۲۷ ستمبر ۲۰۲۰ء

مختلف مکاتب فکر کے مشترکہ علمی و فکری فورم ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ نے وقف املاک اور اداروں کے حوالے سے پارلیمنٹ کے منظور کردہ حالیہ قانون کا وسیع تناظر میں جائزہ لینے اور مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ اجتماعی مشاورت کے اہتمام کا فیصلہ کیا ہے۔ ملی مجلس شرعی پاکستان کے صدر مولانا زاہد الراشدی، سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امین، اور مولانا عبد الرؤف فاروقی نے آج لاہور میں ایک ملاقات کے دوران اس قانون کو دینی مدارس کے آزادانہ کردار کو ختم کرنے کی عالمی مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے دینی مدارس کے وفاقوں اور دیگر قائدین سے اس سلسلہ میں مشترکہ موقف طے کرنے کی اپیل کی ہے، اور یکم اکتوبر کو ایک اہم مشاورت کے اہتمام کا پروگرام طے کیا ہے، ان شاء اللہ تعالٰی۔

2016ء سے
Flag Counter