امام اہلسنتؒ کی رحلت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جون ۲۰۰۹ء

عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات کو ابھی ایک سال ہی گزرا ہے کہ والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نور اللہ مرقدہٗ بھی ہم سے رخصت ہو گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ۵ مئی کو صبح ایک بجے کے لگ بھگ ان کی طبیعت زیادہ خراب ہوئی، اس وقت قریب میں کوئی ڈاکٹر صاحب میسر نہ آئے، چند لمحے تکلیف میں رہے، ہمارے چھوٹے بھائی ڈاکٹروں کی تلاش میں رہے۔ والد محترم کے اصل معالج ڈاکٹر فضل الرحمان کو اطلاع کی گئی جنہوں نے گزشتہ دس برس سے معالج کے طور پر نہیں بلکہ بیٹوں کی طرح ان کی خدمت کی ذمہ داری سنبھال رکھی تھی، وہ گوجرانوالہ شہر میں رہتے ہیں اور انہیں آنے میں کم و بیش نصف گھنٹہ لگ سکتا تھا۔ اس دوران ہماری سب سے چھوٹی ہمشیرہ ان کے پاس تھیں، وہ کہتی ہیں کہ حضرت والد صاحبؒ نے نام لے کر انہیں آواز دی، انہوں نے ’’جی ابا جی‘‘ کہا تو ان کی بیٹی اور اپنی نواسی کا نام لیا جو قریب ہی دوسرے کمرے میں سوئی ہوئی تھی۔ اس کے بعد چند لمحے ان کے ہونٹ حرکت کرتے ہوئے نظر آئے اور پھر ان کا سر پیچھے سرہانے کے ساتھ ٹک گیا، دیکھنے والوں کو محسوس ہوا کہ شاید نیند آگئی ہے مگر تھوڑی دیر کے بعد جب ڈاکٹر صاحب پہنچے اور انہوں نے نبض پر ہاتھ رکھ کر انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا تو پتہ چلا کہ حضرت مولانا محمد سر فراز خان صفدرؒ اس دنیا میں کم و بیش ایک صدی گزارنے کے بعد اس سے منہ موڑ گئے ہیں اور ابدی نیند کی آغوش میں چلے گئے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون، ان للہ ما أخذ و لہ ما اعطٰی و کل شیء عندہ لاجل مسمٰی، اللّٰہم لا تحرمنا اجرہ و لا تفتنا بعدہ و ادخلہ الجنۃ مع الابرار، آمین یا رب العالمین۔

میں گوجرانوالہ میں اپنے گھر پر تھا اور ابھی چار دن قبل برطانیہ اور حرمین شریفین کے سفر سے واپس پہنچا تھا آمد سے اگلے روز جمعۃ المبارک کی شام کو اپنی اہلیہ، بیٹے محمد عمار خان ناصر، بہو اور دو پوتوں طلال خان اور ہلال خان کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ملاقات کر چکا تھا جو ہماری ان سے آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ اس ملاقات میں وہ زبان سے گفتگو نہ کر سکے کہ کئی روز سے خاموشی طاری تھی مگر ان کے سامنے کی جانے والی ہر بات کو وہ سمجھ رہے تھے، ہاں یا ناں میں جواب بھی دے رہے تھے اور اشاروں میں سوال و جواب بھی کر رہے تھے۔اس حالت میں بھی ان کا ذہنی استحضار ہم سب کے لیے قابل رشک تھا، ان دنوں سوات کے حالات کے بارے میں خاص طور پر پوچھا کرتے تھے اور اکثر رویا کرتے تھے۔ چند ہفتے قبل انہوں نے مولانا سمیع الحق کو پیغام بھیج کر بلوایا، مجھے بھی طلب کیا اور مولانا موصوف کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا کہ سوات کی صورتحال کے بارے میں دینی حلقوں بالخصوص دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کو مل بیٹھ کر کوئی مشترکہ موقف اور لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے اور مولانا سمیع الحق کو اس سلسلہ میں پیشرفت کی کوئی صورت نکالنی چاہیے۔

مجھے رات ڈیڑھ بجے کے لگ بھگ برادرم قاری حماد الزہراوی صاحب اور برادرم قاری راشد خان نے فون پر اطلاع دی کہ حضرت والد صاحب ؒ اب ہمارے درمیان نہیں رہے، زبان پر بے ساختہ انا للہ و انا الیہ راجعون جاری ہوا۔ اہلیہ کو جگا کر خبر دی اور ہم گکھڑ جانے کے لیے تیاری میں لگ گئے، تھوڑی دیر کے بعد مولانا محمد نواز بلوچ کا فون آیا کہ آپ لوگ تیار رہیں، میں گاڑی لے کر آپ کو لینے آرہا ہوں، ہم نے کہا کہ ہم تیار ہیں اور اس طرح ہم سوا دو بجے کے لگ بھگ گکھڑ پہنچ گئے۔ میرا معمول تھا کہ گھر جا کر ان کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے گھر والوں سے پوچھا کرتا تھا کہ ابا جی سوئے ہوئے تو نہیں ہیں اور اگر وہ سو رہے ہوتے تو ان کے چہرے پر ایک نظر ڈال کر واپس ہو جاتا تھا۔ مگر اس روز یہ پوچھنے کی نوبت نہیں آئی، وہ سوئے ہوئے ہی تھے، سیدھا ان کے کمرے میں گیا جس میں انہوں نے اپنی زندگی کا تقریباً نصف حصہ بسر کیا، وہ اپنی چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے، دیکھنے میں یوں ہی لگا کہ سو رہے ہیں، میں نے آگے بڑھ کر پیشانی پر بوسہ دیا اور انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھتے ہوئے نمناک آنکھوں کے ساتھ پیچھے ہٹ گیا۔

تھوڑی دیر تک سب بھائی جمع ہو چکے تھے، مختلف رشتہ داروں اور احباب کو اطلاعات دینے کا سلسلہ شروع ہوا، عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ کے بیٹے اور اہل خانہ بھی پہنچ گئے اور نماز فجر تک خاندان کے اکثر لوگ جمع ہو گئے۔ حضرت والد صاحبؒ کی مسجد میں فجر کی نماز میں نے پڑھائی اور اس غمناک سانحہ کی نمازیوں کو باضابطہ اطلاع دی۔ حضرت والد محترم ؒ کی زندگی میں اس مسجد میں سینکڑوں نمازیں میں نے پڑھائی ہیں، ہمارے چھوٹے بھائیوں کو اللہ تعالیٰ اس کا بہترین صلہ اور اجر عطا فرمائیں کہ انہوں نے ہمیشہ احترام دیا ہے اور میری موجودگی میں سب کا اصرار اور تقاضہ ہمیشہ یہی رہا ہے کہ نماز میں پڑھاؤں مگر اس روز فجر کی نماز ان سینکڑوں نمازوں سے مختلف تھی، مصلے پر پاؤں رکھتے ہی دل کی کیفیت کچھ سے کچھ ہو گئی۔

نماز کے بعد باہمی مشورہ ہوا کہ جنازہ اور تدفین کی ترتیب کیا ہو گی؟ کچھ عرصہ قبل والد صاحبؒ نے ایک حاضری کے موقع پر مصافحہ کرتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کہا تھا کہ ’’میری نماز جنازہ تم خود پڑھانا‘‘ برادرم قاری حماد صاحب کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا کہ ہمارا خیال بھی یہی تھا مگر اب تو بات پکی ہو گئی ہے۔ جنازے کے لیے گکھڑ کی سب سے بڑی گراؤنڈ جو ڈی سی ہائی سکول کی گراؤنڈ کہلاتی ہے، اس کا انتخاب ہوا اور تدفین کے بارے میں طے ہوا کہ جی ٹی روڈ کے ساتھ بٹ دری فیکٹری کے عقب میں جو قبرستان ہے اسی میں حضرت والد محترم ؒ کی تدفین کی جائے گی، جس میں حضرت والد محترم ؒ کی سوتیلی والدہ، ہماری دونوں مرحومہ مائیں، ہمارے دو چھوٹے بھائی عبد الرشید اور عبد الکریم جو بچپن میں فوت ہو گئے تھے، ہمارے چھوٹے بھائی قاری محمد اشرف خان ماجد مرحوم، اور ان کے دو فرزند محمد اکرم اور محمد اکمل مدفون ہیں اور اس طرح یہ ہمارا خاندانی قبرستان بن گیا ہے۔ ویسے بھی وہ ایسے معاملات میں تخصیص کو پسند نہیں کرتے تھے اور اس سے آنے جانے والوں کے لیے آسانی رہے گی کہ جی ٹی روڈ سے گزرتے ہوئے کسی بھی لمحے وہ دعا کے لیے رک سکتے ہیں کہ قبر جی ٹی روڈ سے بمشکل دو سو گز کے فاصلے پر ہو گی۔

حضرت والد محترمؒ کی وفات کی خبر ملک بھر میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں ٹی وی چینل اور موبائل فون کے ذریعے پھیل گئی، بیرون ملک سے سب سے پہلا فون مکہ مکرمہ سے مولانا سعید احمد عنایت اللہ کا تھا جنہوں نے خبر کی تصدیق چاہی اور پھر تعزیت کرتے ہوئے بتایا کہ حرم مکہ میں حضرتؒ کے لیے دعاؤں اور ان کی طرف سے طواف کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ صبح ہوتے ہی جمعیۃ علماء اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن کا فون آیا کہ وہ مکہ مکرمہ میں ہیں اور یہ روح فرسا خبر انہوں نے وہیں سنی ہے اور وہ اس وقت سے مسلسل دعاؤں میں ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کا حضرت والد محترمؒ سے خاصا تعلق رہا ہے، وہ وقتاً فوقتاً ملاقات کے لیے آیا کرتے تھے، حرمین شریفین سے واپسی پر تعزیت کے لیے آئے تو بتایا کہ وہ حج کے ایک سفر میں بھی حضرت مرحوم کے ساتھ تھے، منٰی میں وقوف کے دوران ایک روز مولانا فضل الرحمن نے حضرت والد محترم ؒ سے کہا کہ حضرت اس عمر میں آپ کی صحت بہت اچھی ہے، مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب بھی بیماری کے دوران میں ان سے ملنے کے لیے آتا تو وہ مسکراتے ہوئے کہتے کہ ’’مجھے تمہاری نظر لگ گئی ہے‘‘۔ اس کے بعد سے ہم سب بھائیوں کے ٹیلیفون تعزیت وصول کرنے میں اب تک مسلسل مصروف ہیں۔

نماز جنازہ کے بارے میں طے ہوا کہ عصر کی نمازیں اردگرد کی مساجد میں سوا پانچ بجے ہوتی ہیں اس لیے ساڑھے پانچ بجے نماز جنازہ ادا کی جائے گی، اس کا با ضابطہ اعلان کرا دیا گیا۔ حضرت والد محترم ؒ کا زندگی بھر معمول رہا ہے کہ وہ کسی کام کے لیے اگر وقت کا اعلان کرتے تو ایک منٹ بھی آگے پیچھے نہیں ہوتے تھے اور ٹھیک وقت پر وہ کام کر گزرتے تھے۔ میں نے مولانا ظفر علی خان مرحوم اور حضرت والد صاحبؒ کے بارے میں بہت سے لوگوں سے سنا ہے کہ لوگ ان کے معمولات دیکھ کر اپنی گھڑیاں درست کیا کرتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہماری والدہ مرحومہ کا جنازہ تھا، نماز مغرب کے بعد سات بجے کا اعلان تھا اور سات بجنے سے دو منٹ پہلے جنازے کی صفیں درست کرا کے حضرت والد صاحبؒ مصلے پر جا چکے تھے۔ اتنے میں آواز آئی کہ خان صاحب آگئے ہیں، مراد خان غلام دستگیر خان صاحب تھے جو اس وقت وفاقی وزیر تھے اور ہمارے پرانے دوستوں میں سے ہیں۔ ٹھیک سات بجے حضرت والد صاحبؒ تکبیر کے لیے ہاتھ بلند کر چکے تھے کہ میں نے کہا کہ ایک منٹ ٹھہر جائیں خان صاحب کو آجانے دیں، میرا مقصد تھا کہ انہیں پہلی صف میں لے آیا جائے، مگر حضرت والد صاحبؒ نے میری بات سن کر اس کی طرف توجہ دیے بغیر ٹھیک سات بجے اللہ اکبر کی آواز بلند کر دی۔ میں نے بھائیوں سے کہا کہ آج بھی ایسا ہی ہو گا تاکہ ہم حضرت والد محترمؒ کی کسی ایک روایت پر تو عمل کر سکیں۔ شام پانچ بجے تک گراؤنڈ میں لاکھوں افراد جمع ہو چکے تھے اور لاؤڈ اسپیکر پر علماء کرام کے خطابات کا سلسلہ جاری تھا، بہت سے بزرگوں نے خطاب کیا جس کی تفصیل دوسرے مضامین میں قارئین کی نظر سے گزرے گی، مگر میں دو جملوں کا حوالہ اس موقع پر دینا چاہوں گا۔ حضرت مولانا ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے کہا کہ ’’وہ مولانا سر فراز تھے اور دنیا سے سرفراز گئے ہیں، جبکہ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ علماء کے ایک اجتماع میں مولانا سرفراز خان صفدر کو تشریف فرما دیکھا تو مجھے یوں لگا کہ جیسے ’’دیوبند ‘‘ بیٹھا ہوا ہے۔

اس دوران حضرت مرحوم کے آخری دیدار کے لیے لوگوں کے اشتیاق کی شدت اور جذبات کی حدّت نے عجیب بدنظمی کی صورت پیدا کر دی، مجھے اپنے مزاج اور معمول کے خلاف قدرے سخت لہجہ اختیار کرنا پڑا کہ اس کے بغیر اجتماع کو قابو کرنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی تھے، بڑی مشکل سے لوگوں کو کنٹرول کیا اور قدرے خاموشی کا ماحول پیدا ہوا، بہت سے بزرگ اسٹیج پر موجود تھے جن کا خطاب ہونا باقی تھا مگر ٹھیک ساڑھے پانچ بجے میں نے مائیک سنبھال لیا اور نماز جنازہ کا اعلان کر کے اللہ اکبر کی صدا بلند کر دی۔ بعض دوستوں کا خیال تھا کہ پندرہ بیس منٹ کی تاخیر کر لی جائے مگر مجھے اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا تھا اس لیے کہ جی ٹی روڈ پر دونوں طرف کم و بیش دس دس کلو میٹر تک ٹریفک معطل تھی اور اس میں پھنسے ہوئے لوگوں کی نماز جنازہ میں شرکت ممکن ہی نہیں تھی۔ گراؤنڈ میں مزید لوگوں کے آنے کی گنجائش نہیں تھی اور گراؤنڈ سے باہر کے لیے لاؤڈ اسپیکر کا انتظام نہ کر سکنے کی غلطی ہم کر چکے تھے جس کی تلافی وقتی طور پر نہیں ہو سکتی تھی، جبکہ ہجوم کے بے قابو ہونے کی کیفیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا اس لیے مجھے عافیت اسی میں نظر آئی کہ وقت پر نماز جنازہ پڑھا دی جائے۔ چنانچہ ہمارے محتاط اندازے کے مطابق سوا لاکھ کے لگ بھگ افراد نے نماز جنازہ پڑھی، جبکہ گوجرانوالہ سے وزیر آباد تک ٹریفک کے ہجوم میں پھنسے ہوئے اتنے ہی لوگ نماز جنازہ نہ پڑھ سکے۔ نماز جنازہ کے بعد بڑی مشکل سے چارپائی کو ہجوم سے نکال کر قبر تک لایا گیا اور عین اس وقت جب مغرب میں اس روز کا سورج غروب ہونے کے عمل کا آغاز کر رہا تھا، ہم نے آسمان علم و فضل کے اس سورج کو لحد میں اتار دیا، انہیں لحد میں لٹاتے ہوئے میرا تاثر یہ تھا جس کا میں نے پاس کھڑے دوستوں سے اظہار بھی کیا کہ ہم ایک شخص کو نہیں بلکہ پوری ایک لائبریری کو سپرد خاک کر رہے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل میں نے ایک خواب میں دیکھا تھا کہ گکھڑ میں حضرت والد صاحبؒ کی مسجد سے باہر جی ٹی روڈ کے ساتھ کھلی جگہ میں صاف پانی کا ایک بڑا تالاب ہے جس میں سے ایک بہت بڑی مچھلی اچھلی ہے اور فضا میں بلند ہو کر تھوڑی دیر کے بعد ڈبکی لگا کر تالاب میں غائب ہو گئی ہے، خواب میں ہی میں نے یا میرے ساتھ کھڑے ایک دوست نے کہا کہ یہ سمندر کی مچھلی تالاب میں کیسے آگئی ہے؟ بہرحال اس خواب کے بعد میرے دل میں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ علم کے سمندر کی یہ مچھلی کسی بھی وقت گکھڑ کے تالاب میں ڈبکی لگا کر نظروں سے اوجھل ہو سکتی ہے۔

حضرت والد محترم نور اللہ مرقدہ اب ہمارے ساتھ اس دنیا میں نہیں رہے لیکن ہمیں یہ اطمینان اور قوی امید ہے کہ انہوں نے دینی حوالہ سے جس طرح کی بھرپور زندگی گزاری ہے اور دینی جد و جہد کے مختلف شعبوں میں پون صدی سے زیادہ عرصہ تک سر گرم عمل رہے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ خیر کا معاملہ فرمائیں گے اور جیسا کہ ظاہری علامتوں سے نظر آرہا ہے ان کی آخرت ان کی دنیا سے بہتر ہو گی۔ حضرت ؒ کی وفات کے بعد جمعہ کے روز ان کی جامع مسجد میں ہونے والی تعزیتی اجتماع میں ایک بات میں نے گزارش کی کہ یہ صبر و حوصلہ اور تعزیت و تسلی کا موقع ہے اور سب لوگ صبر کی بات کر رہے ہیں مگر میں اس مرحلہ میں شکر کی بات بھی کرنا چاہوں گا، اس لیے کہ غزوۂ احد کے حوالہ سے قرآن کریم میں جہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے کہا ہے کہ اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے یا شہید کر دیے گئے تو کیا تم ایڑیوں کے بل واپس پلٹ جاؤ گے؟ وہاں یہ بھی اس کے ساتھ فرمایا کہ ’’و سیجزی اللّٰہ الشاکرین‘‘ اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو اجر و جزا دیں گے۔ گزشتہ روز ایک عالم دین کی گفتگو میں اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا گیا کہ موت اور قتل کے ساتھ شکر گزاری کا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ اس پر میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ ہمارے لیے بھی اس موقع پر شکرگزاری کا یہ پہلو موجود ہے کہ حضرت والد صاحبؒ ۱۹۴۳ء میں جب گکھڑ آئے تھے تو انہیں یہاں لانے والے تین چار بزرگ تھے۔ حاجی اللہ دتا بٹ مرحوم، ماسٹر کرم دین مرحوم، ملک محمد اقبال مرحوم اور ایک آدھ دوسرے بزرگ۔ مگر ان کو رخصت کرنے کے لیے ملک بھر سے لاکھوں لوگ جمع ہوئے ہیں اور قابل رشک عزت و احترام کے ماحول میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ مجھے اس موقع پر حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا یہ جملہ یاد آرہا ہے کہ ’’بیننا و بین اہل البدع الجنائز‘‘ ہمارے اور اہل بدعت کے درمیان فیصلہ ہمارے جنازے کریں گے۔ اس لیے میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس ذات اقدس نے پون صدی قبل انتہائی کسمپرسی کے عالم میں اس علاقے میں آنے والے دو بھائیوں حضرت مولانا محمد سر فراز خان صفدرؒ اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی ؒ کو اس قابل رشک عزت سے نوازا اور ان کی برکت سے ہم سب کو عزت عطا فرمائی، فالحمد للہ علٰی ذلک۔

حضرت والد صاحبؒ کی وفات کا صدمہ صرف ہمارا خاندانی صدمہ نہیں بلکہ پورے اہل دین اور اہل علم کا صدمہ ہے اس لیے ہم سب ایک دوسرے کی طرف سے تعزیت کے مستحق ہیں، اور میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ تعزیت کرنے والوں سے خود تعزیت کروں کیونکہ حضرت ؒ کے کسی بھی عقیدت مند اور خوشہ چین کا صدمہ ہمارے صدمہ سے کم نہیں ہے۔ لیکن میں چند حضرات کو سب سے زیادہ تعزیت و تسلی کا مستحق سمجھتا ہوں ایک تو وہ حضرات جنہوں نے حضرت والد محترمؒ کے معذوری کے دور میں، جو کم و بیش پورے ایک عشرہ کو محیط ہے، ان کی مسلسل خدمت کی ہے اور شب و روز ان کی تیمارداری اور خدمت میں مصروف رہے ہیں۔ ان میں ہمارے چھوٹے بھائی قاری راشد خان، قاری ساجد خان، مولانا قاری حماد الزہراوی، مولانا قاری عزیز الرحمن شاہد اور ان سب کے اہل خانہ، ہماری چھوٹی ہمشیرہ اور ان کے بچے و بچیاں بالخصوص قاری محمد داؤد خان نوید۔ اور ان کے علاوہ مولانا محمد نواز بلوچ، ڈاکٹر فضل الرحمن، ڈاکٹر محمد امین، ڈاکٹر سہیل انجم بٹ، حاجی میر محمد لقمان، حاجی محمد نعیم بٹ اور چند دیگر دوست بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ جبکہ ان سے بھی زیادہ بلکہ میرے خیال میں ہم سب سے زیادہ تعزیت کا مستحق ’’دار العلوم دیوبند ‘‘ ہے جو اپنے ایک ایسے علمی ترجمان اور فکری نمائندے سے محروم ہو گیا ہے جس کا متبادل عالمِ اسباب میں بظاہر کوئی نظر نہیں آتا۔ چنانچہ میں نے اپنی طرف سے اور اپنے پورے خاندان کی طرف سے دار العلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا مرغوب الرحمن دامت برکاتہم اور ان کے ساتھ حضرت مولانا سید ارشد مدنی مدظلہ العالی اور حضرت مولانا سعید احمد پالنپوری مدظلہ العالی کو ۲۰ مئی ۲۰۰۹ء کو گوجرانوالہ سے رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعہ مندرجہ ذیل عریضہ ارسال کیا ہے۔

’’حضرت والد محترم مولانا محمد سر فراز خان صفدر نور اللہ مرقدہ کی وفات حسرت آیات کی المناک خبر آپ سب بزرگوں تک پہنچ چکی ہو گی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ وہ دار العلوم دیوبند کے فیض یافتہ اور اس مادر علمی کے فکر و مسلک کے ترجمان تھے، جن کی علمی و دینی جد و جہد میں دیوبندی مسلک کا تعارف اور اس کا دفاع ہی ہمیشہ اولین ترجیح رہا ہے اور انہوں نے کم و بیش پون صدی تک مسلسل اس کے لیے خدمات سر انجام دی ہیں۔ اس لیے میں دار العلوم دیوبند کو اس کے ایک مایہ ناز سپوت کی وفات پر تعزیت کا حق دار سمجھتا ہوں اور حضرتؒ کے پورے خاندان کی طرف سے اس عریضہ کے ذریعے دارالعلوم دیوبند کے منتظمین، اساتذہ اور طلبہ سے تعزیت کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ دیں اور ہم سب کو ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔‘‘

حضرت والد محترم قدس اللہ سرہ العزیز کی حیات و خدمات کا تذکرہ دیگر رسائل و جرائد کی طرح ماہنامہ نصرۃ العلوم میں بھی ایک عرصہ تک چلتا رہے گا جبکہ ماہنامہ الشریعہ نے اپنی جولائی ۲۰۰۹ء کی اشاعت کو ’’امام اہلسنت نمبر‘‘ کے عنوان سے مخصوص کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ایک جامع اور ضخیم نمبر قارئین کی خدمت میں پیش کر سکیں۔قارئین سے استدعا ہے کہ وہ حضرت امام اہلسنتؒ کی مغفرت اور جنت الفردوس میں ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعاؤں اور ایصال ثواب کے اہتمام کے ساتھ ساتھ ہمارے لیے بھی دعا فرمائیں کہ ہم ان کی اور حضرت صوفی صاحبؒ کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھ سکیں اور ان کے دینی و علمی ورثہ کی حفاظت اور اس میں اضافہ کا ذریعہ بن سکیں، آمین یا رب العالمین۔ اسی کے ساتھ ہی قارئین سے درخواست ہے کہ اگر کسی دوست کے پاس حضرت مولانا محمد سر فراز خان صفدر ؒ کا کوئی خط یا کسی بھی حوالہ سے کو ئی تذکرہ موجود ہو تو خصوصی نمبر کے لیے اس سے استفادہ کا موقع دیں، اس مقصد کے لیے مزید معلومات مدیر الشریعہ حافظ محمد عمار خان ناصر سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

دوسرا صدمہ

چکوال سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان علماء مولانا محمد الطاف منہاس اور مولانا عبد القدیر اکرم کی شہادت نے ہمارے اس صدمہ کو اور زیادہ گہرا کر دیا جو حضرت والد محترم ؒ کے جنازے میں آرہے تھے کہ راستہ میں دینہ کے قریب کار کا پہیہ اچانک کھل جانے کے باعث ان کی گاڑی الٹ گئی اور وہ جام شہادت نوش کر گئے،انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کا یہ جذبہ اور قربانی حضرت والد صاحب ؒ کی وفات اور جدائی کے ہر تذکرے میں ہمارے ساتھ رہے گا، ان میں سے ایک شہیدکا تعلق چکوال کے قریب گاؤں چک ملوک سے اور دوسرے شہید کا تعلق تلہ گنگ کے قریب گاؤں بھرپور سے تھا اور دونوں دینی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ راقم الحروف نے اپنے بھانجے مولانا قاری محمد ابوبکر صدیق جہلمی سلمہ کے ساتھ ان مقامات پر حاضری دے کر دونوں شہیدوں کے اہل خاندان سے تعزیت کی ہے اور برادر عزیز مولانا عبد الحق خان بشیر بھی تعزیت کے لیے وہاں گئے ہیں،ہم دونوں خاندانوں کے ساتھ اس غم میں شریک ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ رب العزت مولانا محمد الطاف منہاس شہید اور مولانا عبد القدیر اکرم شہید ؒ کو جنت الفردوس میں جگہ دیں اور ان کے پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ اس صدمہ سے عہدہ بر آ ہونے کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔