اجتہاد کا اہل کون ہے؟ از امام شافعی
قیاس (اجتہاد) کرنے کا مجاز وہی ہے جو آلاتِ قیاس کا مالک ہے۔ یعنی کتاب اللہ سے واقف ہے۔ فرائض و آداب، ناسخ و منسوخ عام و خاص، نصائح و مستحبات کا عالم ہے۔ محتمل مسائل میں سنتِ رسول اللہؐ اور اجماعِ امت سے استدلال کر سکے۔ ایسا معاملہ پیش آجائے جس کا حکم کتاب اللہ میں نہیں ہے تو سنت نبویؐ اور اجماع امت پر نظر ڈالے، یہاں بھی نہ ملے تو پہلے کتاب اللہ پر قیاس کرے، پھر سنتِ رسول اللہ پر، پھر سلف صالحین کے مسلّم قول پر جس میں اختلاف نہیں۔ کسی کے لیے روا نہیں کہ ان اصولوں سے اور ان پر قیاس سے ہٹ کر دین الٰہی میں کوئی بات کہے۔ قیاس کرنے کا منصب (حق) اسی کو ہے جو گزرے بزرگوں کے طریقوں، سلف کے اقوال، امت کے اجماع و اختلاف، اور زبانِ عرب سے بخوبی واقف ہو۔ عقلِ سلیم بھی رکھتا ہو، مشتبہ امور میں قوتِ تمیز سے کام لے سکے۔ رائے قائم کرنے میں جلدباز نہ ہو۔ مخالف کی بات سننے سے بھی انکار نہ کرتا ہو کیونکہ مخالف کی بات پر توجہ دینے میں نقصان نہیں نفع ہی ہے۔ (بحوالہ جامع بیان العلم و فضلہ لابن عبد البر الاندلسیؒ ۔ مترجم ص ۱۶۹ مطبوعہ ادارہ اسلامیات لاہور)