اسلام کا نظام حکومت ۔ تصنیفی کاوشیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۹ جنوری ۲۰۱۴ء (غالباً‌)

حضرت مولانا محمد میاں المعروف منصور انصاریؒ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے تربیت یافتہ لوگوں میں سے تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے نواسے تھے۔ انہوں نے مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کے ساتھ آزادیٔ ہند کی تحریک میں ان کے دست راست کے طور پر کام کیا۔ ہندوستان سے ہجرت کر کے وہ کابل چلے گئے تھے اور وہیں انہوں نے تحریکی جدوجہد کے تانے بانے بُنے۔ جب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے راجہ مہندر پرتاب اور مولانا برکت اللہ بھوپالیؒ کے ساتھ مل کر آزاد ہند گورنمنٹ تشکیل دی تو مولانا منصور انصاریؒ بھی اس کی کابینہ میں شامل تھے۔

مولانا منصور انصاریؒ نے آزادیٔ ہند کے لیے سیاسی تحریک منظم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے علمی و فکری محنت کی بنیاد بھی ڈالی اور فارسی زبان میں دو عمدہ رسالے ترتیب دیے جن میں عصر حاضر میں ایک اسلامی حکومت کے مجوزہ خدوخال کی وضاحت کے ساتھ ساتھ مروّجہ نظام ہائے حکومت کے ساتھ اسلام کے نظام خلافت کا تقابلی مطالعہ پیش کیا۔ ان میں سے ایک رسالہ ’’حکومت الٰہی: دستور اساسی امامت امت‘‘ کے نام سے ہے جو 44 صفحات پر مشتمل ہے جبکہ دوسرا رسالہ ’’کتاب اجتماعی انواع الدول و حریت الملل‘‘ کے عنوان سے اسی ضخامت کا حامل ہے۔

یہ دونوں رسالے ان کے فرزند مولانا حامد الانصاری غازی نے اب سے آٹھ عشرے قبل 1350ھ میں بجنور سے شائع کیے تھے اور ان میں مصنف علیہ الرحمۃ نے عالم اسلام کے مفکرین کو دعوت دی تھی کہ وہ ایک اسلامی ریاست کی تشکیل کے لیے ان کے پیش کردہ خاکہ کے بارے میں اظہار خیال کریں اور اپنی اپنی آراء پیش کریں۔

مولانا منصور انصاریؒ کے اس استفسار پر اس وقت کے علماء کرام نے کچھ لکھا یا نہیں اس کا ہمیں علم نہیں ہے لیکن خود ان کے فرزند مولانا حامد الانصاریؒ نے ’’اسلام کا نظام حکومت‘‘ کے نام سے ایک ضخیم کتاب تصنیف کی جو اپنے موضوع پر ایک جامع کتاب تصور کی جاتی ہے۔ ہمارے طالب علمی کے دور میں حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوھارویؒ کی کتاب ’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ اور حضرت مولانا حامد الانصاریؒ کی کتاب ’’اسلام کا نظام حکومت‘‘ سیاسی ذوق رکھنے والے علماء اور طلبہ کے لیے مطالعہ کی اہم کتابیں سمجھی جاتی تھیں جبکہ راقم الحروف نے ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور میں ’’اسلام کا اقتصادی نظام‘‘ کی ایک تلخیص پیش کی تھی جو کئی قسطوں میں شائع ہوئی۔

اسلام کے نظام حکومت پر ہمارے معاصر علمی حلقوں میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں اور متعدد اصحاب علم نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے مگر خود ہمارے حلقہ میں اس موضوع پر چنداں توجہ نہیں دی گئی اور تشنگی کا احساس مسلسل باقی رہا۔ اسلامی نظام راقم الحروف کی خصوصی دل چسپی کا موضوع بھی چلا آرہا ہے اور گزشتہ نصف صدی کے دوران میں نے اس کے مختلف پہلوؤں پر سینکڑوں مضامین لکھے ہیں جن کا ایک مختصر خلاصہ ’’اسلام، جمہوریت اور پاکستان‘‘ کے عنوان سے گزشتہ دنوں شائع ہوا ہے۔ مگر اس پر باضابطہ اور تفصیل کے ساتھ کام کی ضرورت اپنی جگہ باقی رہی ہے۔ بلکہ میرے خیال میں یہ موضوع اہل علم کے درمیان تفصیلی بحث و مباحثہ کا متقاضی ہے۔ کیونکہ انسانی سوسائٹی کے سیاسی اور تمدنی ارتقاء نے بیسیوں ایسے مسائل کھڑے کر دیے ہیں جن کا حل قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کے گہرے مطالعہ اور تجزیہ و تنقیح کے بعد علمی مباحثہ کی صورت میں ہی سامنے لایا جا سکتا ہے۔

اس پس منظر میں ممتاز افغان عالم دین مولانا عبد الباقی حقانی دامت فیوضہم کی ایک ضخیم کتاب سامنے آئی ہے جس نے تشنگی کے اس احساس کو خاصا کم کر دیا ہے۔ مولانا عبد الباقی حقانی امارت اسلامی افغانستان میں طالبان حکومت کے اہم عہدہ دار رہے ہیں اور اسلامی علوم کا گہرا مطالعہ رکھتے ہیں۔ ان کی کتاب عربی زبان میں ’’السیاسۃ والادارۃ فی الاسلام‘‘ کے نام سے دو ضخیم جلدوں میں ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا سید الأمین انور حقانی اور مولانا شکیل احمد حقانی نے کیا ہے اور مجموعی طور پر کم و بیش سترہ سو صفحات پر مشتمل یہ ضخیم کتاب دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے ادارہ مؤتمر المصنفین نے شائع کی ہے۔

مولانا عبد الباقی حقانی اس کتاب کی تصنیف کے مقاصد بیان کرتے ہوئے ایک مقصد یہ تحریر کرتے ہیں کہ

’’اسلامی حکومت کی بناوٹ (تشکیل) اور چلانے کے لیے قانون کا ایک ایسا خاکہ پیش کیا جائے کہ مسلمان اپنے حالات کے مطابق حکومت کے بنانے اور چلانے کے لیے طریقہ اور دستور بنائیں۔ خصوصاً ان بھائیوں کے لیے جنہوں نے افغانستان میں عرصہ دراز کے خلاء کے بعد واقعی اسلامی حکومت چلانے کا عزم کیا ہے اور ان حضرات کا ارادہ ہے کہ نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام اور خلفائے راشدینؓ کا طریق کار اپنائیں جو کہ کامیابی اور سعادت کا ذریعہ ہے اور اگر حقیقت میں اسلامی نظام کی حاکمیت کے لیے مجاہدہ کرنے والے یہ طریقۂ کار اپنائیں تو ان شاء اللہ فتح اور کامیابی کا ذریعہ ہوگا۔‘‘

اس کتاب کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ اس کے مصنف قرآن و سنت، تاریخ خلفاء راشدینؓ اور فقہ اسلامی کے عظیم ذخیرے پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ طالبان حکومت کے ایک اہم عہدہ دار کے طور پر ان مشکلات و تجربات سے بھی گزرے ہیں جو آج کے دور میں نفاذِ اسلام کے سلسلہ میں کسی بھی حکومت کو پیش آسکتے ہیں۔

کتاب میں اسلامی حکومت کے قیام کی صورتوں، اس کے عملی ڈھانچے اور مختلف شعبوں کی تشکیل اور حکمرانوں کے لیے ضروری اوصاف و شرائط کی وضاحت کے علاوہ ایک رفاہی ریاست کے تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اور فاضل مصنف نے آیات و احادیث، تاریخی واقعات اور فقہی جزئیات کا ایک وسیع خزانہ اس میں جمع کر دیا ہے جو اسلامی نظام کے حوالہ سے تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے ضروری بنیادی مواد فراہم کر دیتا ہے اور اس سے اس علمی کاوش کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔

یہ عجیب حسن اتفاق ہے کہ نظام اسلام کے خد و خال کو جدید دور کے تناظر میں واضح کرنے کے جس کام کا آغاز 1350ھ میں کابل سے ہوا تھا اس میں یہ وقیع پیش رفت بھی پون صدی کے بعد کابل ہی کے حوالہ سے سامنے آئی ہے جو نیک فال ہونے کے علاوہ بہتر مستقبل کی نوید بھی محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے خیال میں یہ کتاب ہر دینی مدرسہ کی لائبریری میں موجود ہونی چاہیے اور نفاذِ اسلام کی جدوجہد کرنے والے ہر عالم دین اور کارکن کے لیے اس کا مطالعہ ضروری ہے تاکہ وہ اس کی روشنی میں ملک کی رائے عامہ کو یہ بتا سکے کہ اسلامی نظام کے فوائد و ثمرات سوسائٹی کو کیا حاصل ہوں گے اور جب اسلامی نظام آئے گا تو ملک کے نظام و معاملات میں کیا تبدیلی آئے گی۔ بلکہ ہم اگر دینی مدارس کے اساتذہ کو آمادہ کر سکیں کہ وہ قرآن کریم کے سیاسی احکام و قوانین سے متعلقہ آیات اور خلافت و امارت اور عدل و قضا کے حوالہ سے احادیث نبویہؐ کی تدریس میں اس کتاب کو اپنے مطالعہ کے لیے لازم کر لیں تو یہ ایک بڑی تعلیمی خدمت ہوگی۔

ہم مولانا عبد الباقی حقانی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اسلامی نظام حکومت و سیاست کے بارے میں اتنا وسیع علمی ذخیرہ مرتب کر کے ہم طلبہ کے لیے غور و خوض اور بحث و مکالمہ کا کھلا میدان پیش کر دیا ہے۔ لیکن کیا ہم میں غور و خوض کی سکت اور بحث و مکالمہ کا حوصلہ کسی درجے میں باقی بھی رہ گیا ہے؟