پاکستان میں سودی نظام ۔ تین پہلوؤں سے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۶ جون ۲۰۰۲ء
اصل عنوان: 
سود کے بارے میں چند گزارشات

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی نظام و قوانین کے ۳۰ جون ۲۰۰۲ء تک خاتمہ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے تاریخی فیصلے پر نظر ثانی کے سلسلے میں یو بی ایل کی اپیل ان دنوں شریعت اپیلٹ بنچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔ اس موقع پر دینی و ملی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کی طرف سے چند گزارشات فریقین کے وکلاء اور اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے دیگر سرکردہ ارباب علم و دانش کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں۔

(۱) آسمانی مذاہب میں سود کی حرمت

سود تمام آسمانی شریعتوں میں حرام چلا آ رہا ہے اور بائبل میں بھی اس سلسلے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔

  • چنانچہ بائبل کی کتاب خروج باب ۲۲ آیت ۲۵ میں ارشاد ہوتا ہے

    ’’اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو، جو تیرے پاس رہتا ہے، کچھ قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور اس سے سود نہ لینا‘‘۔

  • استثناء باب ۲۳ آیت ۱۹ میں ہے

    ’’تو اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا خواہ وہ روپے کا ہو یا اناج کا یا کسی اور ایسی چیز کا جو بیاج پر دی جایا کرتی ہے‘‘۔

  • جبکہ زبور باب ۱۵ آیت ۵ میں نیک آدمی کی صفات بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے

    ’’وہ اپنا روپیہ سود پر نہیں دیتا‘‘۔

  • قرآن کریم کی سورۃ البقرہ کی آیات ۲۷۵ تا ۲۷۹ میں سود کی ممانعت کرتے ہوئے سود اور تجارت کو باہم مثل قرار دینے والوں کے موقف کی نفی کی گئی ہے۔ تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا گیا ہے، سود سے باز نہ آنے والوں کے طرز عمل کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اور سود اور تجارت میں فرق نہ کرنے والوں کو مخبوط الحواس بتایا گیا ہے۔
  • سورۃ النساء کی آیت ۶۱ میں بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور عذاب کے اسباب بیان کرتے ہوئے ایک سبب یہ بتایا گیا ہے کہ انہیں سود سے منع کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ سود لیتے تھے۔
  • جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر منٰی کے تاریخی خطبے میں سود کی کلی ممانعت اور تمام سابقہ سودی معاملات کے خاتمہ کا اعلان فرمایا۔ اور جناب رسول اللہؐ کی بیسیوں احادیث میں سود کی مذمت اور سود کا کاروبار کرنے والوں کے لیے سخت عذاب اور شدید ناراضی کی وعید موجود ہے۔
  • علامہ سید سلیمان ندویؒ نے ’’سیرت النبیؐ‘‘ میں لکھا ہے کہ جب اہل طائف نے جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں پیش ہو کر اسلام قبول کرنے کے لیے چند شرائط پیش کیں تو ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ ہم سود کا لین دین نہیں چھوڑ سکتے اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ ہمارا بیشتر کاروبار سود پر چلتا ہے۔ لیکن آنحضرتؐ نے یہ شرائط قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ’’سیرت النبیؐ‘‘ میں ہی مذکور ہے کہ نجران کے مسیحیوں نے جناب رسول اکرمؐ کے ساتھ اسلامی سلطنت میں بطور ذمی رہنے کا معاہدہ کیا تو معاہدہ کی باقاعدہ شرائط میں یہ بات درج تھی کہ ان میں سے کوئی بھی سود کا لین دین نہیں کرے گا۔
  • جناب نبی اکرمؐ نے متعدد احادیث میں امت میں سود کے عام ہونے کو قیامت کی نشانیوں اور امت میں پیدا ہونے والی خرابیوں میں ذکر فرمایا ہے۔
    • مثلاً مشکوٰۃ باب الربا میں ابوداؤد، نسائی اور مسند احمد کے حوالے سے حضرت ابوہریرہؓ کی یہ روایت منقول ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ ہر شخص سود کھانے لگے گا اور جو نہیں کھانا چاہے گا اس کے سانس کے ساتھ سود شامل ہوگا۔
    • مسند احمد اور بیہقی میں حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ میری امت میں ایک دور ایسا آئے گا کہ کچھ لوگوں کی شکلیں اس لیے بندروں اور خنزیروں کی صورت میں مسخ ہو جائیں گی کہ وہ شراب پیتے ہوں گے، ریشم پہنتے ہوں گے، ناچ گانے کی محفلیں آباد کرتے ہوں گے اور سود کھاتے ہوں گے۔
    • حافظ ابن القیمؒ نے ’’اغائتہ اللم فان‘‘ میں جناب رسول اللہؐ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ’’لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ وہ تجارت کے نام پر سود کو حلال قرار دینے لگیں گے‘‘۔

(۲) شخصی و تجارتی سود کا معاملہ

کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ نے اس سود کی ممانعت کی ہے جو شخصی قرض پر ضرورت مندوں سے لیا جاتا تھا لیکن تجارتی قرض یا لین دین میں سود کی ممانعت نہیں فرمائی۔ یہ بات درست نہیں ہے، مندرجہ ذیل شواہد اس کی تردید کرتے ہیں۔

  1. سورۃ البقرۃ میں حرمت ربا کے احکام کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ’’اگر مقروض تنگ دست ہو تو کشادہ دست ہونے تک اس کو مہلت دےدو‘‘۔ اس آیت میں اس صورت کے بیان کے لیے لفظ ان استعمال ہوا ہے جو عربی زبان کے قواعد کی رو سے اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ صورت نادر الوقوع ہے۔ کیونکہ عام الوقوع صورت کے ذکر کے لیے عربی زبان میں لفظ اذ استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۶۲ میں اللہ تعالیٰ نے روز مرہ لین دین کے احکام بیان کرنے کے لیے اذا تداینتم بدین کے، جبکہ اگلی آیت میں اسی ضمن کی ایک نادر صورت یعنی سفر میں لین دین کی صورت میں رہنے کا حکم بیان کرنے کے لیے وان کنتم علٰی سفر کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اسی طرح سورۃ المائدۃ کی آیت ۶ میں عام حالات میں نماز سے پہلے وضو کا حکم بیان کرنے کے لیے اذا قمتم الی الصلاۃ کے الفاظ آئے ہیں جبکہ غیر معمولی صورت احوال میں تیمم کا حکم بیان کرنے کے لیے وان کنتم مرضٰی او علٰی سفر کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

    چنانچہ یہ تصور غلط ہے کہ نزولِ قرآن کے زمانے میں صرف تنگ دست اور مفلوک الحال لوگ ہی اپنی روز مرہ ضروریات کے لیے سود پر قرض لیا کرتے تھے۔ کیونکہ یہ صورت تو قرآن کے الفاظ کی رو سے نادر اور قلیل الوقوع تھی جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ لوگ عام طور پر ذاتی اور صرفی ضروریات کے بجائے تجارتی مقاصد کے لیے سود پر قرض لیا کرتے تھے اور قرآن نے کسی تفریق کے بغیر دونوں کو حرام قرار دیا ہے۔

  2. سورۃ الروم کی آیت ۳۹ میں اللہ تعالیٰ نے سود پر قرض دینے کا محرک بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’اور تم سود پر جو قرض اس غرض سے دیتے ہو کہ وہ لوگوں کے مال میں بڑھے تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا‘‘۔ یہ محرک ظاہر ہے کہ ضرورت مندوں کو دیے جانے والے صرفی قرضوں کی بجائے حقیقتاً تجارتی سود میں پایا جاتا ہے۔ کیونکہ صرفی قرضوں میں تو قرض کے مع سود واپس آنے کے بجائے خود اصل رقم ہی کے ڈوب جانے کا امکان غالب ہوتا ہے۔
  3. سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ فی الربا میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، سود دینے والے، سود کا معاملہ لکھنے والے اور اس کا گواہ بننے والے سب افراد کو اللہ کی لعنت کا مستحق قرار دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس سود سے مراد تجارتی کے بجائے صرف صرفی قرضوں کا سود ہے تو اس میں سود لینے والا کس وجہ سے لعنت کا مستحق ہے؟ کیونکہ وہ بے چارہ تو جسم و جان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے نہایت اضطرار کی حالت میں سود پر قرض لے رہا ہے۔
  4. احادیث میں ربا الفضل یعنی ہم جنس اشیاء کے مبادلہ میں کمی بیشی کی ممانعت کے احکام ربا النسیأۃ ہی کی فرع ہیں اور سود سے بچنے کے لیے سد ذریعہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں دو روایتیں درج ذیل ہیں۔
    • صاحب مشکوٰۃ نے باب الربا میں بخاری شریف اور مسلم شریف کے حوالے سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے خیبر کے محاصل وصول کرنے کے لیے ایک نمائندہ بھیجا جو واپس آیا تو اس کے پاس سب عمدہ قسم کی کھجوریں تھیں۔ آنحضرتؐ نے پوچھا کہ کیا خیبر میں ساری کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ میں نے عام اور ردی کھجوریں زیادہ مقدار میں دے کر ان کے عوض عمدہ کھجوریں تھوڑی مقدار میں لے لی ہیں۔ جناب رسول اللہؐ نے اس سے منع فرمایا اور ہدایت کی کہ اگرا یسا کرنا ضروری ہو تو ردی کھجوریں نقد رقم کے عوض بیچ کر اس کے بدلے میں عمدہ کھجوریں خرید لیا کرو۔
    • مشکوٰۃ شریف باب الربا میں ہی بخاری اور مسلم کے حوالے سے یہ واقعہ بھی منقول ہے کہ حضرت بلالؓ جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں عمدہ کھجوریں لائے۔ حضورؐ نے دریافت کیا کہ کہاں سے آئی ہیں؟ حضرت بلالؓ نے جواب دیا کہ عام کھجوریں زیادہ مقدار میں دے کر ان کے عوض یہ عمدہ کھجوریں تھوڑی مقدار میں لے لی ہیں۔ جناب رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ یہ تو ’’عین ربا‘‘ ہے اس لیے ایسا مت کرو۔ اگر اس طرح کرنا ضروری ہو تو عام کھجوریں کسی اور چیز کے عوض فروخت کر کے اس کے بدلے میں عمدہ کھجوریں لے لیا کرو۔

    احادیث سے ظاہر ہے کہ ربا الفضل کے احکام کا اطلاق روز مرہ کے تجارتی لین دین پر ہوتا ہے کہ نہ کہ صرفی قرضوں پر۔ اب یہ ایک بالکل نامعقول بات ہوگی کہ تجارتی لین دین میں سدِ ذریعہ کے طور پر ربا الفضل تو حرام ہو اور ربا النسیئۃ، جس سے بچنے کے لیے ربا الفضل کو احتیاطاً ممنوع قرار دیا گیا ہو، حلال اور جائز ہو۔

  5. یہ بات تاریخی شواہد سے بھی ثابت ہے کہ عہدِ رسالتؐ اور دور صحابہؓ میں تجارتی قرضوں کا رواج موجود تھا۔ اس سلسلے میں دو واقعات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
    • بخاری شریف کتاب الجہاد باب برکۃ الغازی فی مالہ میں مذکورہ ہے کہ حضرت زبیر بن العوامؓ لوگوں سے قرض لے کر تجارت کیا کرتے تھے اور وفات کے بعد ان کے ذمے مختلف لوگوں کے اس قسم کے قرضوں کی مالیت بائیس لاکھ درہم تھی جو موجودہ پاکستانی کرنسی کے حساب سے پانچ کروڑ روپے سے زیادہ رقم بنتی ہے۔
    • طبری مطبوعہ قاہرہ ج ۳ ص ۸۷ میں مذکورہ ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں ہند بن عتبہؓ نے بیت المال سے قرض لے کر بلاد کلب میں جا کر اس سے تجارت کی۔

    ان شواہد سے واضح ہوتا ہےکہ دور نبویؐ اور دورِ صحابہؓ میں شخصی قرضوں کے علاوہ تجارت میں سود کی شکلیں موجود تھیں، لوگوں سے قرض لے کر سرمایہ کاری ہوتی تھی اور تجارت کے لیے بیت المال سے قرض لینے کی صورت بھی موجود تھی لیکن ان تمام صورتوں کی موجودگی کے باوجود کسی بھی صورت میں سود کا کوئی معمول نہیں تھا۔ اور شخصی ضرورت، تجارت اور سرمایہ کاری سمیت کسی بھی غرض کے لیے قرض لینے پر سود کی کلی ممانعت تھی۔

(۳) قیامِ پاکستان کا مقصد اور بانیٔ پاکستان کے ارشادات

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام اس غرض سے عمل میں لایا گیا تھا کہ اس ملک میں قرآن و سنت کا نظام نافذ کیا جائے گا اور برطانوی دور کے نوآبادیاتی نظام سے نجات حاصل کر کے اس کی جگہ قرآن و سنت اور خلافت راشدہ کی طرز پر نیا نظام رائج کیا جائے گا جس کی صراحت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے متعدد ارشادات میں موجود ہے۔ انہوں نے ملکی معیشت کے بارے میں وضاحت کے ساتھ فرمایا تھا کہ پاکستان کے معاشی نظام کی بنیاد اسلامی تعلیمات پر ہوگی اور مغرب کے معاشی نظام سے نجات حاصل کی جائے گی۔ چنانچہ سنگ میل پبلی کیشنز اردو بازار لاہور کی شائع کردہ کتاب ’’قائد اعظم کے مہ و سال‘‘ (مصنف جناب محمد علی چراغ) کے ص ۳۳۰ پر مذکور ہے کہ یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنے خطاب میں فرمایا

’’مغرب کے نظام معاشیات نے متعدد مسائل پیدا کر رکھے ہیں۔ میں اسلامی نظریات کے مطابق آپ کے یہاں نظام معیشت دیکھنے کا متمنی ہوں۔ مغرب کا معاشی نظام ہی دو عظیم جنگوں کا موجب بنا ہے۔ ہمیں اپنے مقاصد اور ضروریات کے لیے کام کرنا ہے، ہمیں انسانوں کے لیے معاشرتی اور معاشی انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں‘‘۔

مکتبہ محمود مکان نمبر ۸، رسول پورہ اسٹریٹ، اچھرہ، لاہور سے شائع کردہ کتابچہ ’’نظریۂ پاکستان اور اسلامی نظام‘‘ میں قائد اعظم کے مذکورہ خطاب کو ان الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔

’’میں اشتیاق اور دلچسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی ’’مجلس تحقیق‘‘ بینکاری کے ایسے طریقے کیونکر وضع کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے لاینحل مسائل پیدا کر دیے ہیں اور اکثر لوگوں کی رائے ہے کہ مغرب کو اس تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ مغربی نظام افرادِ انسانی کے مابین انصاف کرنے اور بین الاقوامی میدان میں آویزش اور چپقلش دور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ بلکہ گزشتہ نصف صدی میں ہونے والی دو عظیم جنگوں کی ذمہ داری سراسر مغرب پر عائد ہوتی ہے۔ مغربی دنیا صنعتی قابلیت اور مشینوں کی دولت کے زبردست فوائد رکھنے کے باوجود انسانی تاریخ کے بدترین باطنی بحران میں مبتلا ہے۔ اگر ہم نے مغرب کا معاشی نظام اور نظریہ اختیار کیا تو عوام کی پرسکون خوشحالی حاصل کرنے کے لیے اپنے نصب العین میں ہمیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اپنی تقدیر ہمیں منفرد انداز میں بنانی پڑے گی۔ ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔ ایسا نظام پیش کر کے گویا ہم مسلمانوں کی حیثیت سے اپنا قومی فرض سرانجام دیں گے، انسانیت کو سچے اور صحیح امن کا پیغام دیں گے کہ صرف ایسا امن ہی انسانیت کو جنگ کی ہولناکی سے بچا سکتا ہے اور صرف ایسا امن ہی بنی نوع انسان کی خوشی اور خوشحالی کا امین ہو سکتا ہے‘‘۔