’’سیرت امہات المؤمنین‘‘

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۹ مئی ۲۰۰۵ء

مولانا عبد المعبود صاحب راولپنڈی کے بزرگ علماء کرام میں سے ہیں، باغ سرداراں کے علاقہ میں مسجد پھولوں والی کے خطیب ہیں اور مختلف موضوعات پر ان کی تصانیف نہ صرف عوام بلکہ علماء کرام کے لیے بھی استفادہ کا باعث بن رہی ہیں۔ تاریخ مکہ مکرمہ اور تاریخ مدینہ منورہ پر ان کی تصانیف نے بطور خاص شہرت حاصل کی ہے اور اب انہوں نے امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن کے حالات زندگی اور سوانح پر قلم اٹھایا ہے۔ ’’سیرت امہات المؤمنین‘‘ کے نام سے آٹھ سو کے لگ بھگ صفحات پر مشتمل اس ضخیم کتاب میں انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اور مسلمانوں کی ماؤں کے حالات اور دینی خدمات کا تذکرہ کرنے کے ساتھ ساتھ جناب رسول اکرمؐ کے خاندانی حالات کے حوالے سے متعدد سوالات کا جائزہ لیا ہے اور مخالفین کے شکوک و اعتراضات کا مدلل جواب دیا ہے۔ ۲۲ مئی کو ان کی مسجد کے قریب ایک ہال میں اس کتاب کی رونمائی کی تقریب تھی جس میں حضرت مولانا سمیع الحق، مولانا اشرف علی، مولانا سید چراغ الدین شاہ، مولانا عبد القیوم حقانی، مولانا حافظ محمد صدیق اور دیگر علماء کرام کے علاوہ راقم الحروف سے بھی کچھ گزارشات کرنے کے لیے کہا گیا۔ اس موقع پر میں نے جو کچھ عرض کیا اس کا خلاصہ نذر قارئین ہے-

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات مسلمانوں کی مائیں ہونے کے ساتھ ساتھ قیامت تک مسلمان خواتین کے لیے آئیڈیل اور اسوہ ہیں اور نبی کریمؐ کا گھریلو نظام اور خاندانی ماحول پوری نسل انسانی کے لیے ماڈل، آئیڈیل اور اسوہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس پر اس سے قبل بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ حضرت مولانا عبد المعبود نے بھی اہمیت کے ساتھ اس پر قلم اٹھایا ہے اور معلومات کا بیش بہا ذخیرہ جمع کر دیا ہے۔ مگر میں اس کاوش پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے ایک تجویز بھی پیش کرنا چاہوں گا کہ وہ اس کتاب کے سرورق پر ’’جلد اول‘‘ کے جملہ کا اضافہ کر دیں اور دوسری جلد کی تیاری شروع کریں۔ اس لیے کہ انہوں نے اس کتاب میں دو پہلوؤں پر بات کی ہے:

  1. ایک یہ کہ ازواج مطہراتؓ کے حالات زندگی اور دینی خدمات کا تذکرہ کیا ہے جو یقیناً مسلمان خواتین کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں اور اس سے مسلم خواتین روشنی حاصل کر سکتی ہیں۔
  2. اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ ازواج مطہراتؓ اور جناب نبی اکرمؐ کی گھریلو زندگی کے بارے میں اہم اعتراضات کا انہوں نے جائزہ لیا ہے اور صحیح نقطۂ نظر کی دلائل کے ساتھ وضاحت کی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ اس موضوع کا ایک تیسرا پہلو بھی ہے جو آج کے دور میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے لیکن اس طرف عام طور پر ہماری توجہ نہیں ہوتی۔ وہ پہلو خاندانی نظام اور فیملی سسٹم کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھریلو ماحول سے رہنمائی حاصل کرنے کا ہے اور مغرب میں فیملی سسٹم کے سبوتاژ ہوجانے کے بعد اس پہلو نے بہت زیادہ اہمیت حاصل کر لی ہے۔ خاندانی نظام کے حوالے سے آج کے اہم موضوعات یہ ہیں کہ میاں بیوی کے تعلقات میں توازن کی صورت کیا ہے؟ ان کے باہمی حقوق کی ترجیحات کیا ہیں؟ اور مسلمان خاتون کا معاشرتی کردار کیا ہے؟ اس پر آنحضرتؐ کی سیرت طیبہ، ازواج مطہراتؓ کے حالات زندگی اور صحابہ کرامؓ کے معاشرتی ماحول میں ہمیں بہت رہنمائی ملتی ہے مگر ہماری توجہ اس طرف مبذول نہیں ہو رہی۔ اور اگر ہم اس عنوان پر بات بھی کرتے ہیں تو اس کا صرف وہ پہلو سامنے ہوتا ہے جس کا تعلق قدغنوں سے ہے، پابندیوں سے اور رکاوٹوں سے ہے۔ مجھے اس کی اہمیت سے انکار نہیں کہ اسلام نے عورت کو جن حدود و قیود کا پابند کیا ہے ان کا تذکرہ ضروری ہے اور عورتوں کو ان سے آگاہ کرنا ناگزیر ہے، لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی ہے کہ اسلام نے عورت کو بہت سے حقوق دیے ہیں، بہت سی ذمہ داریاں دی ہیں اور خاندان اور معاشرے میں اسے ایک مقام بخشا ہے، مگر وہ ہماری زبان و قلم پر نہیں آتا۔ مجھے یہاں حضرت امیر معاویہؓ کا ایک قول یاد آرہا ہے کہ جب ان سے کسی نے ان کی کامیاب سیاست کا راز پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ:

’’میں ہر شخص کے ساتھ تعلقات کا توازن قائم رکھتا ہوں، وہ تعلقات کی رسی ڈھیلی کرتا ہے تو میں کھینچ کر برابر کر لیتا ہوں اور اگر وہ رسی کو ضرورت سے زیادہ کھینچنے لگتا ہے تو میں رسی کو ڈھیلا کر دیتا ہوں تاکہ توازن برقرار رہے۔‘‘

حضرت معاویہؓ کے اس ارشاد کے حوالے سے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم نے عورت کے معاشرتی کردار اور حقوق کے عنوان سے رسی کو کھینچنے کا کام ضرور شروع کر رکھا ہے مگر توازن قائم رکھنے کے لیے اسے ڈھیلا چھوڑنے کی بات ہم سرے سے بھول گئے ہیں۔ یہ بات محل نظر ہے اور آج کے اصحاب قلم دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عدم توازن کو محسوس کریں اور مسلم خواتین کو قدغنوں اور پابندیوں کے ساتھ ساتھ ان حقوق اور آزادیوں سے بھی آگاہ کریں جو اسلام انہیں دیتا ہے اور جناب نبی اکرمؐ نے جن سے انہیں بہرہ ور کیا ہے۔

آج کی دنیا میں ہر مسئلہ کو حقوق کے پیمانے سے ماپا جا رہا ہے اور معاشرتی کردار کے ترازو پر تولا جا رہا ہے۔ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس پہلو سے جناب رسول اکرمؐ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کریں، ازواج مطہراتؓ کی زندگیوں پر نظر ڈالیں اور اسلام کے عطا کردہ حقوق کو دنیا کے سامنے لائیں۔ مثال کے طور پر میں دو واقعات کا حوالہ دینا چاہوں گا۔

ایک بریرہؓ کا واقعہ ہے جو ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کی خادمہ کی حیثیت سے خاندان نبوت کی فرد تھی۔ اسے جب غلامی سے آزادی ملی تو اس نے اپنا شرعی حق استعمال کرتے ہوئے سابقہ خاوند مغیثؓ سے علیحدگی اختیار کر لی۔ مغیثؓ کی پریشانی دیکھ کر خود جناب نبی اکرمؐ نے اس کی سفارش کی تو بریرہؓ نے یہ کہہ کر اس سفارش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ ’’اگر یہ حکم نہیں بلکہ سفارش ہے تو وہ مغیثؓ کے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں ہے‘‘۔ یہ ایک عورت کی طرف سے اپنی آزادی اور حق کا بھرپور استعمال تھا جس کا مظاہرہ اس نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں بلکہ ان کے سامنے کیا اور آپؐ نے کسی ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔

دوسرا واقعہ ایک بچے کا ہے۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق مسجد نبویؐ میں جناب نبی اکرمؐ کی مجلس میں دائیں طرف تیرہ چودہ سال کا بچہ (حضرت عبد اللہ بن عباسؓ) بیٹھا تھا اور بائیں طرف حضرت ابوبکرؓ اور دیگر بزرگ صحابہ کرامؓ تھے۔ آنحضرتؐ کو پانی پیش کیا گیا جو آپؐ نے نوش فرمایا اور بچا ہوا پانی کسی کو دینا چاہا۔ دائیں طرف عبد اللہ بن عباسؓ تھے جن کا یہ حق بنتا تھا جبکہ بائیں طرف بزرگ صحابہ کرامؓ تھے۔ نبی کریمؐ بچا ہوا پانی بائیں طرف دینا چاہتے تھے مگر اس کے لیے آپؐ نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا کہ اگر تم اجازت دو تو پانی بائیں طرف دے دوں؟ انہوں نے یہ کہہ کر اجازت دینے سے انکار کر دیا کہ میں آپؐ کے تبرک کے بارے میں کسی اور کو خود پر ترجیح دینے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ چنانچہ آنحضرتؐ نے وہ پانی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کو تھما دیا۔

اس قسم کے واقعات جو عورتوں، بچوں اور دیگر طبقات کے حقوق سے تعلق رکھتے ہیں اور جن سے ان حقوق کی پاسداری اور احترام کا سبق ملتا ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ اور حضرات صحابہ کرامؓ کے حالات زندگی میں بکھرے پڑے ہیں اور احادیث کے ذخیرے میں اس پر بہت بڑا مواد موجود ہے۔ اس لیے آج کے دور میں سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیرت طیبہ کا اس پہلو سے مطالعہ کیا جائے، آج کے عالمی تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے عورتوں، بچوں، مزدوروں اور دیگر طبقات کے حقوق کو سیرت طیبہ اور تعامل صحابہؓ کی روشنی میں اجاگر کیا جائے اور دنیا کو بتایا جائے کہ عورتوں کے معاشرتی کردار اور حقوق پر اسلام کی تعلیمات زیادہ مکمل اور جامع ہیں اور وہی اس بارے میں فطری تعلیمات ہیں۔ اس پس منظر میں مولانا عبد المعبود صاحب سے میری گزارش ہے کہ وہ اس کتاب کی دوسری جلد تحریر کریں اور مسئلہ کے اس اہم ترین پہلو کو بھی مطالعہ و تحقیق کا موضوع بنائیں۔