مقالات و مضامین

’’سفر نامہ دارالعلوم دیوبند‘‘

دارالعلوم دیوبند کے تاریخی صد سالہ اجتماع میں شیخین کریمین والدِ گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور عم مکرم حضرت مولانا عبد الحمید خان سواتی رحمہما اللہ تعالیٰ کی سرپرستی اور امامت میں مجھے بھی شرکت کی سعادت حاصل ہوئی تھی اور چند روز ان بزرگوں کے ساتھ اس مادرِ علمی میں بسر ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۲۴ء

قدیم جاہلانہ اقدار اور تہذیبِ نو: ایک ہی سکے کے دو رخ

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی معجزات پر بھی ہمارا ایمان ہے، البتہ ہم نے ان کا مشاہدہ نہیں کیا اور دیکھے بغیر خبرِ صحیح کی بنیاد پر ان پر ایمان رکھتے ہیں، مگر قرآن کریم وہ معجزہ ہے جس پر ہمارا ایمان بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ نومبر ۲۰۰۵ء

زلزلے کی تباہ کاریاں: آئندہ کی ترجیحات

عید الفطر کے بعد آزاد کشمیر اور صوبہ سرحد کے بعض زلزلہ زدہ علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ لاہور سے پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر شریک سفر تھے، بلکہ سارا سفر انہی کی گاڑی پر ہوا۔ گوجرانوالہ سے ڈاکٹر محمد رفیق میر ساتھ ہو گئے۔ کچھ ساتھی قاری صاحب کے ہمراہ بھی تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ نومبر ۲۰۰۵ء

ڈاکٹر محمد بن عبد الکریم العیسیٰ کے نام مکتوب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ و بعد فیسعدنی ان اشارک فی المؤتر لرابطۃ العالم الاسلامی تحت اشـراف الملــک سلیمان بن عبد العزیز آل سعود حفظہ اللہ ورعاہ بمکۃ المکرمۃ فی ۱۴-۱۷ رمضان المبارک ۱۴۴۰ھ وقد ارسـلت الیکم من قبل بانی احضر المؤتمر ان شاء اللہ وافیدکم علما باننی لکبرسنی و شئونی المھمۃ امس حاجۃ شدیدۃ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مئی ۲۰۱۹ء

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام مکتوب

آنجناب کے فرزند گرامی عزیزم سعد صدیق باجوہ کی شادی خانہ آبادی میں شرکت کا دعوت نامہ موصول ہوا، یاد فرمائی اور عزت افزائی کا تہہ دل سے شکریہ۔ مجھے تقریب میں شریک ہو کر بے حد خوشی ہوتی مگر اسی روز گلیانہ کھاریاں میں میرے برادر نسبتی چودھری عبد الحفیظ کی بیٹی کا نکاح طے ہے، اس لیے خواہش کے باوجود شریک نہیں ہو سکوں گا، معذرت قبول فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ نومبر ۲۰۱۸ء

دارالعلوم وقف دیوبند کے نام مکتوب

دارالعلوم وقف دیوبند کے زیر اہتمام ۱۲ و ۱۳ اگست ۲۰۱۸ء کو خطیب الاسلام حضرت مولانا قاری محمد سالم قاسمیؒ کی یاد میں سیمینار کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں امت مسلمہ کے اس عظیم سپوت کی علمی و دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا جائے گا اور نئی نسل کو ان کی دینی و قومی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اگست ۲۰۱۸ء

الیکشن ۲۰۱۸ء : رائے دہندگان کے نام مکتوب

گزارش ہے کہ اجتماعی دینی و قومی مسائل و معاملات میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کا مشترکہ فورم پر قوم کی راہنمائی کے لیے سامنے آنا ہمیشہ سے ہماری روایت چلی آرہی ہے۔ جیسا کہ تحریک پاکستان، تحریک ختم نبوت، تحریک نظام مصطفٰیؐ اور تحریک تحفظ ناموس رسالتؐ میں دینی مکاتب فکر کا اتحاد و اشتراک قومی تاریخ کا روشن باب ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جولائی ۲۰۱۸ء

الیکشن ۲۰۱۸ء: علماء کرام کے نام مکتوب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ گزارش ہے کہ ملک بھر میں ۲۵ جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کی سرگرمیاں جاری ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں اور اتحاد اس وقت میدانِ عمل میں ہیں۔ ملک کی عمومی صورتحال کچھ اس طرح سے ہے کہ: ملکی وحدت و سالمیت کا تحفظ اور قومی خودمختاری کی بحالی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جولائی ۲۰۱۸ء

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز کے نام مکتوب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیلِ نو اور اس میں اپنی نئی ذمہ داریوں پر آپ سب دوست ہدیۂ تبریک قبول فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو اس حوالہ سے دین و ملت اور ملک و قوم کی مؤثر خدمت کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ نومبر ۲۰۱۷ء

ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ کے نام مکتوب

گزارش ہے کہ جمعیۃ اہل السنۃ والجماعۃ حنفی دیوبندی گوجرانوالہ کا ایک اجلاس ۱۸ مئی ۲۰۱۷ء کو مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں ضلعی صدر جناب حاجی عثمان عمر ہاشمی کی زیرصدارت منعقد ہوا جس کے فیصلوں کی روشنی میں چند معروضات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ امید ہے کہ آنجناب خصوصی توجہ سے نوازیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ مئی ۲۰۱۷ء

’’احکام شریعت میں حالات و زمانہ کی رعایت‘‘

اسلام ادیانِ سماویہ میں آخری دین ہے جس نے قیامت تک نسلِ انسانی کی راہنمائی کرنی ہے اور اس کے احکام و قوانین رہتی دنیا تک انسانی معاشرہ کے لیے فطری قوانین و نظام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی و نبوت کا دروازہ بند ہوگیا تھا جس کی وجہ سے اس دوران نئی آسمانی تعلیمات کا کوئی امکان نہیں رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۱۶ء

دنیا پر ’’جبری آزادی‘‘ مسلط کرنے کا امریکی اعلان

صدر جارج ڈبلیو بش نے دوسری مدت صدارت کے لیے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ اس موقع پر روایتی تقریب کا اہتمام کیا گیا اور ہزاروں محافظوں کے جلو میں امریکہ کے صدر نے اپنی دوسری مدت صدارت کا آغاز کیا۔ انہوں نے اس موقع پر جن خیالات اور جذبات کا اظہار کیا، اس کی صدائے باز گشت پوری دنیا میں سنی گئی اور ان کے عزائم پر مختلف اطراف سے رد عمل کا اظہار کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۰۵ء

راہنمایانِ شہر کے نام مکتوب

گزارش ہے کہ آپ چاروں حضرات شہر کے بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں اور حکمران جماعت کے ذمہ دار راہنما بھی ہیں۔ اس لیے میں چند مساجد کے بارے میں ایک مسئلہ آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں، اس توقع پر کہ آپ حضرات دین اور مسجد کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اس مسئلہ کے حل کے لیے فوری اور مؤثر کردار ادا کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ دسمبر ۲۰۱۶ء

’’انقلابِ شام‘‘

عباسی خلافت کے خاتمہ کے ساتھ جس طرح فاطمی حکومت وجود میں آئی اور اس میں ابن علقمی کے کردار نے اپنے اثرات دکھانا شروع کیے وہ اسلامی تاریخ کا ایک افسوسناک باب ہے۔ یہی وجہ تھی کہ صلیبی جنگوں کے دوران سلطان نور الدین زنگیؒ اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے صلیبیوں کے خلاف صف آراء ہونے سے پہلے ان منحوس اثرات سے نمٹنا ضروری سمجھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ نومبر ۲۰۱۶ء

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے نام مکتوب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ گزارش ہے کہ اخبارات کے ذریعہ معلوم ہوا ہے کہ گوجرانوالہ شہر میں پرانے ریلوے اسٹیشن کو گرا کر نئی عمارت تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں آنجناب کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ ریلوے اسٹیشن میں گزشتہ تین عشروں سے ایک مسجد موجود ہے جس میں اردگرد بازار اور مارکیٹوں کے سینکڑوں لوگ پنج وقتہ نماز ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اگست ۲۰۱۶ء

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف خان کے نام مکتوب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟ قومی علماء و مشائخ کونسل کو فعال اور متحرک بنانے کے حوالہ سے چند تجاویز ارسال خدمت ہیں، امید ہے کہ ان کو سنجیدہ توجہ سے نوازا جائے گا: کونسل کو اس انداز سے پیش اور متحرک کیا جائے کہ یہ مذہبی حوالہ سے ملک کی عمومی صورتحال پر نظر رکھنے، خرابیوں کی نشاندہی کرنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۱۶ء

ڈاکٹر مصطفیٰ ذوالفقار طلب کے نام مکتوب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ و بعد فلقد سررت حیث شرفتمونی بدعوتکم المیمونۃ للمؤتمر الدولی للقدرات الاستراتیجیۃ لتعالیم الاسلام بجامعۃ طہران جمہوری اسلامی ایران المنعقدۃ فی ۲۶ یونیو ۲۰۱۹ ۔ فجزاکم اللہ تعالٰی خیرًا علی ھذہ العنایۃ الکریمۃ والتکرم ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۱۹ء

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز کے نام مکتوب

مجھے یہ معلوم کر کے اطمینان ہوا ہے کہ اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کے سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل سے سرکاری طور پر مشورہ طلب کر لیا گیا ہے۔ میری شروع سے رائے ہے کہ اس نازک اور حساس مسئلہ پر وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل جیسے دستوری اداروں کو ہی باقاعدہ رائے دینی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ جولائی ۲۰۲۰ء

ڈاکٹر احمد الباقری کے نام مکتوب

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔ وبعد، يسرّني أنّي وُفقتُ في معيّتكم المشاركة في جلسة استشارية حول إقامة شعبة الفقه الحنفي في كلّية الإلهيات والمعارف الإسلامية، واطلعت على آرائكم وآراء أساتذة الكلية في هذا المجال ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ جون ۲۰۱۹ء

وفاقی وزیر تعلیم اسلامی جناب شفقت محمود کے نام مکتوب

موجودہ حالات کے تناظر میں پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے چند گزارشات پیش کر رہا ہوں، امید ہے کہ آپ ذاتی توجہ فرما کر ان معروضات کو سنجیدہ غوروفکر کے دائرے میں لائیں گے، شکریہ۔ تعلیمی سلسلہ کا مسلسل تعطل قومی نقصان میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے، اس پر نظرثانی کی ضرورت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جولائی ۲۰۲۰ء

اقوام متحدہ، انسانی حقوق کا چارٹر اور عالمِ اسلام

پہلی جنگ عظیم کے بعد ”انجمن اقوام“ کے نام سے ایک عالمی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس کا مقصد اقوام و ممالک کے درمیان جنگ کو روکنا اور متحارب اقوام و ممالک کو اس بات پر آمادہ کرنا تھا کہ وہ باہمی تنازعات کو جنگ کی بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ ختم ہو گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ ستمبر ۲۰۰۵ء

ظہورِ امام مہدی کا عقیدہ اور مولانا محمد سرفراز خان صفدر

سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمانوں پر اٹھایا جانا اور قیامت سے پہلے دوبارہ نازل ہونا ہمارے معتقدات میں سے ہے اور اس کے ساتھ حضرت امام مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر دنیا میں دوبارہ اسلام کے غلبہ و نفاذ کی راہ ہموار کرنا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ دسمبر ۲۰۰۵ء

ہندو مذہب حقیقت کے آئینے میں

جامعہ اسلامیہ ٹرسٹ کامونکی کے مہتمم مولانا عبد الرؤف فاروقی اور ان کے رفقاء ہدیہ تبریک و تشکر کے مستحق ہیں کہ دعوۃ اکیڈمی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے تعاون سے ”مطالعہ مذاہب“ کے پروگرام کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں اور اس طرح ایک اہم ترین دینی ضرورت کسی حد تک پوری ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۲۰۰۵ء

مسلم امہ اور مغربی حکمرانوں کا طرزِ عمل

لندن بم دھماکوں کے بعد جب برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اپنے ابتدائی ردِعمل میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی موجودہ صورت حال کو ناکافی قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے اسباب کا جائزہ لینے اور انہیں دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا تو دنیا بھر میں اس پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جولائی ۲۰۰۵ء

زلزلہ: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی تشویش

میں ۱۰ ستمبر کو امریکہ پہنچا تھا۔ ۱۰ اکتوبر کو وہاں سے لندن واپسی ہوئی اور اس وقت ساؤتھ لندن میں بیٹھا یہ سطور تحریر کر رہا ہوں۔ امریکہ میں ایک ماہ کے قیام کے دوران نیویارک کے علاقوں بروک لین، کوئینز اور لانگ آئی لینڈ، ورجینیا کے علاقے سپرنگ فیلڈ اور اس کے علاوہ اٹلانٹا، برمنگھم، بالٹی مور، واشنگٹن ڈی سی، نیو جرسی اور دیگر علاقوں میں مختلف دینی اجتماعات میں حاضری کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اکتوبر ۲۰۰۵ء

روشن خیالی اور اعتدال پسندی کا عملی ایجنڈا

ماڈل ٹاؤن لاہور میں اہل حدیث مکتب فکر کے نامور عالم دین مولانا حافظ عبد الرحمٰن مدنی کی نگرانی میں ایک علمی و تحقیقی ادارہ ”مرکز التحقیق الاسلامی“ کے نام سے کام کر رہا ہے۔ حافظ صاحب کا تعلق روپڑی خاندان سے ہے اور اچھے علمی و تحقیقی ذوق سے بہرہ ور ہیں۔ ماہنامہ ”محدث“ کے عنوان سے ایک ماہوار جریدہ بھی شائع کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جولائی تا یکم اگست ۲۰۰۵ء

سونامی، قطرینا اور اب زلزلہ: پوری نسل انسانی کے لیے ایک اشارہ

زلزلہ کی خبر میں نے واشنگٹن میں سنی۔ دارالہدیٰ سپرنگ فیلڈ میں حسب معمول درس حدیث کی مصروفیات میں تھا کہ ایک نمازی نے خبر دی کہ پاکستان میں زلزلہ آیا ہے اور اسلام آباد میں خاصا نقصان ہوا ہے۔ دارالہدیٰ کے دفتر میں انٹرنیٹ پر بعض پاکستانی اخبارات دیکھے تو پتہ چلا کہ نقصانات کا دائرہ صرف اسلام آباد تک ہی محدود نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اکتوبر ۲۰۰۵ء

اقوام متحدہ اور مسلم ممالک کی بے بسی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جناب کوفی عنان نے ۲۱ مارچ ۲۰۰۵ء کو جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں متعدد اصلاحات کی تجویز پیش کی ہے اور کم و بیش باسٹھ صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں اس عالمی ادارے میں بہت سی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اپریل ۲۰۰۵ء

’’امام اعظم ابوحنیفہؒ اور عمل بالحدیث‘‘

اجتہاد اسلام کا ایک بنیادی اصول ہے جس کا مقصد قرآن کریم کی صورت میں وحئ الٰہی کے مکمل ہو جانے کے بعد قیامت تک پیش آنے والے نئے حالات و مسائل کا وحئ الٰہی کے ساتھ ربط قائم رکھنا اور قرآن و سنت کی روشنی میں مسائل و مشکلات کا حل تلاش کرنا ہے۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اجتہاد کی اہمیت بیان فرمائی ہے بلکہ دیانت و اہمیت کے ساتھ اجتہاد کرنے والے مجتہد کو خطا کی صورت میں بھی اجر و ثواب کا مستحق ٹھہرایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ اپریل ۱۹۹۶ء

"الحاج سید امین گیلانی: شخصیت وخدمات"

شاعرِ اسلام الحاج سید امین گیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ ہمارے ان مِلی شعراء میں نمایاں مقام رکھتے ہیں جنہوں نے تحریکِ آزادی، تحریکِ ختمِ نبوت اور دیگر دینی و مِلی تحریکات میں مسلسل اور نمایاں کردار ادا کیا اور وہ ہماری دینی و مِلی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ مجھے اُن سے نیاز مندی حاصل رہی ہے اور مختلف تحریکات میں ان کی رفاقت کا اعزاز نصیب ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۲۴ء

’’فقہ الحدیث میں احناف کا اصولی منہج‘‘

۱۵ فروری ۲۰۱۹ء میرے لیے ذاتی اور خاندانی طور پر انتہائی خوشی کا دن تھا کہ اس روز میرے بڑے فرزند حافظ محمد عمار خان ناصر سلّمہ نے پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کا مقالہ مکمل کر کے آخری زبانی امتحان میں (Viva Voce) سرخروئی حاصل ، فالحمد للہ علیٰ ذٰلک۔ عمار خان ناصر نے حفظِ قرآن کریم اور درسِ نظامی کی تعلیم ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ فروری ۲۰۱۹ء

ارکان پارلیمنٹ کے نام مولانا منظور احمد چنیوٹی کا خط

مولانا منظور احمد چنیوٹی تحریک ختم نبوت کے سرگرم راہنماؤں میں سے ہیں۔ وہ گزشتہ نصف صدی سے اس محاذ پر مسلسل مصروف عمل ہیں۔ انہوں نے زندگی اسی مشن کے لیے وقف کر رکھی ہے اور ہمہ وقت اسی فکر اور دھن میں مگن رہتے ہیں۔ چناب نگر اور چنیوٹ کے درمیان صرف دریائے چناب حائل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۰۴ء

مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی اور مذہب کا مختصر سا خاکہ

قادیانی مذہب کے بانی غلام احمد قادیانی ہیں، جنہوں نے یہ دعویٰ کر کے ایک نئے مذہب کی بنیاد رکھی کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے، انہیں نبوت و رسالت کے منصب سے نوازا گیا ہے، اب دنیائے انسانیت کی نجات ان کی پیروی میں ہے، انہیں ماننے والے ہی مسلمان کہلائیں گے اور فلاح و کامیابی سے ہمکنار ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ و ۲۶ فروری ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش میں قادیانیوں کی سرگرمیاں

پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ملکوں میں تحریک ختم نبوت کے حوالہ سے سرگرمیوں میں کچھ عرصہ سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں قادیانیوں کے لٹریچر کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ قادیانی امت کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے دینی حلقوں کی جدوجہد جاری ہے، عوامی جلسے اور مظاہرے ہو رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۰۴ء

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ایک اہم علمی خدمت

اس سے قبل نیویارک میں گزرنے والے چار ایام کا تذکرہ گذشتہ کالم میں کر چکا ہوں البتہ ایک دو باتوں کا تذکرہ باقی ہے۔ ایک پاکستانی دوست نے جن کا نام لینا شاید مناسب نہ ہو، مجھے اپنا ایک دلچسپ قصہ سنایا جو امریکی معاشرت کے ایک رخ کی عکاسی کرتا ہے اور جسے دیکھ کر بہت سے مسلم خاندان پریشان ہو کر وطن واپسی کی باتیں سوچنے لگ جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جنوری ۲۰۰۴ء

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی پاکستان آمد

مولانا محمد عیسیٰ منصوری ان دنوں پاکستان تشریف لائے ہوئے ہیں اور مختلف شہروں میں دینی اجتماعات سے خطاب کر رہے ہیں۔ مولانا منصوری کا تعلق گجرات انڈیا سے ہے، پرانے فضلاء میں سے ہیں، عمر ساٹھ برس کے لگ بھگ ہوگی۔ ۱۹۶۸ء میں راندھیر کے معروف مدرسہ جامعہ حسینیہ سے دورہ حدیث کیا اور اس کے بعد تبلیغی جماعت کی سرگرمیوں میں شریک ہو گئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲۰۰۴ء

قرآن پاک کی حق تلفی کے سدباب کا مستحسن فیصلہ، مگر ۔ ۔ ۔

”آن لائن“ کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق نے قومی اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے ارکان جناب لیاقت بلوچ، مولانا عبد المالک خان، عبد الاکبر چترالی اور جناب اسد اللہ بھٹو کے ”توجہ دلاؤ نوٹس“ پر کہا ہے کہ قرآن کریم کی طباعت اور اشاعت میں غلطیوں کا معاملہ ہمارے نوٹس میں ہے اور صوبائی حکومتوں کو اس سلسلہ میں ہدایات دی گئی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ اگست ۲۰۰۴ء

چودھری شجاعت حسین کا شکریہ اور دو گزارشات

یہ خاندانی مزاج کا اثر ہے یا تعلیم و تربیت کے ماحول کا ثمرہ کہ حکمرانوں کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے کو بحمد اللہ تعالیٰ کبھی جی نہیں چاہا ور اگر کبھی خودبخود مواقع پیدا ہوئے ہیں تو بھی معاملے کے دائرے کو محدود رکھنے ہی کی کوشش کی ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی کابینہ میں پاکستان قومی اتحاد شامل ہوا تو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۰۴ء

سالانہ تبلیغی اجتماع ۲۰۰۴ء

تبلیغی جماعت کا سالانہ عالمی اجتماع ۱۸ نومبر جمعرات سے رائے ونڈ میں شروع ہو گیا ہے۔ پروگرام کے مطابق جمعرات کو شام کے بعد اجتماع کا آغاز ہوا اور اتوار کو صبح دس گیارہ بجے کے لگ بھگ اختتامی دعا کے بعد اجتماع میں تشکیل پانے والی جماعتیں اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائیں گی۔ اس دوران بیانات ہوں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۰۴ء

محبت کی شادی اور طلاق کا بڑھتا رجحان

ایک خبر کے مطابق عدالت عالیہ لاہور نے اوکاڑہ کی لو میرج کرنے والی لڑکی عائشہ تبسم کی مسعود خان سے شادی کو قانونی اور جائز قرار دیتے ہوئے دونوں میاں بیوی کے خلاف تھانہ اے ڈویژن اوکاڑہ میں درج حدود کا مقدمہ جھوٹا قرار دے کر خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ جب کوئی خاتون اپنی شرعی شادی کا اعتراف کر لیتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۰۴ء

عظمت و شہادت کا مہینہ

سن ہجری کے چودہ سو پچیسویں سال کا آغاز ہو گیا ہے اور ہمارے ہاں عام حلقوں میں جو مشہور تھا، بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھ بھی دیا تھا کہ چودھویں صدی ہجری آخری صدی ہو گی اور اس کے بعد کوئی اور صدی نہیں ہے، زمانہ اس کو کراس کرتے ہوئے ربع صدی آگے بڑھ چکا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ فروری ۲۰۰۴ء

اسلامی نظام میں رائے عامہ کی حیثیت

ہجری مہینہ جمادی الثانی ختم ہو چکا اور ماہ رجب المرجب کا آغاز ہو گیا ہے۔ جمادی الثانی کے دوران خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا، اس مناسبت سے اس ماہ کے دوران ان کی یاد میں اجتماعات کا انعقاد ہوا، ان کی ملی و دینی خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اگست ۲۰۰۴ء

سود اور نفع کا تقابلی جائزہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور اس پروگرام کے منتظمین کا شکرگزار ہوں کہ اہل دانش و اہل فکر کے ساتھ گفتگو اور تبادلہ خیالات کا موقع فراہم کیا۔ سب سے پہلے میں اس بات پر خوشی اور مسرت کا اظہار کروں گا کہ اس پروگرام کا عنوان ”مروجہ قوانین :اسلام کی نظر میں “بہت اہم عنوان ہے اور اس پر وکلاء اور علماء کا مل بیٹھ کر غور کرنا انتہائی ضروری ہے۔ میں ایک عرصہ سے یہ آواز لگا رہا ہوں کہ ہمیں مل بیٹھنا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ مارچ ۲۰۲۴ء

رائے ونڈ کا اجتماع: تبلیغِ دین کا ذریعہ

رائے ونڈ کا سالانہ عالمی تبلیغی اجتماع ۱۸ نومبر جمعرات کی شام شروع ہوا، جو اتوار کو دوپہر تک جاری رہے گا اور اختتامی دعا کے بعد مختلف علاقوں کے لیے تشکیل دی جانے والی دعوت و تبلیغ کی جماعتیں اپنی اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جائیں گی۔ یہ اجتماع ہر سال ہوتا ہے اور اس میں دنیا کے مختلف ممالک سے علمائے کرام، دینی کارکن اور مبلغین شریک ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ نومبر ۲۰۰۴ء

الرشید ٹرسٹ کے نقش قدم پر

حضرت مولانا رشید احمد لدھیانوی قدس اللہ سرہ العزیز کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی امتیازی خوبیوں سے نوازا تھا اور ان کی حیات و جدوجہد متعدد حوالوں سے علماء کرام اور اہل دین کے لیے آئیڈیل اور مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان میں سے ایک بڑا حوالہ ”الرشید ٹرسٹ“ کا ہے جس کے ذریعہ حضرت مفتی صاحبؒ نے رفاہی خدمات کی طرف دینی حلقوں اور علماء کرام کو متوجہ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ اپریل ۲۰۰۴ء

چناب نگر مسجد کا تنازع: پس منظر اور حقائق

چناب نگر میں پولیس چوکی کی مسجد کا تنازع کافی دنوں سے چل رہا ہے اور اس پر عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ انتظار تھا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان یا کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا کوئی اجلاس اس حوالہ سے بلایا جائے گا اور باہمی مشورہ سے کوئی متفقہ لائحہ عمل طے کر لیا جائے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۰۴ء

دینی مدارس میں تحقیق و صحافت: موجودہ صورتحال اور آئندہ لائحہ عمل

۲۱ جولائی ۲۰۰۴ء کو پنجاب یونیورسٹی لاہور کے شیخ زاید اسلامک سنٹر میں مندرجہ بالا عنوان پر ایک سیمینار میں شرکت و خطاب کا موقع ملا۔ اس راؤنڈ ٹیبل سیمینار کا اہتمام انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد نے شیخ زاید اسلامک سنٹر کے تعاون سے کیا۔ اس کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ جولائی ۲۰۰۴ء

حضرت امام بخاریؒ کی مجتہدانہ شان

دو ستمبر کو جامعہ خیر المدارس ملتان میں اختتام بخاری شریف کی سالانہ تقریب میں حاضری کے لیے حضرت مولانا قاری محمد حنیف جالندھری سے وعدہ تھا اور حاضری کا ارادہ بھی تھا، بلکہ اس بابرکت محفل میں پیش کرنے کے لیے کچھ معروضات قلمبند بھی کر لی تھیں، مگر ایک اچانک گھریلو مصروفیت کی وجہ سے ملتان کا سفر نہ کر سکا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ ستمبر ۲۰۰۴ء غالباً

مولانا منظور احمد چنیوٹی کا نیا محاذ

مولانا منظور احمد چنیوٹی ان دنوں ایک اور محاذ کے لیے مورچہ بندی میں مصروف ہیں اور ہوم ورک کا سلسلہ آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ تحریک ختم نبوت کے سرگرم اور متحرک راہنما ہیں، اس محاذ پر اجتماعی جدوجہد اور کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیوں میں پورا حصہ ڈالتے میں، مگر اپنا جداگانہ مورچہ بھی قائم رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ جون ۲۰۰۴ء

سانحۂ فیصل آباد اور مابعد اثرات

مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ ہمارے ملک کے نامور خطباء میں سے تھے۔ وہ صرف خطیب نہیں بلکہ خطیب ساز تھے۔ ان کا طرزِ خطابت منفرد تھا اور ان کے بیسیوں شاگردوں نے اس طرزِ خطابت کو اپنا کر میدانِ خطابت میں اپنے استاد اور مربی کے نام کو باقی رکھا ہوا ہے۔ توحید و سنت کا پرچار ان کا خصوصی موضوع تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ مارچ ۲۰۱۰ء

Pages