اور اب بناسپتی گھی!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۳ جولائی ۱۹۷۳ء

اشیاء خوردنی کی کمر توڑ گرانی انتہائی تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے۔ غریب عوام بلکہ متوسط طبقہ بھی اس مہنگائی کے سامنے بے بس ہو چکا ہے اور اس سے نجات کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔ بازار سے جس چیز کا بھاؤ پوچھو اس کا نرخ آسمان سے باتیں کر رہا ہے اور ہر شخص پریشان ہے کہ آخر گرانی کا یہ ڈنڈا کب تک قوم کی پیٹھ پر برستا رہے گا۔ پہلے چینی غریب عوام کے اعصاب پر سوار رہی اور ابھی تک یہ مسئلہ طے نہیں ہو سکا۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ جب ہم باہر سے چینی منگواتے تھے تو سستی تھی، اور اب ملک میں تیار کرتے ہیں تو پہلے سے تگنی چوگنی قیمت پر بھی کھلے بندوں دستیاب نہیں۔

عوام ابھی اس پریشانی کا حل بھی سوچ نہیں پائے کہ اب بناسپتی گھی نے آنکھیں دکھانا شروع کر دی ہیں۔ بناسپتی گھی روز بروز مارکیٹ سے غائب ہوتا جا رہا ہے اور بعض مقامات پر صورتحال اس حد تک بدتر ہو چکی ہے کہ غریب لوگ بناسپتی گھی کی بو تک کو ترس کر رہ گئے ہیں۔

گزشتہ دنوں گورنر پنجاب نے اس مسئلہ پر غور و خوض کے لیے ایک خصوصی کانفرنس منعقد کی تھی جس نے بناسپتی گھی کی قلت کو دور کرنے کے لیے کچھ اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات کی افادیت میں شک نہیں مگر اب وقتی انتظامات و اقدامات سے بات نہ بنے گی، بلکہ قیمتوں کے مناسب کنٹرول کے لیے ٹھوس بنیادوں پر کوئی مضبوط قدم اٹھانا ہوگا کیونکہ صورتحال بے حد پریشان کن ہو چکی ہے۔ قیمتوں کے عروج کے سامنے عوام کی قوت خرید شکست سے دوچار ہوتی جا رہی ہے اور ان کے اعصاب گرانی کا بوجھ اٹھانے سے جواب دے چکے ہیں۔

ہمیں اس سے بحث نہیں کہ اس گرانی کا ذمہ دار کون ہے۔ جو بھی اس کا ذمہ دار ہے اس کا محاسبہ کیا جائے اور گرانی کے اصل اسباب کو دور کر کے غریب عوام کو اس مصیبت سے جلد از جلد نجات دلائی جائے۔