حضرت مولانا لال حسین اخترؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۲ جون ۱۹۷۳ء

۱۱ جون کو صبح ابھی اسباق سے فارغ نہیں ہوا تھا کہ لاہور دفتر سے فون پر یہ روح فرسا خبر ملی کہ شہنشاہِ اقلیمِ مناظرہ اور مجاہدِ جلیل حضرت مولانا لال حسین اختر صاحب امیر مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان جہانِ فانی سے رخصت ہو کر رب حقیقی سے جا ملے ہیں۔ زبان سے بے ساختہ انا للہ وانا الیہ راجعون جاری ہوا۔ جنازہ کے بارہ میں اطلاع ملی کہ صبح ۹ بجے دہلی دروازہ لاہور میں ادا ہوگا۔ اطلاع اور جنازہ کے درمیان بس اتنا ہی وقفہ تھا کہ بمشکل گوجرانوالہ سے لاہور پہنچا جا سکتا تھا، مگر احباب کو مطلع کرتے کرتے تاخیر ہوگئی اور جب ہم دہلی دروازہ لاہور پہنچے تو حضرت مرحوم کے ہزاروں مداح حضرت مولانا مفتی زین العابدین صاحب کی امامت میں نماز جنازہ ادا کر چکے تھے۔

جس مرد مجاہد نے اسلام کی حقانیت کے اظہار کے لیے زندگی وقف کر رکھی تھی، جس نے یورپ افریقہ اور ایشیا کے بت کدوں میں اذانیں دی تھیں اور جس کے نام سے بڑے بڑے غیر مسلم، ملحد، زندیق اور مرتد لرزتے تھے آج دہلی دروازہ میں سوگواروں کے درمیان ابدی نیند سو رہا تھا اور ہزاروں اشکبار آنکھیں اپنے مرحوم قائد کو آنسوؤں کا نذرانہ پیش کر رہی تھیں۔ سوگواروں میں ایک طرف مرشدی و مولائی حضرت مولانا عبید اللہ انور صاحب دامت برکاتہم، حضرت مولانا مفتی زین العابدین صاحب، حضرت مولانا محمد اجمل خان صاحب اور حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کی معیت میں مولانا مرحوم کی خدمات کا تذکرہ فرما رہے تھے اور دوسری طرف حضرت مولانا سید انور حسین صاحب نفیس رقم، خلیفہ مجاز حضرت رائے پوریؒ کی زندگی کے آخری ایام میں شرف خدمت حاصل کرنے کا ذکر بڑے فخر سے کر رہے تھے۔ اور واقعی یہ جامعہ مدنیہ کے مہتمم حضرت مولانا حامد میاں صاحب مدظلہ اور حضرت نفیس شاہ صاحب کی خوش بختی ہے کہ دنیائے اسلام کے سب سے بڑے مناظر کی زندگی کے آخری ایام ان کے ہاں گزرے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں خدمت کی سعادت بخشی۔

جمعیۃ علماء اسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت، مجلس احرار اسلام اور دیگر دینی جماعتوں کے کارکن بھی جمع تھے جن میں بہت سے حضرات ہماری طرح اطلاع دیر سے ملنے کی وجہ سے جنازہ کے وقت تک نہ پہنچ سکے تھے۔ مرشدی حضرت مولانا عبید اللہ انور صاحب مدظلہ کی امامت میں ہم لوگوں نے دوبارہ نماز جنازہ ادا کی اور پھر حضرت مرحوم کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ علوم و فنون کا ایک تلاطم خیز طوفان ساکن ہو چکا ہے اور رب قدیر کی قدرت کہ دنیا بھر کے مذاہب کے مناظروں کو پانچ منٹ میں چپ کرا دینے والا اسلام کا بے باک مبلغ آج اللہ رب العزت کی تقدیر کے سامنے خاموش لیٹا ہوا تھا۔

حضرت مرحوم کی مجاہدانہ زندگی کے نقوش ایک ایک کر کے سامنے آنے لگے اور زندگی کے جو چند خوش نصیب لمحات مناظر اسلام مرحوم کی معیت و صحبت میں گزرے تھے اور مختلف اوقات میں مرحوم کے ارشادات عالیہ سے مستفیض ہونے کا جو موقع ملا تھا ایک ایک کر کے سارے لمحات یاد آتے گئے۔ ان کا استدلال، طرز تکلم، حوالہ جات کی بھرمار اور مخالف مناظر پر دلائل سے مسلح یلغار، سادگی، اکابر کے ساتھ بے پناہ عشق، امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے ساتھ والہانہ عقیدت، ساتھیوں پر شفقت، اسلام کی تبلیغ کی خاطر دو دراز کے سفر، کفر و ارتداد کے مقابلہ میں نمایاں کامیابیاں، اور الحاد و زندقہ پر بے پناہ رعب۔ یہ کیسی کیسی خوش بختیاں تھیں جو مناظر اسلام مرحوم کے حصہ میں آئی تھیں۔ جس مردِ قلندر کو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اپنی خصوصی توجہات کے قابل سمجھا اور جس درویش کو قطب الاقطاب حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ نے مولانا مودودی کے ساتھ ان کے متنازعہ عقائد پر بحث و مناظرہ کے لیے اپنا معتمد علیہ قرار دے کر ان کی شکست کو اپنی شکست اور ان کی فتح کو اپنی فتح قرار دیا، اور جس مرد حر کے لیے شیخ المشائخ حضرت شاہ عبد القادر رائے پوریؒ نے خصوصی دعائیں فرمائیں۔ اس کی خوش نصیبی اور خوش بختی کے کیا کہنے۔

آج وہ درویش مسکرا رہا تھا کہ اسے اپنے محبوب اکابر و اسلاف کی معیت نصیب ہونے والی تھی اور وہ آج پھر حضرت تھانویؒ، امیر شریعت، مولانا قاضی احسان احمدؒ، شیخ حسام الدینؒ، حضرت لاہوریؒ، حضرت رائے پوریؒ، ماسٹر تاج الدین انصاریؒ، مولانا محمد علی جالندھریؒ، اور پھر سب سے بڑھ کر شیخ العرب والعجم حضرت مدنی نور اللہ مرقدہ کی مبارک مجلس کے مزے لوٹنے جا رہا تھا۔ مگر اس مرد حق آگاہ کے خدام چارپائی کے گرد گھیرا ڈالے سوچ رہے تھے کہ اب کون ہزاروں لاکھوں کے اجتماع میں پورے اعتماد کے ساتھ یہ چیلنج دیا کرے گا کہ ’’کسی ماں نے ایسا لال نہیں جنا جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب کی صداقت پر میرے سامنے پانچ منٹ بھی گفتگو کر سکے‘‘۔ آج یہ آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھی، حق مغفرت فرمائے عجب آزاد مرد تھا۔