حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
الشریعہ اکادمی، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
۸ اگست ۲۰۱۶ء

(الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں بیان کردہ یادداشتیں جنہیں تحریری شکل دی گئی۔)

گزشتہ نشست میں حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کے بارے میں چند باتیں عرض کی تھیں، آج کی نشست میں شیخ العلماء حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے حوالے سے چند باتیں عرض کرنی ہیں۔ مولانا عبید اللہ انورؒ میرے شیخ تھے اور امیر بھی۔ میں نے ایک طویل عرصہ ان کے ساتھ ایک خادم، مرید اور ساتھی کے طور پر گزارا ہے۔ حضرت لاہوریؒ کے بڑے بیٹے حضرت مولانا حافظ حبیب اللہؒ فاضل دیوبند تھے، ان کی زیارت میں نہیں کر سکا کہ وہ میرے ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی ہجرت کر کے مکہ مکرمہ چلے گئے تھے۔ اسی وجہ سے وہ ’’مہاجر مکی‘‘ کہلاتے تھے، وہیں زندگی گزاری اور ان کا انتقال بھی وہیں ہوا۔ حضرت لاہوریؒ کے دوسرے بیٹے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ تھے۔ جبکہ حضرت لاہوریؒ کے تیسرے بیٹے حضرت مولانا حافظ حمید اللہ تھے، ان کی شیرانوالہ، لاہور میں متعدد بار زیارت کر چکا ہوں۔

شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا خاندان گکھڑ منڈی کے قریب مشرق کی جانب چند میل کے فاصلے پر واقع گاؤں جلال سے تعلق رکھتا تھا۔ حضرت لاہوریؒ کے والد محترم سکھ مذہب سے مسلمان ہوئے تھے اور اللہ رب العزت نے ان کو یہ مقام عطا فرمایا کہ ان کے بیٹے مولانا احمد علی لاہوریؒ کا شمار برصغیر کے چوٹی کے علماء اور اہل اللہ میں ہوتا ہے۔ چنانچہ اس خاندان کے ساتھ میرا پہلا تعلق یہ تھا کہ وہ ہمارے علاقے کے تھے۔ اور دوسرا تعلق یہ تھا کہ حضرت لاہوریؒ نے قرآن کریم کی تعلیم جامع مسجد شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ میں ایک بزرگ حضرت باواجی عبد الحقؒ سے حاصل کی جو تقریباً پچاس سال جامع مسجد کے امام رہے۔ حضرت باواجی عبد الحقؒ بھی ایک نومسلم تھے۔ مجھے اس مسجد میں گزشتہ چار عشروں سے خطیب کے طور پر خدمت سرانجام دینے کی سعادت حاصل ہے۔

حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اپنے والد حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کے جانشین تھے۔ انہوں نے دارالعلوم دیوبند سے دورۂ حدیث کیا تھا اور انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔ بلکہ حضرت لاہوریؒ نے ان کا نام حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور حضرت مولانا انور شاہ کاشمیریؒ کے ناموں پر رکھا تھا۔ چنانچہ حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کو ان دونوں بزرگوں سے نسبت تھی جس کی برکت سے وہ بڑے عالم، فلسفی اور ولی اللہ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاست دان بھی تھے۔ حضرت لاہوریؒ نے انہیں اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ اپنے والد کی مسند پر بیٹھ کر انہوں نے ساری زندگی انہی کے اعمال کا سلسلہ قائم رکھا۔ قرآن کریم کا درس، دورۂ تفسیر، ذکر اذکار اور خانقاہ قادریہ کا جو معمول حضرت لاہوریؒ سے چلا آرہا تھا مولانا عبید اللہ انورؒ کی وفات تک یہ سلسلہ چلتا رہا اور اب بھی بحمد اللہ تعالیٰ جاری ہے۔

حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ اپنی تندرستی کے زمانہ میں ملک کے مختلف علاقوں میں جایا کرتے تھے۔ گوجرانوالہ اور گکھڑ میں بھی بہت دفعہ آئے۔ لاہور کے گرد و نواح کے علاقے گوجرانوالہ، سیالکوٹ، قصور، شیخوپورہ وغیرہ حضرت لاہوریؒ کے فیض یافتہ ہیں۔ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کی جامع مسجد نور کا سنگ بنیاد بھی حضرت لاہوریؒ نے رکھا تھا۔ اسی تسلسل میں حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ بھی سفر کرتے تھے اور اپنے عقیدت مندوں کے پاس جایا کرتے تھے۔ مولانا عبید اللہ انورؒ بہت سادہ منش بزرگ تھے، میں نے ان کو سائیکل پر سفر کرتے بھی دیکھا ہے اور تانگے پر بھی، بسوں پر بھی سفر کرتے دیکھا ہے اور پیدل چلتے بھی دیکھا ہے۔ یہ میرا بالکل بچپن کا زمانہ تھا اور حضرت بالکل جوان تھے۔

حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ تقسیم پاکستان سے پہلے جمعیۃ علماء اسلام مغربی پاکستان کے امیر تھے۔ تقسیم کے بعد وہ پنجاب کے امیر بنے اور آخر وقت تک جمعیۃ علماء اسلام صوبہ پنجاب کے امیر رہے۔ میرا حضرت سے ایک تعلق یہ تھا کہ وہ جمعیۃ کے امیر تھے اور میں ایک کارکن تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بڑی خوبیوں سے نوازا تھا اور بڑے جری آدمی تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کے علوم و فلسفہ پر چند متخصصین تھے ان میں حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ بھی تھے۔ انہوں نے اپنے استاذ حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ سے استفادہ کیا تھا۔ شیرانوالہ، لاہور ان کا ٹھکانہ تھا اور وہی ان کی جماعتی و تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز بھی تھا۔

حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ ایک مرتبہ سیاسی سرگرمیوں میں زخمی ہوگئے، ان کی ریڑھ کی ہڈی کو نقصان پہنچا تھا۔ اس کے بعد وہ گوشہ نشین ہوگئے تھے کیونکہ سفر مشکل ہوگیا تھا، دیر تک سیدھا بیٹھنا اور بالکل سیدھا لیٹنا مشکل ہوگیا تھا۔ واقعہ یہ ہوا کہ صدر محمد ایوب خان مرحوم کے آخری دور میں ان کے خلاف تحریکیں چلیں، اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء اسلام نے بھی ایک جلوس کا اہتمام کیا۔ یہ غالباً ۱۹۶۷ء یا ۱۹۶۸ء کی بات ہے۔ حضرتؒ جمعہ شیرانوالہ لاہور میں پڑھاتے تھے لیکن جمعۃ الوداع کی نماز باغ (جو اب ایک چھوٹا سا باغیچہ رہ گیا ہے) میں پڑھائی۔ جمعۃ الوداع کے موقع پر جمعیۃ علماء اسلام نے صدر ایوب خان کے خلاف تحریک کے سلسلہ میں جلوس نکالنے کا اعلان کیا جس کی قیادت مولانا عبید اللہ انورؒ نے کرنی تھی۔ یہ جلوس جب نکلا تو پولیس نے گھیراؤ کر کے لاٹھی چارج کیا جس میں حضرتؒ کی پشت پر ایک لاٹھی لگی۔ اس کے نتیجہ میں ریڑھ کی ہڈی کا ایک مہرہ ہل گیا جس نے باقی ماندہ زندگی بہت تکلیف دی۔ چنانچہ حضرتؒ نے باقی زندگی اس کیفیت میں گزاری کہ زیادہ تر گھر میں ہی رہتے تھے اور جمعرات کو مرکز تشریف لاتے تھے۔ کبھی ہم بہت مجبور کرتے تو جمعیۃ کی کسی مجلس میں آجاتے لیکن زیادہ گوشہ نشینی میں رہتے۔ اس حوالہ سے لوگ انہیں ’’امام غائب‘‘ کہا کرتے تھے لیکن اس کی وجہ یہی تھی کہ کمر کے مسئلہ کی وجہ سے وہ بیٹھ نہیں سکتے تھے اس لیے زیادہ تر آرام فرماتے تھے۔ لیکن جن حضرات کو حضرتؒ کے معمولات کا علم تھا انہیں حضرتؒ سے ملنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی۔ ہمارا حضرت سے ایک تعلق تھا، بہت اعتماد کرتے تھے اور ہمیں معلوم تھا کہ وہ رات کو سوتے نہیں تھے بلکہ تلاوت، ذکر اذکار یا مطالعہ میں گزارتے تھے۔

میں نے چند بزرگ ایسے دیکھے ہیں جن کا مستقل معمول یہ تھا کہ وہ رات کو نہیں سوتے تھے۔ ایک مولانا عبید اللہ انورؒ ، دوسرے مولانا سید حامد میاںؒ کہ ان کا معمول بھی یہ تھا کہ ساری رات نماز، مطالعہ، ذکر اذکار یا ساتھی بیٹھے ہیں تو گپ شپ میں گزارتے تھے۔ ان کے علاوہ اہل حدیث علماء میں سے بھی ایک بڑے بزرگ مولانا حکیم عبد الرحیم اشرف صاحب تھے، فیصل آباد سے تعلق تھا، اللہ اللہ کرنے والے بزرگ تھے اور ان کا بھی یہی معمول تھا کہ رات کو نہیں سوتے تھے۔ چنانچہ ہم نے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ سے ملاقات کرنی ہوتی تو رات بارہ بجے کے بعد جاتے تھے۔ حضرتؒ صبح اشراق پڑھ کر ظہر تک سوتے تھے۔ حضرت سید حامد میاںؒ سے بھی میرا تعلق رہا ہے کہ میں جمعیۃ علماء اسلام کا سیکرٹری اطلاعات تھا اور وہ مرکزی خزانچی تھے۔ ایک دور میں حساب کتاب کرنے کے لیے رات بارہ بجے کے بعد میں جاتا تھا، بڑے مزے کی مجلس اور گپ شپ ہوتی تھی، چائے کے دور کے ساتھ سحری تک یہ سارے معاملات ہوتے تھے۔ یہی معمول تھا حکیم عبد الرحیم اشرف مرحوم کا، بلکہ ان کا تو یہ طریقہ تھا کہ میرے بارے میں اگر انہیں پتہ چلتا کہ میں فیصل آباد کسی جلسہ میں آیا ہوا ہوں تو وہ گاڑی بھیج دیتے تھے۔ میں جلسہ سے فارغ ہو کر جب اسٹیج سے نیچے اترتا تو حکیم صاحب کی گاڑی کھڑی دیکھ کر سمجھ جاتا حکیم صاحب نے بلایا ہے۔ پھر رات کو واپس آنا میرے لیے ممکن نہیں ہوتا تھا، رات کو گپ شپ اور مذاکرہ چلتا رہتا تھا، صبح فجر کی نماز پڑھ کر ہی واپسی ہوتی تھی۔ حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کا معمول بھی یہی تھا، مطالعہ بہت کرتے تھے۔ میں نے اپنی زندگی میں وسعتِ مطالعہ کے اعتبار سے تین چار آدمی دیکھے ہیں کہ ہر موضوع پر طویل کتابوں کا بالاستیعاب مطالعہ۔ ایک حضرت والد محترمؒ مطالعہ و تحقیق کے آدمی تھے اور بہت وسیع المطالعہ شخصیت تھے۔ دوسرے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے بڑے بیٹے حضرت مولانا سید ابوذر بخاریؒ، اور تیسرے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ۔ اور ان کے بعد حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحبؒ بڑے کتاب دوست آدمی تھے۔

حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ جب لاٹھی چارج میں زخمی ہو کر ہسپتال پہنچے تو ہم عیادت کے لیے ان کے پاس جایا کرتے تھے۔ میرے نام کے ساتھ ’’راشدی‘‘ کا اضافہ بھی اسی موقع پر ہوا۔ میرا اصل نام تو ’’محمد عبد المتین خان زاہد‘‘ ہے۔ ابتداء میں جب میں نے لکھنا شروع کیا تو ’’زاہد گکھڑوی‘‘ کے نام سے لکھتا تھا۔ ایک مرتبہ ہم کچھ ساتھی عیادت کے لیے حضرتؒ کے پاس ہسپتال گئے جن میں حضرت مولانا سعید الرحمان علویؒ بھی تھے، حضرتؒ فرمانے لگے کہ زاہد صاحب! یہ گکھڑوی بڑا ثقیل لفظ ہے، زور لگانا پڑتا ہے کہتے ہوئے۔ کوئی سادہ سا لفظ ساتھ رکھیں۔ میں نے کہا حضرت! گکھڑ سے ہی تعلق ہے اس لیے یہ اپنے نام کے ساتھ استعمال کرتا ہوں۔ فرمانے لگے کہ سلسلہ کی نسبت کرو۔ ہمارا سلسلہ کہلاتا ہے عالیہ قادریہ راشدیہ۔ عالیہ حضرت علیؓ کے حوالہ سے، قادریہ حضرت شیخ عبد القادرؒ جیلانی کے حوالہ سے، اور راشدیہ حضرت شاہ محمد راشد سندھیؒ کے حوالہ سے۔ جب حضرتؒ نے فرمایا کہ سلسلہ سے نسبت کرو مولانا سعید الرحمان علویؒ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے، میں نے کہا علوی تو یہ بیٹھے ہوئے ہیں اور قادری بھی بہت ہیں، اب میں راشدی ہو جاؤں؟ فرمایا ہاں ہو جاؤ۔ چنانچہ اس دن سے میں ’’زاہد الراشدی‘‘ ہوں۔ اور یہ نام ایسا معروف ہوا کہ بہت سے لوگوں کو میرے اصل نام کا علم نہیں ہے۔ وہاں ہسپتال میں حضرتؒ کی زیارت کے لیے ہر ہفتے دو دفعہ جانا ہوتا تھا۔ حضرتؒ ہمارے شیخ تھے، مربی تھے، ہماری محبت و عقیدت کا مرکز تھے، ہم ان کے پاس جا کر بیٹھتے تھے، ان کا دل بہلاتے، حال احوال پوچھتے، دل جوئی کرتے۔

یہ واقعہ معمولی نہیں تھا اور حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کوئی معمولی شخصیت نہیں تھے۔ پورے ملک میں تمام پارٹیوں نے احتجاج کیا تھا اور اس سے اگلے جمعہ ہم نے پھر جلوس نکالا حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، حضرت مولانا مفتی محمودؒ اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی قیادت میں۔ یہ ایک بڑا جلوس تھا جس میں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں بھی شریک ہوئیں۔ سب نے احتجاج کیا کہ ایک عالم دین اور شریف آدمی کو زخمی کر دیا گیا۔ جلوس میں سید امین گیلانی نے بڑے درد بھرے لہجے میں ایک نظم پڑھی جس کا کچھ حصہ مجھے یاد ہے۔ اور مجمع ایسے غمزدہ تھا کہ محرم کے کسی ماتمی جلسہ کا گمان ہو رہا تھا۔ سید امین گیلانیؒ کی نظم کا ایک بند یہ تھا

نورِ دیدہ وہ احمد علیؒ کا
خود ولی اور بیٹا ولی کا
ماریں فاسق اسے تازیانہ
اٹھ رے اٹھ قوم کے جوانا
بیٹھنے کا نہیں ہے زمانہ

اس زمانے میں صدر محمد ایوب خان ریڈیو پاکستان پر ماہانہ تقریر کیا کرتے تھے۔ ہم نے رنگ محل لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام کے دفتر میں بیٹھے ریڈیو پر ان کی تقریر سنی۔ مولانا عزیز الرحمان خورشیدؒ ہفت روزہ ترجمان اسلام کے ایڈیٹر تھے جبکہ ان کے ساتھ ان کے بھائی مولانا سعید الرحمان علوی اور میں تھا۔ صدر ایوب خان مرحوم نے اپنی تقریر میں اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک بزرگ عالم دین پر تشدد ہوا ہے۔ اب صورت یہ بنی کہ ہم چاہتے تھے صدر ایوب خان کی اس تقریر پر حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کا بیان اس کے ساتھ ہی اخبارات میں چھپے۔ رات کے آٹھ بجے تقریر ہوئی تھی جبکہ ہسپتال کے دروازے اس زمانے میں رات کو بند ہو جایا کرتے تھے۔ ہم صحافی مزاج کے لوگ بے چین تھے کہ صدر ایوب خان کی تقریر کل چھپ جائے گی لیکن حضرتؒ کا بیان پرسوں چھپے گا، ایسے نہیں ہونا چاہیے۔ اس زمانے میں موبائل فون کا تو تصور ہی نہیں تھا کہ حضرتؒ سے بیان نوٹ کروا لیتے۔ میں اور مولانا سعید الرحمان علوی اٹھے اور ہسپتال پہنچے، عمارت کا چکر لگایا کہ کہیں سے اندر جانے کا راستہ مل جائے۔قریبی علاقے انارکلی کے مولانا میاں عبد الرحمان ہمارے ساتھ تھے، ان سے کہا کہ بھئی کوئی راستہ تلاش کرو کہ اندر جا سکیں۔ معلوم نہیں کہ ہسپتال کی کونسی دیوار پھلانگ کر ہم اندر پہنچے اور جا کر حضرتؓ کے کمرہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ حضرتؒ حیران ہوگئے کہ بھئی کدھر؟ ہم نے معاملہ عرض کیا کہ صدر ایوب خان کی تقریر نشر ہوئی ہے جس پر آپ کا جواب چاہیے۔ چنانچہ حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ نے جواب لکھوایا کہ یہ میری ذات کا معاملہ نہیں ہے بلکہ ملکی نظام کی بات ہے، جن مقاصد کے لیے ہم پر تشدد ہوا ہے ان کے بارے میں صدر ایوب خان نے کوئی بات نہیں کہی، ہم نے تو قوم پر ہونے والے مظالم کے سلسلے میں احتجاج کیا تھا، یہ میری ذات کا معاملہ نہیں ہے۔ حضرتؒ نے یہ چند جملے کہے جو میں نے لکھے، ہم لیٹرپیڈ اور مہریں وغیرہ سب جیب میں ڈال کر ساتھ لے گئے تھے۔ وہاں سے نکلے اور سیدھا نوائے وقت کے دفتر میں پہنچے۔ رات دس بجے کا وقت تھا اور مجید نظامی مرحوم ابھی دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے، ہمیں دیکھ کر حیران ہوئے اور پوچھا یہ مولانا کا بیان ہے؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ کہنے لگا کمال کر دیا ہے آپ لوگوں نے۔ ہم نے کہا جی یہ بیان برابر لگنا چاہیے، کہنے لگا بالکل برابر لگے گا۔ چنانچہ اگلے دن نوائے وقت کی مرکزی سرخی صدر ایوب خان مرحوم کا جملہ تھا کہ مولانا عبید اللہ انورؒ پر جو زیادتی ہوئی ہے اس پر مجھے افسوس ہے۔ جبکہ مولانا کی آدھی سرخی تھی کہ یہ میری ذات کا مسئلہ نہیں بلکہ قوم کا مسئلہ ہے۔ صبح یہ دونوں بیانات ساتھ ساتھ دیکھ کر ہم نے اطمینان کا سانس لیا کہ ہماری محنت رائیگاں نہیں گئی۔

الحمد للہ مجھے حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کا اعتماد بھی مسلسل حاصل رہا ہے، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کا بھی اور حضرت مولانا مفتی محمودؒ کا بھی۔ میں جمعیۃ کا سیکرٹری اطلاعات تھا، بسا اوقات یوں ہوتا تھا کہ کسی مسئلے پر فوری بیان دینا ضروری ہوتا تھا اور ان بزرگوں میں سے کسی سے رابطہ نہیں ہو رہا ہوتا تھا، ایسی صورت میں بیان لکھ کر بھیج دیتا تھا جو اخبارات میں شائع ہو جاتا تھا، کبھی مولانا عبید اللہ انورؒ کی طرف سے، کبھی حضرت درخواستیؒ کی طرف سے اور کبھی مولانا مفتی محمودؒ کی طرف سے۔ الحمد للہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے میرے بھجوائے ہوئے بیان کو غلط کہا ہو۔ البتہ مفتی صاحبؒ نے ایک دفعہ کہا بھئی! میں یہ نہیں کہتا کہ پوچھ کر بیان جاری کیا کرو لیکن بتا تو دیا کرو کہ آپ کے نام سے یہ بیان بھیجا ہے، کیونکہ بعض اوقات ایسے ہوتا ہے کہ ساتھی کہتے ہیں آپ کا بڑا اچھا بیان آیا ہے تو میں کچھ بھی نہیں کہہ پاتا اور میرا بیان وہ مجھے دکھاتے ہیں۔

حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کا مجھے یہ اعتماد بھی حاصل رہا ہے کہ ان گنت معاملات ایسے تھے کہ میں نے کوئی رائے دی کہ حضرت یوں ہونا چاہیے۔ حضرتؒ فرماتے اچھا! ہماری رائے تو یہ نہیں تھی، آپ کی رائے ہے تو یہی ٹھیک ہے۔ وہ جماعت کے صوبائی امیر تھے اور میں کارکن تھا، میں ان کے رفقاء میں شامل تھا اور ان کی ٹیم کا حصہ تھا لیکن میرا حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کے ساتھ اصل تعلق سلسلہ قادریہ میں بیعت کا تھا۔ میں اکثر شیرانوالہ لاہور میں ان کی مجلسِ ذکر میں شامل ہونے کی کوشش کرتا اور مہینہ میں دو تین مرتبہ وہاں جانے کا معمول تھا۔ ان کے باقاعدہ اسباق ہوتے تھے جیسا کہ ہر روحانی سلسلہ کے ہوتے ہیں۔ جب میں حضرتؒ سے بیعت ہوا تو یہ میرا طالب علمی کا دور تھا۔ حضرت طلباء کو وظیفہ نہیں بتایا کرتے تھے، فرماتے تھے اپنی پڑھائی پر توجہ دو جب فارغ ہو گے پھر وظیفہ بتاؤں گا۔ کافی عرصہ بعد کی بات ہے جب میں عملی سیاست میں تھا، میں نے ایک دن عرض کیا حضرت! آپ نے کوئی سبق تو دیا نہیں حالانکہ میں سلسلہ قادریہ میں آپ سے بیعت ہوں۔ انہوں نے ایک جملہ فرمایا کہ آپ جو کچھ کر رہے ہو یہی آپ کا سبق ہے۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کیونکہ اسباق کی پابندی مجھ سے شاید نہ ہو پاتی۔ اس کے بعد میں نے کبھی حضرتؒ سے اس بارے میں بات نہیں کی۔ لیکن جس سبق کی حضرتؒ نے تائید و تصدیق کی تھی الحمد للہ وہ اب تک جاری ہے۔

جماعتی زندگی میں مختلف مراحل آئے، میں ایک زمانہ میں جمعیۃ علماء اسلام کا ٹھیک ٹھاک چودھری رہا ہوں۔ ہماری نئی پود اس سے واقف نہیں ہے لیکن اس وقت لوگ سمجھتے تھے کہ جمعیۃ کے سارے اہم معاملات میں میرا بڑا کردار ہوتا ہے۔ ایک دفعہ لاہور کی جمعیۃ کو مجھ سے کچھ شکایات پیدا ہوگئیں جس پر انہوں نے میرے خلاف باقاعدہ ایک کیس بنا کر پیش کیا حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کی خدمت میں۔ چنانچہ حضرتؒ کی سربراہی میں ایک جرگہ بیٹھا جس میں ہمارے ایک دوست حافظ محمد یوسف ایڈووکیٹ جو لاہور ہائی کورٹ کے وکیل تھے انہوں نے اکیس الزامات پر مشتمل یہ کیس پیش کیا۔ انہوں نے کوئی گھنٹہ سوا گھنٹہ تقریر فرمائی جسے سب سنتے رہے۔ سب الزامات اور ثبوت وغیرہ پیش ہوئے تو میری باری آئی۔ اب جب آدمی عملی میدان میں کام کرتا ہے تو اسے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ حضرتؒ نے فرمایا مولوی صاحب! آپ کا کیا موقف ہے؟ میں نے کھڑا ہو کر کہا کہ حافظ صاحب نے اکیس باتیں فرمائی ہیں، ان میں سے کچھ باتیں شاید ٹھیک بھی ہوں گی لیکن میں سب الزامات تسلیم کرتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں۔ اب آپ فیصلہ کریں کہ کیا معاملہ کرنا ہے۔ اس پر سب حیران و پریشان ہوگئے کہ یہ کیا ہوا، اس نے تو ایک منٹ میں بات نمٹا دی۔ حضرتؒ بہت خوش ہوئے اور بعد میں مجھے شاباش دی کہ تم نے ایک بڑا بوجھ ہمارے سر سے ہٹا دیا ہے۔ ایسے مواقع پر بسا اوقات بات کو فوری نمٹا دینا ہی فائدے میں رہتا ہے۔

یہ ۱۹۸۴ء میں غالباً حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کی وفات سے ایک ڈیڑھ مہینے پہلے کی بات ہے۔ میرے بڑے بیٹے عمار خان ناصر کا حفظ قرآن کریم مکمل ہوا تھا۔ میں نے حضرتؒ سے عرض کیا کہ میرا آخری سبق حضرت درخواستیؒ نے سنا تھا، میری خواہش ہے کہ عمار کا آخری سبق آپ سنیں۔ میری طرف دیکھا اور فرمایا کہ میرا حال تمہیں معلوم ہے۔ میں نے کہا حضرت! معلوم ہے لیکن جی چاہتا ہے۔ میں واقعتاً ان کی کیفیت جانتا تھا کہ سفر کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ یہ پروگرام جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ میں تھا اور اس میں حضرت والد صاحبؒ بھی تشریف لائے تھے، مولانا اجمل خانؒ بھی اور مولانا عبید اللہ انورؒ بھی۔ میاں اجمل قادری صاحب بتاتے ہیں کہ صبح سے طبیعت خراب تھی لیکن کہتے تھے کہ جانا ہے، راشدی صاحب کا بیٹا ہے میں نے ضرور جانا ہے۔ ڈاکٹروں کے منع کرنے کے باوجود تشریف لائے۔ میں اس پر حضرتؒ کا بڑا احسان مند ہوں کہ وہ یہ تکلیف برداشت کر کے تشریف لائے اس نسبت سے کہ زاہد نے کہا ہے۔ حضرتؒ نے عمار کا آخری سبق سنا، بیان فرمایا اور دعا دی۔

میں یہاں دو کرامتیں ذکر کرنا چاہوں گا۔ ایک حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کی اور دوسری حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کی۔ میں اکثر جماعتی دوروں پر جاتا تھا، اس سلسلہ میں جماعت کا دفتر میرے سفری خرچ کا ذمہ دار ہوتا تھا۔ ہم فقیر لوگ ویسے ہی خالی جیب ہوتے تھے۔ ایک دفعہ مجھے کوئٹہ جانا تھا جماعتی سلسلہ میں، سوچا کہ لاہور جمعیۃ کے دفتر جا کر وہاں سے سفر کا خرچہ لوں گا اور پھر ریلوے اسٹیشن پر کوئٹہ ایکسپریس میں بیٹھ جاؤں گا۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے دفتر کے ناظم مولانا غلام اکبر سلیمانی تھے جو جامعہ نصرۃ العلوم کے فاضل تھے۔ لاہور دفتر پہنچا تو معلوم ہوا کہ ناظم صاحب کمالیہ گئے ہوئے ہیں۔ گاڑی کے روانہ ہونے میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ رہتا تھا اور میرے پاس سفر کا خرچہ نہیں تھا۔ میں وہاں سے شیرانوالہ چلا گیا جہاں ہمارے ایک بزرگ ہوتے تھے عبد الحمید بٹ صاحب، سوچا ان سے ادھار لے کر چلا جاؤں گا واپسی پر ان کو لوٹا دوں گا، پتہ چلا کہ وہ موجود نہیں ہیں۔ پھر سوچا کہ ہفت روزہ خدام الدین کے ایڈیٹر مولانا سعید الرحمان علوی سے لیتا ہوں لیکن وہ بھیرہ گئے ہوئے تھے۔ اب گاڑی کی روانگی میں ایک گھنٹہ رہ گیا تھا۔ میں بہت پریشان ہوا کہ یا اللہ! اب کیا کروں، کوئٹہ والے انتظار میں ہیں انہوں نے کل پروگرام رکھے ہوئے ہیں اور یہاں یہ صورت حال بنی ہوئی ہے۔ حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ شیرانوالہ لاہور میں اوپر چوبارہ میں رہتے تھے۔ کوئی ہنگامی بات ہوتی تو ہم اوپر چٹ بھیج دیتے۔ میں نے چٹ پر صرف یہ لکھ کر بھیجا کہ حضرت! میں جماعتی دورے پر ہفتہ دس دن کے لیے کوئٹہ جا رہا ہوں، دعا کی درخواست ہے۔ حضرتؒ چٹ ہاتھ میں لیے نیچے آئے اور کہنے لگے ماشاء اللہ ماشاء اللہ آپ کوئٹہ جا رہے ہیں۔ پھر ایک لفافہ میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے فرمایا اس دفعہ کرایہ ہماری طرف سے ہو جائے۔ وہ لفافہ میں نے کھول کر دیکھا تو مطلوبہ کرائے سے دو تین گنا زیادہ تھے اور یہ اللہ رب العزت کی طرف سے خاص امداد تھی۔

جس دن حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کا انتقال ہوا وہ ہسپتال میں تھے۔ اس سے ایک دن پہلے حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ جو خود بھی علیل تھے حضرتؒ کی عیادت کے لیے لاہور تشریف لائے، ہم نے حضرت درخواستیؒ کو ریلوے اسٹیشن پر وصول کیا۔ میرے ساتھ مولانا سعید الرحمان علویؒ کے علاوہ کچھ اور دوست تھے۔ حضرت درخواستیؒ نے خیبرمیل سے اتر کر مصافحہ کرتے کرتے فرمایا مجھے پتہ چلا ہے کہ مولوی عبید اللہ صاحبؒ بیمار ہیں، میں عیادت کے لیے آیا ہوں اور ساتھ احرام کی چادریں بھی لے آیا ہوں۔ اللہ اکبر! باباجی احرام کی چادریں کیوں ساتھ لائے ہیں؟ میں نے ساتھیوں سے کہا کہ ہمارے پیر صاحبؒ گئے کیونکہ حضرت درخواستیؒ احرام کی چادریں کفن کے لیے لائے ہیں۔ چنانچہ صبح دس بجے حضرتؒ انتقال کر گئے اور انہی چادروں میں دفن ہوئے۔ یہ اللہ والوں کی باتیں ہیں جنہیں اللہ والے ہی سمجھتے ہیں۔

حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ میرے شیخ تھے میرے بزرگ تھے۔ ان کے ساتھ بڑی محبت و عقیدت کا اور مہربانی و شفقت کا تعلق تھا۔ ایک مرتبہ حضرت کی مجلس میں بیٹھے آخرت کی باتیں ہو رہی تھیں۔ مرزا جانباز مرحوم بیٹھے ہوئے تھے، کہنے لگے حضرت وہاں اگر جوتے پڑنا شروع ہوگئے تو پھر ہمارا کیا بنے گا؟ اس پر میں نے کہا کہ میں تو اس چادر میں گھس جاؤں گا۔ حضرتؒ کی سفید چادر ہوتی تھی، سنا تو ہنسے اور فرمایا ہاں ہاں بالکل۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند سے بلند تر فرمائے اور ہمیں اس دنیا میں بھی اور آخرت مں بھی ان کے ساتھ ہی منسلک رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔