۲۹ ستمبر ۲۰۲۰ء

۱۸۵۷ء کے بعد ہمارے ہاں دینی تعلیم کے نظام کا بیشتر حصہ مسجد کی چٹائیوں، محلہ کی روٹیوں اور اساتذہ کی بے لوث تدریسی خدمات پر چلتا رہا ہے۔ جس کی برکات و ثمرات ابھی تک روحانی اور فکری طور پر ہمارے پشتیبان ہیں۔ حالات کا رخ دیکھ کر یوں محسوس ہو رہا ہے کہ شاید ہمیں اسی دور میں واپس جانا پڑے گا۔ اصحابِ عزیمت کو اس کے لیے بہرحال ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔

2016ء سے
Flag Counter