بیانات و محاضرات

قوم کی حالت پر توجہ نہیں دی جا رہی!

میں اس احتجاجی مظاہرہ کے اہتمام پر جمعیۃ علماء اسلام گوجرانوالہ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ قوم کے دکھ درد میں شریک ہونا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ اور الحمد للہ ہر موقع پر، کسی بھی حوالے سے قوم پر کوئی مشکل آئی ہے، مصیبت آئی ہے، علماء نے ہمیشہ قوم کا ساتھ دیا ہے۔ اور آج بھی یہ ملک میں جو مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان ہے ہم اس پر احتجاج کر رہے ہیں کہ حکومت کو جو ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۲۶ء

دعا کی برکتیں اور علم کے تقاضے

جامعہ بیت النور میں وقتاً فوقتاً حاضری کا موقع ملتا ہے۔ مولانا عثمان آفاق، مولانا محمد اویس اور ان کے دوستوں کی محنت دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور دل سے بے ساختہ دعائیں نکلتی ہیں، اللہ پاک قبول فرمائیں اور برکات و ترقیات سے بہرہ مند فرمائیں۔ مولانا عثمان صاحب کا تقاضہ ہے کہ میں کبھی کبھی آیا کروں اور علماء اور اساتذہ و طلبہ سے کچھ گفتگو ہو جایا کرے۔ میں بھی تعلیمی لائن کا آدمی ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جون ۲۰۲۲ء

امت کے لیے رسولِ رحمتؐ کی دردمندی

طبرانی کی روایت ہے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اللہ رب العزت سے چار باتوں کی گزارش کی، اللہ پاک نے تین قبول فرما لیں، ایک کے بارے میں فرمایا کہ نہیں۔ میں نے گزارش کی کہ یا اللہ میری امت ساری کی ساری اکٹھی کہیں تباہ نہ ہو جائے۔ فرمایا، نہیں ہو گی۔ عذاب آتے رہیں گے، کبھی ادھر کبھی ادھر، لیکن امت باقی رہے گی، امت بحیثیت امت تباہ نہیں ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۲۰۲۳ء

پاکستان کی اصل منزل!

آج چودہ اگست ہے، پاکستانی قوم پاکستان میں، اور دنیا میں جہاں کہیں بھی پاکستانی شہری بستے ہیں، اپنا آزادی کا اور قیامِ پاکستان کا دن منا رہے ہیں۔ اس دن پاکستان قائم ہوا تھا، اس دن ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی۔ اور ایک آزاد خودمختار قوم کی حیثیت سے، ملک کی حیثیت سے، ریاست کی حیثیت سے، ہم نے نئی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ یہ دن ہر سال ہم مناتے ہیں اور یہ قوموں کے دن ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۲۰ء

مہمان کا احترام اور دینی و ملی حمیت

کلنٹن صاحب پاکستان میں پتہ نہیں کن مقاصد کے لیے آرہے ہیں، ان کے اپنے مفادات ہیں، لیکن ہمیں یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ تم کوئی بات نہ کہنا، وہ ہمارے مہمان ہیں۔ بھئی ہم کب انکار کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مہمان نہیں ہیں، لیکن میں ایک اسلامی روایت کا حوالہ ضرور دینا چاہوں گا کہ مہمان کی مہمان نوازی اپنی جگہ لیکن اسلام کی غیرت اپنی جگہ۔ ضرور مہمان نوازی کرو، احترام کرو اور پروٹوکول دو، ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۰ء

بامقصد زندگی عقیدے کے بغیر ممکن نہیں ہے

انسان دنیا کی جاندار چیزوں میں سب سے زیادہ عقل مند، ہوش مند، باصلاحیت اور سب سے زیادہ متحرک مخلوق ہے۔ اور اس کے اِن سارے اوصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو اپنا تعارف حاصل ہو کہ میں کون ہوں؟ مجھے کس لیے بنایا گیا ہے؟ بنانے والا کون ہے؟ میرا ایجنڈا کیا ہے؟ میرے اندر یہ ساری باتیں کیوں فِٹ کی گئی ہیں؟ اتنا وسیع نیٹ ورک مجھے کیوں دیا گیا ہے؟ اس تعارف کے بغیر انسان اس کائنات میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اگست ۲۰۱۴ء

ملکی دستور، عسکری قوت اور تہذیبی تحفظ کے حوالے سے مکاتب فکر کے مطالبات

شہر کی دینی جماعتوں نے مشترکہ طور پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ (۱) دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کا اعلان کیا جائے (۲) سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہ کیے جائیں (۳) بسنت کی سرپرستی نہ کی جائے (۴) اور تفریحی میلے کے نام پر یہ جوے کا کاروبار بند کیا جائے۔ ان میں سے ایک مسئلہ پر تو وضاحت آگئی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے جو دستور معطل کیا ہے، اس میں اسلامی دفعات، ختمِ نبوت کے حوالے سے دفعات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۰۰ء

چیچنیا کے مسلمانوں کی جدوجہد اور ہمارے حکمران

آپ حضرات خدا کے گھر میں بیٹھے ہیں، جمعۃ المبارک کا دن ہے، یہ بتائیں کہ چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں اور مجاہدوں کی حمایت انصاف کی بات ہے یا ظلم کی؟ آخر ان کا قصور کیا ہے اور روس کس جرم میں چیچنیا کے مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہا ہے، اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں؟ اللہ تعالیٰ چیچنیا کے مسلمانوں کو استقامت عطا فرمائے، انہیں سلامت رکھے، اور اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی نصیب فرمائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ فروری ۲۰۰۰ء

میٹرک کے نصاب سے سورہ توبہ کا ترجمہ نکالنے کی مہم

چند دن ہوئے مجھے ایک دوست نے اسلام آباد سے فون کیا اور پوچھا کہ مولانا کیا آپ کے علم میں ہے کہ ہماری وزارتِ تعلیم میں ایک مسئلے پر غور ہو رہا ہے کہ سرکاری سکول کے نصاب میں سے سورہ توبہ کو نکال دیا جائے۔ سورہ توبہ وہ سورت ہے جو ساری کی ساری جہاد کے احکامات پر، جہاد کی تحریض پر، مسلمانوں کو جہاد کے لیے ابھارنے پر اور منافقین کی منافقت کے بیان پر ہے۔ میں نے پوچھا کیوں؟ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲٠٠٠ء

خفیہ نکاح کے جواز کا عدالتی فیصلہ

آپ حضرات نے یہ خبر پڑھی ہو گی کہ ہماری وفاقی شرعی عدالت نے باقاعدہ فیصلہ دیا ہے کہ ایک مرد و عورت بند کمرے میں آپس میں خفیہ طور پر نکاح کا معاہدہ کرتے ہیں اور گواہ بھی نہیں رکھتے، تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے، نکاح ہوگیا ہے، گواہوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہم اب یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ خفیہ نکاح جائز ہوگیا ہے اور نکاح کے لیے جو کم از کم دو گواہوں کی شرط تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جنوری ۲۰۰۰ء

ہماری ہدایات کا سرچشمہ کون ہے؟

آج کل ہم نے ایک مسئلہ بنا لیا ہے کہ ہم پر جو مغرب کی طرف سے اعتراض ہوتا ہے ہم اس کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اجتہاد کے نام سے۔ مغرب والے اعتراض کرتے ہیں کہ وراثت میں بیٹے اور بیٹی کا حق برابر ہونا چاہیے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! آپ اجتہاد کیوں نہیں کرتے، اجتہاد کر کے آپ یہ حق برابر کیوں نہیں کرتے؟ مغرب کا تقاضا ہے کہ بیوی کو نصف جائیداد ملنی چاہیے، اس پر کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۲۰۰۰ء

سودی نظام کے خاتمے کے لیے عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ

آج سپریم کورٹ آف پاکستان نے جو فیصلہ کیا ہے، پاکستان کا کوئی مسلمان ایسا نہ ہوگا جو اس پر خوش نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ان ججوں کو جزائے خیر دے۔ وفاقی شرعی عدالت کو، سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینک کو، جنہوں نے یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے اور ایک امید کی راہ دکھائی ہے۔ ابھی رکاوٹیں تو باقی ہیں اور نظر ثانی کی اپیل ہوگی، لیکن اصولی فیصلہ تو بہرحال آگیا ہے، الحمد للہ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۱۹۹۹ء

جہادِ افغانستان کے علمبرداروں سے مغربی دنیا کی نا انصافی

آج دیکھیے کہ افغانستان کے ہمارے مجاہد بھائی گھیرے میں ہیں۔ ان کے خلاف بھی الزام یہ ہے کہ ورلڈ کلچر کو قبول نہیں کر رہے، اقوامِ متحدہ کے منشور پر دستخط نہیں کر رہے، آج کے جو عالمی تقاضے ہیں انہیں قبول نہیں کر رہے۔ یہ عورت کے پردے کی بات کیوں کرتے ہیں؟ یورپ کی جو تمام بے حیائی اور فحاشی ہے، یہ یہاں پر اسے قبول کیوں نہیں کر رہے؟ دنیا میں ایک خطہ ایسا کیوں ہے جو انسانی خواہشات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ دسمبر ۱۹۹۹ء

القدس: تاریخی پس منظر اور دعویدار اقوام

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ۲۰۱۸ء کے دوران امریکہ نے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا تھا، انہی دنوں مجلس صوت الاسلام کراچی کے زیر اہتمام ایک نشست میں اس پر گفتگو کا موقع ملا جس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ بیت المقدس، جسے القدس بھی کہتے ہیں اور عبرانی زبان میں اسے یروشلم کہا جاتا ہے، فلسطین کا وہ تاریخی شہر ہے جس پر صدیوں سے بین الاقوامی تنازعہ جاری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۱۸ء

انسانی حقوق کے نام پر خاندانی نظام کی بربادی

یہ بات کہنے کی نہیں ہے، منبرِ رسول پر بیٹھا ہوں، لیکن بات سمجھنے کی غرض سے بات کرنی پڑتی ہے۔ مغرب نے اخلاقیات اور جنسی آزادی میں جو انارکی پھیلائی ہے، اکثر مغربی ممالک میں یہ قانون ہے کہ مرد اور مرد آپس میں اگر جنسی تعلقات قائم کرنا چاہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ جس لواطت پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو زمین سے اکھاڑ کر آسمان سے واپس اُلٹا پٹکا دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ نومبر ۱۹۹۹ء

دینی منصوبہ جات کی معاونت میں ثروت مند علاقوں کا کردار

گلگت، بلتستان، شمالی علاقہ جات، آپ حضرات جانتے ہیں کہ پاکستان کا یہ سب سے آخری حصہ ہے جو چین کے ساتھ ملتا ہے۔ وہاں ہمارے اہلِ سنت بھائی ہمیشہ مظلومیت کا شکار رہے ہیں، اور آج بھی ہیں۔ این جی اوز کی سرگرمیوں کا وہاں بہت وسیع دائرہ ہے۔ وہاں بین الاقوامی تنظیمیں مالی امداد، فنڈز اور ہسپتالوں کے قیام کے ذریعے لوگوں کو اپنے زیر اثر لانے کے لیے مسلسل مصروفِ عمل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ نومبر ۱۹۹۹ء

مومن کی معراج اور بیت المقدس کی پکار

آج کے دن دنیا بھر میں معراج کا ذکر ہوتا ہے، ہمارا ہاں بھی جمعۃ المبارک کے اور دیگر اجتماعات میں، دروس میں بھی، اخبارات و رسائل میں بھی۔ اس میں ہمارے لیے لمحۂ فکریہ دو باتیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معجزہ میں، معراج کے اِس سفر میں، ہمارے لیے فکر اور غور کی دو باتیں ہیں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ جناب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ جو سفر کروایا، ہمارے لیے اس میں اللہ تعالیٰ نے کیا دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ نومبر ۱۹۹۹ء

اقتدار کی کرسی اور اللہ کا قانون

ان پچاس سالوں میں بحیثیت قوم ہم نے کرسی کی جنگ اور پیسے کی لوٹ مار کے سوا کوئی اور کام بھی کیا ہے؟ طریقۂ واردات ہر شخص کا اور ہر گروہ کا مختلف ہے، ورنہ پچاس سال میں ہمارے ہاں خود ہمارے ہی ووٹوں اور نعروں سے، ہماری حمایت سے بننے والی حکومتوں نے، اقتدار میں آنے والے لوگوں نے، پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ہمارے نمائندگان نے لوٹ کھسوٹ اور اقتدار و کرسی کی خاطر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ اکتوبر ۱۹۹۹ء

فرقہ وارانہ فساد اور انتظامیہ کی نااہلی

ملک بھر میں فرقہ وارانہ دہشت گردی جو ہو رہی ہے اس پر ملک کا ہر شہری پریشان ہے۔ ابھی کل ہمارے ہاں ایک شیعہ راہنما قتل ہوگئے ہیں، ضلعی امن کمیٹی کے ممبر تھے، معروف وکیل اعجاز حسین رسول نگری۔ اس سے پہلے کئی سنی راہنما قتل ہوئے۔ یہ شیعہ سنی حوالے سے جو فرقہ وارانہ طرفین کا قتل ہے، میں اس سے پہلے بھی اس کے متعلق کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ اس میں فریقین بھی ملوث ہوں گے لیکن ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اکتوبر ۱۹۹۹ء

انکارِ حدیث کا فتنہ اور جدید دانش کا فکری تضاد

گزشتہ دنوں کویت میں، جو ہمارا مسلمان بھائی ملک ہے، وہاں انکارِ حدیث کے حلقے اس بنیاد پر سامنے آئے ہیں کہ صرف قرآن کریم ہی کافی ہے، حدیث و سنت کی ضرورت نہیں ہے، حدیث اختلاف اور جھگڑے پیدا کرتی ہے اس لیے اسے چھوڑ کر صرف قرآن کریم پر ایمان لائیں۔ قرآن اور عقل، بس یہی دو باتیں ہماری ضرورت ہیں۔ یعنی قرآن کریم کا جو معنی ٰ ہماری سمجھ میں آجائے ٹھیک ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ ستمبر ۱۹۹۹ء

دینی مدارس کے اساتذہ کرام سے چند باتیں

میرے لیے یہ سعادت کی بات ہے، جامعہ بیت النور میں حاضری ہوتی رہتی ہے اور استفادہ بھی کرتا ہوں، کچھ کاموں میں شریک بھی ہوتا ہوں۔ آج تعلیمی سال کا آغاز ہے جو اپنی برادری اساتذہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ استاذ ایک برادری ہے۔ آپ اساتذہ کرام ہیں ما شاء اللہ اور میری بہنیں اور بیٹیاں فاضلات اور معلمات ہیں۔ تدریسی ماحول کی ایک مجلس سے ہم تعلیمی سال کا آغاز کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ مارچ ۲۰۲۱ء

جہادِ فلسطین کا حالیہ دَور اور اہلِ پاکستان کی ذمہ داری

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ اس وقت عالمِ اسلام کے بہت سے مسائل میں سب سے فرنٹ پر فلسطین کا مسئلہ، بیت المقدس کا مسئلہ، فلسطینیوں کا مسئلہ، اس وقت پوری دنیا میں زیربحث بھی ہے اور تمام لوگ اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ فکرمند بھی ہیں اپنے اپنے دائرے میں۔ فلسطین کی یہ موجودہ لڑائی جو ہے، یہ تو تقریباً‌ سو سال پہلے شروع ہوئی تھی، جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے فلسطین کو اپنی تحویل میں لیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جون ۲۰۲۴ء

برطانوی استعمار اور برصغیر کا دینی تعلیمی نظام

مولانا عبد الرؤف فاروقی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ جب سے یہ کام کر رہے ہیں مجھے بھی انہوں نے ساتھ رکھا ہوا ہے اور میں حاضر ہوتا رہتا ہوں کہ شرکت ہو جاتی ہے اور حصہ پڑ جاتا ہے۔ اللہ پاک ان کی مساعی کو قبولیت و برکات سے بہرہ ور فرمائیں اور ہماری شرکت و حاضری کے تسلسل کو قائم رکھیں۔ آج ایک خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ بزرگوں سے سنا کرتے ہیں کہ خیر اور نیکی کا کوئی کام اگر اگلی نسل سنبھال لے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اپریل ۲۰۲۶ء

ابلاغ کے ذرائع، دعوت کا اُسلوب اوراسلامی نظام کی بنیادیں

جامعۃ الرشیدیۃ، چوک فاروق اعظم، لودھراں میں ۲۶ مارچ (۲۰۲۶ء) سے خطابت کورس طلبہ اور علماء کے لیے شروع ہے جو ۳ اپریل تک جاری رہے گا۔ میں اس کورس کے اہتمام پر مولانا سعید احمد شاہ کاظمی کو مبارکباد دیتا ہوں۔ یہ اچھی کاوش ہے، اس قسم کے کورس وقتاً‌ فوقتاً‌ ہوتے رہنے چاہئیں جو ہمارے نوجوان علماء اور فضلاء کو آج کے تقاضوں، اسلوب اور طریقِ دعوت و تبلیغ سے آگاہ کرتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۲۶ء

پاک افغان کشیدگی: تین گزارشات

افغانستان اور پاکستان کی جنگ شروع ہو گئی ہے، اللہ پاک معاف فرمائے۔ تین باتیں گزارش کروں گا: (۱) ایک بات تو یہ کہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت، سرحدوں کا پہرا، سرحدوں میں مداخلت روکنا پاک افواج کی ذمہ داری ہے اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔ یہ مداخلت انڈیا سے ہو تب، افغانستان سے ہو تب، یا بسا اوقات ایران سے بھی شکایت ہو جاتی ہے۔ ملک کی سرحدوں کی حفاظت، ملک کے اندر دخل اندازی کو روکنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ فروری ۲۰۲۶ء

صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظامؓ کا تذکرہ

حضرت مولانا علیم الدین شاکر کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس مبارک محفل میں حاضری، علماء کرام کی زیارت، آپ حضرات سے ملاقات اور کچھ عرض کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اللہ رب العزت ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہننے سننے کی توفیق عطا فرمائیں، اور دینِ حق کی جو بات علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ پاک عمل کی توفیق سے بھی نوازیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جون ۲۰۲۵ء

سماج کی تعلیمی ضروریات اور ہمارے دینی مدارس

دارالعلوم انوریہ کے سالانہ اجتماع میں بیٹھے ہیں، اس حوالے سے کہ ایک دینی درس گاہ کا پروگرام ہے، بچے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں، دینیات پڑھتے ہیں، یہ ایک مستقل حوالہ ہے۔ اور یہ ایک مستقل حوالہ ہے کہ ہمارے چند بزرگوں کی یادگار ہے یہ۔ حاجی عبد الکریم صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بزرگ تھے، قاری عبد اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ہمارے بزرگ تھے، ان کا صدقہ جاریہ ہے اور ان کی یادگار ہے یہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ اپریل ۲۰۲۲ء

حقوقِ انسانی کا تصور قرآن و حدیث کی روشنی میں

پاکستان شریعت کونسل پنجاب بالخصوص ہمارے نائب امیر حضرت مولانا قاری عبید اللہ عامر صاحب کا اور ان کی ٹیم کا شکرگزار ہوں کہ اس محفل کا انعقاد کیا، آپ حضرات سے ملاقات اور کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کا موقع عنایت کیا۔ اللہ رب العزت ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں اور دنیا اور آخرت کے مقاصد کے لیے بارآور فرمائیں۔ عنوان جیسا کہ آپ کو بتایا گیا ہے، مولانا امجد محمود معاویہ صاحب نے بتایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ نومبر ۲۰۲۳ء

امام بخاریؒ کا رسالہ ’’الوُحدان‘‘ اور تعلیم و تعلّم کی نبویؐ ہدایت

حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ، ان کی معروف کتاب تو ’’الجامع الصحیح‘‘ ہے جس کو ہم بخاری شریف کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں ہیں ان کی، مختلف پہلوؤں پر، ان میں سے ایک رسالہ ہے ’’الوُحدان‘‘۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ رسالہ لکھا، وہ صحابیؓ جن سے ایک ہی روایت ہے۔ ان صحابہؓ کے نام اکٹھے کیے ہیں جن سے صرف ایک روایت ہے۔ بعض سے ہزاروں ہیں، بعض سے سینکڑوں ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ دسمبر ۲۰۲۵ء

مصالحت کی خاطر قرآنی احکام میں ردوبدل کا مطالبہ

جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ وسلم کو مکہ مکرمہ کی تیرہ سالہ زندگی میں، نبوت کے بعد، جن معاملات کا سامنا کرنا پڑا، جو حالات پیش آئے، ان میں سے ایک آدھ کا ذکر کیا تھا۔ بیسیوں نوعیت کی باتیں ہیں، ان میں سے ایک بات کا آج ذکر کروں گا۔ مخالفت بھی ہوتی تھی، اذیتیں بھی ہوتی تھیں، آپؐ کے ساتھیوں کو مارا بھی جاتا تھا، توہین بھی ہوتی تھی، استہزاء بھی ہوتا تھا، ہر حربہ استعمال کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم فروری ۲۰۱۹ء

ہمارے ملی و قومی مسائل اور اسلام آباد کے علماء کرام

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میں جمعیت اہل سنت، ہمک، ماڈل ٹاؤن کا اور خطیب محترم مولانا حافظ سید علی محی الدین صاحب کا شکرگزار ہوں کہ میری اسلام آباد حاضری کے موقع پر آپ حضرات کے ساتھ اس ملاقات کا اہتمام فرمایا۔ آپ حضرات سے کچھ مسائل میں تبادلۂ خیالات بھی ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری ملاقات اور حاضری کو قبول فرمائیں اور ہماری جو دینی و ملی جدوجہد ہے اسے بار آور فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ جنوری ۲۰۲۶ء

شاہ ولی اللہؒ اور علمِ حدیث

محدثین کرامؒ حدیث میں تین باتیں شامل کرتے ہیں، پوری تعریف یہی ہے، ’’قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم او فعلہ او تقریرہ‘‘۔ لیکن ایک بات اور بھی محدثین نے شامل کی ہے جو عام طور پر ہم ذکر نہیں کرتے۔ کسی صحابی کا قول حضورؐ کی وفات کے بعد جو غیر قیاسی ہو، وہ مرفوع حدیث پر محمول ہوتا ہے۔ صحابی نے بات کی ہے، حضورؐ کے بعد کی ہے، قیاسی نہیں ہے، یعنی اس کا تعلق وحی سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲۰۲۶ء

سورج اور چاند کی گردش کا اسلامی اعتبار

سال تین قسم کے ہیں۔ ایک شمسی اعتبار سے: جنوری، فروری، مارچ، سورج کی گردش کے حساب سے یہ سال۔ ایک قمری اعتبار سے: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، یہ چاند کی گردش کے اعتبار سے۔ ایک دیسی مہینوں کا: پوہ، ماگھ، بیساکھ، یہ ہمارے دیسی، موسموں کے اعتبار سے۔ ہمارے ہاں تینوں مروج ہیں۔ زمینداروں میں عام طور پہ یہ موسمی سال جو ہوتا ہے، یہ پوہ مہینہ ہے، یہ ماگھ کا ہے، یہ ہاڑ کا ہے، یہ جیٹھ کا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ دسمبر ۲۰۲۲ء

مغربی فکر و فلسفہ کی ترویج اور نتائج قرآن و حدیث کی روشنی میں

شیخ الہندؒ اکادمی واہ کینٹ میں وقتاً‌ فوقتاً‌ حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے اور میں شکرگزار ہوں اکادمی کے منتظمین کا کہ ایک بار پھر موقع ملا اور ہم آپس میں کچھ دینی، علمی، فکری مسائل پر گفتگو کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائیں، اور جو بات بھی علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ پاک عمل کی توفیق سے نوازیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جنوری ۲۰۲۴ء

سیاست میں علماء کرام کا کردار

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ علماء کرام کا سیاست سے کیا تعلق ہے اور سیاست میں علماء کرام کا کیا کردار ہے؟ اس حوالے سے مختصراً‌ دو تین پہلوؤں سے بات کرنا چاہوں گا۔ ایک تو اس لیے کہ علماء نمائندگی کرتے ہیں حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی۔ اور حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوات والتسلیمات کی تعلیمات اور پروگرام بنیادی طور پر زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے تھا اور اس میں سیاست بھی ایک اہم رول تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ فروری ۲۰۲۴ء

فضلائے مدارسِ دینیہ سے وابستہ توقعات اور ان کی سماجی حیثیت

دینی مدارس اور ان کے فضلاء کے حوالے سے گفتگو اور مکالمہ کا یہ پروگرام ’’ادارۃ العلم والتحقیق، کراچی‘‘ کے زیر اہتمام ترتیب دیا گیا ہے، جو اعلیٰ تعلیم اور ٹیکنالوجی کے لیے کام کر رہا ہے۔ ہمارے فاضل دوست ڈاکٹر سید عزیز الرحمٰن صاحب کی نگرانی میں یہ ایک شعبے میں مفید اور مسلسل کام ہو رہا ہے، جن کے پیچھے حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحب نقشبندیؒ کی نسبت اور ان کا روحانی فیض، اور ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کا فکر ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ جون ۲۰۲۱ء

اسلامی نظامِ سیاست کے خدوخال عصری تناظر میں

سب سے پہلے تو اس بات پر خوشی کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ ’’الکہف‘‘ کے اس ادارے اور نظم کے تحت بچیاں اس قدر تعداد میں دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، الحمد للہ، اللہ پاک مزید برکات سے نوازیں اور ترقیات و ثمرات سے بہرہ ور فرمائیں۔ پھر یہ ذوق کہ دین اور دینی تقاضے، اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے ماحول اور آج کی جو عصری صورتحال ہے، اس سے واقف ہونے کا شوق، یہ بھی دین کا تقاضہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جنوری ۲۰۲۶ء

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطالبہ اور پاکستان کا اصولی موقف

آج مجھے گفتگو کرنی ہے اس سوال پر کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بات ہو رہی ہے، پاکستان کا اصولی موقف کیا ہونا چاہیے اور کیا ہے؟ اور معروضی حالات میں پاکستان کا مفاد کیا ہے؟ اس پر مجھے تھوڑی سی بات کرنی ہے لیکن مجھے اس سے پہلے، مسئلے کی نوعیت کیا ہے، اسرائیل کے قیام کے پس منظر پر تھوڑی سی گفتگو کرنا ہو گی، اس کے بعد موجودہ معروضی صورتحال سامنے آئے گی اور پھر میں اپنی رائے کا اظہار کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جنوری ۲۰۱۹ء

انسانی حقوق کا عالمی دن اور ہمارے تحفظات

آج دس دسمبر ہے جو پوری دنیا میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہیومن رائٹس چارٹر پر مختلف نشستوں میں ہم نے بات کی ہے، آگے بھی کرتے رہیں گے ان شاء اللہ، لیکن آج ایک اصولی بات کہ ہیومن رائٹس چارٹر کیا ہے، اس کے ساتھ ہمارے معاملات کیا ہیں، آج ذرا ایک جنرل قسم کی بات کروں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۲۵ء

ضلع دیر بالا کی ’’ختمِ نبوت کانفرنس‘‘

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ دیر کے عوام کو، علماء کرام کو، دینی کارکنوں کو مبارک باد دیتا ہوں اور شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے عظیم الشان ختمِ نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا، جو آج کے وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو، اپنے عوام کو، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی، حضورؐ کی محبت اور عقیدت، بالخصوص عقیدۂ ختمِ نبوت کے ساتھ شعوری وابستگی کے لیے محنت کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اکتوبر ۲۰۲۲ء

اجتہاد کا مسیحی دنیا سے مستعار تصور

سب سے پہلے تو آپ سب حضرات کو اس ذوق پر مبارکباد دینا چاہوں گا کہ مسائل کی تحقیق کا ذوق ہے، جو آج کل کم ہوتا جا رہا ہے، الحمد للہ اس ذوق نے آپ کو اکٹھا کیا ہوا ہے۔ کچھ مسائل جو ہمیں دینی حوالے سے پیش آتے ہیں، جن پر گفتگو ہوتی ہے، مباحثہ ہوتا ہے، ان پر تحقیق کر لی جائے، اپنا مطالعہ صحیح کر لیا جائے، مکمل کر لیا جائے، معلومات کی ترتیب صحیح کر لی جائے، تاکہ متعلقہ مسئلے پر بات اعتماد سے کر سکیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مئی ۲۰۱۶ء

نشرِ خبر اور اسلامی تعلیمات

بخاری شریف میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، ایک مرحلے میں، کچھ دن ایسا ہوا کہ حضورؐ کو اپنے اوپر کچھ اثرات محسوس ہوتے تھے۔ ظاہری بات یہ ہوتی تھی کہ کھانا کھایا ہے [پھر بھول کر] دوبارہ مانگا ہے [بتایا جاتا کہ] ابھی تو آپ نے کھانا کھایا تھا [فرماتے] اچھا۔ کھانا نہیں کھایا [عرض کیا جاتا کہ] کھانا کھا لیں [فرماتے کہ] کھا لیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۲۴ء

علم کی حفاظت کے دو پہلو

بخاری شریف کی ’’کتاب العلم‘‘ میں ہمارے ایک قدیمی بزرگ حضرت امام ربیعۃ الرائے رحمہ اللہ تعالیٰ کی ایک نصیحت اور ایک ارشاد امام بخاریؒ نے نقل کیا ہے کسی ترجمۃ الباب میں۔ امام ربیعہ رائےؒ کا تعارف یہ ہے کہ یہ حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاذِ محترم ہیں اور حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے بھی استاذِ محترم ہیں، اس کے بعد کچھ اور کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ دسمبر ۲۰۲۵ء

حلال اور حرام طے کرنے کے اختیار میں اسلامی اور مغربی فلسفے کا جوہری فرق

بیت النور میں مختلف اوقات میں حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے۔ آپ حضرات سے گفتگو بھی ہوتی ہے اور مولانا عثمان آفاق صاحب اور ان کی پوری ٹیم کا شکرگزار ہوں کہ اساتذہ کے ساتھ، طلبہ کے ساتھ ملاقات کا اور گفتگو کا موقع پیدا کر لیتے ہیں۔ آج بھی حاضری ہوئی ہے تو مشورہ یہ ہوا کہ، ایک گفتگو میری آپ کی چل رہی ہے ترتیب سے، اسی کا ایک حصہ عرض کروں گا۔ یاد ہو تو میں نے آپ کے سامنے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۲۰۲۳ء

علماء دین کی تین اہم ذمہ داریاں

احادیث مبارکہ کے بارے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کے خطاب میں یہ ہدایت آپ پڑھ چکے ہیں کہ ’’فلیبلغ الشاہد الغائب‘‘ جو باتیں تم نے مجھ سے سنی ہیں انہیں آگے پہنچاؤ! یعنی ارشادِ نبویؐ یہ ہے کہ قرآن کریم کی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور اعمال و سنن بھی امت کے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں اپنے آپ تک محدود نہ رکھیں بلکہ آگے جہاں تک ہو سکے پہنچائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ نومبر ۲۰۲۵ء

علماء کرام کے لیے انگلش لینگوئج اور ٹائم مینجمنٹ کورسز کی ضرورت

میں سب سے پہلے تو اِس کورس کے اِس مرحلے کے اختتام پر مفتی خالد محمود صاحب کو، مفتی شمس الدین صاحب کو، اور تمام اساتذہ اور تمام طلبہ کو مبارکباد دینا چاہوں گا۔ میں یہاں اپنا ادارہ سمجھ کے آتا ہوں، میرا ادارہ ہے، آتا رہتا ہوں اور آتا رہوں گا ان شاء اللہ۔ آج بہت باتیں کرنے کو جی چاہ رہا تھا لیکن میں سمیٹ رہا ہوں، وقت نہیں ہے، پھر کبھی سہی ان شاء اللہ، لیکن ایک دو باتیں صرف ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اکتوبر ۲۰۲۵ء

’’نفاذِ شریعت: کیا، کیوں اور کیسے؟‘‘

تنظیم اسلامی کے قائدین بالخصوص محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب اور حافظ عاکف سعید صاحب کا شکرگزار ہوں کہ آپ حضرات کے ساتھ اس ملاقات میں مجھے بھی شرکت کا شرف بخشا۔ ’’نفاذِ شریعت: کیا، کیوں اور کیسے؟‘‘ اس پر مختصراً‌ چند باتیں عرض کرنا چاہوں گا۔ (۱) ’’کیا‘‘ کی بات تو واضح ہے۔ شریعت کیا ہے؟ قرآن پاک، سنتِ رسول، خلافتِ راشدہ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور صحابہ کرامؓ نے جو معاشرت کا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جون ۲۰۰۹ء

حقوق اللہ، حقوق العباد اور حقوق النفس میں توازن

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں علمی دنیا کی ایک بڑی شخصیت ہیں، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما، حدیثِ رسول کے بڑے راویوں میں سے ہیں۔ پانچ چھ جو بڑے راوی ہیں نا، ان میں سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما؛ حدیث، علم، دین، ان کا اوڑھنا بچھونا تھا، علمی دنیا کے آدمی تھے۔ ان کے والد محترم حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ دسمبر ۲۰۲۴ء

دینی جدوجہد کا تسلسل اور اہلِ دین کی استقامت

اسلامک رائٹرز موومنٹ کا یہ اجلاس، میرے لیے اس میں شرکت سعادت کی بات ہے، دوستوں سے ملاقات ہو رہی ہے اور حالات سے آگاہی ہو رہی ہے۔ جب یہ فورم وجود میں آیا تھا، مجھ سے بات ہوئی تھی تو میں یہ سمجھا تھا کہ جیسے یہ فورم بنا کرتے ہیں، بہت بنے ہیں، بہت چلے ہیں، تاریخ کی نذر ہو گئے ہیں، یہ بھی ایک فورم ہے اچھا، جذبے کے ساتھ بن رہا ہے۔ لیکن مجھے یہ خوشی پہلی اس بات کی ہے کہ تسلسل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۳ فروری ۲۰۲۴ء

’’احکامِ شرعیہ میں حالات و زمانہ کی رعایت‘‘

میاں محمد نعمان صاحب کا اور مولانا سعید عاطف صاحب کا شکرگزار ہوں کہ آپ حضرات کے ساتھ ملاقات کا، بہت سے ارشادات سننے کا، کچھ باتیں کہنے کا موقع عنایت فرمایا۔ میں صرف یہ حضرت مولانا محمد تقی امینی رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے بارے میں دو تین باتیں عرض کروں گا سرسری طور پر۔ پہلی بات یہ ہے کہ خود میری زندگی کا فکری رخ متعین کرنے میں جن تین چار کتابوں کا دخل ہے ان میں مولانا کی یہ کتاب بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ دسمبر ۲۰۲۴ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter