بین الاقوامی معاہدوں میں شریک ہونا اور ان کو ڈیل کرنا حکومتوں کا کام ہے، مگر معاہدات کے دینی و تہذیبی پہلوؤں کو ریاستی اداروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا، یہ بہرحال علماء کرام، دینی اداروں، اور علمی مراکز کی ذمہ داری ہے، جس سے مسلسل غفلت کا خمیازہ بار بار ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔