علماء کے ۲۲ متفقہ دستوری نکات ۱۹۵۱ء اور دستور پاکستان ۱۹۷۳ء میں عوام کی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالٰی کی حاکمیت اعلیٰ کو بنیاد بنایا گیا اور پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کا پابند قرار دیا گیا ہے۔ یہ اگر جمہوریت ہے تو آمنا وصدقنا، مگر پاکستان کا ’’حکمران طبقہ‘‘ اسے قبول کرنے پر راضی نہیں۔