شریعت بل پر اتفاق رائے ۔ وزیراعظم محمد خان جونیجو کے نام کھلا خط

بسم اللہ الرحمان الرحیم۔

بگرامی خدمت جناب محترم محمد خان جونیجو صاحب، وزیراعظم حکومتِ پاکستان اسلام آباد

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی؟

گزارش ہے کہ روزنامہ مشرق لاہور ۲۷ جون ۱۹۸۷ء کی اشاعت میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس کے مطابق وفاقی کابینہ نے شریعت بل کے بارے میں عوامی رابطہ کے عنوان سے وزراء کے ملک گیر دوروں کا پروگرام طے کیا ہے اور اس پروگرام کی تکمیل تک سینٹ کے اجلاس کے انعقاد کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق وزراء کے ان دوروں کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ شریعت بل کو تمام طبقات کے لیے قابل قبول بنایا جائے۔

اس خبر کے حوالہ سے آنجناب کی خدمت میں چند ضروری گزارشات پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

  1. سینٹ میں زیربحث شریعت بل کے حق میں خود سینٹ کی قائم کردہ سلیکٹ کمیٹی واضح رائے دے چکی ہے اور سلیکٹ کمیٹی میں سینٹ کے تمام طبقات کی نمائندگی موجود ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل خود حکومت کے استفسار پر شریعت بل کے حق میں سفارش کر چکی ہے اور کونسل میں ملک کے تمام دینی مکاتب فکر کی ذمہ دارانہ نمائندگی موجود ہے۔
    سینٹ کی طرف سے شریعت بل کو رائے عامہ کے لیے مشتہر کرنے کے بعد اس کے بارے میں ملک کے ہر حصے سے جو آراء کثیر تعداد میں موصول ہوئی ہیں ان کی رپورٹ سینٹ کے ریکارڈ میں ان ریمارکس کے ساتھ موجود ہے کہ اس سے قبل کسی قانونی بل کو اس قدر عوامی حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ ان حقائق کے بعد وزراء کو عوامی رابطہ کی ایک نئی مہم پر بھیجنا سینٹ کی سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ، سلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات، اور رائے عامہ کے سینٹ میں پیش کردہ نتائج کو مسترد کرنے کے مترادف ہے جس کا آپ کے پاس کوئی فنی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔
  2. شریعت بل کی منظوری کے لیے جدوجہد کرنے والے متحدہ شریعت محاذ پاکستان میں بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث مکاتب فکر کے سرکردہ اور سنجیدہ علماء شریک ہیں اور ان مکاتب فکر کے جو حضرات شریعت بل کی مخالفت کر رہے ہیں، ان کے اختلاف کی بنیاد شریعت بل کے مندرجات پر نہیں ہے بلکہ وہ آنجناب کی حکومت کو ایک جائز آئینی حکومت تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے آپ سے شریعت بل کے مطالبہ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جیسا کہ مولانا شاہ احمد نورانی اور مولانا فضل الرحمان اس کا برملا اظہار کر چکے ہیں اور علامہ احسان الٰہی ظہیر مرحوم نے بھی اپنی المناک شہادت سے چند روز قبل جنگ فورم میں اعلان کر دیا تھا کہ وہ شریعت بل کے نہیں بلکہ موجودہ حکومت کےخلاف ہیں۔ اس لیے اگر حکومت کے خلاف متحدہ شریعت محاذ نے تحریک چلائی تو وہ اس میں سب سے آگے ہوں گے۔ چنانچہ شریعت بل کی منظوری میں ان حضرات کی مخالفت کو رکاوٹ بنانا آپ کے لیے قطعی طور غیر اصولی بات ہوگی کیونکہ ان حضرات کے موقف کو قبول کرنے کا اولین منطقی تقاضہ یہ ہوگا کہ آپ ان کے بقول ایک غیر آئینی اور ناجائز حکومت سے دستبردار ہو کر دستوری حکومت کی راہ ہموار کریں۔
  3. ظاہر اور بدیہی بات ہے کہ ملک کے جو سیاسی عناصر دستور کی اسلامی بنیادوں کو تسلیم نہیں کرتے اور ملک کا نظام سیکولر بنیادوں پر چلانے کے داعی ہیں، ان کے لیے شریعت بل یا کسی اور عنوان سے نفاذِ شریعت کا کوئی بھی قانون قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ اس لیے شریعت بل کے بار ےمیں ان طبقات کے لیے قابل قبول ہونے کی شرط کا کوئی جواز نہیں ہے اور ایسی کسی بھی شرط کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ ان طبقات کی مخالفت کے بہانے حکومت نفاذِ شریعت کے سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں سے گریز اور فرار کا راستہ اختیار کر رہی ہے۔
  4. جہاں تک شریعت بل کو تمام طبقات کے لیے قابل قبول بنانے کی بات ہے، بظاہر یہ بہت خوش آئند تصور ہے لیکن سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ قطعی غیر منطقی اور ناقابل عمل ہے۔ کیونکہ اگر تمام طبقات کے لیے قابل قبول ہونے کو ہی اصول قرار دے دیا جائے تو آنجناب کو سب سے پہلے دستورِ پاکستان کی اسلامی بنیادوں سے دستبرداری اختیار کرنا ہوگی کیونکہ سیکولرازم، سوشلزم اور مغربی جمہوریت کے داعی طبقات دستور اور مذہب کے باہمی تعلق کو ہی سرے سے تسلیم نہیں کرتے اور اس کے خاتمہ کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
  5. آپ تمام طبقات کے لیے ’’قابل قبول‘‘ ہونے کے اس اصول کو خود اپنی حکومت پر ہی منطبق کر کے دیکھ لیجئے کہ آپ کی حکومت ملک کے تمام طبقات کے لیے کس حد تک قابل قبول ہے اور اگر اس اصول پر آپ کو شریعت بل کے بارے میں اصرار ہے تو آپ کو اس کے منطقی تقاضہ کی تکمیل کرتے ہوئے سب سے پہلے خود اقتدار سے دستبردار ہو کر ’’تمام طبقات کے لیے قابل قبول‘‘ حکومت کے قیام کا رستہ صاف کرنا ہوگا۔
  6. ہمیں ’’شریعت بل‘‘ کے لیے زیادہ سے زیادہ طبقات کی حمایت اور ہم آہنگی کی ضرورت سے انکار نہیں ہے لیکن یہ ہم آہنگی دستور پاکستان کے اسلامی تقاضوں، اسلامی نظام کے بنیادی اصولوں اور سنجیدگی و متانت کے دائرہ میں ہونی چاہیے۔ اس سے قبل بعض وفاقی وزراء نے ملک کے مختلف حصوں کے دورے کیے ہیں لیکن ان کی مساعی کا ہدف اتفاق رائے کے حصول کی بجائے شریعت بل کی مخالفت میں مختلف الخیال عناصر کو ابھارنا رہا ہے۔ اور اب بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ وزراء کے ذمہ یہی کام لگایا گیا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں گھوم پھر کر شریعت بل کی مخالفت کے لیے متضاد نظریات کے حامل افراد و طبقات کو اکسایا جائے اور اس طرح نفاذِ شریعت کی ذمہ داریوں سے فرار اور گریز کی راہ ہموار کی جائے۔

اس پس منظر میں آنجناب سے یہ گزارش کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اس افسوسناک پالیسی پر نظر ثانی کی جائے اور وزراء کی فوج ظفر موج کو قوم میں انتشار پھیلانے اور علماء کے مختلف طبقات کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کے کام پر لگانے کی بجائے شریعت بل کے بارے میں

  • سینٹ کی سلیکٹ کمیٹی کی رپورٹ،
  • اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات،
  • اور رائے عامہ کے سینٹ میں پیش کردہ نتائج

کے منطقی تقاضوں کی تکمیل کرتے ہوئے سینٹ اور قومی اسمبلی سے شریعت بل کو جلد از جلد منظور کرانے کا اہتمام کیا جائے۔ تاکہ ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ بالخصوص عدالتی نظام کی اسلامی تقاضوں کے مطابق تبدیلی کے عمل کا آغاز ہو سکے۔ امید ہے کہ آپ ان گزارشات پر سنجیدگی سے توجہ فرمائیں گے۔

والسلام، ابوعمار زاہد الراشدی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۳ جولائی ۱۹۸۷ء