بیانات و محاضرات

دینی مدارس کا آزادانہ کردار اور بیرونی ایجنڈا

آج آپ نے اخبارات میں پڑھا ہوگا، ہمارے صدرِ مملکت جناب پرویز مشرف نے فرمایا ہے کہ ہمارا دینی مدرسوں کو کنٹرول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، یہ غلط فہمی ہے، ہم مدرسوں کو کنٹرول نہیں کرنا چاہتے، مدرسوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، البتہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ مدرسے اجتماعی دھارے میں شامل ہوں اور مدرسوں میں جہاں قرآن کریم پڑھایا جاتا ہے وہاں سائنس بھی پڑھائی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ نومبر ۲۰۰۱ء

حق و باطل کے معرکوں میں شکست اور فتح

مدینہ منورہ سے شام کی طرف تین ہزار کا لشکر نکلا حضرت زید بن حارثہؓ کی قیادت میں۔ مولانا شبلی نعمانیؒ اپنی تصنیف ’’سیرت النبیؐ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ شرحبیل بن عمرو ایک لاکھ کا لشکر لے کر موطا کے مقام پر انتظار میں کھڑا تھا۔ ایک لاکھ وہ تھے اور قیصرِ روم خود بھی اسی علاقے میں کچھ فاصلے پر ایک لاکھ کے لشکر کے ساتھ موجود تھا کہ ضرورت پڑی تو میں بھی میدان میں آجاؤں گا۔ زید بن حارثہؓ نے جب یہ منظر دیکھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۶ نومبر ۲۰۰۱ء

جیسا دودھ ویسا مکھن!

آج ہم دنیا بھر کے مسلمان کس چیز کے ضرورتمند ہیں؟ آج ہمارے مانگنے کی چیز یہ ہے کہ یا اللہ! ہمیں تھوڑی سی غیرت دے دے۔ حمیت اور غیرت نام کی کوئی چیز ہم مسلمانوں میں نہیں رہی۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ارشاد گرامی کے حوالے سے عرض کروں گا۔ مسلم شریف کی روایت ہے ’’المسلم اخو المسلم لا یظلمہ ولا یسلمہ‘‘ کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ دسمبر ۲۰۰۱ء

ملتِ اسلامیہ کی پستی اور اس کے اسباب

روایت ہے مؤطا امام مالک کی، راوی ہیں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، اور ارشادِ گرامی ہے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ فرمایا کہ یاد رکھو! ’’ما نقض قوم العہد الا سلط اللہ علیہم عدوا‘‘ جو قوم بھی عہد توڑ دے، ایک قوم نے وعدہ کیا ہو اور وہ یہ وعدہ توڑ دے، اُس پر اللہ کی طرف سے دشمن کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔ ذرا تھوڑا سا توقف کر کے غور فرمائیے کہ کیا ہم نے بھی بحیثیت قوم کوئی وعدہ کیا تھا یا نہیں؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ نومبر ۲۰۰۱ء

علماء کرام اور جدوجہدِ آزادی

اگست کے دوران ملک بھر میں قومی آزادی اور قیامِ پاکستان کے حوالہ سے عمومی اور خصوصی مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے قومی آزادی کے بارے میں چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ کہ قوموں کی آزادی اور آزاد ریاست کا قیام صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ دین کا تقاضہ اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی بعثت کے مقاصد میں بھی شامل ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اگست ۲۰۲۶ء

اسلامی حکومت کی تین بنیادیں

اگست شروع ہو چکا ہے اور ہر طرف ’’یومِ آزادی‘‘ منانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جو ۱۴ اگست کو ملک بھر میں منایا جاتا ہے۔ ہم قیامِ پاکستان سے پہلے بھی یہ کہتے تھے کہ یہ وطن اسلام کے نام پر اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے قائم کر رہے ہیں جبکہ پاکستان قائم ہو جانے کے بعد بھی آٹھ عشروں سے مسلسل یہی کہے جا رہے ہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر اور اسلام کے لیے بنایا گیا ہے مگر ابھی تک ہم کہنے کے مرحلے میں ہی ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ اگست ۲۰۲۶ء

امریکہ کے بارے میں خوش فہمی یا غلط فہمی؟

امریکہ کے حادثات کے بعد صورتحال نے جو رُخ اختیار کیا ہے وہ آپ کے سامنے بھی ہے اور میرے سامنے بھی۔ ہمارے صدرِ محترم نے اُس دن ایک تقریر فرمائی ہے اور قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ہم امریکہ کو اپنے ملک میں آنے کی جو دعوت دے رہے ہیں، یا فرمائش کر رہے ہیں، یا جگہ دے رہے ہیں، یا فضا مہیا کر رہے ہیں، یا سہولتیں دے رہے ہیں، یہ دین کا تقاضا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ ستمبر ۲۰۰۱ء

’’فاعتبروا يا اولی الابصار‘‘

یہ واقعہ آپ لوگوں نے پڑھ بھی لیا ہے اور دیکھ بھی لیا ہے، اس واقعہ کے مختلف پہلو ہیں۔ ایک پہلو تو ہے انسانی جانوں کا، بے گناہ انسانی جان دنیا کے کسی حصے میں بھی ضائع ہو وہ قابلِ مذمت ہے اور قابل افسوس ہے۔ کشمیر میں ہو، فلسطین میں ہو، چیچنیا میں ہو، بوسنیا میں ہو، ہیروشیما میں ہو، ناگاساکی میں ہو، نہتے اور بے گناہ شہری دنیا کے کسی حصے میں بھی مریں، وہ قابلِ افسوس ہے اور قابلِ مذمت ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ ستمبر ۲۰۰۱ء

امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی شخصیت و خدمات

بزمِ شیخ الہندؒ گوجرانوالہ کی یہ نشست مفکرِ انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ تعالیٰ کے تذکرہ کے لیے منعقد ہو رہی ہے۔ اور آج ہم ان کے کچھ افادات، خدمات اور ان کی تعلیمات کا مختصر تذکرہ کریں گے، اپنی نسبت کو تازہ کرنے کے لیے اور ان کے علوم و افکار سے رہنمائی کے لیے دو چار باتوں کا ذکر کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ اگست ۲۰۲۳ء

مقدس شخصیات کی توہین دوہرا جرم ہے

رحمتِ کائنات فاؤنڈیشن کے سربراہ مولانا اسعد محمود مکی اور جامع مسجد خاتم النبیینؐ کے منتظمین کا شکرگزار ہوں کہ ’’تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کانفرنس‘‘ کے عنوان سے منعقدہ اس اجتماع میں مجھے بھی حاضری کی سعادت سے نوازا۔ اللہ پاک سب کو جزائے خیر عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ ابھی مولانا اسعد محمود مکی فرما رہے تھے کہ اسلام کی دعوت اور فروغ کے لیے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی اور سیرت طیبہ سے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ اگست ۲۰۲۶ء

اسلامی تعلیمات اور ملّی روایات کے بقا کی جدوجہد

پچھلے دنوں آپ نے دو اہم اعلانات پڑھے ہوں گے۔ ان میں سے ایک اعلان سرکاری دینی مدرسوں کا قیام ہے۔ ہمارے معاشرے میں جو دینی مدرسے آپ حضرات کے تعاون سے چلتے ہیں وہ کوئی سرکاری بجٹ قبول نہیں کرتے، یہ آپ حضرات کے صدقہ و خیرات سے، مالی معاونت ہو یا سامان کی شکل میں امداد ہو، یہ عوام الناس کی توجہ سے چلتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اگست ۲۰۰۱ء

کھیل اور تفریح اسوۂ نبوی کی روشنی میں

آج تفریح کے نام پر، آرٹ کے نام پر، کلچر کے نام پر، ہم خدا جانے کیا کچھ کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں جو کھیل کود کی مختلف صورتیں ہیں ان میں سے بعض ٹھیک بھی ہیں جن کا کوئی جسمانی فائدہ ہے، کوئی ذہنی فائدہ ہے، جو انسانی صحت کے لیے مفید ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسی کھیلوں میں حصہ لیا ہے۔ کھیل کود سے انکار نہیں ہے لیکن دو شرطوں کے ساتھ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۰۱ء

ووٹ کا غلط استعمال اور اس کا نتیجہ

یہ ووٹ کیا ہے؟ یہ شہادت ہے، گواہی ہے۔ یہ بات کہ میں ایک شخص کو ایک منصب کے لیے ووٹ دے رہا ہوں، یہ میری طرف سے شہادت ہے کہ میں اس شخص کو اس منصب کا اہل سمجھتا ہوں۔ ایک عوامی منصب کے لیے چار پانچ آدمی امیدوار کے طور پر کھڑے ہیں، اور میں جا کر ووٹ کی صورت میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ ان چار پانچ آدمیوں میں سے میں فلاں آدمی کو اس منصب کا اہل سمجھتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ اگست ۲۰۰۱ء

مغربی طاقتوں کو راضی کرنے کی حد

ہمارے افغانستان کے مظلوم مسلمان بھائی مسلسل آزمائش میں ہیں، مسلسل ابتلا میں ہیں، ان کا پوری دنیا نے بائیکاٹ صرف اس جرم میں کر رکھا ہے کہ وہ کہتے ہیں: ہم اسلام نافذ کر رہے ہیں، قرآن کریم کے احکامات پر عمل کر رہے ہیں۔ اور جو احکامات ہم قرآن و حدیث کی کتابوں میں پڑھتے ہیں وہ اگر دنیا میں کہیں نافذ ہیں تو وہ کابل میں ہیں، افغانستان میں ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں استقامت نصیب فرمائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ اگست ۲٠٠۱ء

فہمِ قرآن کریم کا ایک بنیادی اصول

حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا معمول تھا کہ قرآن کریم کی کسی آیت کا مفہوم و مصداق سمجھنے میں دقت پیش آتی تھی یا مغالطہ ہو جاتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے یا اس آیت پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دیکھتے تھے اور اس کے مطابق آیتِ کریمہ کا مفہوم و مصداق سمجھ جاتے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جولائی ۲۰۲۶ء

بخاری شریف کی کتاب العلم: اساتذہ کا تربیتی نصاب

اقرأ روضۃ الاطفال ٹرسٹ کے پروگراموں میں وقتاً‌ فوقتاً‌ حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے اور یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہمارے بزرگوں بالخصوص حضرت مولانا مفتی ولی حسن، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہم اللہ تعالیٰ اور دیگر بزرگوں کا لگایا ہوا یہ پودا اب تن آور درخت کی صورت میں ملک بھر میں اپنے ثمرات و فیوض کو بکھیر رہا ہے اور مولانا مفتی محمد جمیل خان شہیدؒ اور ان کے رفقاء ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ جولائی ۲۰۲۶ء

سودی نظام کے خاتمہ کے لیے حکومت کو مزید ایک سال کی مہلت

سودی نظام کے حوالے سے حکومت کو ایک سال اور مل گیا ہے، آپ نے یہ بات اخبارات میں پڑھ لی ہوگی۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو ایک سال کی مہلت دے دی ہے۔ ایک بات میں اپنے فریضے کے طور پر لازماً‌ عرض کرنا چاہوں گا، جہاں ہم نے ترپن سال انتظار کیا ہے، ایک سال اور سہی، لیکن مجھے نظر آرہا ہے کہ اگلے سال بھی یہ نہیں ہوگا۔ جہاں نیت خراب ہو کہ ہم نے یہ کام نہیں کرنا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲٠٠۱ء

انسدادِ سود کے لیے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ کمیشن کا مسودۂ قانون

آپ حضرات کو معلوم ہوگا کہ سود کے حوالے سے بات چل رہی ہے جو کہ اب تقریباً‌ آخری مرحلے میں ہے۔ گزشتہ بیس سال سے یہ عدالتی جنگ چل رہی تھی، اب سپریم کورٹ کے فل بنچ نے یہ فیصلہ دیا کہ جناب سود قرآن و سنت کے خلاف ہے، پاکستان کے دستور کے خلاف ہے، اس لیے حکومت یکم جولائی ۲٠٠۱ء سے ملک میں غیر سودی مالیاتی نظام نافذ کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ مئی ۲٠٠۱ء

نبی اکرمؐ سے منکرینِ ختمِ نبوت کے دو مطالبے

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ قیامِ پاکستان کے بعد ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے اکابر علماء کرام نے قادیانیوں کے بارے میں جو متفقہ طور پر موقف طے کیا تھا اس کی دو بنیادیں تھیں: (۱) قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیتوں کے دائرے میں شامل کیا جائے اور امت مسلمہ سے الگ ایک غیر مسلم گروہ قرار دیا جائے۔ (۲) ایک اسلامی ریاست کے نظام و انتظام میں ان کی شرکت قبول نہ کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جولائی ۲۰۲۶ء

’’لا یخافون لومۃ لآ ئم‘‘

مسلم شریف کی روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ حق کی علامات بیان فرمائی ہیں، جن میں سے ایک علامت یہ ذکر فرمائی ہے کہ قیامت تک کچھ لوگ دین پر قائم رہیں گے، حق پر قائم رہیں گے ’’لا یخافون لومۃ لآئم‘‘ کہ وہ اللہ کے دین کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کوئی پروا نہیں کریں گے۔ آج پوری دنیا پر نظر ڈال لیجیے کہ اس علامت کا سب سے بڑا مصداق کون ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ مارچ ۲٠٠۱ء

کیا انصاف اِسے کہتے ہیں؟

آپ نے اخبارات میں پڑھا ہے کہ ایرانی سفارتکار آقائے صادق گنجی کے قتل کے جرم میں جھنگ کے نوجوان حق نواز کو پھانسی دے دی گئی ہے جس پر ہنگامے جاری ہیں، اس پر میں زیادہ تبصرہ نہیں کرتا۔ ایک تو آپ حضرات اس نوجوان کے لیے دعائے مغفرت کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرمائیں، اللہ تعالیٰ اسے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ مارچ ۲۰۰۱ء

آزاد کشمیر کی صورتحال پر تشویش

ایک دو روز کے لیے مری حاضری کا موقع ملا، کل میں نے بھوربن میں عالمی تحریک خدام الدین کے سالانہ اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی، اور آج مدرسہ عربیہ اسلامیہ سنی بینک میں مری کے علماء کرام کے ایک بھرپور اجتماع میں شرکت، دوستوں سے ملاقات اور گفتگو کا شرف حاصل کیا۔ اللہ پاک حاضری کو قبول فرمائیں۔ مری کے علماء ہمیشہ دینی معاملات میں، ملی معاملات میں متحرک رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ جولائی ۲۰۲۶ء

بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سودی نظام کا تسلسل

آج پوری قوم اس مشکل میں پھنسی ہوئی ہے، ہر طرف مہنگائی کا واویلا ہے اور ہر آدمی کا گلا جکڑا ہوا ہے۔ گزشتہ دنوں میں ایک سروے رپورٹ پڑھ رہا تھا کہ ہمارے ملک میں بچہ پیدا ہوتے ہی پچیس ہزار روپے کا مقروض ہے۔ اور اگر ہمارے ملک کا قرضہ قوم پر تقسیم کیا جائے تو فی خاندان دو لاکھ روپے کا قرضہ بنتا ہے، جس قرضے نے ہمیں شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، جبکہ ہم مہنگائی میں اضافہ پر اضافہ کیے چلے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ فروری ۲٠٠۱ء

جامعہ فاروقیہ کراچی کے اساتذہ و عملہ کی شہادت

آپ حضرات نے اخبارات میں پڑھا ہوگا، اور ایسی افسوسناک خبریں ہم مسلسل پڑھتے آرہے ہیں اور خدا جانے کب تک پڑھیں گے، کراچی میں ہمارے ملک کا بہت بڑا دینی مرکز ہے جامعہ فاروقیہ، حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم ہمارے وفاق المدارس کے سربراہ ہیں، ان کا احسن کالونی میں جامعہ فاروقیہ کے نام سے بہت بڑا ادارہ ہے، وہاں کے اساتذہ دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ فروری ۲٠٠۱ء

نبی اکرم ﷺ سے دنیائے کفر کے تین مطالبات

سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ کے بزرگوں بالخصوص حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری کا شکرگزار ہوں کہ وہ مجھے میرے پرانے گھر میں کبھی کبھی یاد کر لیتے ہیں، حاضری ہو جاتی ہے، نسبت و تعلق میں تازگی آجاتی ہے اور بزرگوں اور احباب سے ملاقات ہو جاتی ہے، اللہ پاک سب کو جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ آج میں ایک اہم موضوع کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۰ جون ۲۰۲۶ء

مسلمانانِ افغانستان و پاکستان کے لیے ایک کڑی آزمائش

قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے ایک معرکے کا ذکر کیا ہے۔ جالوت اپنے زمانے کا بہت جابر حکمران تھا، اُس نے بہت بڑی قوت اکٹھی کر رکھی تھی۔ اہلِ ایمان مقابلے پر آئے، حضرت طالوتؑ مسلمانوں کے بادشاہ مقرر ہوئے۔ حضرت طالوتؑ کی فوج میں بھی بہت سے لوگ اکٹھے ہوگئے۔ جو لڑ سکتے تھے وہ بھی، اور جو نہیں لڑ سکتے تھے وہ بھی۔ جن میں لڑنے کا حوصلہ تھا وہ بھی اور جن میں حوصلہ نہیں تھا وہ بھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ جنوری ۲٠٠۱ء

حضرت مفتی شفیع عثمانیؒ اور حضرت مفتی رفیع عثمانیؒ

آج پورے ملک میں ہم اہلِ دین اور اہلِ علم صدمے سے دوچار ہیں۔ ہمارے ملک کی بہت بڑی علمی، دینی اور روحانی شخصیت حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ آج صبح ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی ہے اور کراچی میں ان کی تدفین ہوئی ہے۔ پورا ملک بالخصوص دینی اور علمی حلقے سوگوار ہیں کہ ہم ایک محترم، بزرگ، رہنما اور سرپرست شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ نومبر ۲۰۲۲ء

قانونِ توہینِ رسالت کے خلاف مہم

توہینِ رسالت کے قانون کے حوالے سے آپ حضرات جانتے ہیں کہ قوم کے جذبات کیا ہیں، لیکن غیر ملکی مفادات کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کی طرف سے وقتاً‌ فوقتاً‌ یہ شرارتیں ہوتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ ملک بھر میں ایک اشتہار شائع کیا گیا ہے کہ توہینِ رسالت کے قانون کا غلط استعمال روکا جائے ورنہ دس جنوری سے ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گا۔ اس سلسلے میں کراچی میں ایک ہنگامہ بھی ہوا ہے ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جنوری ۲۰۰۱ء

افغانستان پر عالمی پابندیاں: حکومتِ پاکستان کا موقف اور ہماری ذمہ داری

بات یہ ہے کہ حق بات جب معلوم ہو جائے تو اس کے اظہار میں بخل نہیں کرنا چاہیے۔ میں آپ کی وساطت سے اپنے حکمرانوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب آپ یہ بات خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ پابندیاں ظالمانہ ہیں، تو پھر ظالم اور مظلوم میں سے آپ کو کس کا ساتھ دینا چاہیے؟ جب یہ بات آپ پر واضح ہے کہ یہ ظلم ہے، اس کے باوجود اگر آپ نے مظلوم کی بجائے ظالم کا ساتھ دینا شروع کیا تو آپ سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ جنوری ۲٠٠۱ء

روزِ محشر ایک قوم کو بھوکا رکھنے کا سوال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت کے دن حشر کے میدان میں جب اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی، ایک بندہ پیش ہوگا، اس پر فردِ جرم پیش کی جائے اور جو جو الزامات ہوں گے وہ بیان کیے جائیں گے کہ اس نے یہ یہ کام کیے ہیں۔ ایک بات اللہ تعالیٰ خود فرمائیں گے کہ اے میرے بندے! کیا تجھے یاد ہے کہ فلاں وقت میں بھوکا تھا، میں نے تم سے کھانا مانگا تھا لیکن تم نے مجھے کھانا نہیں دیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۵ جنوری ۲۰۰۱ء

بسنت کے بارے میں صوبائی حکومت کا موقف

آج کل پورے صوبے میں، پورے علاقے میں ہم پر بسنت کا دورہ چڑھا ہوا ہے، ہم بسنت کے نشے میں مست ہیں۔ آج کے اخبارات میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ ہائیکورٹ میں ہمارے حکمرانوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نہ ہمیں بسنت پر پابندی لگانے کا اختیار ہے، نہ عدالت کو۔ پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے ہائیکورٹ میں ایک رٹ میں یہ موقف پیش کیا ہے کہ ہم بھی کسی قانون کی تحت بسنت کی راہ میں رکاوٹ نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۹ دسمبر ۲٠٠٠ء

دورہ افغانستان کے چند تاثرات

گزشتہ جمعہ کے بعد مجھے چند دن کے لیے افغانستان جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم وہاں کی صورتحال دیکھنے کے لیے گئے تھے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے، جنگ کی کیا صورت حال ہے، ہمارے افغان بھائی کس حال میں ہیں، طالبان کی حکومت کیا کر رہی ہے اور لوگوں کے معاملات کیسے چل رہے ہیں۔ لمبے چوڑے تاثرات بیان کرنے کا موقع نہیں ہے، دو تین باتیں وہاں کے حوالے سے عرض کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۸ اگست ۲٠٠٠ء

تاجروں کی طویل ہڑتال اور فوجی حکومت

ملک بھر میں ہڑتال کا مسئلہ لمبا ہوتا جا رہا ہے اور دونوں طرف سے بات انتہا پر پہنچ چکی ہے، کسی مصالحت کی صورت بھی نہیں نکل رہی۔ ایسی صورتحال میں بڑے تاجر کو تو خاص فرق نہیں پڑتا لیکن چھوٹا تاجر، متوسط طبقہ، غریب آدمی، ریڑھی بان، ان لوگوں پر بہت اثر پڑ رہا ہے، اور حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ میں اس وقت دو گزارشات پیش کرنا چاہوں گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۹ جون ۲۰۰۰ء

امتِ مسلمہ کو درپیش عالمی چیلنجز — سیرتِ طیبہ کی روشنی میں

میں سراجاً‌ منیرا سیرت انسٹیٹیوٹ ڈھاکہ کی انتظامیہ بالخصوص مولانا ابو صابر عبد اللہ صاحب کا شکر گزار ہوں کہ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالے سے منعقدہ اس آن لائن سیمینار میں مجھے بھی شریک ہونے کی سعادت بخشی، اللہ پاک جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔ اس ذوق اور محنت پر دوستوں کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ عرض کروں گا کہ عام طور پر میری ایک گزارش ہوتی ہے کہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۷ جون ۲۰۲۶ء

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی شہادت

اللہ تعالیٰ بھی ہر زمانے میں اس دور کے فتنے کے مقابلے میں اپنے آدمی کھڑے کر دیتا ہے، یہ اللہ کا نظام ہے۔ حضرت مولانا یوسف بنوریؒ نے، حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے مسلمانوں کا ایمان بچانے کے لیے پورے ملک میں انکارِ حدیث کے خلاف علمی و فکری جنگ لڑی، اور ان کے ساتھ مل کر یہ علمی و فکری جنگ لڑنے والے سب سے بڑے مجاہد کا نام مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ مئی ۲۰۰۰ء

توہینِ رسالت کے قانون کے ساتھ امتیازی سلوک

توہینِ رسالت کی سزا کے حوالے سے قانون کا قصہ کافی عرصے سے چل رہا ہے کہ ہمارے ملک میں دینی حلقوں اور عوام کے مطالبے پر یہ قانون نافذ ہے کہ جو شخص بھی قرآن کریم کی گستاخی کرے گا، یا جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے گا، یا دین کے کسی شعار کی گستاخی کرے گا، تو اس کی سزا موت ہے۔ یہ توہینِ مذہب کا قانون بھی کہلاتا ہے، توہینِ رسالت کا قانون بھی کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۸ اپریل ۲٠٠٠ء

اسلام کی اشاعت و دفاع میں میڈیا کا کردار

سوشل میڈیا، یعنی وقت کے ساتھ بات پہنچانے، سمجھانے اور دوسرے کو قائل کرنے کے جو میسر ذرائع ہوں، ان کو اپنے مشن اور اپنے کاز کے لیے استعمال کرنا، یہی سوشل میڈیا ہے۔ ہر دور کے ذرائع مختلف رہے ہیں۔ آج کے ذرائع جدید اور ترقی یافتہ ہیں، تیز رفتار ہیں، لیکن بنیادی کام یہی ہے کہ اپنی بات پہنچانا، سمجھانا، قائل کرنا اور اس کے لیے ماحول بنانا۔ یہ سوشل میڈیا، میڈیا، یا ذرائعِ ابلاغ کا بنیادی دائرۂ کار ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ ستمبر ۲۰۲۱ء

باز کو باز ہی رہنے دیجیے!

ہمارے یہ دینی مدارس آپ کے سامنے ہیں، آپ کے درمیان کام کرتے ہیں اور آپ کے تعاون سے چلتے ہیں۔ ان دینی مدارس کے بارے میں وقتاً‌ فوقتاً‌ شوشے چھوٹتے ہی رہتے ہیں اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ یہ دینی مدارس جو کام کر رہے ہیں ان پر کنٹرول حاصل کیا جائے۔ ابھی ہمارے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف صاحب کی طرف سے ایک بڑی خوبصورت سی بات سامنے آئی ہے کہ ہم دینی مدارس ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ اپریل ۲۰۰۰ء

قوم کی حالت پر توجہ نہیں دی جا رہی!

میں اس احتجاجی مظاہرہ کے اہتمام پر جمعیۃ علماء اسلام گوجرانوالہ کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ قوم کے دکھ درد میں شریک ہونا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔ اور الحمد للہ ہر موقع پر، کسی بھی حوالے سے قوم پر کوئی مشکل آئی ہے، مصیبت آئی ہے، علماء نے ہمیشہ قوم کا ساتھ دیا ہے۔ اور آج بھی یہ ملک میں جو مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان ہے ہم اس پر احتجاج کر رہے ہیں کہ حکومت کو جو ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۲۰۲۶ء

دعا کی برکتیں اور علم کے تقاضے

جامعہ بیت النور میں وقتاً فوقتاً حاضری کا موقع ملتا ہے۔ مولانا عثمان آفاق، مولانا محمد اویس اور ان کے دوستوں کی محنت دیکھ کر خوشی ہوتی ہے اور دل سے بے ساختہ دعائیں نکلتی ہیں، اللہ پاک قبول فرمائیں اور برکات و ترقیات سے بہرہ مند فرمائیں۔ مولانا عثمان صاحب کا تقاضہ ہے کہ میں کبھی کبھی آیا کروں اور علماء اور اساتذہ و طلبہ سے کچھ گفتگو ہو جایا کرے۔ میں بھی تعلیمی لائن کا آدمی ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳ جون ۲۰۲۲ء

امت کے لیے رسولِ رحمتؐ کی دردمندی

طبرانی کی روایت ہے، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اللہ رب العزت سے چار باتوں کی گزارش کی، اللہ پاک نے تین قبول فرما لیں، ایک کے بارے میں فرمایا کہ نہیں۔ میں نے گزارش کی کہ یا اللہ میری امت ساری کی ساری اکٹھی کہیں تباہ نہ ہو جائے۔ فرمایا، نہیں ہو گی۔ عذاب آتے رہیں گے، کبھی ادھر کبھی ادھر، لیکن امت باقی رہے گی، امت بحیثیت امت تباہ نہیں ہو گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ دسمبر ۲۰۲۳ء

پاکستان کی اصل منزل!

آج چودہ اگست ہے، پاکستانی قوم پاکستان میں، اور دنیا میں جہاں کہیں بھی پاکستانی شہری بستے ہیں، اپنا آزادی کا اور قیامِ پاکستان کا دن منا رہے ہیں۔ اس دن پاکستان قائم ہوا تھا، اس دن ہمیں برطانوی استعمار کی غلامی سے آزادی ملی تھی۔ اور ایک آزاد خودمختار قوم کی حیثیت سے، ملک کی حیثیت سے، ریاست کی حیثیت سے، ہم نے نئی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ یہ دن ہر سال ہم مناتے ہیں اور یہ قوموں کے دن ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ اگست ۲۰۲۰ء

مہمان کا احترام اور دینی و ملی حمیت

کلنٹن صاحب پاکستان میں پتہ نہیں کن مقاصد کے لیے آرہے ہیں، ان کے اپنے مفادات ہیں، لیکن ہمیں یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ تم کوئی بات نہ کہنا، وہ ہمارے مہمان ہیں۔ بھئی ہم کب انکار کرتے ہیں کہ وہ ہمارے مہمان نہیں ہیں، لیکن میں ایک اسلامی روایت کا حوالہ ضرور دینا چاہوں گا کہ مہمان کی مہمان نوازی اپنی جگہ لیکن اسلام کی غیرت اپنی جگہ۔ ضرور مہمان نوازی کرو، احترام کرو اور پروٹوکول دو، ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ مارچ ۲۰۰۰ء

بامقصد زندگی عقیدے کے بغیر ممکن نہیں ہے

انسان دنیا کی جاندار چیزوں میں سب سے زیادہ عقل مند، ہوش مند، باصلاحیت اور سب سے زیادہ متحرک مخلوق ہے۔ اور اس کے اِن سارے اوصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو اپنا تعارف حاصل ہو کہ میں کون ہوں؟ مجھے کس لیے بنایا گیا ہے؟ بنانے والا کون ہے؟ میرا ایجنڈا کیا ہے؟ میرے اندر یہ ساری باتیں کیوں فِٹ کی گئی ہیں؟ اتنا وسیع نیٹ ورک مجھے کیوں دیا گیا ہے؟ اس تعارف کے بغیر انسان اس کائنات میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اگست ۲۰۱۴ء

ملکی دستور، عسکری قوت اور تہذیبی تحفظ کے حوالے سے مکاتب فکر کے مطالبات

شہر کی دینی جماعتوں نے مشترکہ طور پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ (۱) دستور کی اسلامی دفعات کے تحفظ کا اعلان کیا جائے (۲) سی ٹی بی ٹی پر دستخط نہ کیے جائیں (۳) بسنت کی سرپرستی نہ کی جائے (۴) اور تفریحی میلے کے نام پر یہ جوے کا کاروبار بند کیا جائے۔ ان میں سے ایک مسئلہ پر تو وضاحت آگئی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے جو دستور معطل کیا ہے، اس میں اسلامی دفعات، ختمِ نبوت کے حوالے سے دفعات ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۰۰ء

چیچنیا کے مسلمانوں کی جدوجہد اور ہمارے حکمران

آپ حضرات خدا کے گھر میں بیٹھے ہیں، جمعۃ المبارک کا دن ہے، یہ بتائیں کہ چیچنیا کے مظلوم مسلمانوں اور مجاہدوں کی حمایت انصاف کی بات ہے یا ظلم کی؟ آخر ان کا قصور کیا ہے اور روس کس جرم میں چیچنیا کے مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہا ہے، اس لیے کہ وہ مسلمان ہیں؟ اللہ تعالیٰ چیچنیا کے مسلمانوں کو استقامت عطا فرمائے، انہیں سلامت رکھے، اور اللہ تعالیٰ انہیں کامیابی نصیب فرمائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ فروری ۲۰۰۰ء

میٹرک کے نصاب سے سورہ توبہ کا ترجمہ نکالنے کی مہم

چند دن ہوئے مجھے ایک دوست نے اسلام آباد سے فون کیا اور پوچھا کہ مولانا کیا آپ کے علم میں ہے کہ ہماری وزارتِ تعلیم میں ایک مسئلے پر غور ہو رہا ہے کہ سرکاری سکول کے نصاب میں سے سورہ توبہ کو نکال دیا جائے۔ سورہ توبہ وہ سورت ہے جو ساری کی ساری جہاد کے احکامات پر، جہاد کی تحریض پر، مسلمانوں کو جہاد کے لیے ابھارنے پر اور منافقین کی منافقت کے بیان پر ہے۔ میں نے پوچھا کیوں؟ مکمل تحریر

۲۸ جنوری ۲٠٠٠ء

خفیہ نکاح کے جواز کا عدالتی فیصلہ

آپ حضرات نے یہ خبر پڑھی ہو گی کہ ہماری وفاقی شرعی عدالت نے باقاعدہ فیصلہ دیا ہے کہ ایک مرد و عورت بند کمرے میں آپس میں خفیہ طور پر نکاح کا معاہدہ کرتے ہیں اور گواہ بھی نہیں رکھتے، تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے، نکاح ہوگیا ہے، گواہوں کی ضرورت نہیں ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہم اب یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ خفیہ نکاح جائز ہوگیا ہے اور نکاح کے لیے جو کم از کم دو گواہوں کی شرط تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ جنوری ۲۰۰۰ء

ہماری ہدایات کا سرچشمہ کون ہے؟

آج کل ہم نے ایک مسئلہ بنا لیا ہے کہ ہم پر جو مغرب کی طرف سے اعتراض ہوتا ہے ہم اس کا حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں اجتہاد کے نام سے۔ مغرب والے اعتراض کرتے ہیں کہ وراثت میں بیٹے اور بیٹی کا حق برابر ہونا چاہیے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب! آپ اجتہاد کیوں نہیں کرتے، اجتہاد کر کے آپ یہ حق برابر کیوں نہیں کرتے؟ مغرب کا تقاضا ہے کہ بیوی کو نصف جائیداد ملنی چاہیے، اس پر کہا جاتا ہے کہ مولوی صاحب ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ جنوری ۲۰۰۰ء

سودی نظام کے خاتمے کے لیے عدالتِ عظمیٰ کا فیصلہ

آج سپریم کورٹ آف پاکستان نے جو فیصلہ کیا ہے، پاکستان کا کوئی مسلمان ایسا نہ ہوگا جو اس پر خوش نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ ان ججوں کو جزائے خیر دے۔ وفاقی شرعی عدالت کو، سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینک کو، جنہوں نے یہ تاریخی فیصلہ صادر کیا ہے اور ایک امید کی راہ دکھائی ہے۔ ابھی رکاوٹیں تو باقی ہیں اور نظر ثانی کی اپیل ہوگی، لیکن اصولی فیصلہ تو بہرحال آگیا ہے، الحمد للہ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ دسمبر ۱۹۹۹ء

Pages

2016ء سے
Flag Counter