اسلام کی تشریح اور پیپلز پارٹی ۔ علماء کرام توجہ فرمائیں!

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ فروری ۱۹۸۸ء

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو نے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ میں جو آئینی پٹیشن دائر کر رکھی ہے اس پر سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی فل بینچ نے گیارہ روز بحث کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ رٹ پٹیشن کے دوران بے نظیر بھٹو کے وکیل اور پیپلز پارٹی کے راہنما جناب یحییٰ بختیار نے دیگر متعلقہ امور کے علاوہ نظریۂ پاکستان کے حوالہ سے اسلام کی تعبیر و تشریح کے بارے میں اپنی پارٹی کا نقطۂ نظر بھی عدالت کے سامنے پیش کیا ہے جو بلاشبہ اس اہم اور نازک مسئلہ پر پیپلز پارٹی کے باضابطہ اور ذمہ دارانہ موقف کی حیثیت رکھتا ہے۔ جناب یحییٰ بختیار نے اس ضمن میں جو کچھ کہا اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔

  • جہاں تک نظریۂ اسلام اور نظریۂ پاکستان کا تعلق ہے تو ہم ان دونوں پر یقین رکھتے ہیں اور اپنی فکر کے مطابق اسلام اور نظریۂ اسلام کی تشریح کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
  • اسلام مکمل دین ہے اس لیے ہر مسلمان کو قرآن کریم کی تشریح کرنے کا حق حاصل ہے۔ کوئی مولوی، شورٰی، اسلامی نظریاتی کونسل یا شرعی عدالت اس بات کی پابندی نہیں لگا سکتی کہ قرآن و سنت کے بارے میں اسی کی تشریح کو قبول کیا جائے۔
  • قرآن و سنت کی تشریح کا اسلامی طریقہ اجماع ہے جو عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
  • شریعت کی تشریح صرف منتخب نمائندوں کا حق ہے۔
  • ہم اسلام کے خلاف نہیں تھیوکریسی اور ملائیت کے خلاف ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے واضح طور پر کہا تھا کہ آج کے دور میں اجتہاد صرف منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

(بحوالہ روزنامہ جنگ، لاہور ۔ ۱۸ فروری ۱۹۸۸ء)

یہ نقطۂ نظر نیا نہیں بلکہ اس سے پہلے ’’شریعت بل‘‘ کی بحث کے دوران حکمران حلقوں کی طرف سے بھی کم و بیش یہی موقف پیش کیا جا چکا ہے اور سپریم کورٹ کے جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال اور ان کے رفقاء کی طرف سے اس موقف پر مسلسل اصرار کیا جا رہا ہے۔ لیکن ملک کی سیاسی جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی وہ پہلی جماعت ہے جس نے اس نقطۂ نظر کو باضابطہ پارٹی موقف کی حیثیت دے کر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں پیش کر دیا ہے۔

دورِ حاضر میں قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح کے حق اور دائرہ کار کی بحث جو سنجیدہ او رعملی رخ اختیار کرتی جا رہی ہے وہ تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کی گہری اور بھرپور توجہ کی مستحق ہے۔ اگر علماء کرام نے اس کی اہمیت و نزاکت کا بروقت ادراک و احساس نہ کیا تو اس کے فکری و عملی نتائج کی ذمہ داری سے وہ خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکیں گے۔