چنیوٹ میں تعزیتی ریفرنس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ مارچ ۲۰۱۵ء

۱۳ مارچ کو چنیوٹ میں حضرت مولانا محمد نافع جھنگویؒ اور حضرت مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کی یاد میں منقعد ہونے والے ایک تعزیتی ریفرنس میں شرکت کا موقع ملا جس کا اہتمام ’’خدام فکر اسلاف‘‘ نے جامع مسجد گڑھا میں بعد نماز عشاء کیا تھا۔ اس کی صدارت حضرت مولانا حافظ ناصر الدین خاکوانی نے کی اور مفکر اسلام حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود مہمان خصوصی تھے۔ خطاب کرنے والوں میں مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا مفتی شاہد مسعود، برادرم مولانا عبد القدوس قارن، حافظ محمد عمیر چنیوٹی اور راقم الحروف شامل تھے۔ جبکہ حضرت مولانا محمد نافع قدس اللہ سرہ العزیز کے فرزندان گرامی جناب محمد مختار عمر اور مولانا ابوبکر صدیق بھی رونق محفل تھے۔ اظہارِ خیال کرنے والوں کا کہنا تھا کہ حضرت مولانا محمد نافعؒ ملک کے معمر اور بزرگ علماء کرام میں سے تھے جبکہ مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کا شمار نوجوانوں میں ہوتا تھا مگر دونوں کتابی آدمی تھے اور سادگی، تواضع، علم دوستی اور تحقیق و مطالعہ دونوں میں قدرِ مشترک تھی۔ دونوں کی زندگی ایسی تھی کہ اسے دیکھ کر پرانے بزرگوں اور اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ حضرت مولانا محمد نافعؒ کی تصنیفات اور تحقیقی افادات و جواہر کو محفوظ رکھنے اور ان کی مسلسل اشاعت کے ’’رحماء بینہم ویلفیئر ٹرسٹ‘‘ کے نام سے ایک رفاہی ادارہ ان کی زندگی میں ہی قائم کر دیا گیا تھا اور اس کے تحت سماجی اور رفاہی خدمات کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا تھا جسے منظم اور متحرک کرنے کے لیے ان کے فرزندان گرامی اور قریبی متعلقین پرعزم ہیں اور اس کے مقاصد درج ذیل طے کیے گئے ہیں:

  • پورے عالم اسلام بالخصوص وطن عزیز میں جاری انتشار و افتراق، بد امنی اور فرقہ واریت کے خاتمہ اور مسلک اعتدال کے فروغ اور اتحاد امت کے ذریعہ ایثار و ہمدردی، بھائی چارے کے ماحول کی تشکیل کے لیے ہر ممکن علمی اور عملی مساعی کرنا۔
  • علماء حق کی راہ نمائی اور نگرانی میں جدید و قدیم علوم کی تعلیم کے لیے ایک عظیم الشان مرکز کا قیام جس کے تحت علوم اسلامیہ و عصریہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مدارس، مکاتب اور مساجد کے قیام کے ذریعہ لا دینیت اور گمراہی کے اس سیلاب کا سامنا کرنے کی تیاری بھی کی جا سکے جو مغربی تہذیب کے جلو میں ہماری نئی نسل کو بہا لے جانے کے درپے ہے۔
  • قرآن و حدیث اور علوم اسلامیہ نیز امت مسلمہ کی زبان کی حیثیت سے معاشرے میں عربی زبان کی ترویج کے لیے مساعی کرنا۔
  • ایک عظیم الشان حوالہ جاتی لائبریری اور دارالمصنفین کا قیام جہاں مولانا محمد نافعؒ کے اسلوب میں احقاق حق اور ابطال باطل کی روایت کو جاری رکھا جا سکے۔
  • مغربی ذرائع ابلاغ، مستشرقین اور اسلامی دنیا میں موجود متجددین کی جانب سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کے ازالہ کے لیے بالخصوص جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کی راہ نمائی اور پوری دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے کے لیے سیمیناروں، مذاکروں، خط و کتابت کورسز اور قومی اور بین الاقوامی کانفرنسوں کا انعقاد ۔
  • حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کی پیروی کرتے ہوئے اور حضرات صحابہ کرام و اہل بیت کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام بالخصوص غرباء، بیماروں، کمزوروں اور آفت زدہ لوگوں کی خدمت کے ذریعہ فلاح اخروی کا حصول۔

مقاصد تو ماشاء اللہ بہت خوب ہیں اور حضرت مولانا محمد نافعؒ کی عظیم علمی و دینی شخصیت کے شایان شان ہیں جبکہ ٹرسٹ کا نام بھی حضرت مرحوم کی عظیم تصنیف ’’رحماء بینہم‘‘ کی مناسبت سے بہت موزوں ہے۔ البتہ ان مقاصد کے حصول کی محنت کے لیے اصحاب خیر کے ساتھ ساتھ ارباب فکر و دانش کی خصوصی توجہات کی بھی مسلسل ضرورت رہے گی جس کے لیے ٹرسٹ کے ہیڈ آفس محمدی شریف تحصیل بھوانہ ضلع چنیوٹ (فون ۰۴۷۶۳۲۲۲۹۲) سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

مولانا محمد نافعؒ کے فرزندان گرامی سے راقم الحروف نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ کی علمی و دینی خدمات و افادات اور حیات و مساعی کو مربوط انداز میں پیش کرنے کے لیے ہم ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ گوجرانوالہ کی ایک خصوصی اشاعت پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس پر انہوں نے خوشی کا اظہا رکیا اور باہمی مشورہ سے طے پایا کہ اس خصوصی اشاعت کو زیادہ سے زیادہ جامع اور مفید بنانے کے لیے مشترکہ طور پر محنت کی جائے گی اور ان شاء اللہ تعالیٰ سالِ رواں کے دوران ہی یہ خصوصی اشاعت منظر عام پر آ جائے گی۔ جبکہ حضرت مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کی حیات و خدمات اور علمی و تحقیقی مساعی کے حوالہ سے ’’الشریعہ‘‘ کی خصوصی اشاعت پیش کرنے کا پروگرام بھی زیر غور ہے۔

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود نے ضعف و علالت کے باوجود اس ریفرنس میں شریک ہو کر اپنے ایک دیرینہ علمی رفیق حضرت مولانا محمد نافعؒ اور باذوق خوشہ چین مولانا مشتاق احمد چنیوٹیؒ کے ساتھ دلی تعلق کا اظہار کیا اور اپنے خطاب میں اس امر کا بطور خاص تذکرہ کیا کہ کتاب کی دنیا کے لوگ ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس حوالہ سے مولانا محمد نافعؒ اور مولانا مشتاق احمد چنیوٹی کے علاوہ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ ، شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد المجید لدھیانویؒ ، اور محقق اہل سنت حضرت مولانا حافظ مہر محمد میانوالویؒ کا بطور خاص تذکرہ کیا اور کہا کہ علم اور کتاب کے ذوق کو زندہ رکھنے کے لیے ان بزرگوں کا تذکرہ کرتے رہنا ضروری ہے اور ان سے استفادہ کی طرف نوجوان علماء کرام کو توجہ دلانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

یہ تعزیتی ریفرنس جس کا اہتمام مولانا قاری محمد یامین گوہر، حافظ محمد عمیر چنیوٹی اور ان کے رفقاء نے ’’خدام فکر اسلاف‘‘ کے تحت کیا، اس بات کی علامت ہے کہ نوجوان علماء میں اپنے بزرگوں کے ساتھ علمی و فکری طور پر وابستہ رہنے کا ذوق بحمد اللہ تعالیٰ سلامت ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے مزید ترقی و قبولیت سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔