معاشی نظام اور معاشرتی رویے میں انقلابی تبدیلی کی ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ و ۹ دسمبر ۲۰۰۹ء

مساجد اور دینی مدارس میں کام کرنے والے ملازمین اور ائمہ و اساتذہ کی معاشی زبوں حالی کے بارے میں کراچی کے جناب افتخار احمد کا ایک استفتاء اسی کالم میں قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اس حوالہ سے فتویٰ یا تحقیقی مضمون کی سطح کی کوئی چیز قارئین کی نذر نہیں کر سکوں گا کہ یہ میرا ذوق نہیں ہے، البتہ عمومی تناظر میں کچھ اصولی گزارشات ضرور کرنا چاہوں گا۔

مساجد و مدارس کے ملازمین کو تنخواہیں اور دیگر مراعات آج کے معاشرتی ماحول میں بہت کم ملتی ہیں اور ان کی بنیادی ضروریات کے حوالے سے تو یہ بہت ہی کم ہیں۔ یہ ایک معروضی حقیقت ہے جس کا چند بڑے اور معیاری اداروں کو چھوڑ کر، جن کا تناسب مجموعی طور پر شاید پانچ فیصد بھی نہ ہو، ملک میں ہر جگہ مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن امام، خطیب، مدرس، مفتی، حافظ، قاری اور مؤذن قسم کے لوگ اپنی تربیت کے لحاظ سے تنخواہ اور معاشی مفادات کے لیے احتجاج، ہڑتال، جلوس، مظاہرہ اور بائیکاٹ وغیرہ کے عادی نہیں ہیں اور اسے قناعت اور خلوص کے خلاف سمجھتے ہیں۔ جبکہ جو لابیاں اور این جی اوز ملک میں اس قسم کے مسائل کے لیے آواز اٹھاتی ہیں انہیں اس ’’مخلوق‘‘ کے وجود اور بقا سے سرے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، بلکہ بعض حلقوں کے نزدیک اس قسم کے لوگوں کا معاشرے میں موجود نہ رہنا ہی ان کے لیے عافیت کا باعث سمجھا جاتا ہے، اس لیے مساجد و مدارس کے نظام سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی معاشی ضروریات، معاشرتی اسٹیٹس اور حقوق عام طور پر بہت کم زیر بحث آتے ہیں۔

اگر کچھ باہمت اور باذوق صحافی ملک کے کسی بھی حصے میں ایک علاقے کو مخصوص کر کے وہاں کی مساجد و مدارس کے ملازمین جن میں خطباء، اساتذہ اور دیگر ملازمن شامل ہیں، کی تنخواہوں، مراعات، معیار زندگی اور بنیادی ضروریات کے بارے میں ایک معروضی اور تجزیاتی رپورٹ مرتب کر سکیں تو یہ انتہائی چشم کشا رپورٹ ہوگی، اور آپ دیکھیں گے کہ دنیا میں الزامات کا سب سے زیادہ ہدف بننے والے اس طبقے کی غالب اکثریت کس کسمپرسی اور بے سروسامانی کے ماحول میں زندگی بسر کر رہی ہے۔ یہ درصل ایک بڑے اجتماعی مسئلہ بلکہ المیہ کا ایک جزوی پہلو ہے جس کا تعلق ہمارے مجموعی معاشی نظام اور معاشرتی رویوں سے ہے۔ ہمارے موجودہ معاشی نظام کی بنیاد جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام اور سوچ پر استوار ہے۔ اس لیے یہ معاشرہ معاشی اور معاشرتی دونوں حوالوں سے طبقاتی ہے، اونچ نیچ کی نفسیات کے حوالے سے ہے، اور بعض طبقوں کی ہر حال میں بالاتری او ربالادستی کی اساس پر ہے۔ جس کے افسوسناک مظاہر ہمیں قدم قدم پر دکھائی دیتے ہیں مگر ہم خاموشی کے ساتھ آنکھیں بند کر کے وہاں سے گزر جاتے ہیں۔

میں پنجاب میں پیدا ہوا ہوں اور پنجاب میں ہی رہتا ہوں مگر میرا اصل تعلق مانسہرہ (ہزارہ) کی سواتی برادری سے ہے۔ گزشتہ ماہ میں مانسہرہ گیا تو مجھے بتایا گیا کہ وہاں محکمہ مال کے کاغذات میں امام مسجد اور مولوی کو ’’کمین‘‘ کے خانے میں لکھا جاتا ہے اور وہ اسی اسٹیٹس کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ خدا جانے پنجاب اور سندھ کی کیا صورتحال ہے لیکن ہزارہ کے بارے میں مجھے یہی بتایا گیا ہے۔ یہاں دو سوال سامنے آتے ہیں۔ (۱) ایک یہ کہ کیا مالک اور کمین کی یہ اصطلاح اور معاشرتی درجہ بندی شرعی احکام کے حوالے سے درست ہے؟ (۲) اور دوسرا سوال یہ کہ خدانخواستہ اس تقسیم کو اصولی طور پر کسی درجے میں تسلیم بھی کر لیا جائے تو کیا مولوی، امام اور دینی خدمات سرانجام دینے والے لوگ اسی حیثیت کے حامل ہیں کہ انہیں ’’کمین‘‘ کے کھاتے میں شمار کیا جائے؟ میرے نزدیک یہ دونوں سوال سنجیدگی کے ساتھ غور و خوض کے متقاضی ہیں۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو غلاموں کے بارے میں فرمایا تھا کہ یہ تمہارے بھائی ہیں، ان کے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کرو، جو خود کھاتے ہوا ن کو کھلاؤ، جو خود پہنتے ہو ان کو پہناؤ، ان کے ذمہ ان کی طاقت سے زیادہ کام مت لگاؤ اور اگر ان کے ذمے لگایا ہوا کام ان کی ہمت سے زیادہ ہے تو خود ان کے ساتھ کام میں شریک ہو کر ان کا ہاتھ بٹاؤ۔ ایک صحابی حضرت ابو مسعودؓ نے اپنی لونڈی کو اس کی کسی کوتاہی پر تھپڑ مار دیا تو آنحضرتؐ نے سخت غصہ کا اظہار فرمایا اور کہا کہ اس تھپڑ کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دو ورنہ تمہیں جہنم میں جلنا پڑے گا۔ آج دنیا میں غلاموں اور لونڈیوں کا وجود نہیں ہے۔ غلامی کو انسانی معاشرے سے ختم کرنے کے عمل کا آغاز اسلام نے کیا تھا جس کی تفصیلات کا یہ موقع نہیں ہے لیکن ان غلاموں اور لونڈیوں کی جگہ آج کسانوں، ہاریوں، کمیوں اور ذاتی ملازمین نے لے لی ہے۔ ہم انہیں غلام کہتے نہیں ہیں لیکن ان کے ساتھ ہمارا سلوک عام طور پر غلاموں سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ بے چارہ مولوی اور امام مسجد بھی معاشرتی رویے اور محکمہ مال کے کاغذات دونوں حوالوں سے اسی طبقے میں شمار ہوتا ہے۔

اس صورتحال کی اصلاح کے لیے معاشی نظام اور معاشرتی رویے دونوں میں انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ یہ بات ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے کہ معاشرتی انقلاب اور تبدیلیاں محض قانون سے نہیں ہوا کرتیں، قانون بھی ایک درجے میں ضروری ہے لیکن اصل تبدیلی اور اصلاح ایمان و عقیدہ اور اخلاق و عادات کے ذریعے ہوتی ہیں اور اس کے لیے مسلسل فکری اور سماجی جدوجہد درکار ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ہر سماجی تبدیلی اور معاشرتی اصلاح کے لیے سیاسی نعرے بازی کو ضروری قرار دے رکھا ہے اور صرف قانون کے نفاذ کو کافی سمجھ لیا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی صحیح مقصد کے لیے بھی ہماری جدوجہد ایک حد سے آگے بڑھ کر ناکامی کا شکار ہو جاتی ہے۔

اس کے بعد میں اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ اس سلسلہ میں اسلام کا مزاج کیا ہے اور اسلامی تعلیمات کا تقاضا کیا ہے؟ اس کے لیے خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ کے دور کے دو فیصلوں کا حوالہ دوں گا۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد امت کی دو بڑی شخصیتوں یعنی حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے درمیان ایک مسئلہ پر اختلاف ہوا تھا جس کی تفصیلات امام ابو یوسفؒ نے کتاب ’’الخراج‘‘ میں اور امام ابوعبید قاسم بن سلامؒ نے کتاب ’’الاموال‘‘ میں بیان کی ہیں کہ جب بیت المال سے لوگوں کو وظائف دینے کے لیے کوئی اصول طے کرنے پر مشورہ ہوا تو حضرت عمرؓ کی رائے یہ تھی کہ اس میں درجہ بندی کی جائے۔ جن کا دینی مرتبہ اور خدمات زیادہ ہیں انہیں زیادہ مقدار میں وظیفہ دیا جائے اور ان کے بعد جو جس درجے میں ہیں ان کے وظائف ان کے درجے کے حساب سے طے کیے جائیں۔ یعنی بیت المال سے وظائف کی تقسیم گریڈ سسٹم قائم کر کے اس کے مطابق کی جائے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس سے اختلاف کیا اور فرمایا کہ دینی مرتبہ اور خدمات کا تعلق آخرت سے ہے، وہاں انہیں ثواب و اجر اپنے درجے کے مطابق ملے گا ’’وھذہ معاش فالأسوۃ فیہ خیر من الاثرۃ‘‘ کہ یہ معیشت کا مسئلہ ہے اس میں ترجیحات قائم کرنے کی بجائے برابری کا اصول زیادہ بہتر ہے۔ چنانچہ خلیفہ اول حضرت صدیق اکبرؓ نے حضرت عمرؓ کی رائے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور بحیثیت خلیفہ فیصلہ کیا کہ وظائف تمام لوگوں میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کیے جائیں گے۔

حضرت ابوبکرؓ نے اپنی خلافت کے دوران بیت المال سے وظائف سب لوگوں میں برابری کی بنیاد پر تقسیم کیے لیکن جب حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے یہ نظام تبدیل کر دیا اور گریڈ سسٹم کی بنیاد پر وظائف کی درجہ بندی کر کے ترجیحی اصول پر ان کی تقسیم شروع کر دی۔ مسلسل دس سال تک اسی طرح تقسیم کرنے کے بعد اس کے معاشرتی نقصانات سامنے آئے تو حضرت عمرؓ نے اعتراف کیا کہ اس بارے میں حضرت ابوبکرؓ کی رائے ہی درست تھی اور اعلان فرمایا کہ میں اگلے سال سے خلیفہ اول کے فیصلے کے مطابق وظائف تقسیم کروں گا۔ مگر اس کی نوبت نہ آئی اور اگلے سال سے قبل ہی حضرت عمرؓ شہید ہوگئے۔

حضرت ابوبکرؓ کی رائے کے صحیح ہونے کے بارے میں حضرت عمرؓ کے اعتراف کے ساتھ میں ایک اور بات کا اضافہ کروں گا کہ امت کے معروف محدث امام ہیثمیؒ نے اپنی کتاب ’’مجمع الزوائد‘‘ میں راویوں کی توثیق کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی آخر الزمان کی آمد اور ان کے حالات و اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے ایک بات یہ فرمائی کہ امام مہدی بیت المال کے اموال کو لوگوں میں ’’عدل‘‘ کے ساتھ تقسیم کریں گے۔ اس پر جب آنحضرتؐ سے سوال کیا گیا کہ عدل سے کیا مراد ہے تو آپؐ نے فرمایا ’’بالسویۃ بین الناس‘‘ لوگوں میں برابری کی بنیاد پر۔ اس لیے میری طالب علمانہ رائے میں بیت المال یعنی سرکاری خزانے سے عام لوگوں کو دیے جانے والے وظائف کا برابری کی بنیاد پر تقسیم کرنا ہی اسلام کا مزاج اور حکم ہے اور اس میں درجہ بندی اور گریڈ سسٹم معاشی نظام کے حوالے سے اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔

خلیفۂ اول کے دور کا دوسرا اہم فیصلہ جس کا تذکرہ میں ضروری سمجھتا ہوں، خود حضرت ابوبکرؓ کے وظیفہ اور تنخواہ کے تعین کا ہے۔ حدیث و تاریخ کی مصدقہ روایات کے مطابق حضرت ابوبکرؓ کا اپنا ذریعہ معاش کپڑے کی تجارت تھی لیکن جب خلیفہ منتخب ہونے کے بعد وہ اپنے کام کے لیے روانہ ہونے لگے اور کپڑوں کی گٹھڑی کندھے پر رکھی تو حضرت عمرؓ نے انہیں روک لیا اور کہا کہ آپ اپنے کام پر جا رہے ہیں تو لوگوں کے مسائل کون حل کرے گا اور کوئی شخص اپنی مشکل لے کر مسجد میں آیا تو اس کی بات کون سنے گا؟ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ میں لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مسجد میں بیٹھا رہوں گا تو اپنے بچوں کو کھانا کہاں سے دوں گا جن کی کفالت میرے ذمے ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا کہ آپ گٹھڑی کندھے اتاریں، میں اصحابِ شوریٰ کو جمع کرتا ہوں اور اس مسئلہ کا کوئی حل نکالتے ہیں۔ حضرت عمرؓ کے بلانے پر اصحابِ شوریٰ مسجد نبویؐ میں جمع ہوئے اور یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ خلیفۂ اول کے اوقات اب لوگوں کی ضروریات میں صرف ہوں گے اور وہ اپنا کوئی کام نہیں کر سکیں گے اس لیے ان کا وظیفہ بیت المال سے مقرر کیا جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کی کفالت کر سکیں۔

اس موقع پر حضرت علیؓ کی رائے سے اصول اور معیار یہ طے ہوا کہ مدینہ منورہ کے ایک عام شہری کے معیار زندگی کو سامنے رکھ کر اس کے مطابق خلیفہ وقت کا وظیفہ مقرر کیا جائے چنانچہ اسی بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ کا وظیفہ بیت المال سے مقرر کر کے انہیں کوئی الگ ذریعہ معاش اختیار کرنے سے روک دیا گیا۔ یہاں سے فقہاء کرام نے یہ اصول قائم کیا ہے کہ جو شخص بھی معاشرے کی کسی اجتماعی ضرورت کے کام میں مصروف ہو اور اپنا کوئی کام نہ کر سکتا ہو اس کے معاشی اخراجات کی کفالت بیت المال کے ذمے ہے اور اسے اس کے لیے بیت المال سے باقاعدہ وظیفہ دیا جائے گا۔ دوسرا اصول اس واقعہ سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وظیفہ کا تعین اگر سربراہ مملکت کے لیے ہو تو اس کے لیے بھی عام شہری کے معیار زندگی کو سامنے رکھا جائے گا۔ اس سلسلہ میں حضرت علیؓ کے مشورہ کا یہ جملہ بھی مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ ’’لاوکس فیھا ولا شطط‘‘ عام شہری کے معیار سے نہ کم ہو اور نہ زیادہ ہو۔

اس کے ساتھ حضرت عمرؓ کے اس فیصلے کو بھی شامل کر لیجئے جو انہوں نے خلافت کا منصب سنبھالنے کے بعد کیا تھا اور اپنے عمال یعنی سرکاری حکام اور افسران کو یہ حکم جاری کیا تھا کہ کوئی شخص (۱) ترکی گھوڑے پر سوار نہیں ہوگا۔ (۲) اپنے مکان کے آگے ڈیوڑھی نہیں بنائے گا۔ (۳) چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہیں کھائے گا۔ (۴) باریک لباس نہیں پہنے گا وغیرہ۔ یہ باتیں اس دور میں معاشرتی امتیاز کی علامت (اسٹیٹس سمبل) ہوتی تھیں، حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے گورنروں اور افسران کو یہ چیزیں اختیار کرنے سے حکماً روک دیا جس کا مقصد اس کے سوا کیا تھا کہ سرکاری حکام اور افسران ملک کے عام شہریوں کی طرح زندگی بسر کریں گے اور کوئی معاشرتی امتیاز اختیار نہیں کریں گے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے صرف یہ ہدایات نہیں دیں بلکہ ان کی خلاف ورزی پر بڑے بڑے عمال کو سزائیں بھی دیں۔ کوفے کے گورنر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے دروازے پر بنی ہوئی ڈیوڑھی کو حضرت عمرؓ کے حکم پر انہیں اطلاع دیے بغیر گرا دیا گیا، جبکہ مصر کے گورنر حضرت عیاض بن غنمؓ کو باریک لباس پہننے کے جرم کی سزا میں بکریوں کے بالوں سے بنا ہوا چغہ ننگے بدن پر پہن کر چھ ماہ تک بیت المال کی بکریاں چرانا پڑیں۔

اگر ایک اسلامی ریاست کی تشکیل اور اسلامی معاشرہ کے قیام میں ہمارے لیے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالا تعلیمات او رخلفاء راشدین کے یہ فیصلے معیار اور رہنما ہیں تو ہمیں جاگیردارانہ نظام اور جاگیردارانہ کلچر دونوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور سرمایہ دارانہ نفسیات اور سوچ سے پیچھا چھڑانا ہوگا جس کے لیے طبقاتی نظام کا خاتمہ سب سے زیادہ ضروری ہے۔ وظائف، تنخواہوں اور مراعات میں درجہ بندی اور گریڈ سسٹم سے یہ طبقاتی نظام جنم لیتا ہے۔ اس کی عملی مثال دیکھنی ہو تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو دیکھ لیں جہاں ایک ہی شہر میں رہنے والوں کے رہن سہن، خورد و نوش، لباس و رہائش اور طرزِ زندگی میں الگ الگ درجات اور جداگانہ رویے اسلامی تعلیمات کا کھلے بندوں مذاق اڑا رہے ہیں۔ میرے خیال میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ۱۹۴۳ء میں کل ہند مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جب سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ طبقے کو مخاطب کیا تھا تو یہی صورتحال ان کے سامنے تھی۔ قائد اعظم مرحوم نے فرمایا تھا کہ:

’’اس مقام پر میں زمینداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ایک ایسے فتنہ انگیز ابلیسی نظام کی رو سے، جو انسان کو بدمست کر دیتا ہے کہ وہ کسی معقول بات کو سننے پر آمادہ نہیں ہوتا، عوام کے گاڑھے پسینے کی کمائی پر رنگ رلیاں مناتے ہیں۔ عوام کی محنت کو غصب کر لینے کا جذبہ ان کی رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے۔ میں اکثر دیہات میں گیا ہوں، میں نے دیکھا ہے کہ لاکھوں خدا کے بندے ہیں جنہیں ایک وقت بھی پیٹ بھر کر روٹی نہیں ملتی، کیا اسی کا نام تہذیب ہے؟ کیا یہی پاکستان کا مقصود ہے؟ اگر پاکستان سے یہی مقصود ہے تو میں ایسے پاکستان سے باز آیا۔ اگر ان سرمایہ داروں کے دماغ میں ہوش کی ذرا سی رمق بھی باقی ہے تو انہیں زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ چلنا ہوگا، اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان کا خدا حافظ، ہم ان کی کوئی مدد نہیں کر سکیں گے۔‘‘

یہ ہمارے معاشی نظام اور معاشرتی سسٹم کی مجموعی صورتحال ہے جس کی طرف ہر باشعور رہنما توجہ دلا رہا ہے اور اسے تبدیل کرنے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دے رہا ہے لیکن کسی کو ڈور کا سرا نہیں مل رہا کہ وہ اس کی گرہوں کو کھول سکے۔ جمعیۃ علماء اسلام نے ۱۹۷۰ء کے عام انتخابات کے موقع پر مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا پیر محسن الدین احمد (مشرقی پاکستان) اور مولانا عبید اللہ انورؒ کی زیرقیادت اپنے انتخابی منشور میں اس مسئلہ کے حل کی طرف پیش رفت کے لیے:

  • سرکاری زمینیں بے زمین کاشتکاروں میں تقسیم کرنے،
  • انگریزی استعمار کے دور میں دی گئی جاگیریں ضبط کرنے،
  • اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ہوشربا تفاوت کو ختم کر کے پہلے ایک اور دس کے تناسب پر لانے، اور پھر بتدریج ایک اور پانچ کے تناسب پر فکس کر دینے کا وعدہ کر کے مسئلہ کے حل کے آغاز کی ایک صورت پیش کی تھی۔ جمعیۃ علماء اسلام کی موجودہ قیادت کو اپنے مرحوم بزرگوں کا یہ موقف اور ۱۹۷۰ء کا یہ انتخابی منشور شاید یاد نہ ہو، مگر جاگیردارانہ و سرمایہ دارانہ نظام و کلچر اور نفسیات کے خاتمے کا آغاز اسی قسم کے اقدامات سے ہوگا اور کسی انقلابی عمل کے بغیر محض نعروں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

مسجد و مدرسہ کا نظام بھی اسی معاشرے اور کلچر کا حصہ ہے اور تمام تر دینی تعلیم و تربیت کے باوجود اسے اس کلچر اور مجموعی نفسیات سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ظاہر بات ہے کہ جب مولوی اور امام مسجد کمیوں اور لاگیوں میں شمار ہوگا تو اس کے ساتھ معاملہ بھی اسی جیسا ہوگا۔ خصوصاً جب اس ’’کمی اور لاگی‘‘ کو معاشرے کے لیے غیر ضروری بلکہ معاشرے پر بوجھ سمجھا جائے گا تو وہی کچھ ہوگا جو ہو رہا ہے۔ اس لیے اصل ضرورت تو اس نظام اور کلچر کو بدلنے کی ہے اور اس کے لیے عوامی سطح پر منظم اور مربوط تحریک اور جدوجہد ناگزیر ہے۔ لیکن اس سے ہٹ کر اس مسئلہ سے نمٹنے اور اس کی تلخی کم کرنے کے لیے دینی جماعتوں، بڑے مدارس کے منتظمین اور ان کے چلانے والی کمیٹیوں کو توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں:

  1. ایک یہ کہ جب کوئی شخص خود کو کسی اجتماعی دینی کام کے لیے وقف کر دے اور کسی ادارے سے اس طور پر وابستہ ہو جائے کہ وہ اپنی ضروریات کے لیے اور کوئی کام نہ کر سکتا ہو تو اس کی اور اس کے زیر کفالت افراد کی معاشی کفالت شرعاً اس ادارے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اور کفالت کا معیار اس ادارے کے افراد اپنی مرضی سے طے نہیں کریں گے بلکہ انہیں دوسرے عام شہریوں کے معیار زندگی کو ’’لاوکس فیھا ولا شطط‘‘ کے درجہ میں بنیاد بنانا ہوگا۔
  2. دوسری بات یہ کہ صاحبِ ہدایہ نے حضرت امام ابوحنیفہؒ کا بیان کردہ یہ اصول ذکر کیا ہے کہ ’’لا رضاء مع الاضطرار‘‘ مجبوری کی رضا کا اعتبار نہیں ہے۔ اس کا مطلب مذکورہ مسئلہ کے حوالہ سے میری سمجھ میں یہی آتا ہے کہ کوئی شخص اگر اضطرار اور مجبوری کی وجہ سے اپنے معروف حق سے کم پر راضی ہوگیا ہے تو اس کی اس رضا کا اعتبار نہیں ہے اور شرعاً وہ اسی حق کا حقدار ہے جو معروف حق کے طور پر اسے حاصل ہونا چاہیے۔

لہٰذا میرا خیال ہے کہ اگر چند بڑے دارالافتاء اور وفاق المدارس العربیہ اس سلسلہ میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ملک بھر کی مساجد و مدارس کے لیے کوئی اجتماعی ضابطۂ اخلاق طے کر دیں تو معاشرے کے دینی خدمات سرانجام دینے والے اس مظلوم ترین طبقے کی داد رسی کی کوئی صورت نکل سکتی ہے۔

درجہ بندی: