مولانا منظور احمد الحسینیؒ

   
مجلہ: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۰ جنوری ۲۰۰۵ء

۱۶ جنوری ۲۰۰۵ء کو مدرسہ فاروقیہ چوک امام صاحبؒ سیالکوٹ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کے حوالہ سے ایک احتجاجی جلسہ میں شریک تھا، مولانا اللہ وسایا صاحب نے یہ خبر دی کہ مولانا منظور احمد الحسینی کا سعودی عرب میں گزشتہ روز انتقال ہوگیا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے حجاز مقدس آئےہوئے تھے کہ بلاوا آگیا اور وہ اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر کے خالق حقیقی کے حضور پیش ہوگئے۔ حرم پاک میں نماز جمعۃ المبارک کے بعد ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور پھر انہیں بے شمار صالحین کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

مولانا منظور احمد الحسینیؒ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اہم رہنماؤں میں سے تھے اور قادیانیوں کے بارے میں کتابی علم رکھتے تھے جس کے حاملین کا دائرہ دن بدن سکڑتا جا رہا ہے۔ ایک عرصہ تک کراچی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت خدمات سرانجام دیتے رہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک سابق سرگرم رہنما الحاج عبد الرحمان باوا کے ساتھ ان کا جوڑ مشہور تھا۔ کسی دور میں دونوں لازم و ملزوم سمجھے جاتے تھے، جہاں جاتے اکٹھے جاتے، مختلف ملکوں کا اکٹھے دورہ کیا، کراچی میں بھی سالہا سال تک اکٹھے کام کرتے رہے، پھر لندن گئے تو بھی اکٹھے گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے لندن کے علاقہ اسٹاک ویل میں ایک چرچ خرید کر ختم نبوت سنٹر قائم کیا تو دونوں نے مل کر اسے آباد کیا اور نہ صرف برطانیہ بلکہ یورپ و افریقہ کے دیگر ممالک میں بھی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیوں کے تعاقب کی مہم میں شریک کار رہے مگر ایک وقت آیا کہ دونوں کے راستے الگ ہوگئے اور مشن ایک ہونے کے باوجود مزاجوں میں ہم آہنگی قائم نہ رہ سکی۔ الحاج عبد الرحمان باوا نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے الگ ہو کر لندن ہی کے ایک علاقہ فارسٹ گیٹ میں اسلامک دعوہ اکیڈمی کے نام سے الگ ادارہ قائم کر لیا تو برطانیہ اور یورپ کے لیے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا منظور احمد الحسینی قرار پائے۔

مولانا منظور احمد الحسینیؒ برطانیہ کے ایک اور علاقہ کنگسٹن میں جامع مسجد کے خطیب تھے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ اور حضرت مولانا حاجی محمد فاروقؒ آف سکھر کی طرف سے انہیں روحانی سلسلہ میں خلافت و اجازت حاصل تھی۔ آخری عمر میں مولانا منظور احمد الحسینیؒ کی مصروفیات میں روحانی سلسلہ کی ترجیحات غالب آگئی تھیں لیکن تحریک ختم نبوت کے لیے خدمات کا تسلسل بھی قائم رہا۔ جہاں کہیں قادیانیوں کے حوالہ سے یا قادیانیوں سے گفتگو کی ضرورت پیش آتی ان سے رجوع کیا جاتا اور وہ اسے اپنا مشن و فریضہ سمجھ کر بلاتامل چل پڑتے۔ مولانا مرحوم قادیانی لٹریچر پر نظر رکھتے تھے اور مطالعہ کرتے رہتے تھے۔ میری ان سے ملاقات رہتی تھی اور بڑی محبت سے پیش آتے تھے، جب بھی ملاقات ہوتی قادیانیت کے بارے میں کسی نئے پہلو یا کسی نئے حوالہ اور خبر پر گفتگو ہوتی اور باہمی تبادلہ خیالات ہوتا۔ اسٹاک ویل لندن کے ختم نبوت سنٹر کے معاملات کی آخر وقت تک نگرانی کرتے رہے اور اسی مشن میں زندگی کے آخری ایام گزار کر وہ آخرت کے سفر پر روانہ ہوگئے۔