جس طرح ہمارے ہاں طلاق دیتے وقت کوئی شخص علماء سے مشورہ نہیں کرتا مگر پھنس جانے کے بعد کئی مفتیوں کے دروازے کھٹکھٹانے لگ جاتا ہے۔ اسی طرح ہمارے حکمران بین الاقوامی معاہدہ کرتے وقت آنکھیں بند کر کے دستخط کر دیتے ہیں، پھر قوم جکڑی جاتی ہے تو ادھر ادھر دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ فیا للعجب مرارا۔