ملک میں اسلحہ کلچر ۔ وفاقی وزیرداخلہ سے دو اہم گزارشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۸ فروری ۲۰۰۰ء
اصل عنوان: 
وفاقی وزیرداخلہ سے دو اہم گزارشات

گزشتہ دنوں ملک میں امن و امان کے حوالہ سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد وفاقی وزیرداخلہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے اخباری نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اسلحہ کلچر کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور اس سلسلہ میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی اور فائرنگ کی قانونی ممانعت کے علاوہ ان دینی طلبہ کی حوصلہ شکنی بھی پروگرام میں شامل ہے جو افغانستان جا کر اسلحہ کی ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔ وزیرداخلہ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ اس حوالہ سے افغانستان کی حکومت سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اسلحہ چلانے کی تربیت دینے والے مراکز بند کر دے اور پاکستان سے اسلحہ کی تربیت کے لیے افغانستان جانے والے دینی طلبہ کی حوصلہ افزائی نہ کرے۔ جناب معین الدین حیدر کا کہنا ہے کہ پاکستان بھر کے دینی مدارس کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو اسلحہ کی تربیت دیتے ہیں البتہ کم و بیش چار ہزر دینی مدارس میں ایک فیصد تعداد ایسے مدارس کی ضرور ہے جو اپنے طلبہ کو ہتھیار چلانے کی ٹریننگ دلانے کا اہتمام کرتے ہیں اور اسی کی روک تھام کے لیے اس قسم کے اقدامات ضروری ہوگئے ہیں۔

جہاں تک ملک میں اسلحہ کو کنٹرول کرنے اور جرائم کی روک تھام کے لیے اسلحہ رکھنے اور چلانے پر پابندی کے مجوزہ اقدامات کا تعلق ہے ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔ کیونکہ دہشت گردی، فوجداری جرائم اور لاقانونیت کی صورتحال یقیناً یہ رخ اختیار کر چکی ہے کہ اسلحہ کو مکمل طور پر کنٹرول کر کے شہریوں کو نہتا کر دینے کے سوا اب کوئی چارہ کار باقی نہیں رہ گیا۔ اصولی طور پر ہم اسلحہ رکھنے کے مخالف نہیں ہیں کیونکہ یہ سنتِ رسولؐ ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مسلمان کو ہتھیار رکھنے اور اس کی تربیت دینے کی ہدایت کی ہے لیکن ہمارے ہاں معروضی صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ اسلحہ غلط لوگوں کے ہاتھ میں زیادہ ہے اور اکثر و بیشتر غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ اس لیے جس طرح امارت اسلامی افغانستان کی حکومت نے ملک میں امن و امان کے لیے سب لوگوں سے اسلحہ واپس لینے اور شہریوں کو نہتا کر دینے کی پالیسی اختیار کی ہے اور اس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں اسی طرح ہمارے ہاں بھی اس بات کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے کہ اس معاملہ میں ہم بھی طالبان کی پیروی کریں اور ہر قسم کے اسلحہ کو سرکاری تحویل میں لے کر ’’ویپن لیس سوسائٹی‘‘ کی طرف قدم بڑھائیں۔

البتہ اس حوالہ سے دو ضروری گزارشات جناب معین الدین حیدر اور ان کی وساطت سے امن عامہ کے دیگر ذمہ دار حضرات اور اداروں کی خدمت میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ایک یہ کہ اسلحہ اگر واپس لینا ہے تو پھر کسی استثنا کے بغیر سب لوگوں سے واپس لیا جائے اور افغانستان کی طرح کسی ایک شخص کے پاس بھی کوئی ہتھیار نہ رہنے دیا جائے کیونکہ اسلحہ پر کنٹرول کی پالیسی کا عملی فائدہ صرف اسی صورت میں ہوگا۔ ورنہ اگر روایتی انداز میں جن لوگوں تک پولیس کی رسائی ہے ان سے تو اسلحہ لے لیا جائے لیکن جو با اثر اور جرائم پیشہ افراد و گروہ اس رسائی کی رینج سے باہر ہیں ان کا اسلحہ بدستور ان کے پاس رہے تو اس سے جرائم میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہوگا اور وہ پہلے سے زیادہ بے خوف ہو کر اسلحہ استعمال کریں گے۔

چند سال پہلے جب ہمارے ہاں گوجرانوالہ میں فدا حسین مرحوم ایس ایس پی ہوا کرتے تھے اس زمانہ میں پنجاب حکومت نے لوگوں سے اسلحہ واپس لینے کی مہم شروع کی تھی۔ اس سلسلہ میں فدا حسین مرحوم نے ہم سے بات کی کہ لوگوں سے اسلحہ واپس دلوانے میں علمائے کرام پولیس سے تعاون کریں جس پر میں نے عرض کیا کہ اگر یہ پالیسی سب کے لیے یکساں ہے تو ہم تعاون کرنے، لوگوں کو اسلحہ کی واپسی کی ترغیب دینے بلکہ پولیس افسروں کے ساتھ مل کر چھاپے مارنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ لیکن اگر صرف فارمیلٹی پورا کرنا مقصد ہے تو ہمیں اس سے معذور سمجھا جائے۔ اس موقع پر میں نے ایس ایس پی مرحوم کو شہر کے چند با اثر افراد کے بارے میں کہا کہ ان کے گھروں اور ڈیروں پر اسلحہ کے انبار موجود ہیں خود آپ بھی انہیں اچھی طرح جانتے ہیں، جس روز ان لوگوں کے ڈیروں پر چھاپے مار کر ان کا اسلحہ قبضہ میں کریں گے اس سے اگلے روز ہمیں بلا لیں ہم پولیس افسروں کے ساتھ عوام سے اسلحہ واپس لینے کی مہم میں شریک ہو جائیں گے۔ ہماری اس گزارش کا کوئی جواب نہ ملا اور اسلحہ پر کنٹرول کی یہ مہم دم توڑ کر رہ گئی۔

جناب وزیرداخلہ سے گزارش ہے کہ اس قسم کی مہم سے تو گریز ہی کریں کہ شریف شہری اور قانون کی زد میں آجانے والے لوگ مزید نہتے ہو جائیں لیکن جن افراد اور گروہوں کے پاس اسلحہ کے انبار موجود ہیں اور جن کے جرائم اور اسلحہ کی حفاظت کرنے والے ان کے عزیز، رشتہ دار اور بھائی بند خود امن قائم کرنے والے اداروں میں نمایاں جگہوں پر بیٹھے ہوئے ہیں وہ اپنے اسلحہ کے استعمال میں مزید بے خوف ہوتے چلے جائیں۔ ہاں اگر قانون سب کے لیے یکساں اور طرزعمل سب کے ساتھ ایک جیسا ہو تو ہم اسلحہ سے معاشرہ کو پاک کر کے جرائم اور دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کی مہم کا ساتھ دیں گے۔ البتہ اس سلسلہ میں ہماری تجویز یہ ہے کہ امارت اسلامی افغانستان کے کامیاب تجربہ سے استفادہ کیا جائے اور طالبان کی حکومت سے تجربہ کار مشیر حاصل کر کے ان کی راہنمائی میں اسلحہ کنٹرول پالیسی کی تفصیلات طے کی جائیں۔

دوسری گزارش اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ جناب معین الدین حیدر کے بقول امارت اسلامی افغانستان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اسلحہ کی تربیت دینے والے کیمپ بند کر دے کیونکہ ان سے پاکستان کے بعض افراد تربیت لے کر اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن یہ بات ہمارے وزیرداخلہ کے علم میں یقیناً ہوگی کہ افغانستان کے ان کیمپوں سے صرف پاکستان کے ایک فیصد دینی مدارس کے چند طلبہ تربیت حاصل نہیں کرتے بلکہ دنیا بھر کی جہادی تحریکات کے مجاہدین نے انہی کیمپوں سے تربیت پائی ہے۔ کشمیر، چیچنیا، فلسطین، مورو، اراکان، بوسنیا، کوسوو اور دیگر علاقوں میں جو مجاہدین کفر کی طاقتوں کے مقابلہ میں ہتھیار بکف ہیں ان کی بڑی اکثریت نے افغانستان کے انہی کیمپوں میں ٹریننگ حاصل کی ہے۔ ہمارا جناب معین الدین حیدر سے سوال یہ ہے کہ افغانستان کے تربیتی کیمپ بند کرانے کے بعد ان کے پاس کشمیر، چیچنیا، فلسطین، کوسوو اور بوسنیا جیسے مظلوم خطوں کے مجاہدین کے لیے اسلحہ کی ٹریننگ کا متبادل انتظام کیا ہے؟ کیا پاک فوج اس ذمہ داری کو قبول کرتی ہے؟ اگر ایسا ہو جائے تو ہم خود جناب معین الدین حیدر کے ساتھ قندھار جا کر امیر المؤمنین ملا محمد عمر مجاہد سے افغانستان میں موجود اسلحہ کی ٹریننگ کے کیمپ بند کرنے کی درخواست کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن اگر افغانستان کے کیمپ پاکستان کے دباؤ کی وجہ سے خدانخواستہ بند ہو جاتے ہیں اور دنیا میں مختلف مقامات پر کفر کے خلاف پنجہ آزمائی کرنے والے مجاہدین کی ٹریننگ کا کوئی متبادل انتظام بھی نہیں ہو پاتا تو امارت اسلامی افغانستان کی حکومت سے اسلحہ کی تربیت کے کیمپ بند کرنے کا مطالبہ کا مطلب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ طالبان کی حکومت مجاہدین اور جہادی تحریکات کے بارے میں امریکی ایجنڈے کو تسلیم کر لے اور عالمی استعمار کی خواہشات اور مطالبات کے آگے سرنڈر ہو جائے۔

اس لیے ہم حکومت پاکستان کے اس موقف کی حمایت نہیں کر سکتے اور بڑے ادب کے ساتھ لیفٹیننٹ جنرل (ر) معین الدین حیدر سے یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ میاں محمد نواز شریف، میاں شہباز شریف اور جنرل ضیاء الدین بٹ کے ایجنڈے سے جنرل پرویز مشرف اور لیفٹیننٹ جنرل معین الدین حیدر کا ایجنڈا عوام کو ابھی تک بظاہر مختلف دکھائی دے رہا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ نہ صرف دونوں ایجنڈوں کا یہ فرق قائم رہے بلکہ جنرل (ر) معین الدین حیدر جب افغان حکمرانوں سے گفت و شنید کے لیے کابل اور قندھار تشریف لے جائیں تو ان کے ہاتھ میں وہی فائل نہ ہو جو جنرل ضیاء الدین بٹ کے ہاتھ میں تھی۔