۲۰۱۳ء کے انتخابات اور دینی جماعتوں کا انتشار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳ مئی ۲۰۱۳ء

حضرت مولانا سلیم اللہ خان، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق سکندر اور حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کی مشترکہ اپیل روزنامہ ’’اسلام‘‘ میں مسلسل شائع ہو رہی ہے جس میں عام انتخابات کے موقع پر دینی جماعتوں میں باہمی تعاون و اشتراک کے فقدان اور الگ الگ انتخابی مہم پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ اپیل کی گئی ہے کہ کم از کم اتنا تو کر لیا جائے کہ جن حلقوں میں دینی جماعتوں کے امیدوار آپس میں مقابلہ کر رہے ہیں ان حلقوں میں ان کے درمیان ایڈجسٹمنٹ کی کوئی صورت نکال لی جائے۔ اس پر چند حلقوں میں احباب نے توجہ بھی کی ہے لیکن ملک کی عمومی فضا ویسی کی ویسی ہے اور باہمی اشتراک و تعاون کی فضا قائم نہیں ہو رہی جبکہ عام انتخابات میں صرف چند روز باقی رہ گئے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان شریعت کونسل نے بھی ملک بھر کے دینی حلقوں سے یہی اپیل کی تھی اور متعدد جماعتوں کے راہ نماؤں سے اس سلسلہ میں رابطے بھی کیے گئے تھے لیکن یہ تگ و دو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی اور ہم اپنے دوستوں کو ’’اضعف الایمان‘‘ درجے کی اس بات پر بھی آمادہ نہیں کر سکے کہ وہ کوئی مشترکہ محاذ بنا کر اکٹھے انتخابی مہم نہیں چلا سکتے تو کم از کم باہمی محاذ آرائی سے گریز ضرور کریں۔

ہمارے خیال میں اس حوالہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) دینی جماعتوں کے ساتھ ایک بار پھر ’’ہاتھ‘‘ کر گئی ہے، کچھ عرصہ تک ہم سنتے رہے کہ پنجاب میں سپاہ صحابہؓ کے دوستوں کو نون لیگ کا قرب حاصل ہو رہا ہے اور مسلم لیگ (ن) انہیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے عنوان سے کچھ حلقوں میں انتخابی سپورٹ دینے پر آمادہ ہے، بعض احباب نے ہم سے استفسار کیا تو ہم نے عرض کیا کہ اگر ایسا ہو جائے تو ہمیں خوشی ہوگی کہ اہل السنۃ کے کچھ نمائندے اسمبلیوں میں پہنچ کر اپنا موقف اور جذبات وہاں خود پیش کر سکیں گے، لیکن ہمیں خدشہ تھا کہ ایسا عملاً ہوگا نہیں اور وہی ہوا کہ ایک عرصہ تک امید کے ماحول میں رکھ کر نون لیگ نے شیخ وقاص اکرم کے حوالہ سے اس کا جھٹکا کر دیا۔

پھر ہم نے اخبارات میں یہ خبریں پڑھیں کہ مولانا سمیع الحق کی قیادت میں بننے والے متحدہ دینی محاذ کی نون لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہونے والی ہے تب بھی ہمیں اسی طرح کی خوشی ہوئی، پھر جمعیۃ علماء اسلام (ف) کے ساتھ نون لیگ کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ اور راہ نماؤں کی ملاقاتوں کی خبریں آنا شروع ہوئیں تو امیدوں کا ایک اور افق نگاہوں کے سامنے آنے لگا مگر جلد ہی نظروں سے اوجھل بھی ہوگیا۔ اس کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے ساتھ نون لیگ کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی آنکھ مچولی چند روز دیکھنے کو ملی مگر اس کا حشر بھی وہی ہوا جو پہلی مذکورہ امیدوں کا ہو چکا تھا۔

ہمارے خیال میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی یہ پالیسی اس باقاعدہ منصوبہ بندی کاحصہ تھی کہ دینی جماعتوں کو الگ الگ طور پر امیدیں دلا کر متحدہ مجلس عمل کی بحالی یا کسی اور متحدہ دینی فورم کے قیام کا راستہ روکا جائے۔ اس حکمت عملی میں نون لیگ کامیاب رہی ہے اور آج صورت حال یہ ہے کہ نہ صرف متحدہ مجلس عمل کی جماعتیں بلکہ دیوبندی مکتب فکر کی جماعتیں بھی مختلف حلقوں میں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں اور مشترکہ انتخابی مہم کا خواب قصۂ پارینہ بن کر رہ گیا ہے۔ اس حوالہ سے ہمیں مسلم لیگ سے کوئی گلہ نہیں ہے اس لیے کہ اس کی تو روایت ہی یہ ہے۔ مسلم لیگ نے قیام پاکستان سے ایک عشرہ قبل جمعیۃ علماء ہند کے ساتھ یہی معاملہ کیا تھا پھر اسی دور میں مجلس احرار اسلام کے ساتھ اسی طرح کاڈرامہ رچایا گیا تھا اور ابھی ربع صدی قبل مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیفؒ کے پیش کردہ ’’شریعت بل‘‘ کا تیاپانچہ بھی اسی مسلم لیگ کے ہاتھوں ہو چکا ہے۔ اس سے شکوہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، البتہ ہماری ’’اجتماعی سیاسی بصیرت و فراست‘‘ پر ڈبل سوالیہ نشان ضرور لگ گیا ہے، بلکہ پورے ملک کی دیوبندیت خود سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

ہم نے ضلع گوجرانوالہ کی سطح پر اس مقصد کے لیے کوشش کی جس کا اظہار ہمارے ان تینوں محترم بزرگوں کی مشترکہ اپیل میں مسلسل کیا جا رہا ہے۔ خود میری دعوت پر دیوبندی جماعتوں کے دو مشترکہ اجلاس جامعہ نصرۃ العلوم اور مرکزی جامع مسجد میں ہو چکے ہیں جن میں راقم الحروف نے دو باتیں عرض کیں کہ:

  • صرف اُس حلقہ میں الیکشن لڑیں جہاں آپ کم از کم الیکشن لڑتے ہوئے دکھائی ضرور دیں، ورنہ بلا وجہ جگ ہنسائی کا سامان مہیا کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اور
  • جن حلقوں میں ہماری اپنی جماعتوں کے امیدوار باہمی محاذ آراء ہیں ان میں مل بیٹھ کر ایڈجسٹمنٹ کر لیں اور جس امیدوار کی پوزیشن زیادہ بہتر نظر آرہی ہو، دوسرا اس کے حق میں دستبردار ہو جائے۔

دونوں اجلاسوں میں ان گزارشات سے اتفاق کیا گیا لیکن عملاً وہی ہو رہا ہے جو تمام ہم مسلک دوستوں کے لیے اضطراب اور پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ فإلی اللّٰہ المشتکٰی، اس لیے میں نے تو 11 مئی تک مکمل خاموشی اختیار کر لی ہے، البتہ یہ دعا ضرور کرتا رہتا ہوں کہ یا اللہ! ہم تو اپنے نفع و نقصان کے ادراک سے بے گانہ ہو چکے ہیں، تو ہی اپنے فضل و کرم کے ساتھ ہمارے لیے بہتری کا کوئی راستہ پیدا فرمادے، آمین یا رب العالمین۔