’’شریعت بل‘‘ پر مختلف حلقوں کے اعتراضات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جولائی ۱۹۹۰ء
  1. سینٹ میں ’’نفاذ شریعت ایکٹ‘‘ کی منظوری
  2. پارلیمنٹ اور دستور
  3. عدالتیں اور قانون سازی
  4. شریعت بل اور فرقہ واریت
  5. ملائیت کی اجارہ داری
  6. خواتین کے حقوق
  7. اقلیتوں کی شکایت
  8. حکومت کا طرز عمل اور متوقع پالیسی
  9. شریعت بل اور تحریک نفاذ شریعت


سینٹ میں ’’نفاذِ شریعت ایکٹ‘‘ کی منظوری

پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینٹ آف پاکستان نے ۱۳ مئی ۱۹۹۰ء کو ’’نفاذِ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء‘‘ کے عنوان سے ایک نئے مسودہ قانون کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔ یہ مسودہ قانون اسی ’’شریعت بل‘‘ کی ترمیم شدہ شکل ہے جو سینٹ کے دو معزز ارکان مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے ۱۹۸۵ء کے دوران سینٹ کے سامنے پیش کیا تھا اور اس پر ایوان کے اندر اور باہر مسلسل پانچ برس تک بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری رہا۔ سینٹ آف پاکستان نے شریعت بل کے مسودہ پر نظر ثانی کے لیے وقتاً فوقتاً مختلف کمیٹیاں تشکیل دیں اور سینٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے اسے رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے مشتہر بھی کیا گیا جس کے جواب میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے شریعت بل کی حمایت کرتے ہوئے اس کی منظوری پر زور دیا۔ جبکہ صدر پاکستان کی طرف سے شریعت بل کا مسودہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوایا گیا اور کونسل نے اس پر ایک مفصل رپورٹ پیش کی۔ ایوان سے باہر مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام نے ’’متحدہ شریعت محاذ‘‘ کے نام سے مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دے کر شریعت بل کی منظوری کے لیے جدوجہد کی اور بالآخر ان تمام مراحل سے گزر کر شریعت بل متعدد ترامیم کے ساتھ ’’نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۰ء‘‘ کے نام سے سینٹ آف پاکستان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔

دستوری طریق کار کے مطابق نفاذ شریعت ایکٹ کا یہ مسودہ اب پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں زیر بحث آئے گا جسے سینٹ سے اس کی منظوری کے ۹۰ دن کے اندر اسے منظور یا مسترد کرنا ہے۔ اگر خدانخواستہ قومی اسمبلی نے اسے منظور نہیں کیا تو ارکان سینٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس پر دوبارہ غور کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا مطالبہ کریں۔ اس طرح قومی اسمبلی اور سینٹ کے ارکان مشترکہ اجلاس میں نفاذ شریعت ایکٹ کو منظور یا معاذ اللہ مسترد کرنے کا حتمی فیصلہ کر سکیں گے۔

۱۹۸۵ء میں جب شریعت بل کو سینٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے مشتہر کیا گیا تو اس کی حمایت اور مخالفت میں قومی حلقوں میں بحث و تمحیص کا ایک طویل سلسلہ چل نکلا۔ بل کے حق اور اس کے خلاف بہت کچھ کہا گیا۔ جن طبقات نے شریعت بل کی اس وقت مخالفت کی ان میں سیاسی حلقے بھی تھے اور مذہبی عناصر بھی مگر مخالفت کی بیشتر وجوہ سیاسی تھیں۔ اور عام طور پر اسے اس پس منظر میں دیکھا جا رہا تھا کہ شاید اس کے پس پردہ حکومت وقت کے سیاسی مقاصد اور عزائم کارفرما ہیں۔ لیکن حکومت کی تبدیلی اور حالات کے پلٹا کھانے کے بعد شکوک و شبہات کے بادل رفتہ رفتہ چھٹنے لگے اور بالآخر مطلع اس حد تک صاف ہوگیا کہ سینٹ میں شریعت بل کی متفقہ منظوری کے بعد اس کے بارے میں قومی اخبارات میں دوبارہ بحث کا آغاز ہوا تو مخالفت میں وہ شدت نظر نہیں آرہی جو کچھ عرصہ قبل شریعت بل کا نام سامنے آتے ہی قومی اخبارات کی نمایاں سرخیوں کی زینت بن جایا کرتی تھی۔ بالخصوص شریعت بل کی مخالفت کرنے والے معروف مذہبی حلقوں مثلاً جمعیۃ علماء پاکستان، جمعیۃ اہل حدیث اور جمعیۃ علماء اسلام (فضل الرحمان گروپ) کی طرف سے اس کی حمایت کا اظہار حالات میں بہتر اور خوش آئند تبدیلی کا غماز ہے۔ اور اس امر کے آثار واضح ہو رہے ہیں کہ قومی اسمبلی سے شریعت بل کو منظور کرانے کے لیے ملک کے تقریباً سبھی مذہبی حلقے مشترکہ حکمت عملی اور جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ مگر اس کے باوجود قومی اخبارات میں نفاذ شریعت ایکٹ کے بارے میں ہونے والی بحث میں مخالفت کا پہلو ابھی تک نمایاں ہے اور اس کے خلاف بعض ایسے خدشات و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے جن کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ہے۔

ہمارے نزدیک نفاذ شریعت ایکٹ کے بارے میں قومی اخبارات میں ہونے والی بحث میں مخالفت کا پہلو نمایاں ہونے کی کچھ وجوہ ہیں جنہیں بہرحال پیش نظر رکھنا ہوگا۔

  1. سینٹ نے ترامیم کے ساتھ شریعت بل کا جو مسودہ منظور کیا ہے اسے قومی اخبارات نے تا دمِ تحریر شائع نہیں کیا۔ صرف ایک قومی اخبار نے اس کا مسودہ شائع کیا ہے لیکن وہ نہ صرف یہ کہ نامکمل ہے بلکہ اس میں وہ ترامیم بھی شامل نہیں ہیں جو سینٹ نے منظوری کے مرحلے میں آخری وقت اس میں سموئی ہیں۔ اس لیے ملک کی بیشتر آبادی کو یہ معلوم ہی نہیں کہ منظور شدہ مسودہ کیا ہے۔
  2. بیشتر قومی اخبارات اپنی طبقاتی وابستگیوں اور کچھ مخصوص ملکی و بین الاقوامی عوامل کے ہاتھوں اپنی پالیسی کو عملاً سیکولر رکھنے پر مجبور ہیں جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ شریعت بل یا شریعت سے متعلقہ کسی بھی امر کی مخالفت میں آنے والے بیانات و مضامین ان اخبارات میں نمایاں اور فل ایڈیشن جگہ پاتے ہیں جبکہ حمایت میں آنے والے بیانات و مضامین کو کسی ایک ایڈیشن میں غیر نمایاں جگہ ملتی ہے۔ اس طرح عوام کو دونوں طرف کا موقف اور دلائل برابر سطح پر معلوم کرنے کا موقع نہیں ملتا اور شرعی امور کے بارے میں عوام میں شکوک و شبہات اور تذبذب کی فضا قائم رکھنے کی پالیسی میں قومی اخبارات یا ان کو کنٹرول کرنے والی لابیاں کسی حد تک کامیاب رہتی ہیں۔
  3. شریعت بل کی حمایت کرنے والی لابیوں میں باہمی ربط و نظم کا فقدان ہے اور وہ اپنے موقف کو سائنٹیفک انداز میں رائے عامہ تک صحیح طور پر پہنچانے میں کامیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کا موقف معقول اور منطقی ہونے کے باوجود دانشور اور تعلیم یافتہ طبقوں کے ذہنوں کے دروازوں پر دستک نہیں دے پاتا اور شکوک و خدشات کا ماحول بدستور قائم رہتا ہے۔

اس پس منظر میں ان شبہات پر ایک نظر ڈالنا مناسب معلوم ہوتا ہے جو قومی اخبارات میں شائع ہونے والے بعض بیانات میں ظاہر کیے گئے ہیں۔ مثلاً یہ کہ

  • پارلیمنٹ اور دستور پر شریعت بل کو بالادستی دے دی گئی ہے جس سے آئین کی بالاتر حیثیت اور پارلیمنٹ کی خودمختاری مجروح ہوگی۔
  • قانون سازی کے اختیارات عدالتوں کو دے دیے گئے ہیں۔
  • شریعت بل کے ذریعے فرقہ واریت کے فروغ کی راہ ہموار ہوگی۔
  • شریعت بل کے نفاذ سے ملا ازم کا غلبہ ہو جائے گا اور ملائیت کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی۔
  • شریعت بل کے ذریعے عورتوں کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں اور ان کی حیثیت کم کر دی گئی ہے۔

پارلیمنٹ اور دستور

جہاں تک پارلیمنٹ اور دستور پر شریعت بل کی بالادستی کا تعلق ہے یہاں ایک ہلکا سا مغالطہ اور ہیرپھیر ہے جسے دور کرنا ضروری ہے۔ یہ بالادستی جس کو ہوّا بنایا جا رہا ہے ’’شریعت بل‘‘ کی نہیں بلکہ ’’شریعت‘‘ کی ہے کیونکہ شریعت بل تو خود اسی پارلیمنٹ کی منظوری کا محتاج ہے اور آئینی حدود کے اندر منظوری کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ جب دستور اور پارلیمنٹ خود اس بل کو تخلیق کر رہے ہیں تو آخر بل کی ان دونوں پر بالادستی کیسے ہو سکتی ہے؟ بات بل کی نہیں بلکہ شریعت کی ہے جسے بل کی اوٹ میں متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رہی بات شریعت کی تو اس میں کسی مسلمان کے لیے کلام کی گنجائش نہیں ہے کہ شریعت کو پارلیمنٹ اور دستور پر بہرحال بالادستی حاصل ہے۔

پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے جس کا سرکاری مذہب اسلام ہے اور جس کی دستوری پالیسیوں کا سرچشمہ ’’قراردادِ مقاصد‘‘ ہے جو واضح طور پر خدا کی حاکمیت مطلقہ کی ضمانت دیتی ہے۔ اسی لیے ان دو دستوری بنیادوں کی موجودگی میں یہ تصور کہ دستور کی کسی دفعہ اور قرآن و سنت کے کسی حکم میں تعارض کے وقت پارلیمنٹ کو بالادستی حاصل ہوگی، نہ صرف مسلمان کے عقیدہ و ایمان کے منافی ہے بلکہ خود دستور کی نظریاتی بنیادوں سے متصادم ہے۔ اسی طرح پارلیمنٹ کی خودمختاری کا یہ تصور کہ وہ شریعت کی حدود اور قرآن و سنت کے احکامات کے دائرہ سے بالاتر ہو کر قانون سازی کا حق رکھتی ہے، یورپی جمہوریتوں میں تو یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے بارے میں اس آزادی کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اس نظریاتی اسلامی ملک میں دستور اور پارلیمنٹ کو شریعت کے دائرہ کا پابند رہنا ہی پڑے گا ورنہ اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہ جاتا۔

پھر دستور اور پارلیمنٹ پر شریعت کو یہ بالادستی شریعت بل نے عطا نہیں کی بلکہ یہ بالادستی قراردادِ مقاصد کے ذریعے حاصل ہوئی جو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں پاس ہوئی تھی اور جسے جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے موجودہ دستور کا باقاعدہ اور واجب العمل حصہ قرار دیا تھا۔ پارلیمنٹ اور دستور پر شریعت کو بالادستی دینے والی قراردادِ مقاصد کو منظور دستور ساز اسمبلی نے کیا تھا اور اسے دستور کا باقاعدہ حصہ سپریم کورٹ کے بخشے ہوئے اختیارات کے تحت جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے قرار دیا تھا۔ جبکہ شریعت بل اور نفاذ شریعت ایکٹ نے تو صرف اپنے جواز کے لیے اس کا حوالہ دیا ہے۔ چنانچہ نفاذ شریعت ایکٹ کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ

’’ہر گاہ کہ قراردادِ مقاصد کو، جو کہ پاکستان میں شریعت کو بالادستی عطا کرتی ہے، دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان ۱۹۷۳ء کے مستقل حصے کی حیثیت سے شامل کر لیا گیا ہے اور ہرگاہ کہ مذکورہ قراردادِ مقاصد کے اغراض کو بروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے کہ شریعت کے فی الفور نفاذ کو یقینی بنایا جائے، لہٰذا حسب ذیل قانون بنایا جاتا ہے۔‘‘

اس لیے اگر دستور اور پارلیمنٹ پر شریعت کی بالادستی (معاذ اللہ) قابل اعتراض ہے تو اس کی ذمہ داری اس شریعت بل پر عائد نہیں ہوتی بلکہ وہ پہلے سے موجود ہے۔ اور ۱۹۷۳ء کے دستور کو جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کی ترامیم سمیت قبول کرنے والے تمام عناصر اس بالادستی کو تسلیم کرنے اور اس کا احترام کرنے کے بہرحال پابند ہیں۔

عدالتیں اور قانون سازی

یہ بات بھی محض ایک مغالطہ کے سوا کچھ نہیں کہ شریعت بل میں عدالتوں کو قانون سازی کے اختیارات دے دیے گئے ہیں، کیونکہ شریعت بل میں عدالتوں کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ یہ ہے کہ

  • عدالتیں شریعت کے مطابق مقدمات کا فیصلہ کریں۔
  • شریعت پاکستان کا اعلیٰ ترین قانون ہوگی۔
  • شریعت کی تشریح و تفسیر کرتے وقت قرآن و سنت کی تشریح و تفسیر کے مسلمہ اصول و قواعد کی پابندی کی جائے گی۔

اب اس میں دیکھیں کہ عدالتوں کو قانون سازی کا حق کہاں سے مل گیا ہے؟ بلکہ وہ تو پابند ہیں کہ مقدمات کا فیصلہ شریعت کے مطابق کریں جبکہ شریعت کے قوانین قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی صورت میں پہلے سے موجود ہیں۔ اب اگر کوئی عدالت کسی زیرسماعت مقدمہ کا فیصلہ قرآن و سنت کو سامنے رکھ کر کرتی ہے تو اس نے قانون وضع تو نہیں کیا کہ قانون پہلے سے موجود ہے، عدالت نے صرف اس کا اطلاق کیا ہے اور اس کی تعبیر و تشریح کی ہے۔ کوئی نیا قانون وضع کرنے اور کسی پہلے سے موجود قانون کی تعبیر و تشریح کر کے ایک وقوعہ پر اس کا اطلاق کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے، اور یہ فرق ایسا نہیں جسے اعتراض کرنے والے حضرات سمجھتے نہ ہوں لیکن اس کے باوجود مسلسل مغالطہ دیا جا رہا ہے۔ شریعت بل نے کوئی قیامت نہیں ڈھائی بلکہ عدالتوں کو قوانین کی تعبیر و تشریح کے وہی اختیارات دیے ہیں جو دنیا کے ہر دستور اور ہر قانونی نظام میں عدالتوں کو حاصل ہیں اس لیے اس پر واویلا کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

شریعت بل اور فرقہ واریت

شریعت بل کے ذریعہ فرقہ واریت کے فروغ کا بھی واویلا کیا جا رہا ہے حالانکہ عملاً شریعت بل کے سینٹ سے منظور ہوجانے کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس لیے کہ مذہبی محاذ پر مولانا فضل الرحمان، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر ساجد میر اور مولانا عبد الستار خان نیازی کی جماعتیں، جو اس سے قبل شریعت بل کی مخالفت میں پیش پیش تھیں، اب اس کی حمایت کر رہی ہیں اور اہل السنتہ والجماعۃ کے تینوں مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کا کوئی قابل ذکر حلقہ ایسا نہیں ہے جو شریعت بل کا اب مخالف ہو۔ اس لیے یہ کہنا حقیقت کے برعکس ہے کہ شریعت بل فرقہ وارانہ کشمکش میں اضافہ کا باعث ہوگا۔ البتہ اہل تشیع کے بعض انتہا پسند حلقوں کی طرف سے مخالفت کی آوازیں اٹھ رہی ہیں لیکن وہ بھی بل کے مندرجات سے پوری طرح واقف نہ ہونے کی وجہ سے ہیں، کیونکہ شریعت بل کی دفعہ نمبر ۲ شق (ب) میں شریعت کی تشریح و تعبیر کے طریق کار کے ضمن میں دستور کی دفعہ ۲۲۷ شق (۱) کا واضح طور پر حوالہ دیا گیا ہے جس میں پرسنل لاء میں اہل تشیع کے لیے ان کے فقہی مسلک کے مطابق قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کا حق تسلیم کیا گیا ہے، اور اسے شریعت بل میں بھی جوں کا توں برقرار رکھا گیا ہے اس لیے یہ واویلا بھی حقائق پر مبنی نہیں ہے۔

ملائیت کی اجارہ داری

بعض حلقے اس پروپیگنڈا میں مصروف ہیں کہ شریعت بل کے نفاذ سے ملا ازم ملک میں غالب ہو جائے گا اور ملائیت کی اجارہ داری قائم ہوگی۔ یہ بات بھی حقیقت کے برعکس ہے کیونکہ شریعت بل میں قرآن و سنت کے قوانین کے نفاذ اور شریعت کی تعبیر و تشریح کے تمام اختیارات اعلیٰ عدالتوں کو سونپ دیے گئے ہیں۔ جبکہ ان عدالتوں میں سے صرف وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بنچ میں علماء کی نمائندگی ثانوی حیثیت سے موجود ہے۔ باقی عدالت ہائے عالیہ اور عدالت عظمیٰ میں علماء کرام سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔

قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے استحقاق پر علماء کرام اگر اڑ جاتے تو یہ بات قابل فہم بھی تھی کیونکہ جن جج صاحبان نے قرآن و سنت کا باضابطہ علم حاصل نہیں کیا انہیں قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح میں تیس تیس سال تک قرآن و حدیث اور فقہ کی تدریسی خدمات سرانجام دینے والے جید علماء پر ترجیح دینا کسی بھی طرح قرینِ قیاس نہیں ہے۔ لیکن یہ علماء کرام کا ایثار اور نفاذِ اسلام کے ساتھ ان کی والہانہ وابستگی کا اظہار ہے کہ وہ اپنے اس جائز حق سے عدالتوں کے حق میں دستبردار ہوگئے ہیں اور انہوں نے شریعت بل کے ذریعے صرف تعبیر و تشریح کے مسلمہ قواعد کی پابندی کی شرط لگا کر یہ حق بھی جج صاحبان کے سپرد کر دیا ہے۔ اور بلاشبہ اس مرحلہ میں علماء کرام نے اس روایتی کہانی والی ماں کا کردار ادا کرنا پسند کیا ہے جس میں ایک معصوم بچے کی دعوے دار دو ماؤں کے درمیان بچے کو دو ٹکڑے کر کے تقسیم کرنے کی بات کی گئی تو بچے کی حقیقی ماں نے معصوم بچے کی زندگی کی خاطر اپنے دعوے سے دستبردار ہو کر بچہ سوتیلی ماں کے حوالے کر دیا کہ اس طرح بچہ دو ٹکڑے ہونے سے تو بچ جائے گا۔ بالکل اسی طرح علماء کرام نے اپنا جائز اور منطقی استحقاق چھوڑ کر ایثار و قربانی کا جو مظاہرہ کیا ہے وہ نفاذِ اسلام کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اگر اس کے باوجود کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ شریعت بل کے نفاذ سے ملاؤں کی اجارہ داری قائم ہوگی تو اس کی اس بات کو کم عقلی یا عناد کے علاوہ اور کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا۔

خواتین کے حقوق

شریعت بل کے حوالہ سے خواتین میں یہ غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس شریعت بل کے ذریعے عورتوں کے حقوق غصب ہو جائیں گے اور ان کی حیثیت کم ہو جائے گی۔ حالانکہ شریعت بل کے پورے مسودہ میں خواتین کے حوالے سے مثبت یا منفی کوئی ایک دفعہ یا شق موجود نہیں ہے۔ اور نہ ہی اعتراض کرنے والے حلقے شریعت بل کی کسی ایک دفعہ کی نشاندہی کر سکے ہیں جو ان کے بقول خواتین کے حقوق کے منافی ہے۔ ہاں اصولی طور پر تمام ملکی معاملات پر قرآن و سنت کے احکام کی بالادستی کی بات شریعت بل میں ضرور کی گئی ہے اور اس بارے میں کلام کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ خواتین کی عزت و احترام اور حقوق و مفادات کا تحفظ جس قدر شریعت اسلامیہ میں کیا گیا ہے اس کی کسی اور نظام میں مثال نہیں ملتی۔

اس حقیقت کو ہر مسلمان تسلیم کرتا ہے سوائے ان چند مغرب زدہ خواتین کے جن کے ہاں عورتوں کے حقوق کا تصور یہ ہے کہ پاکستان میں مغربی طرز کے معاشرہ کے فروغ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور بے پردگی،جنسی انارکی اور اخلاق باختگی کی تمام مغربی اقدار بلا روک ٹوک پاکستان میں رائج ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ خواتین کی بیشتر تنظیموں نے مغرب زدہ عورتوں کے اس پراپیگنڈا کو مسترد کر کے شریعت بل کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے اور وہ خواتین میں مغربی لابیوں کے زہریلے پراپیگنڈا کے ازالہ کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں۔

اقلیتوں کی شکایت

ہم یہ گزارشات مکمل کر چکے تھے کہ شاہدرہ لاہور سے ماہنامہ المذاہب کے مدیر محترم جناب محمد اسلم رانا کی طرف سے، جو مسیحیت کے ماہر اور اقلیتوں کے جائز حقوق کے تحفظ کے علمبردار ہیں، ایک مسیحی ماہنامہ شاداب میں شائع شدہ مضمون کی فوٹو کاپی ہمیں موصول ہوئی جس میں شریعت بل کے خلاف ایک لمبی تمہید کے بعد یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ

’’اگر اس بل کی منظوری ناگزیر ہی ہو جائے تو کم از کم اقلیتوں خصوصاً مسیحیوں کو دیگر شرعی آرڈیننس سمیت شریعت بل سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور ان کے تمام تر فقہی، مذہبی اور سماجی مسائل ملکی قوانین اور ان کے پرسنل لاز کے مطابق حل کیے جائیں اور شریعت بل کو وطن عزیز کے آئین پر کوئی فوقیت نہ دی جائے۔‘‘

اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ جہاں تک پرسنل لاء کا تعلق ہے، شریعت بل کی دفعہ ۱ شق ۴ میں اس امر کی واضح طور پر صراحت کر دی گئی ہے کہ

’’اس (بل) میں شامل کسی امر کا اطلاق غیر مسلموں کے شخصی قوانین پر نہیں ہوگا۔‘‘

اس لیے اس ضمن میں کسی اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ البتہ تمام شرعی قوانین سے غیر مسلموں کو مستثنیٰ قرار دینے کا مطالبہ دوسرے لفظوں میں ہر غیر مسلم اقلیت کے لیے مستقل اور متوازی پبلک لاء کے نفاذ کا مطالبہ ہے جسے نہ تو قبول کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی عقل و انصاف کے کسی اصول پر پورا اترتا ہے۔ باقی رہی آئین پر شریعت کی بالادستی کی بات تو یہ غیر مسلموں کے سوچنے کی بات نہیں اور نہ ہی انہیں یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ اس قسم کے گمراہ کن مشورے دے کر مسلمانوں کے مذہبی امو رمیں مداخلت کریں اور انہیں گمراہ کرنے کی کوشش کریں۔

حکومت کا طرز عمل اور متوقع پالیسی

شریعت بل کی مخالفت میں اٹھنے والی آوازوں کا ایک نظر جائزہ لینے کے بعد یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں حکومتی حلقوں کے طرز عمل پر بھی نگاہ ڈال لی جائے تاکہ ملک کے دینی حلقے اس کی روشنی میں اپنی جدوجہد کا دائرہ اور رخ متعین کر سکیں۔

جب تک شریعت بل کا مسودہ سینٹ کی مختلف کمیٹیوں میں زیر بحث رہا حکومت کی دلچسپی کا عالم یہ تھا کہ دو وفاقی وزراء وزیر قانون اور وزیر مذہبی امور ان کمیٹیوں میں شامل ہونے کے باوجود ان سے لاتعلق رہے، ایک دو اجلاسوں کے سوا وہ کسی میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ شاید ان کا خیال تھا کہ شریعت بل نے منظور تو ہونا نہیں اس میں وقت ضائع کرنے سے کیا فائدہ۔ حتیٰ کہ منظوری کے آخری مرحلہ میں وفاقی وزیر قانون اپنی تجویز کردہ ترامیم کو ایوان میں پیش کرنے کے لیے موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے ان کی ترامیم مسترد ہوگئیں۔ مگر سینٹ میں شریعت بل کی متفقہ منظوری نے حکومتی حلقوں کو اضطراب انگیز حیرت سے دوچار کر دیا اور ایک دو دن کی ’’سکتہ نما‘‘ خاموشی کے بعد وفاقی وزراء نے وہی راگ الاپنا شروع کر دیا جو شریعت بل کے مخالفین کی طرف سے ایک عرصہ سے الاپا جا رہا ہے۔ اس طرح حکومت کا نقطۂ نظر واضح ہوگیا کہ وہ سینٹ میں شریعت بل کی منظوری پر بے حد مضطرب ہے اور یہ اضطراب اس کی آئندہ پالیسی کے رخ کو واضح کر رہا ہے۔

اس لیے یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ حکومت قومی اسمبلی میں شریعت بل کی منظوری کو روکنے کے لیے ہرممکن ذریعہ اختیار کرے گی۔ اس سلسلہ میں حکومت کی متوقع پالیسی پر نظر ڈالنے سے پہلے اس طریق کار کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے جس سے گزر کر یہ شریعت بل ملک میں باضابطہ قانون کی شکل اختیار کر سکے گا۔

آئینی ماہرین کے مطابق شریعت بل سینٹ سے منظور ہونے کی تاریخ سے ۹۰ دن کے اندر قومی اسمبلی میں پیش ہونا ضروری ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس مدت کے دوران شریعت بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل نہ ہو سکا تو وہ خودبخود ختم ہو جائے گا جیسا کہ اس سے قبل سینٹ سے منظور ہونے والا نواں آئینی ترمیمی بل جو نفاذ شریعت ہی کے بارے میں تھا ۹۰ دن کے اندر قومی اسمبلی میں پیش نہ ہو سکنے کی وجہ سے ختم ہو چکا ہے۔ اگر اس دوران شریعت بل قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں آگیا تو قومی اسمبلی اسی مدت کے دوران اسے منظور یا مسترد کرنے کی پابند ہے، اور وہ منظور یا مسترد کرنے کے علاوہ اس میں ترامیم بھی تجویز کر سکتی ہے۔

قومی اسمبلی میں شریعت بل مسترد ہونے کی صورت میں سینٹ کی طرف سے پارلیمنٹ یعنی سینٹ اور قومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور پھر مشترکہ اجلاس میں بل کو منظور یا مسترد کرنے کا فیصلہ ہوگا۔ جبکہ ترامیم کی صورت میں بل کا مسودہ دوبارہ سینٹ میں جائے گا اور سینٹ ازسرنو اس پر غور کرے گی۔

اس صورتحال میں شریعت بل سے نمٹنے کے لیے حکومتی حلقوں کی پالیسی کا جو نقشہ سامنے آتا ہے وہ کچھ اس طرح بنتا ہے۔

  1. حکومت کی پہلی کوشش یہ ہوگی کہ شریعت بل قومی اسمبلی میں مقررہ مدت کے اندر پیش نہ ہونے پائے تاکہ یہ بھی نویں آئینی ترمیم بل کی طرح اپنی موت آپ مر جائے۔ اس کی عملی صورت یہ ہوگی کہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران تو اس میں بجٹ کے سوا اور کسی مسئلہ پر بحث نہیں ہو سکتی۔ بجٹ اجلاس جون کے آخر تک جاری رہے گا، اس کے بعد قومی اسمبلی کا اگلا اجلاس اس مدت کے گزر جانے کے بعد (جو ۱۱ اگست کو پوری ہو رہی ہے) طلب کیا جائے تاکہ مدت گزر جانے کی وجہ سے اس ایوان میں پیش کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔ لیکن اس حربے کا جواب موجود ہے کہ بجٹ اجلاس ختم ہوجانے کے بعد اپوزیشن ارکان اسمبلی کی طرف سے ریکویزیشن پر مقررہ مدت کے اندر اسمبلی کے اجلاس کا مطالبہ کیا جائے۔ اس صورت میں حکومت شریعت بل کو قومی اسمبلی میں زیر بحث لانے کی پابند ہوگی۔
  2. قومی اسمبلی میں بل کے پیش ہوجانے کے بعد حکومت کے پاس اسے ناکام بنانے کا دوسرا حربہ یہ ہوگا کہ اس میں ترامیم پیش کی جائیں تاکہ یہ سینٹ میں واپس جائے اور اس عل میں اتنی سست روی سے کام لیا جائے کہ سینٹ کے نصف ارکان کے دوبارہ انتخاب کا مرحلہ آجائے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سینٹ میں آئی جے آئی (اسلامی جمہوری اتحاد) کی غالب اکثریت ہے اور اسی اکثریت کی وجہ سے شریعت بل پاس ہوا ہے۔ جبکہ مارچ ۱۹۹۱ء میں سینٹ کے نصف ارکان کی رکنیت ختم ہو رہی ہے اور ان کی جگہ نئے ارکان منتخب ہوں گے جن میں ظاہر ہے کہ سندھ اور سرحد سے پیپلز پارٹی کی اکثریت ہوگی اور پنجاب و بلوچستان سے بھی پی پی پی کچھ نہ کچھ نشستیں ضرور حاصل کرے گی جس سے سینٹ کی موجودہ شکل برقرار نہیں رہے گی۔ اس طرح سینٹ کے پاس کردہ شریعت بل کو سینٹ میں ہی مسترد کرنے یا ان میں من مانی ترامیم کے ذریعے اس کا حلیہ بگاڑنے کی راہ آسان ہو جائے گی۔ اس لیے وفاقی حکومت کے پاس شریعت بل کو ناکام بنانے کا واحد اور بظاہر کامیاب حربہ یہی ہے کہ ترامیم پیش کر کے اسے اس وقت تک مؤخر کیا جائے جب تک سینٹ میں پیپلز پارٹی کو واضح پوزیشن حاصل نہیں ہو جاتی اور پھر اس کے بعد اس کے ساتھ حسب منشا سلوک کر کے نفاذ شریعت کے ’’خطرہ‘‘ سے نجات حاصل کر لی جائے۔

ہمارا خیال یہ ہے کہ وفاقی حکومت قومی اسمبلی میں واضح اکثریت رکھنے کے باوجود شریعت بل کو مسترد کرنے کا راستہ اختیار نہیں کرے گی کیونکہ اس سے اس کی بدنامی کے علاوہ یہ خطرہ بھی ہوگا کہ سینٹ کی طرف سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے مطالبہ کی صورت میں اگر متحدہ حزب اختلاف نے شریعت بل کی حمایت کا فیصلہ کر لیا تو قومی اسمبلی اور سینٹ کے مشترکہ اجلاس میں متحدہ حزب اختلاف کی اکثریت کی وجہ سے شریعت بل کے پاس ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اس لیے حکومت مسترد کرنے کی بجائے ترامیم کا راستہ اختیار کرے گی اور ترامیم پیش کرنے میں بھی حکومت کی ترجیحات یہ ہوں گی کہ ترامیم حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے آئیں تاکہ بل کی منظوری میں تاخیر کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی نمایاں ہو کہ شریعت بل اپوزیشن کے حلقوں میں ابھی تک متنازعہ ہے اور حکومت اس تاخیر کو اپوزیشن کے کھاتے میں ڈال کر خود بدنامی سے بچ سکے۔ اگر اپوزیشن کی جماعتوں کی طرف سے ترامیم نہ آئیں تو حکومت آخری حربے کے طور پر اپنے فلور سے ترامیم پیش کرائے گی تاکہ مسئلہ کو کھینچ تان کر مارچ ۱۹۹۱ء تک لمبا کیا جا سکے۔

اس پس منظر میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے ہم انتہائی ادب کے ساتھ یہ گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ حکومت کے اس ’’دام ہمرنگ زمین‘‘ سے ہوشیار رہیں۔ بعض ذمہ دار حضرات کی طرف سے یہ عندیہ سامنے آیا ہے کہ وہ قومی اسمبلی میں شریعت بل زیر بحث آنے کے بعد اس میں ترامیم پیش کریں گے۔ ان حضرات کے خلوص اور شریعت بل کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنانے کے جذبے سے انکار نہیں لیکن ترامیم پیش کرنے کا فائدہ حکومت کو ہوگا اور وہ اس طرح شریعت بل کو حزب اختلاف کے حلقوں میں متنازعہ ظاہر کرنے کے علاوہ مطلوبہ تاخیر حاصل کرنے میں پھر کامیاب ہو جائے گی جس کے بعد بات ترامیم پیش کرنے والے بزرگوں کے ہاتھ سے نکل جائے گی اور وہ شریعت بل کو قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کرانے کے آخری چانس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

شریعت بل کا یہ مسودہ بحث و تمحیص اور مسلسل ترامیم کے طویل مراحل سے گزر کر سامنے آیا ہے اس کے باوجود اس میں ترامیم کی گنجائش موجود ہے۔ اگر اس مسودہ کو مزید بہتر بنانے کے لیے تجاویز ہیں تو ان کی اہمیت سے انکار نہیں مگر انہیں ترامیم کی صورت میں پیش کرنا انتہائی پرخطر راستہ ہے جس پر چلنے کا رسک نفاذ شریعت سے دلچسپی رکھنے والے کسی بھی طبقہ کو نہیں لینا چاہیے۔ قانون میں ترمیم اس کی منظوری کے بعد بھی ہو سکتی ہے اور اس کی کمزوری کو دور کرنے کے لیے نیا مسودہ قانون بھی پیش ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس وقت یہ مسودہ جیسا بھی ہے اسے اسی صورت میں قومی اسمبلی یا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرانے کی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ورنہ پورا روپیہ وصول کرنے کی ضد میں بارہ آنے کی وصولی کا امکان بھی کھو بیٹھیں گے۔ اور سینٹ سے ایک دفعہ منظور ہوجانے کے بعد شریعت بل کو دوبارہ حکومتی چالوں کی بھینٹ چڑھانے کی بدنامی اور روسیاہی الگ حصے میں آئے گی۔

اس لیے ملک بھر کے دینی و سیاسی حلقوں سے ہماری مخلصانہ گزارش ہے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں اور شریعت بل کو حکومتی چالوں اور تاخیری حربوں سے بچا کر اسے قومی اسمبلی سے منظور کرانے کے لیے منظم جدوجہد کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر دینی حلقے اس مقصد کے لیے عوامی دباؤ منظم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور ترامیم کے حوالے سے حزب اختلاف کی کوئی جماعت حکومتی چال کا شکار نہ ہوئی تو شریعت بل کو مقررہ مدت کے اندر قومی اسمبلی سے منظور کرانے کے سوا حکومت کے پاس کوئی چارہ کار نہیں رہے گا اور پاکستان کے قیام کے ۴۲ سال بعد ہم شریعت کو ملک کا سپریم لاء قرار دینے میں کامیاب ہو سکیں گے۔

شریعت بل اور تحریک نفاذ شریعت

ماہِ رواں کی سترہ تاریخ کو فلیش مین ہوٹل راولپنڈی صدر میں منعقدہ آل پارٹیز نفاذِ شریعت کانفرنس میں ’’شریعت بل‘‘ کو قومی اسمبلی سے منظور کرانے اور سودی نظام کی وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار میں واپسی کو یقینی بنانے کے لیے پورے ملک میں تحریک نفاذ شریعت منظم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

’’آل پارٹیز نفاذِ شریعت کانفرنس‘‘ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور شریعت بل کے محرک سینیٹر مولانا سمیع الحق کی دعوت پر منعقد ہوئی جس سے مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمان، مولانا محمد اجمل خان، مولانا محمد عبد اللہ، صاحبزادہ حاجی فضل کریم، مولانا معین الدین لکھوی، مولانا مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا ضیاء القاسمی، مولانا قاضی احسان الحق، مولانا ضیاء الرحمان فاروقی، مولانا وصی مظہر ندوی اور دیگر سرکردہ علماء کرام کے علاوہ قومی شخصیات میں سے نوابزادہ نصر اللہ خان، جناب غلام مصطفیٰ جتوئی، میاں محمد نواز شریف، اقبال احمد خان، راجہ محمد ظفر الحق، جناب اعجاز الحق، پروفیسر غفور احمد اور جناب طارق محمود ایم این اے نے بھی خطاب کیا۔

’’شریعت بل‘‘ اس وقت قومی اسمبلی کے حوالے ہو چکا ہے اور وفاقی وزیر پارلیمانی امور خواجہ طارق رحیم کے ایک بیان کے مطابق اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں زیر بحث آنے والا ہے۔ اس مرحلہ پر ملک کے اہم سیاسی و دینی حلقوں کا یہ اتفاق و اشتراک بلاشبہ ایک نیک فال اور عوام کے دلوں کی آواز ہے۔ پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی اہل دین نے متحد ہو کر کسی جدوجہد کا آغاز کیا ہے انہیں اہل سیاست کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے اور وہ جدوجہد میں کامیابی سے بھی ہمکنار ہوئے ہیں۔ اہل دین کا اتحاد ہمارے ملک کے بہت سے مسائل کا حل اور نفاذِ اسلام کی جدوجہد کی کامیابی کی کلید چلا آرہا ہے۔

ہم ’’تحریک نفاذِ شریعت‘‘ کے آغاز کے اس فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت اہل دین کے اتحاد کو ملت کے لیے مبارک کریں اور اسے ملک میں شریعت اسلامیہ کی بالادستی کا ذریعہ بنائیں، آمین یا الہ العالمین۔