کرونا بحران کے دوران دیگر جانی و مالی نقصانات اپنی جگہ بڑے رنج و صدمہ کا باعث ہیں مگر سرکردہ علماء کرام کی یکے بعد دیگرے وفات نے صدمات کی شدت میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ علامہ ڈاکٹر خالد محمودؒ، مولانا مفتی سعید احمد پالنپوریؒ، مولانا یحیٰی محسنؒ، مولانا شاہ عبد العزیزؒ، مولانا عبد الرؤف اسلام آبادیؒ، مولانا عبید الرحمان ضیاءؒ، مولانا شمس الدین انصاریؒ بہاولپور، مولانا قاری تصور الحق مدنیؒ، مولانا مفتی محمد نعیمؒ، محترم حافظ صغیر احمدؒ لاہور، خواجہ عزیز احمد بہلویؒ، محترم ڈاکٹر عبد المقیم لاہور، مولانا غلام محمد سیالویؒ، مولانا عبد الحمید ہزارویؒ گوجرانوالہ، مولانا پیر عزیز الرحمان ہزارویؒ، مولانا پیر محمد ظاہر بکوٹیؒ، اور دیگر بہت سے اہل علم و فضل کی جدائی نے قیامت سے پہلے اس کی جھلک دکھا دی ہے۔
تفصیلی تذکرہ و تعزیت ان میں سے ہر بزرگ کا حق ہے مگر دل گرفتگی اور شدت غم کی وجہ سے حوصلہ ساتھ نہیں دے رہا جبکہ طبیعت کی ناسازی اور حالات کی ناسازگاری کے ماحول میں کہیں آنے جانے کی ہمت بھی نہیں ہے۔ اس لیے اس مختصر پیغام کے ذریعے ان بزرگوں کے متوسلین، خاندانوں اور متعلقین کے ساتھ تعزیت و رنج کے اظہار کے ساتھ دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت جانے والے سب بزرگوں کو جوار رحمت میں جگہ دیں اور جملہ پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ کو برداشت کرنے اور اپنے بزرگوں کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں۔ جو بزرگ اور احباب موجود ہیں اللہ تعالٰی انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھیں۔
اللہ رب العزت کرونا کے تمام متاثرین، مریضوں اور دیگر سب بیماروں کو صحت کاملہ سے بہرہ ور فرمائیں اور ہم سب کو خیر کی زندگی اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائیں۔ اللھم ارفع عنا الوباء والبلاء واحفظنا من کل شر و مرض، آمین یا رب العالمین۔