حق سے انکار اور مظلوم کی بدعا ، قدرتی آفات کا ایک سبب
ہم آج کل بارشوں کی کثرت اور بادلوں کے پھٹنے کے بعد سیلابی صورتحال سے دوچار ہیں اور قوم کے بہت سے طبقات و افراد بالخصوص دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ اپنے متاثرہ بھائیوں اور خاندانوں کی مدد میں مصروف ہیں۔ یہ قدرتی آفات کہلاتی ہیں جو اچانک غیبی ماحول سے سامنے آتی ہیں اور انسانی وسائل اور صلاحیتیں اکثر اوقات ان کا سامنا کرنے اور رکاوٹ ڈالنے میں ناکام ہو جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
برادرِ عزیز مولانا عبد القدوس قارنؒ کی وفات اور سلسلۂ تعزیت
برادرِ عزیز حضرت مولانا حافظ عبد القدوس خان قارن استاذ الحدیث جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ آج نمازِ جمعہ سے قبل دل کے اچانک دورہ سے جانبر نہ ہو سکے اور خالقِ حقیقی کے حضور پیش ہو گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کی نمازِ جنازہ آج عشاء کی نماز کے بعد دس بجے جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ادا کی جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ مکمل تحریر
اصحابِ رسولؐ سے عقیدت قرآن کریم کی نظر میں
میں تو اپنے بھائی مولانا احسان اللہ فاروقی رحمہ اللہ تعالیٰ کا گلشن دیکھنے آتا ہوں، کبھی کبھی موقع مل جاتا ہے اور اپنے بھتیجوں کو کام کرتا دیکھنے آتا ہوں۔ خوشی ہوتی ہے، گلشن کو دیکھ کر بھی، ساتھیوں کا تعلق دیکھ کر بھی، اپنے بھتیجوں کی محنت دیکھ کر بھی، دل خوش ہو جاتا ہے اور تھوڑی سی چارجنگ مل جاتی ہے۔ میں تو اس نیت سے آتا ہوں۔ اور پھر سب سے بڑی بات کہ یہ سیدنا حضرت عثمان بن عفانؓ کی یاد میں محفل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علماء اور عوام میں پیدا ہوتی دوری اور اُس کا حل
محترم مولانا کفایت اللہ ہمدانی صاحب کا شکرگزار ہوں، وقتاً فوقتاً یاد کرتے ہیں، آپ حضرات سے ملاقات ہو جاتی ہے، اپنے محترم بزرگ حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی رحمہ اللہ تعالیٰ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے اور کچھ وقت ایک اچھے ماحول میں گزر جاتا ہے۔ آج بھی اسی سلسلہ میں حاضری ہوئی ہے، مجھے گفتگو کے لیے جو موضوع دیا گیا ہے کہ علماء اور عوام الگ الگ کیوں نظر آتے ہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سورۃ البقرۃ: ہدایت یافتہ لوگوں کی علامات و صفات
سورۃ البقرۃ کی ابتدائی چند آیات میں نے تلاوت کی ہیں، ترجمہ تو بعد میں کروں گا، لیکن تھوڑا سا پس منظر عرض کر دوں۔ اس سورۃ کا نام سورۃ البقرۃ ہے اور قرآن کریم کی سب سے طویل سورۃ ہے۔ مدنی سورۃ ہے یعنی مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے، تقریباً اڑھائی پارے کی سورۃ ہے یہ۔ بقرہ گائے کو کہتے ہیں۔ اس میں گائے کا ایک قصہ ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کا، جس میں بنی اسرائیل کو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
۷۸واں یومِ آزادی اور اس کے قومی تقاضے
اگست کا مہینہ شروع ہے۔ اگست کے مہینے میں عام طور پر ملک میں تقریبات اور پروگرامات آزادی کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو ہم نے انگریزوں کی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی اور پاکستان کے نام سے ایک نئی ریاست بھی قائم ہوئی تھی۔ تو ۱۴ اگست کو پورے ملک میں اور دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی رہتے ہیں، خوشی کا دن منائیں گے۔ یہ آزادی کیا ہے، قوموں کی آزادی کیا ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
یومِ آزادئ وطن کا پیغام
کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے اور ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے حصار میں زندگی گزار رہے ہیں۔ نعمتوں کے بارے میں اللہ رب العزت نے اپنے کچھ ضابطے اور اصول بیان کیے ہیں جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں استعمال کرتے ہوئے ذہن میں رکھنے چاہئیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی دی ہوئی نعتموں کے بارے میں ہم سے کیا تقاضا کرتے ہیں، اس حوالے سے چند باتیں عرض کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مغربی تمدن اور علاقائی ثقافتوں کے درمیان اسلامی تعلیمات کی معتدل راہ
حافظ عمر فاروق بلال پوری: استاذ جی، ایک طرف مغربی کلچر جو آزادی کے نام پر بے حیائی اور خاندانی نظام کی تباہی کا سبب بن رہا ہے، اور دوسری طرف جہالت پر مبنی فرسودہ رسم و رواج، ظلم، جبر، اور انسانی حقوق کی پامالی کو غیرت کا نام دیتے ہیں، تو ان دونوں انتہاؤں سے بچ کر قرآن و سنت کی معتدل راہ کیا ہو سکتی ہے؟ مولانا زاہد الراشدی: پہلی بات تو یہ ہے کہ مذہب اور کلچر میں فرق کیا ہے؟ مکمل تحریر
القدس اور پاکستان کی ذمہ داری
میں شکرگزار ہوں پنجاب یونیورسٹی کا اور شعبۂ علومِ اسلامیہ کا، کہ القدس کے اہم ترین مسئلے پر اصحابِ فکر و دانش کی اس محفل میں مجھے بھی شرکت کا موقع فراہم کیا، بہت سے اصحابِ دانش کے ارشادات سنے، کچھ عرض کرنے کا موقع مل رہا ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائیں اور ہم سب کے لیے اس مسئلے پر اپنا رخ، اپنا کردار اور اپنا عمل صحیح کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ مکمل تحریر
عزتِ نفس اور حیثیتِ عُرفی کا قانونی تحفظ
پہلی بات یہ کہ آپ حضرات اہلِ علم ہیں، علماء کرام ہیں، دنیا کے ہر ملک میں دو قانون موجود ہیں، کوئی دنیا کا ملک ایسا نہیں ہے جہاں یہ دو قانون نافذ نہ ہوں، ہمارے ہاں بھی ہیں۔ ایک کو کہتے ہیں ہتکِ عزت سے تحفظ کا قانون۔ ملک کا ہر شہری، اس کی عزت ہے، کسی بھی شہری کی عزت پر کوئی بھی ہاتھ ڈالے، ملک کا قانون اس پہ حرکت میں آتا ہے اور شہری کی عزت کا تحفظ کرتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متفرق رپورٹس
ہمارے حکمرانوں میں جو بھی پالیسی میکر اور اسٹیک ہولڈر ہیں ان سب سے میری گزارش ہے کہ وہ جس منصب پر بھی ہیں وہ منصب سنبھالتے ہوئے انہوں نے جو حلف اٹھایا تھا اگر وہ اسے ایک بار پھر پڑھ لیں اور اس کے دائرہ میں اپنے فرائض سرانجام دینے کا عزم کر لیں تو ہم قومی وحدت و سلامتی اور سربلندی و خودمختاری کے لیے صحیح ٹریک پر آ سکتے ہیں، یہ دین و شریعت کا تقاضہ بھی ہے اور ملک کے دستور و قانون کی صدا بھی ہے، مکمل تحریر
سورۃ الفاتحہ: ترجمہ و مفہوم اور برکات
آج ہم قرآن کریم کے ترجمہ اور ہلکی پھلکی تشریح کے سلسلہ کا آغاز کر رہے ہیں۔ قرآن کریم میں ہم سب سے پہلے سورۃ الفاتحہ پڑھتے ہیں۔ اس کا نام ہی فاتحہ ہے کہ اس سے قرآن کریم کی تلاوت کا آغاز ہوتا ہے۔ سورۃ الفاتحہ میں نے آپ کے سامنے پڑھی ہے، ترجمہ بعد میں کروں گا، لیکن اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں اور بہت تفصیلات ہیں، اس کی فضیلت پر، اہمیت پر، اس کی برکات پر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دعاؤں سے پہلے اسباب اختیار کرنے کی ضرورت
آج عید الاضحیٰ کا دن ہے، قربانیاں ہوں گی، عید پڑھی جائے گی، حرمین شریفین میں حاجی حضرات نے مناسکِ حج ادا کیے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا حج قبول فرمائیں، دنیا بھر کی امت کی قربانیاں قبول فرمائیں۔ لیکن یہ دن ہمیں کیسے ماحول میں مل رہا ہے؟ ایک طرف تو وطنِ عزیز پاکستان کو اللہ رب العزت نے بھارتی جارحیت کے مقابلے میں سرخروئی نصیب فرمائی ہے، عزت نصیب فرمائی ہے، وقار نصیب فرمایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عقیدۂ ختمِ نبوت کے تین اہم دائرے
ابھی حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے ۲۸ ستمبر ۲۰۲۵ء کو منی اسٹیڈیم گوجرانوالہ میں عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی عظیم الشان ختمِ نبوت کانفرنس کی تیاریوں کا ذکر کیا ہے اور آپ سب حضرات کو اس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ میں بھی ان کی تائید کرتے ہوئے اور کانفرنس میں شرکت اور اس کی کامیابی کے لیے بھرپور جدوجہد کی گزارش کرتے ہوئے چند معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
فہمِ قرآن کریم کے بنیادی اصول
گزشتہ گفتگو میں قرآن کریم کے تعارف پر، موضوع پر، اور ایجنڈے پر چند باتیں تمہیدی طور پر عرض کی تھیں۔ اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے آج قرآن کریم کی تشریح اور تفسیر کے حوالے سے چند باتیں اسی لہجے میں عرض کروں گا کہ قرآن کریم کی تشریح، تفسیر اور وضاحت کی اتھارٹی کون ہے اور کس کا حق ہے کہ قرآن کریم کی وضاحت کرے، کوئی بات سمجھ میں نہ آرہی ہو تو تشریح کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امت کی فکری رہنمائی کے تقاضے
یہ فکری ضروریات کیا ہوتی ہیں؟ دینی ضروریات تو ہم سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی باتیں، فکری ضروریات کیا ہوتی ہیں؟ امت میں پیدا ہونے والے فتنوں سے آگاہی اور ان سے بچنے کے راستے تلاش کرنا، یہ فکری رہنمائی کہلاتی ہے۔ حالات پر نظر رکھنا، آنے والے خطرات کو محسوس کرنا اور نشاندہی کرنا کہ یہ خطرہ آ رہا ہے، متعلقہ لوگوں کو آگاہ کرنا، اس کا حل نکالنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن کریم کا تعارف اور موضوع کیا ہے؟
ادارۃ الحسنات کا تقاضہ ہے کہ قرآن کریم کے ترجمہ اور تشریح کے حوالے سے کچھ تسلسل کے ساتھ پروگرام کا آغاز کیا جائے۔ ہمارے عزیز حافظ عمر فاروق بلال پوری میرے بہت اچھے ساتھی ہیں، ساری ٹیم ما شاء اللہ بڑی متحرک اور اچھی ٹیم ہے۔ آج اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے، اب میری عمر کا یہ مرحلہ ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ شروع کریں گے تو پتہ نہیں مکمل ہو گا یا نہیں ہو گا، لیکن کارِ خیر ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ہدایت و گمراہی کے راستے اور انسان کا اختیار
اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ میں نے انسان کو پیدا کیا ہے، بہت سی صلاحیتیں دی ہیں، اور دونوں گھاٹیوں میں جدھر بھی جانا چاہے، جانے کا اختیار دیا ہے۔ ’’الم نجعل لہ عینین‘‘ کیا ہم نے انسان کو دو آنکھیں نہیں دیں؟ ’’ولسانا‘‘ زبان دی ہے، ’’شفتین‘‘ ہونٹ دیے ہیں گفتگو کے لیے، ’’وھدیناہ النجدین‘‘ دو گھاٹیاں ہیں، ہم نے دونوں دکھا دی ہیں۔ اِدھر جاؤ تمہاری مرضی، اُدھر جاؤ تمہاری مرضی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خیانت کاروں کی طرفداری کے معاشرتی نقصانات
قرآن کریم میں ایک جگہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ ’’ولا تکن للخائنین خصیما‘‘ اور ’’ولا تجادل عن الذین یختانون انفسھم‘‘ (النساء ۱۰۵، ۱۰۷) جس کا سادہ سا ترجمہ یہ ہے کہ آپؐ خیانت کاروں کی طرفداری نہ کریں اور ان کی وکالت نہ کریں۔ مفسرین کرامؒ نے اس کا شانِ نزول ایک خاص واقعہ کو قرار دیا ہے جو مختلف محدثین کرام اور مفسرین عظامؒ نے اپنے اپنے انداز میں ذکر فرمایا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیرتِ ابوہریرہؓ میں طلبہ کے لیے رہنمائی
قرونِ اولیٰ میں، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے میں اور تابعین و اتباعِ تابعین کے دور میں جو واعظ ہوتاتھا اس کو ’’القاص‘‘ کہتے تھے، قصہ گو۔ عمومی اصطلاح قاص کی ہے، قصے بیان کرنے والا۔ ہم تو خطیبِ پاکستان کہتے ہیں، وہ القاص کہتے تھے۔ بات سمجھنے سمجھانے کے لیے واقعہ ایک بہت مؤثر ذریعہ ہے، اور جو بات واقعے سے سمجھ میں آتی ہے وہ لیکچر سے نہیں سمجھ میں آتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’فاسٹ انفرمیشن‘‘ کا دور اور اہلِ دانش کی ذمہ داری
آج جوہر آباد میں ختمِ نبوت کانفرنس میں شرکت کے لیے حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم کی معیت میں جا رہے تھے، راستے میں مغرب کی نماز مرکز اہلِ سنت میں پڑھنے کا ارادہ ہوا، نماز پڑھی، حضرت مولانا محمد الیاس گھمن صاحب کے ساتھ نشست ہوئی، چائے وائے پی، اور اب تھوڑی سی بات آپ حضرات کے ساتھ، مولانا نے فرمایا کہ ملاقات ہو جائے۔ ابلاغ کے ہر زمانے میں اپنے ذرائع رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انفرادیت اور تنہائی پسندی کا فروغ پذیر طرزِ زندگی
ایک تو بات یہ ہے کہ قرآن کریم نے فحشاء کے حوالے سے دو باتوں سے منع فرمایا ہے: (۱) ایک ہے بے حیائی کا ارتکاب، (۲) اور ایک ہے بے حیائی کے ایک واقعہ کی اشاعت۔ قرآن پاک کا ارشاد ہے ’’ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین اٰمنوا لھم عذاب الیم فی الدنیا والاٰخرۃ‘‘ (النور ۱۹) جو فاحشہ کے کسی واقعے کی اشاعت میں دلچسپی رکھتے ہیں، فرمایا، ان کے لیے عذابِ الیم ہے۔ واقعات ہوتے ہیں، واقعے کو پھیلانا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ٹرانسجینڈر پرسنز ایکٹ اور اس کے مفاسد
ٹرانسجینڈر پرسن کے حوالے سے ایک قانون پر کچھ دنوں سے دینی حلقوں میں بحث چل رہی ہے۔ یہ قانون ۲۰۱۸ء میں قومی اسمبلی اور سینٹ میں پاس ہوا تھا، جس کا عنوان تھا ’’خواجہ سرا اور اس قسم کے دیگر افراد کے حقوق کا تحفظ‘‘۔ خواجہ سرا ملک میں موجود ہیں، بہت تھوڑی تعداد میں، لیکن ہیں۔ کچھ اوریجنل ہیں، کچھ تکلف کے ساتھ ہیں، اور کچھ کو تکلف کے ساتھ اب بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والے
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’ولکل امۃ اجل‘‘ (الاعراف ۳۴) ہر امت کی ایک میعاد ہے، اپنا وقت گزارنا ہے، اور اپنا وقت گزار کر ہر قوم نے ہر طبقے نے ہر گروہ نے ہر شخص نے چلے جانا ہے۔ اس کے بعد کیا ہو گا؟ یہاں تو یہ فرمایا کر ہر شخص، گروہ، امت ہر ایک نے چلے جانا ہے، اپنے وقت پر۔ جب اس کا وقت آئے گا تو وقت میں آگا پیچھا نہیں ہو گا، نہ ایک گھڑی پہلے، نہ ایک گھڑی بعد۔ پھر کیا ہو گا؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
محمد سلیم سلیمانی کا انٹرویو
ناظرین، حالیہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے فلسطین کا مسئلہ کافی اٹھا ہوا ہے اور فلسطین کے اندر اسرائیلیوں کی طرف سے ایک بربریت کا سماں بنا ہوا ہے، جس پر مسلم امت کے اندر ایک بے چینی سی پائی جا رہی ہے، اور آج ہمارے پروگرام کے اندر موجود ہیں حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، جن کا فلسطین کے مسئلے پر کافی گہرا مطالعہ ہے، آج ہم ان سے اسی حوالے سے گفتگو کریں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا قاضی شمس الدینؒ
حضرت مولانا قاضی شمس الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی حضرت انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے خاص شاگردوں میں سے تھے، دیوبند کے زمانے کے۔ بہت بڑے مدرس تھے، اس میں کوئی شک نہیں، استاذ المدرسین تھے اپنے دور میں۔ گوجرانوالہ میں ہمارے نصرۃ العلوم کے پہلے شیخ الحدیث وہ تھے۔ پہلے انوار العلوم میں پڑھاتے تھے، انوار العلوم کے شیخ الحدیث تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ اور جامعۃ الرشید گوجرانوالہ
جامعۃ الرشید گوجرانوالہ کے کیمپس میں حاضری میرے لیے سعادت کی بات بھی ہے اور خوشی کی بات بھی۔ اس حوالے سے بھی کہ میں اپنے پرانے گھر میں آیا ہوں، اور اس حوالے سے بھی کہ میرا یہ گھر نئے گھر کی شکل میں تعلیمی ماحول میں بہت پیشرفت کر رہا ہے اور اس کے پروگرامات سے میں واقف رہتا ہوں اور خوش ہوتا رہتا ہوں۔ جامعۃ الرشید تعلیمی میدان میں جو بھی خدمات سرانجام دے رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
تعلیم کے ساتھ تربیت کی ضرورت
بیت النور میں وقتاً فوقتاً حاضری ہوتی رہتی ہے، اساتذہ سے اور بالخصوص مولانا محمد عثمان آفاق سے ملاقاتیں اور رابطہ رہتا ہے، اور بیت النور کی تعلیمی سرگرمیاں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، دعا ہے کہ اللہ پاک ترقیات، برکات، ثمرات اور قبولیت سے بہرہ ور فرمائیں۔ پہلی بات تو میں وہی کروں گا جس کے لیے ہم آئے ہیں۔ گوجرانوالہ سے علماء کی جماعت ہے جو سہ روزہ پر آئی ہے اور اس عمل میں ہم آپ کے پاس بھی آئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متفرق رپورٹس
علامہ زاہد الراشدی نے جمعیت اہلسنۃ والجماعۃ کے راہنماؤں اور کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ امن و امان کو قائم رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور قانون کی بالادستی قائم رکھنے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیدنا عمر فاروقؓ کا عالمگیر تعارف: چند شہادتیں
نئے ہجری سال کا آغاز ہو گیا ہے، محرم الحرام شروع ہے اور ہمارے ہاں محرم الحرام کا آغاز سیدنا حضرت فاروق اعظمؓ کی شہادت کے تذکرے سے ہوتا ہے کہ یکم محرم ان کا یوم شہادت ہے۔ ان کا عقیدت کے ساتھ، محبت کے ساتھ تذکرہ کیا جاتا ہے اور ان کی اتباع اور پیروی کا عزم کیا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے چند باتیں عرض کرنا چاہوں گا ۔ سیدنا فاروق اعظمؓ کے ساتھ ایک تو ہم مسلمانوں کی عقیدت اور محبت ہے الحمد للہ۔ مکمل تحریر
اسلامی نظام اور آج کے دور میں اس کی عملداری
آج کی ہماری گفتگو کا عنوان ہے ’’اسلامی نظام کی اہمیت اور ضرورت‘‘۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلامی نظام کیا ہے؟ اللہ رب العزت نے جب نسلِ انسانی کو اس زمین پر آباد کرنے کا آغاز کیا اور حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام کو زمین پر اتارا تو اس وقت ایک بات فرمائی تھی کہ ’’اھبطوا منھا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون‘‘ (البقرۃ ۳۸) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عصری نظامِ تعلیم کی محدودیّت پر ایک نظر
حضرات مشائخ عظام، اساتذہ کرام اور عزیز طلبہ، جامعہ کے منتظمین کا شکر گزار ہوں کہ مجھے یہاں حاضر ہونے کا، بزرگوں کی زیارت کا، طلبہ سے ملاقات کا، کچھ کہنے سننے اور بہت سی پرانی یادیں تازہ کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔ حضرت حافظ صغیر احمد صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کے زمانے میں ان کی دکان اور جامعہ میری جولانگاہ ہوتی تھی، میں یہاں بہت دفعہ آیا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن مجید صرف ماضی کی نہیں مستقبل کی بھی کتاب ہے
ایک بات جو ہم رواروی میں بسا اوقات کہہ دیتے ہیں، یہ ہے کہ مدارس میں قدیم تعلیم ہوتی ہے اور سکول کالج یونیورسٹی میں جدید تعلیم ہوتی ہے۔ بظاہر تناظر یہی ہے۔ مجھے جدید تعلیم سے انکار نہیں ہے، کالج یونیورسٹی کی تعلیم کا میں بھی قائل ہوں اور اسے قوم اور سوسائٹی کی ضرورت سمجھتا ہوں، لیکن اس تقابل میں قرآن و سنت کی تعلیم کو قدیم کہنے میں مجھے اشکال ہے۔ علماء بیٹھے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سیدنا امام حسنؓ کے اُسوہ میں امت کے لیے رہنمائی
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں شکرگزار ہوں حضرت مولانا عزیر الحسن صاحب اور ان کے رفقاء کا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اس پروگرام میں شرکت کا موقع عنایت فرماتے ہیں۔ اس ادارے میں حاضری اصلاً تو حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب نور اللہ مرقدہ کے ساتھ نسبت کو تازہ رکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ حضرت علامہ خالد محمود صاحبؒ کے ساتھ میرا بچپن سے تعلق رہا ہے، یہاں بھی، برطانیہ میں بھی، اسفار میں بھی، تعلیمی کاموں میں بھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آزادی اور وطن کی دو مستقل نعمتیں
آزادی مستقل نعمت ہے اور وطن ایک مستقل نعمتِ خداوندی ہے۔ آزادی کیا ہے؟ اس کے حوالے سے ایک واقعہ عرض کرنا چاہوں گا جو قرآن پاک نے ذکر کیا ہے۔ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی پرورش وقت کے سب سے بڑے اور جابر حکمران فرعون کے گھر میں ہوئی تھی۔ ان کا بچپن اور لڑکپن فرعون کے گھر کے ایک فرد کے طور پر گزرا تھا۔ شاہی محلات تھے، شاہی پروٹوکول اور شاہی سہولتیں تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
متفرق رپورٹس
آج بدھ کو صبح جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں استاذ محترم حضرت مولانا زاہد الراشدی ترجمہ قرآن کریم و تفسیر کا سبق پڑھا چکے تھے کہ وفاق المدارس العربیہ کے صوبائی ناظم مفتی عبد الرحمٰن صاحب کی طرف سے میسج وصول ہوا کہ وطن عزیز پر بھارت کے بزدلانہ حملوں اور بالخصوص دینی مدارس اور مساجد کو نشانہ بنانے کی وحشیانہ کارروائیوں کے باعث وفاق المدارس العربیہ کے ملحقہ مدارس میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دعا و اذکار اور توبہ و استغفار کا سلیقہ
حافظ منیر احمد صاحب محترم نے میرے عمرے کا حوالہ دے ہی دیا ہے تو میں یہ بتا دوں کہ یہ عمرہ مجھے آپ لوگوں کے اس محلے نے ہی کرایا ہے۔ صوفی محمد صادق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو آپ جانتے ہیں، ان کے بیٹے عبد الرؤف صاحب مرحوم، ان کے بیٹے مولانا مفتی نعمان صاحب، جو ہمارے شہر گوجرانوالہ کے بڑے فعال اور متحرک علماء میں سے ہیں، ان کے بھائی مفتی محمد اسامہ میرے شاگرد ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاحاتِ حج
گفٹ یونیورسٹی کی انتظامیہ اور اسلامک اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کا شکرگزار ہوں کہ ’’حجِ بیت اللہ‘‘ کے حوالہ سے منعقدہ اس سیمینار میں اربابِ علم و دانش، اساتذہ، طلبہ اور طالبات کے سامنے اس اہم ترین دینی فریضہ کے بارے میں کچھ گذارشات پیش کرنے کا موقع فراہم کیا، اللہ پاک جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ ’’حجِ بیت اللہ‘‘ اسلام کی بنیادی عبادات و فرائض کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دارالعلوم دیوبند کی علمی و فکری خدمات
بزمِ شیخ الہندؒ گوجرانوالا کا شکر گزار ہوں کہ وقتاً فوقتاً اپنے بزرگوں کی یاد میں اور اپنے ماضی کو دہرانے میں کچھ نہ کچھ تقریبات اور پروگراموں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں آج کے موضوع پر کہ دارالعلوم دیوبند کا ۱۸۶۶ء میں ۳۰ مئی کو آغاز ہوا تھا، اس مناسبت سے دارالعلوم کی علمی، تعلیمی، دینی، تہذیبی اور فکری خدمات پر اس گفتگو کا اہتمام ہوا ہے، یہ ایک بہت لمبا موضوع ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دینی مدارس کے موجودہ نظام و نصاب کا پس منظر
ہمارے اس نصاب کو درسِ نظامی کا نصاب کہا جاتا ہے۔ درس نظامی کیا ہے؟ یہ ملّا نظام الدین سہالویؒ کی طرف منسوب نصاب ہے۔ آپؒ حضرت شاہ ولی اللہؒ کے معاصرین میں سے ہیں۔ لکھنؤ کے علاقے میں سہالہ قصبہ کے رہنے والے تھے، پرانے علمی خاندان کے بزرگ تھے۔ ”فرنگی محل“ لکھنؤ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی ایک تجارتی کوٹھی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نئی نسل کی بے راہروی، علماء کرام کا اتحاد، سماجی خدمت کے کام
پہلی بات تو یہ کہ ہمارے مفتی رضوان عزیز صاحب گفتگو کے آخر نوجوانوں کی گمراہی اور ان کو گمراہ کرنے والوں کے حوالے سے بہت اچھی باتیں فرما رہے تھے، میں اس کے ایک پہلو پر بات کروں گا۔ ہمیں اپنی نئی نسل کے نوجوانوں سے شکایت ہے کہ ان میں بے راہ روی بڑھتی جا رہی ہے، اس کی وجہ سوشل میڈیا ہے یا کچھ اور، لیکن اگر آپ ذرا کھلے دل کے ساتھ اس پر غور کریں کہ اصل قصور کس کا ہے؟ مکمل تحریر
بنیانٌ مرصوص کے ماحول میں یومِ تکبیر
الحسنات میڈیا گوجرانوالہ کا شکر گزار ہوں کہ یومِ تکبیر کے اہم موقع پر مجھے اپنے سامعین اور ناظرین سے کچھ باتیں کرنے کا موقع فراہم کیا۔ الحسنات میڈیا کے ساتھ تعلق تو بہت پرانا ہے، حافظ عمر فاروق صاحب ہمارے بہت اچھے ساتھی ہیں، بہت اچھا کام کر رہے ہیں، دینی اعتبار سے، ملی اعتبار سے، اور ان ساتھیوں میں سے ہیں جن کو کام کرتے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’ابراہیمیّت‘‘ کی دعوت اور اسلامی تعلیمات
ہمارے ملک اور خطے کے علاقے کے حالات جیسے ہیں وہ آپ سب کے سامنے ہیں۔ لیکن اس دوران ایک اہم واقعہ ہوا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کیا ہے اور اس سے صورتحال میں جو تبدیلی آ رہی ہے اس کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ ہم تو کافی عرصہ سے پڑھ رہے ہیں لیکن یہ بات اب منظر عام پر آ رہی ہے جسے ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کہتے ہیں اور اس پر امریکہ کا صدر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
’’ابراہیمی‘‘ ہونے کی قرآنی تعریف
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ یہ آواز تو کافی عرصے سے لگ رہی ہے، اب ذرا عالمی سطح پر بلند ہوئی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نسبت رکھنے والے مذہب اکٹھے ہو جائیں، یہ بڑی پرانی آواز ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حیاتِ مبارکہ میں جزیرۃ العرب میں جن مذاہب سے واسطہ تھا وہ سب ابراہیمی کہلاتے تھے۔ مشرکینِ مکہ اور مشرکینِ عرب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان، عالمِ اسلام کے لیے نعمتِ الٰہی
تمام محترم بزرگان کرام بالخصوص صاحبزا سید افتخار الحسن شاہ صاحب، صاحبزادہ محمد رفیق مجددی صاحب اور میرے بزرگ حضرت مولانا عبدالعزیز چشتی صاحب جن کی سرپرستی میں ہم نے زندگی بھر کام کیا ہے، اور تمام معزز شرکائے محفل! عالمی ادارہ تنظیم الاسلام کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس خوبصورت محفل میں حاضری اور کچھ سننے کہنے کا موقع فراہم کیا، اللہ پاک آپ کی اس کاوش کو قبول فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قومی وحدت اور دفاع کے چند تاریخی دن
آج پوری قوم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سراپائے تشکر و امتنان ہے کہ اللہ رب العزت نے پاکستان اور پاکستانی قوم کو، ہمارے حکمرانوں اور افواج کو، بلکہ تمام طبقات کو ایک بہت بڑی آزمائش میں سرخرو فرمایا ہے۔ یہ بڑی آزمائش آ گئی تھی لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے پوری قوم کو یہ توفیق عطا فرمائی کہ وہ بنیانٌ مرصوص ہو کر سامنے آئی اور اللہ پاک نے اس کی لاج رکھی۔ بنیان مرصوص کا لفظی ترجمہ تو سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جہاد فی سبیل اللہ کی آزمائش
اللہ رب العزت نے غزوہ تبوک اور اس میں حیلے بہانے کر کے پیچھے رہ جانے والوں کا تذکرہ تفصیل سے فرمایا ہے۔ تبوک میں دنیا کی بڑی طاقت روم سے مقابلہ تھا جو اس وقت کی سپر پاور تھی اور سب سے بڑی عیسائی سلطنت تھی، اسے آج کا امریکہ سمجھ لیں۔ روم کا بادشاہ قیصر روم بڑا باجبروت حکمران تھا۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ قیصرِ روم شام کے علاقے میں آیا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ضروریاتِ دین کے مختصر کورسز کی ضرورت
فہمِ دین کورس کا آغاز ہو رہا ہے، پہلے تو اس کے بارے میں مختصر بات کروں گا کہ فہمِ دین کیا ہے۔ دین کو سمجھنا یعنی عقائد و احکام، جائز و ناجائز، حلال و حرام، یہ سمجھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور اس کے مختلف دائرے ہیں۔ ایک دائرہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے کہ دین کا پورا علم حاصل کرے، جتنا بھی دین کا علم وہ حاصل کرے گا اتنا ہی اس کے لیے بہتر ہوگا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بین المذاہب ہم آہنگی کی حدود، سیرتِ طیبہ کی روشنی میں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دورۂ عرب ممالک کے دوران ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ کی جو آواز لگائی ہے اس سے پورے خطہ بلکہ عالمِ اسلام کے حالات میں نئی تبدیلیوں کے اثرات نظر آنے لگے ہیں اس لیے اس حوالہ سے کچھ گذارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ’’ابراہیمی مذاہب‘‘ کی بات خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی چل رہی تھی کہ مشرکینِ مکہ کے علاوہ یہودی اور عیسائی بھی اپنی نسبت ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
عدمِ برداشت کے اسباب اور حل
محترم جناب حافظ منیر احمد خان ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز، سندھ یونیورسٹی، جام شورو اور ان کی ٹیم کا شکرگزار ہوں کہ آج کے اس اہم ترین سمپوزیم، جو پاکستانی معاشرے میں غصہ و عدمِ برداشت اور اس کے علاج و حل کے موضوع پر منعقد ہو رہا ہے، اس میں مجھے بھی شرکت کا موقع عنایت فرمایا۔ میرا وہاں حاضری کا پروگرام تھا لیکن جنگی صورتحال کی وجہ سے نہیں ہو سکی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر