سرگودھا، جوہر آباد، قائد آباد، چنیوٹ اور چناب نگر کا سفر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ جنوری ۲۰۱۵ء

۳ و ۴ جنوری کو سرگودھا، جوہر آباد، قائد آباد، چنیوٹ اور چناب نگر کے سفر کے دوران دو بزرگوں کی وفات پر تعزیت کے لیے حاضری کا موقع ملا۔ جوہر آباد میں جمعیۃ علماء اسلام کے ایک پرانے بزرگ حکیم علی احمد خان صاحب کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا تھا۔ نوے برس سے زیادہ عمر پائی ہے، ہمیشہ جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ وابستہ رہے۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خصوصی تعلق تھا۔ ایک عرصہ تک جمعیۃ کے ضلعی امیر اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے۔ تجربہ کار اور معاملہ فہم بزرگ تھے اور جماعتی معاملات میں ان کی رائے اور مشوروں پر بطور خاص توجہ دی جاتی تھی۔ جس دور میں جمعیۃ علماء اسلام درخواستی گروپ اور فضل الرحمن گروپ میں تقسیم تھی، حکیم صاحب مرحوم کا گھر پورے علاقہ میں درخو استی گروپ کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ اس دور میں میرا ان کے ہاں بہت آنا جانا رہا، بہت شفیق بزرگ تھے، گزشتہ سال ان کی بیمار پرسی کے لیے گیا تو بہت دعاؤں سے نوازا، بذلہ سنجی اور محفل آرائی کا ذوق رکھتے تھے اور محفل کو مصروف رکھنے کا فن جانتے تھے۔ مولانا محمد فیصل اور مولانا ابوبکر کے ہمراہ تعزیت و دعا کے لیے ان کے گھر حاضری ہوئی تو ان کے چھوٹے بیٹے ارشد صاحب موجود تھے۔ کچھ دیر ہم بیٹھ کر پرانی یادیں تازہ کرتے رہے۔ نماز مغرب انہی کے کمرے میں با جماعت کر کے ان کی مغفرت کی دعا کی اور پھر وہاں سے رخصت ہوگئے۔

اس سے قبل چک ۸۷ سرگودھا میں مولانا محمد الیاس گھمن کے مرکز اہل سنت میں علماء کرام کی تربیتی کلاس سے گفتگو کا موقع ملا اور خلافت اسلامیہ کی اہمیت و ضرورت کے حوالہ سے علماء کرام کو معروضی صورت حال سے آگاہ کیا۔ مولانا محمد الیاس گھمن حضرت والد محترم رحمہ اللہ تعالیٰ کے عزیز شاگردوں میں سے ہیں۔ مسلکی محاذ پر دلجمعی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ان کا مرکز تربیتی حوالہ سے اہم مراکز میں شمار ہونے لگا ہے۔ تربیتی موضوعات اور ترجیحات کے بارے میں بعض تحفظات کے باوجود یہ دیکھ کر تسلی ہوتی ہے کہ وہ نوجوان علماء میں تحقیق و مطالعہ کا ذوق بیدار کر رہے ہیں اور دلیل کے ساتھ بات کرنے کا ماحول قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جو آج کے دور کی اہم ترین ضرورت ہے۔

رات کو قائد آباد کے مرکز الحبیب میں سیرت کانفرنس سے خطاب کر کے جوہر آباد کے تبلیغی مرکز میں قیام کیا۔ فجر کی نماز کے بعد طلبہ سے کچھ باتیں کر کے حضرت مولانا عبد الجبار کی میزبانی کا لطف اٹھانے کے بعد سرگودھا روانہ ہوگئے اور جامعہ اسلامیہ محمودیہ میں حاضری دی۔ مگر مولانا اشرف علی سے ملاقات نہ ہو سکی، اس لیے کہ وہ عمرہ پر گئے ہوئے ہیں۔ ۴ جنوری کو چناب نگر کے احرار مرکز کی سالانہ کانفرنس میں حاضری دی۔ امیر احرار پیر جی حافظ سید عطاء المہیمن شاہ بخاری سے ملاقات ہوئی۔ چاروں طرف احرار کے جھنڈے اور سرخ کرتے دیکھ کر بہت لطف آیا۔ اس موقع پر ایک دوست نے پوچھا کہ آپ کا احرار کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں پیدا ہی ایک احراری کے گھر میں ہوا تھا کہ جب میری پیدائش ہوئی، اس وقت والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ مجلس احرار اسلام کے باقاعدہ کارکن تھے، ان کی اس دور کی کلہاڑی ہمارے سب سے چھوٹے بھائی مولانا منہاج الحق خان راشد سلّمہ نے اب بھی نشانی کے طور پر سنبھال رکھی ہے۔ میں خود تو خالصتاً جمعیتی ہوں لیکن ددھیال ہونے کے ناتے سے احرار کی محبت دل میں ہر وقت موجود پاتا ہوں۔

کچھ دیر سرخ جھنڈوں اور کرتوں کے درمیان پرانی یادیں تازہ کر کے مولانا قاری عبد الحمید حامد، حافظ محمد عمیر چنیوٹی، جناب شبیر احمد میواتی اور حافظ خرم شہزاد کے ہمراہ جامعہ محمدی شریف کی طرف روانگی ہوئی۔ استاذ گرامی حضرت مولانا محمد نافع رحمہ اللہ تعالیٰ کے گھر حاضری دی۔ اس گھر میں پہلے بھی کئی بار آچکا ہوں۔ حضرت شیخؒ کی زیارت ہوتی تھی، ان کے ارشادات سے فیضیاب ہوتے تھے، دعائیں ملتی تھیں اور دل و دماغ کی بیٹری چارج ہو جایا کرتی تھی۔ اب ان کے فرزندان گرامی سے ملاقات ہوئی جو ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے حضرتؒ کے عقیدت مندوں سے تعزیت اور دعائیں حاصل کر رہے تھے۔ ہم بھی دعا میں شریک ہوئے۔ اس دوران سرگودھا سے حضرت مولانا شاہ عبد العزیز رائے پوری قدس اللہ سرہ العزیز کے فرزند محترم حافظ رانا عبد القادر رائے پوری تشریف لائے اور ان کے ساتھ بھی تھوڑی دیر گزارنے کا موقع مل گیا۔ حافظ صاحب محترم اپنے والد گرامی کی یادیں اور رائے پور کی روایات دل و دماغ میں محفوظ رکھے ہوئے ہیں اور سرگودھا میں حضرت رائے پوریؒ کے گھر کے خانقاہی ماحول کو انہوں نے باقی رکھا ہوا ہے۔

حضرت مولانا محمد نافعؒ کے فرزندان گرامی سے یہ معلوم کر کے بے حد خوشی ہوئی کہ وہ حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ کے افکار و تعلیمات اور تحقیقات و تصنیفات کے فروغ کا عزم رکھتے ہیں اور اس کے لیے منظم اور مربوط کام کا پروگرام بنا رہے ہیں۔ حضرت مولانا محمد نافعؒ ملت اسلامیہ کا عظیم سرمایہ تھے اور ان کے علوم و افکار پوری امت کی امانت ہیں جن کا محفوظ رہنا اور نئی نسل تک منتقل ہونا ان کے خاندان اور تلامذہ کی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے مجھ سے بھی فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ ایک خوشہ چین اور شاگرد ہونے کے رشتہ سے میرے بس میں جو ہوا، اس سے ان شاء اللہ گریز نہیں کروں گا۔

چنیوٹ میں علماء کرام کے ایک مشترکہ فورم ’’خدام فکر اسلاف‘‘ کی سرگرمیاں اطمینان و مسرت کا باعث ہوئیں۔ مولانا قاری محمد یامین گوہر، حافظ محمد عمیر چنیوٹی، اور ان کے رفقاء کی یہ ٹیم شہر کی مختلف مساجد میں وقتاً فوقتاً قرآن کریم کے دروس اور دیگر دینی مجالس کے لیے متحرک رہتی ہے۔ اس روز بھی ایک مسجد میں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر تقریب تھی جس سے خطاب کے بعد واپسی ہوئی۔ مگر شدید دھند کے باعث چنیوٹ سے فیصل آباد اور وہاں سے گوجرانوالہ کی بس ملی، اور جناب شبیر احمد میواتی اور حافظ خرم شہزاد کے ہمراہ بمشکل رات تین بجے کے لگ بھگ گوجرانوالہ پہنچ سکا۔