جب پاکستان کی پہلی دستورساز اسمبلی کو ملاازم اور تھیاکریسی کے طعنوں کے ساتھ سیکولرازم کی بحث میں الجھا دیا گیا تو شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے منطق و استدلال کے ساتھ اس مہم کا سامنا کیا اور قرارداد مقاصد منظور کروا کے پاکستان کی نظریاتی اسلامی بنیاد ہمیشہ کیلئے طے کردی۔