۲۰ اکتوبر ۲۰۲۰ء

یہ آٹھ دس سال جو آپ کو پڑھنے کے لیے ملے ہیں ان کو غنیمت سمجھیں اور پڑھائی کے علاوہ اور کاموں کی طرف دھیان نہ دیں۔ باقی کاموں کے لیے ساری زندگی پڑی ہے، یہ دور آپ کا تعلم کا دور ہے، سیکھنے کا دور ہے، تربیت کا دور ہے اور تیاری کا دور ہے۔ ان اوقات کو انہی کاموں میں صرف کریں اور یاد رکھیں کہ اس دوران اگر کوئی کمی رہ گئی تو وہ ساری زندگی اسی طرح رہے گی، نہ اس کمی کو دور کرنے کا موقع ملے گا اور نہ ہی اس کے لیے آپ کے پاس فرصت ہو گی۔

میں اپنا ذاتی تجربہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے بحمد اللہ تعالیٰ آٹھ دس سال مدرسہ کے ماحول میں گزارے ہیں، اس دور میں وفاق کی درجہ بندی ہمارے ہاں نہیں ہوتی تھی اور کتابوں کی ترتیب سے ہی پڑھا جاتا تھا۔ میں کسی جھجھک کے بغیر آپ سے عرض کرتا ہوں کہ جن فنون میں دورانِ تعلیم کمزوری رہ گئی ہے بخدا چالیس سالہ تدریسی دور میں بھی اسے ختم نہیں کر سکا۔ نہ مصروفیات میں سے اس کے لیے وقت نکل سکا ہے اور نہ ہی اس کے مواقع میسر آتے ہیں۔ اس لیے طلبہ سے عرض ہے کہ اس تعلیمی دورانیہ کو پوری توجہ اور ہمت و صبر کے ساتھ تعلیمی محنت میں صرف کریں تاکہ صحیح ’’مُلا‘‘ بن کر دین و قوم کی صحیح خدمت کر سکیں،۔ (دارالعلوم مدنیہ، ماڈل ٹاؤن، بہاولپور ۔ ۹ جنوری ۲۰۱۱ء)

2016ء سے
Flag Counter