کسی بھی علمی اور فقہی مسئلہ پر بحث و مباحثہ اگر اہل علم کے درمیان تفقہ و استدلال کی زبان میں باہمی احترام کے ساتھ ہو تو باعث رحمت اور عوام کی راہنمائی و ذہنی ارتقا کا سبب بنتا ہے۔ مگر وہی بات عوام میں طعن و تشنیع اور طنز و استہزا کا لہجہ اختیار کر کے تفریق و منافرت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔