی نفی کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے سر ڈھانپنا چاہے تو ڈھانپ لے۔

۱۰ فروری ۲۰۲۱ء

قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد حدیث پر ایمان لانا کیوں ضروری ہے؟ اس سوال کے جواب میں میری گزارش ہوتی ہے کہ قرآن کریم کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے کیونکہ حدیث کو مانیں گے تو قرآن کریم تک رسائی ہوگی ورنہ قرآن کریم کی کسی آیت پر ایمان لانا ممکن ہی نہیں ہے۔

۹ فروری ۲۰۲۱ء

ترکی کو خلافتِ عثمانیہ کے ٹائٹل کے ساتھ صدیوں عالم اسلام کی قیادت کا اعزاز حاصل رہا ہے اس لیے اسے جکڑنے کیلئے شکنجہ بھی اسی اعتبار سے تیار کیا گیا تھا۔ مگر ترکی دو عشروں سے جس بیداری کا ثبوت دے رہا ہے اس نے عالم اسلام کے بہتر مستقبل کے حوالہ سے امید کی واضح کرن روشن کر دی ہے۔

۸ فروری ۲۰۲۱ء

یہودی انبیاءؑ کی اولاد ہونے کے ناطے خود کو احتساب سے مستثنٰی سمجھتے ہیں، عیسائیوں کے مطابق حضرت عیسٰیؑ نسل انسانی کے گناہوں کا کفارہ دے گئے ہیں، مذہب نہ ماننے والے آخرت کا تصور ہی نہیں رکھتے۔ یہ اسلام کا عقیدہ ہے جو عمل کی بنیاد پر سزا وجزا کا تصور دے کر انسان کو جرم سے روکتا ہے۔

۷ فروری ۲۰۲۱ء

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ جب کسی کو کسی علاقے کا حاکم بنا کر بھیجتے تو یہ نصیحت بطور خاص فرماتے تھے کہ لوگوں سے انہیں قریب لانے والی باتیں کرنا، دور کرنے والی باتوں سے گریز کرنا، آسانی والی بات کرنا، مشکل اور تنگی والی بات نہ کرنا (ابو داؤد)

۶ فروری ۲۰۲۱ء

امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند حضرت مولانا سید عطاء المہیمن بخاری کی وفات دینی حلقوں کے لئے گہرے صدمے اور رنج کا باعث ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالٰی مغفرت فرمائیں اور تمام متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

۵ فروری ۲۰۲۱ء

کشمیری عوام کی چوتھی نسل استصواب رائے کا مسلمہ حق حاصل کرنے کیلئے آگے بڑھتی نظر آرہی ہے لیکن عالمی رائے عامہ کے وعدے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فریزر میں منجمد پڑے ہیں جس نے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان میں عوامی ریفرنڈم کے ذریعے مسیحی ریاستیں قائم کروانے میں کردار ادا کیاتھا۔

۴ فروری ۲۰۲۱ء

فقہ حنفی شخصی فقہ نہیں بلکہ مشاورتی و اجتماعی فقہ ہے جو ایک باقاعدہ مجلسِ علمی میں اجتماعی استنباط و استخراج اور باہمی اختلاف رائے کے ساتھ کسی نتیجے تک پہنچنے کی مبارک علمی مساعی پر مشتمل ہے۔ یہ اسلام کے قانونی نظام کی بہت بڑی خدمت اور امام اعظم ابوحنیفہؒ کا عظیم علمی کارنامہ ہے۔

۳ فروری ۲۰۲۱ء

انبیاء کرامؑ کی ذمہ داریوں میں آسمانی تعلیمات کو صرف پیش کرنا نہیں بلکہ اپنے عمل میں ڈھال کر اسوۂ حسنہ کے طور پر سامنے لانا بھی تھا اور انہوں نے ایسا کر دکھایا۔ آج علماء کرام اگر انبیاء کی نیابت کا دعوٰی رکھتے ہیں تو انہیں بھی اسی طرز عمل کو اپنی محنت کا جولان گاہ بنانا ہو گا۔

۲ فروری ۲۰۲۱ء

عربی زبان کی تعلیم کے حوالے سے سینٹ کا پاس کردہ بل خوش آئند ہے۔ اردو قومی زبان اور عربی دینی زبان کے طور پر ہماری ناگزیر ملی ضرورت ہے مگر ان کو صحیح مقام دلانے کے لئے انگریزی کی مرعوبیت سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ؏ ’’کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں ہے کہ نہیں‘‘

یکم فروری ۲۰۲۱ء

جب پاکستان کی پہلی دستورساز اسمبلی کو ملاازم اور تھیاکریسی کے طعنوں کے ساتھ سیکولرازم کی بحث میں الجھا دیا گیا تو شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے منطق و استدلال کے ساتھ اس مہم کا سامنا کیا اور قرارداد مقاصد منظور کروا کے پاکستان کی نظریاتی اسلامی بنیاد ہمیشہ کیلئے طے کردی۔

۳۱ جنوری ۲۰۲۱ء

تبلیغی جماعت کا آغاز کم و بیش ایک صدی قبل حضرت مولانا الیاس دھلویؒ نے قصبہ میوات سے کیا تھا۔ یہ ان کے خلوص اور بے تکلف انداز کی برکت ہے کہ اب یہ جماعت دنیا بھر میں اسلام کے بنیادی عقائد و اعمال اور مسجد کے ماحول کی طرف مسلمانوں کو واپس لانے کی سب سے منظم اور وسیع عوامی تحریک ہے۔

۳۰ جنوری ۲۰۲۱ء

حضرت مجدد الف ثانیؒ کی جدوجہد کا ایک میدان تصوف کی اصلاح کا تھا۔ انہوں نے تصوف میں حد سے بڑھ جانے والے کاموں کی نشاندہی کی اور انہیں صحیح رخ پر لائے کہ اصل تصوف کی بنیاد شریعت ہے، جو چیز شریعت کے دائرے میں ہے وہ تصوف میں درست ہے اور جو نہیں وہ تصوف میں بھی قبول نہیں کی جا سکتی۔

Pages