حضرت مولانا جمیل احمد میواتی دہلویؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ نومبر ۲۰۰۴ء

حضرت مولانا پیر جمیل احمد میواتی ثم دہلویؒ کی زیارت و ملاقات ۱۹۷۰ء میں پہلی بار ہوئی جب وہ جمعیۃ علمائے اسلام کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے ضلع لاہور کے ایک حلقہ کے امیدوار تھے۔ اس کے بعد ان سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں، بعض مجالس ذکر میں شرکت کی سعادت بھی حاصل ہوئی اور ان کی شفقت اور دعاؤں سے شاد کام ہونے کا موقع بھی ملا۔ حضرت مرحوم کے ساتھ میرا تعلق دو حوالوں سے تھا۔ ایک جمعیۃ علمائے اسلام کے حوالہ سے کہ وہ علمائے حق اہل سنت والجماعت کے اس قافلہ کے ذی شعور افراد میں سے تھے اور حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی نور اللہ مرقدہ سے خصوصی تعلق رکھتے تھے۔ جمعیۃ کے اجلاسوں میں شریک ہونا اور تحریکات میں حصہ لینا، حالانکہ الیکشن کے جھمیلوں میں پڑنا تصوف و سلوک کے شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لیکن ہمارے اکابر نے دین کے مختلف شعبوں میں وحدت و اشتراک کو کچھ اس شان سے اجاگر کیا کہ سیاست و الیکشن کی معرکہ آرائی بھی سلوک و احسان کی طرح خالص دین اور عبادت کے ذوق میں ڈھل کر رہ گئی۔ جبکہ دوسرا حوالہ شیرانوالہ لاہور کا تھا کہ وہ میرے لیے روحانی فیض کا سرچشمہ تھا اور حضرت مولانا مرحوم بھی اسی تعلق سے وہاں اکثر آتے جاتے رہتے تھے۔ اور حسن اتفاق یہ تھا کہ ہماری سیاست اور سلوک دونوں کا مرکز شیرانوالہ تھا، جہاں سے مرشدی حضرت مولانا عبید اللہ انور قدس اللہ سرہ العزیز کی برکت سے ہمیں دونوں خوراکیں بیک وقت حاصل ہوتی رہیں۔ ویسے بھی تصوف و سیاست آپس میں جڑواں ہیں، اول الذکر کا موضوع فرد کی اصلاح ہے اور دوسرے شعبہ کا مقصد معاشرت و اجتماعیت کو صحیح طور پر چلانا ہے۔ فطری بات ہے کہ جب تک ان دونوں میں جوڑ اور توازن نہ ہو ان میں سے کوئی بھی شعبہ تنہا اپنا کام پوری طرح سرانجام نہیں دے سکتا۔

سید الصوفیہ حضرت حسن بصریؒ کو دیکھ لیجئے کہ انہوں نے لاکھوں افراد کی اصلاح و تربیت کا فریضہ انجام دیا لیکن اس کے ساتھ اجتماعی برائیوں کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنے اور وقت کے حکمرانوں کو ان کی غلطیوں پر متنبہ کرنے میں کبھی غفلت نہیں برتی۔ سید الطائفہ حضرت شیخ عبد القادرؒ جیلانی کے حالاتِ زندگی پر نظر ڈال لیجئے، ان کی بنیادی محنت فرد کی اصلاح تھی لیکن اجتماعی خرابیوں پر انہوں نے کبھی خاموشی اختیار نہیں کی او رحق گوئی میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ ہمارے برصغیر کے اکابر میں حضرت مجدد الفؒ ثانی اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ سے لے کر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ تک جس بزرگ کو بھی دیکھیں آپ کو یہی منظر دکھائی دے گا کہ سوسائٹی کے ایک پرزے کے طور پر فرد کی اصلاح و تربیت کے کام میں بھی منہمک ہیں اور معاشرے کی اجتماعی مشینری کو درست رکھنے کے لیے ملی مقاصد کی نشاندہی اور ان کی اصلاح کے عمل سے بھی غافل نہیں ہیں۔

حضرت مولانا جمیل احمد میواتی دہلویؒ بھی اسی قافلہ کے فرد تھے، اس لیے انہوں نے بھی اپنی تگ و تاز کے لیے کسی ایک شعبے پر قناعت نہیں کی بلکہ تصوف و سلوک کو اپنی جولانگاہ بنانے کے ساتھ ساتھ نفاذِ اسلام کی جدوجہد، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کی تحریک، دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تدریس کے شعبوں میں بھی فکر و عمل کا حصہ ڈالا۔ ان کا تعلق میوات سے تھا لیکن تقسیم ہند کے وقت ان کے والدین دہلی میں آباد تھے۔ ۱۹۴۷ء میں دہلی سے ہجرت کر کے پاکستان آئے۔ حضرت مولانا کا روحانی تعلق پہلے شیخ الاسلام حضرت حسین احمدؒ مدنی سے تھا، ان کے انتقال پرملال کے بعد سلوک و تصوف کی تعلیم و تربیت شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے زیر سایہ حاصل کی۔ حضرت لاہوریؒ کی وفات حسرت آیات کے بعد سلوک کے مراحل قطب الارشاد حضرت مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری اور صاحب السیف حضرت مولانا بشیر احمد قادری پسروریؒ کی نگرانی میں طے کیے۔ وہ حضرت رائے پوریؒ اور حضرت پسروریؒ سے خلافت پانے کا اعزاز رکھتے تھے۔ جبکہ محبت و مودت کا تعلق حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ، حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ، حضرت مولانا سید حامد میاںؒ، حضرت قاری محمد ابراہیمؒ میواتی (کراچی) سے قائم تھا۔ اتنی خوشبوؤں کے اجتماع اور تناسب سے حضرت مولانا دہلویؒ کی شخصیت تشکیل پائی اور پھر اس گلدستہ کی خوشبو سے ہزاروں افراد کے ارواح و قلوب معطر ہوئے۔ حضرت مولانا دہلویؒ کے ارادت مندوں کا دائرہ پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے جنہوں نے ان سے اللہ کا ورد بھی سیکھا اور حق گوئی کا سبق بھی حاصل کیا۔ اور آج ان کے تربیت یافتہ علماء اور دیگر حضرات ملک کے مختلف حصوں میں عام لوگوں کی روحانی تربیت اور اصلاح کی خدمات سرانجام دینے میں شب و روز مصروف ہیں۔

مولانا دہلوی نے ۱۹۷۰ء میں جمعیۃ علمائے اسلام کے تحت قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا جو ان کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا تھا لیکن دینی جدوجہد کا تقاضہ تھا اور علمائے حق اہل السنت والجماعت کے قافلہ کا اجتماعی فیصلہ تھا اس لیے وہ بلاتامل اس میدان میں کود پڑے اور نفاذِ اسلام اور تحفظ ختم نبوت کی تحریکات میں بھی بھرپور حصہ لیتے رہے۔ حتیٰ کہ ان کا زندگی بھر یہ عمل رہا کہ الیکشن میں جہاں کہیں کوئی قادیانی کھڑا ہوتا اس کے مقابلہ میں مسلمان امیدوار کی بطور خاص حمایت کرتے اور پوری کوشش کرتے کہ قادیانی کامیاب نہ ہونے پائے۔ ایک بار تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں جلوس کا پروگرام تھا اور ان کے مرید اس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے، حضرت مولانا دہلویؒ نے اپنے اکلوتے فرزند ارجمند مولانا مفتی سعید حسن دہلوی کے بارے میں فرمایا کہ سعید میاں کو بھی ساتھ لے جاؤ، اگر جلوس پر گولی چلے تو اسے آگے کر دینا۔ اگر حضورؐ کی ختم نبوت پر میرا بچہ قربان ہوگیا تو یہ میرے لیے بڑی سعادت کی بات ہوگی۔

حضرت مولانا دہلویؒ گفتار کے ساتھ کردار کے بھی غازی تھے اور بلاشبہ وہ گفتار و کردار میں معاصر علماء و صوفیاء کے لیے مشعلِ راہ تھے۔ یہی جذبہ تھا جس نے ماضی میں ہماری خانقاہوں کو سوسائٹی کے روحانی اور اعصابی مراکز کا مقام دے رکھا تھا، اور اسی کے فقدان کے باعث آج وہ خانقاہیں بانجھ ہوتی جا رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت دہلویؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں اور ان جیسے مجاہد اور باعمل صوفیہ کی رہنمائی سے ایک بار پھر ملت اسلامیہ کو شادکام فرمائے، آمین یا رب العالمین۔